تازہ ترین

سُکڑتی آبی پناہ گاہوں کو نابود ہونے سے بچائیں

 جموں و کشمیرکی خوبصورتی میں چار چاند لگانے والی قدرتی آب گاہوں اور جھیلوںمیں پچھلے 95سال کے دوران 50فیصد کمی آئی ہے۔ ایک تازہ ترین تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی جھیلوں اور آب گاہوں کوغیر قانونی قبضہ ، آلودگی اور پرتنائو صورتحال کی وجہ سے تشویشناک حد تک نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 22اضلاع میں کل 3651چھوٹی بڑی آب گاہیں موجود ہیں جن میں پانچ آب گاہیں عالمی شہرت کی حامل ہے ۔ان میں جموں کی دو آبگاہیں سرنسر اورمانسر اور کشمیر کی دو آب گاہیںہوکر سر اور ولر جھیل شامل ہیں۔  رپورٹ میں اس بات کاپریشان کن انکشاف کیاگیا ہے کہ شہر سرینگر میں موجود قدرتی آب گاہیں اور جھیلیں غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں 50فیصد آب گاہیں اور قدرتی جھیلیں ختم ہوچکی ہیںاور سرینگر شہر میں 95سال کے دوران آبی

تازہ ترین