تازہ ترین

اعلیٰ تعلیمی شعبہ اصلاحات کا محتاج

  ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیار کا تعین کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے خودمختار ادارہ نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیشن کونسل ،جسے عرف عام میںNAACکہتے ہیں،کی جموںو کشمیر اور لداخ مرکزی زیر انتظام علاقوں کی ایکریڈیشن رپورٹوں کا تجزیہ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ہاتھوں جاری کیاگیا۔اس تقریب پر منوج سنہا نے تعلیمی شعبہ میں حال اور مستقبل میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کچھ قابل قدر تجاویز پیش کیں ۔ یہ اب ہمارے دور کی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے دور کی طرف جا رہے ہیں جس پر علمی معیشت کا غلبہ ہو گا اور یہ کہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ انسانی سرمایہ ہوگا ، جو ہنر ، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کا مجموعہ ہوگا۔ موجودہ دور میں دنیا بھر کی تعلیمی قیادت نے بار باراس طرح کے نظریہ پر زور دیا ہے اور پوری دنیا میں اس وقت تعلیم دان اس بات پر متف

صنعتی سیکٹر کی سمت کب درست ہوگی؟

دنیا کی کوئی بھی معیشت صرف بنیادی شعبے پرنہیں چل سکتی۔ حقیقت میں زراعت سے صنعتوں کی طرف جھکائونے دنیا کے ترقی یافتہ حصوں میں معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی زرعی شعبے سے صنعتی شعبہ کی جانب سفر کی ضرورت کو بہت پہلے محسوس کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے صنعتوں کے فروغ میں مدد کے لئے بہت سارے پیکیج مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ان مثبت اقدامات کا صنعتوں کیلئے مقصد انفراسٹرکچر ، پیداوار اور مارکیٹنگ سے منسلک مشکلات پر قابو پانا تھا۔بلا شبہ نتائج اب تک حیرت انگیز رہے ہیں۔ پورے ملک میں وہ ریاستیں جو مضبوط صنعتی بنیادبنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، اُن کی معیشت اُن ریاستوں سے کافی بہتر ہے جو صنعتی سیکٹر میں پیچھے رہی ہیں۔بدقسمتی سے جموں وکشمیر خاص کر کشمیر صوبہ بھی اس زمرے میں پڑتا ہے جہاں صنعتی شعبہ آج تک پیر نہیں جما سکا ہے اور لاکھ کوششوں و خواہشات کے باوجود یہاں صن

صنعتی سیکٹر کی سمت کب درست ہوگی؟

دنیا کی کوئی بھی معیشت صرف بنیادی شعبے پرنہیں چل سکتی۔ حقیقت میں زراعت سے صنعتوں کی طرف جھکائونے دنیا کے ترقی یافتہ حصوں میں معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی زرعی شعبے سے صنعتی شعبہ کی جانب سفر کی ضرورت کو بہت پہلے محسوس کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے صنعتوں کے فروغ میں مدد کے لئے بہت سارے پیکیج مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ان مثبت اقدامات کا صنعتوں کیلئے مقصد انفراسٹرکچر ، پیداوار اور مارکیٹنگ سے منسلک مشکلات پر قابو پانا تھا۔بلا شبہ نتائج اب تک حیرت انگیز رہے ہیں۔ پورے ملک میں وہ ریاستیں جو مضبوط صنعتی بنیادبنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، اُن کی معیشت اُن ریاستوں سے کافی بہتر ہے جو صنعتی سیکٹر میں پیچھے رہی ہیں۔بدقسمتی سے جموں وکشمیر خاص کر کشمیر صوبہ بھی اس زمرے میں پڑتا ہے جہاں صنعتی شعبہ آج تک پیر نہیں جما سکا ہے اور لاکھ کوششوں و خواہشات کے باوجود یہاں صن

ہمہ موسمی شاہرائوں کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا؟

جموںوکشمیر مختلف جغرافیائی زونوں کا علاقائی مجموعہ ہے اور یہ زون زیادہ تر دشوار گزار علاقوں سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں۔جب موسم خراب ہوتا ہے تو یہ مشکل ہمیں شدید ترین مشکل سے دوچار کرتی ہے۔ لوگ بارش یا برف باری کی صورت میں ان علاقوں کا سفر نہیں کر سکتے۔اب چونکہ سرما آیا چاہتا ہے تو جموںوکشمیر کے کئی حصوں کا زمینی رابطہ باقی دنیا سے چھ ماہ کیلئے کٹ کررہ جائے گا۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو اب ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات بھی مستقل ہی ہیں۔ خاص طوروہ لوگ مسلسل اثرات سے دوچار ہیں جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ اب جبکہ موسم خزاں کا اختتام ہونے والا ہے تو سخت ایام بھی اب زیادہ دور نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ اب ہمارے یہاں بارشیں ہوں گی اورپھر اگلے چند مہینوں میں برف باری کا موسم شروع ہو جائے گااور پھر جہاں کشمیر کالداخ سے رابطہ منقطع ہوگا وہیں کشمیر کا چناب اور پیر پنچال خطہ

غربت کا خاتمہ

 غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزربسر کرنے والے جموں وکشمیر کے 13لاکھ لوگ موجودہ مہنگائی کے دور میں بنیادی اشیاء کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور حکومت ان کے مسائل سے لاتعلق ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جہاں 2009-10میں جموںوکشمیر میں غربت کی شرح 9.4فیصد تھی وہیں2011-12میں یہ شرح بڑھ کر 10.35فیصد تک پہنچ گئی ۔تشویشناک امر یہ ہے کہ سطح افلاس سے نیچے گزر بسر کرنے والوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ دیہی علاقوں میں دیکھنے کو ملا ہے جہاں پہلے یہ شرح محض8.1فیصد تھی اور اب یہ بڑھ کر11.5فیصد تک پہنچ گئی ۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں 23.27لاکھ لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں جن میں سے 10.73دیہی اور2.53لاکھ شہری علاقوں میں آباد ہیں۔ سوال پیداہوتا ہے کہ غریبی کے خاتمہ کے لئے مرکز کی جانب سے چلائی جارہی کئی سکیموں کے باوجود ریاست میں غرباء کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ کی

ترقی کا ماڈل بہتر بنانے کی ضرورت

 تصورات اور طریقوں کی انسانی تفہیم ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔جوں جوں ہم تجربہ حاصل کرتے ہیں اور مزید معلومات جمع ہوتی ہیں،ویسے ہی ہم سوچنے ، سمجھنے اور عمل کرنے کے اپنے طریقے کو بہتر بناتے ہیں۔دراصل تبدیلی قانون فطرت ہے اور انسان میں بدلتے حالات کے مطابق سوچ اور عمل میں تبدیلی کا وقوع پذیر ہونا بالکل ایک فطری عمل ہے ۔سیاست اور حکومتوں جیسے تصورات کے ساتھ بھی برسوں سے یہی ہوتا آیا ہے۔ ا ن تصورات پر نئی عکاسی کے نتیجے میں حکمرانی اور سیاست کے مجموعی طرز عمل میں نئے طریقے سامنے آئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نظریات اور تاریخی تعصبات حکمرانوں کی پالیسیوں کو تشکیل دیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ یہ انسانی ترقی و فروغ کے دن ہیں اور اب منطق کی بنیاد پر پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں کیونکہ انسان کے سوچنے کی وسعت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور سوچ کے نئے دریچے کھل چکے ہیں۔اب اس بات پر زور دیا جارہاہے کہ

نفسیاتی امراض…خاموش طوفان کو روک لیجئے !

وادی کشمیرمیںذہنی تنائوسے پیدا ہونے والے امراض ، خود کشی کے واقعات اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے نامور نفسیاتی و ذہنی امراض کے معالجین آئے روز جو چونکا دینے والے انکشافات کررہے ہیں ،اُن سے وادی کے ذی حس طبقہ کی نیندیں اڑجانی چاہئیں ۔نفسیاتی امراض میں مبتلاء لوگوں کے بارے میں جو اعداد و شمارمیں پیش کئے جارہے ہیں ،ان پر اگر چہ کئی لوگوں کو اعتراض ہے لیکن اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا کہ رواں نامساعد حالات کے چلتے وادی میں روز افزوں نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔اس سلسلے میں کئی مقامی اور بین الاقوامی رضاکار تنظیموں نے سروے کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرہ ارض کے اس خطہ میں نامسائد حالات میںنہ صرف جوانوں کی ایک کثیر تعداد ذہنی طور سو فیصد توانا نہیں بلکہ بچے ،بزرگ اور خواتین بھی اعصابی اضمحلال اورذہنی تنائو کے شکار ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق پر تنائو صورتحال اور

شعبہ تعلیم انقلابی اقدامات کا محتاج

  کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی سینکڑ

آن لائن تعلیم :منفی اثرات کا سدباب ناگزیر

جدید تعلیم کچھ دہائیوں پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہے۔تعلیم کا شعبہ گزشتہ چند دہائیوں میں جہاں بے پناہ تبدیلیوں سے گزر چکا تھا وہیں گزشتہ دو ایک برسوں میں اچانک ایک ایسا بدلائو آیا جس نے اس شعبہ کا نقشہ ہی بدل دیا۔روایتی تعلیم کی جگہ آن لائن تعلیم نے لے لی ہے ۔ ایک کلاس روم جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے تھے اور جہاں اساتذہ طالب علموں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات استوار کرتے تھے ،وہ اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اُن ننھے منے بچوں کا تصور کریں جنہیں کووڈ لہر آنے کے ساتھ ہی کنڈرگارٹن میں داخل کیا گیا تھا،وہ تاحال اپنی پہلی کلاس لینے کے منتظر ہیں کیونکہ جب سے سکول مسلسل بند ہیں۔ اگرچہ آن لائن تعلیم نے وقت کے ضیاع کی کافی حد تلافی کی لیکن ایک استاد اور ان کے طلباء کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ یہ چھوٹے بچے اب اپنے اساتذہ کو کچھ ڈیجیٹل آلات کے طور پر جانتے ہیںجنہیں وہ آواز اور تصویرکی حد

کورونا آفت کا سب سے بڑاسبق | انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں سے فرار بجا نہیں

کوئی بھی آفت متاثرہ علاقے اور لوگوں کو ویسا نہیں چھوڑتی جیسے وہ اس آفت سے پہلے ہوتے ہیں اور کورونا آفت جیسی ناگہانی آفت نے یقینی طور پر کسی مخصوص علاقہ کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے ۔اس آفت سے جو گہرے گھائو لگے ہیں ،اُن کو بھرنے اور ایک نئی شروعات کرنے میں بہت زیادہ وقت اور کوششیں درکار ہیں تاہم وہ اتنا آسان نہیں ہوگا اور اس میں بہت سارا وقت لگے گا کیونکہ کووڈ وباء کی وجہ سے عالم انسانیت نفسیاتی ،مالی اور سماجی اعتبار سے بالکل ہل چکی ہے ۔ ہر سطح پر ٹوٹ پھوٹ کے اثرات جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ یقینا خود سے قطعی نہیں ہونگے۔ ہمیں بنی نوع انسان کو کورونا وباء کی وجہ سے پیدا ہونے ان شدید ترین بحرانوں سے نکالنے کے لئے ادارہ جاتی کوششوں کی ضرورت ہوگی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بار معیشت کے پہیے حرکت کرنا شروع کردیں گے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اگرچہ یہ ایک طرح سے

سوچیت گڑھ سرحد پر پریڈشروع

 2اکتوبر کادن جموں و کشمیر کے لئے ایک تاریخی دن تھا کیونکہ اُس شام کو صوبہ جموں کی سوچیت گڑھ ہندوپاک بین الاقوامی سرحد پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ریٹریٹ تقریب کا افتتاح کیا۔دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔بی ایس ایف کی نئی شروعات جموںوکشمیریو ٹی کی سرحدی سیاحت کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے علاو سوچیت گڑھ کو عالمی سیاحت کے نقشے میں بھی ڈال دے گی۔چونکہ عرصہ دراز سے سوچیت گڑھ سرحد پر واہگہ سرحد کی طرز پر اس طرح کی تقریب منعقد کرنے کا مطالبہ کیاجارہاتھا تو جب لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ ہوا تو سوچیت گڑھ اور ملحقہ علاقوں کے لوگ امڈ کر آئے تھے اور انہوںنے مکمل حب الوطنی کے جذبہ کے ساتھ اس تقریب کو دیکھا اور سراہا۔گوکہ فی الوقت یہ تقریب یکطرفہ طور پر منعقد کی جارہی ہے اور اس میں صرف بی ایس ایف کے جوان مارچ پاسٹ پر سلامی لینے کے علاوہ ترن

زرعی زمین سکڑ رہی ہے !

 غذا کیلئے زرعی اراضی کا ہونا ضروری ہے۔ساری غذا زمین سے پیدا کی جاتی ہے۔ایسے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمین کے بغیر خوراک کا تصور محال ہے لیکن اس کے باوجود زرعی کشمیر میں زمین کو غیر زرعی استعمال میں لایا جارہا ہے۔کشمیر صوبہ میں پچھلے چھ برسوں میں 78 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی اراضی کو غیرزرعی مقاصد کیلئے استعمال میںلایاگیاہے جبکہ حکومت زرعی زمین کے بے دریغ تبادلوں پر روک لگانے میں مکمل طور ناکام ہورہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں کشمیر میں غیر زرعی مقاصد کے لئے 78 ہزار ہیکٹر (جو کہ 15.4 لاکھ کنال کے مساوی ہے) زرعی زمین کااستعمال ہوا ہے۔سرکاری اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کررہے ہیں کہ کشمیر میں زرعی زمین سکڑ رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں 2015 میں 4 لاکھ 67ہزار700 ہیکٹر زرعی اراضی تھی جو 2019 میں گھٹ کر 3 لاکھ 89 ہزار ہیکٹر رہ گئی ہے۔اعداد و شمار سے

روزگار کی فراہمی…وعدے وفا ہوں

 5اگست 2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تقسیم کیاگیا تو پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہم دوسال بعد صورتحال یہ ہے کہ دس ہزار نوکریوں کے ساتھ کسی کو کچھ ہاتھ نہ لگا ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموںوکشمیر میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سرکاری سیکٹر میں نوکریاں فراہم کرنے کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال آٹھ ہزار سے زائد درجہ چہارم اسامیاں مشتہر کی گئیں جس کے بعد پنچایت محکمہ میں اکائونٹس اسسٹنٹوں کی پندرہ اسامیاں مشتہر کی گئیں ۔یوں دوسال میں محض10ہزار اسامیاں ہی مشتہر کی گئیں اور اب بتایا جارہا ہے کہ مزید دس ہزار اسامیاںعنقریب مشتہر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ80ہزار کے قریب اس

گلی محلوں میں تعلیمی ادارے کھولنا بجا

  کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی سینکڑ

ڈل جھیل کی بحالی… دلّی ہنوز دور است!

 مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر سوچھ بھارت مشن کے تحت ایک ماہ طویل صفائی مہم کا جھیل ڈل سے افتتاح کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے اعتراف کیا کہ ڈل کی شان رفتہ کی بحالی کیلئے اُتناکام نہیں ہوسکاجتناکرنیکی ضرورت تھی تاہم انہوںنے کہا کہ اب اس کام میں سرعت لائی جائے گی اور ڈل کی عظمت رفتہ بحال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ادھر حکومت کا دعویٰ ہے کہ کبوتر خانہ،لولی محلہ،خانہ محلہ اورکانڈہ محلہ کے پاس ڈل کے ایک حصے دولہ ڈیمب سے تجاوزات اور گھاس پھوس باہر نکال کر تقریباً ایک ہزار کنال اراضی کو صاف کرکے اسکو آبی ذخائر میں منتقل کردیا گیا۔ حکومت کے مطابق ڈل جھیل ،نگین،آنچار اور خوشحال سرکے بارے میںریکارڈ کو درست رکھنے کے لئے ان آبی ذخائرکی تازہ پیمائش کی گئی ہے جس کے مطابق ڈل اور نگین کا رقبہ .18 50432 کنال اراضی ہے جس میں 39226آبی ذخائر اور 10206کنال اراضی خشکی ہے جبکہ تاز

جنگلی جانوروں کے حملے ،ذمہ دار کون؟

وادی سے شائع ہونے والے مقامی اخبارات میں آئے روز جنگلی جانوروں کے حملوں سے متعلق خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق جنگلی جانوروں کے حملوں میں اب تک کشمیر میں سینکڑوں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔غور طلب ہے کہ اگر کشمیر کے جنگلات کو جنگلی جانور صدیوں سے اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ہی یہ جنگلی جانور ان خونخواربن گئے کہ انہیں انسانوں کے لہو کا چسکا لگ گیا ہے جبکہ اس سے قبل اس طرح کی شکایت نہیں تھی۔ماہرین کے نزدیک انسانی آبادی میں جنگلی جانوروں کی یلغار کی سب سے بڑی جنگلی جانوروں کے مسکن میں انسانوں کی بیجا مداخلت اور ان گھر کو برباد کرنا ہے۔ جس عرصہ کے دوران جنگلی جانوروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے ،اگر اس عرصہ کے دوران جنگلات کے کٹائو کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال بالکل واضح ہوجائے گی ۔یہ وہ عرصہ ہے ج

ٹریفک نظام کب سُدھرے گا؟

 شہرسرینگر سمیت پوری وادی میں ٹریفک نظام کی بدحالی ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ ٹریفک نظام کی تباہی اور بربادی کے مسائل وہی ہیں ، جو کئی سال پہلے تھے لیکن ان مسائل کو مکمل طور حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سڑکوں کی تنگ دامانی، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ، عوام کی جانب سے قوانین و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں، محکمہ ٹریفک میںا نفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی قلت جیسے مسائل کو حل کرنے کی جانب جب تک توجہ نہیں دی جاتی ، ٹریفک ہفتے تو کیا ’ ٹریفک سال ‘ منانے سے بھی کچھ نہیں بدلے گا بلکہ مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جائیں گے۔ پہلے تو ٹریفک جامنگ کا مسئلہ صرف شہر کے بالائی علاقوں تک محدود تھا ، اب ہائی ویز پر تمام قصبہ جات میں ٹریفک جامنگ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے تئیں اتنی سنجیدگی سے توجہ

کووڈ طوفان…احتیاط ہی علاج ہے!

 شہر سرینگر کے چند ایک علاقوں اور جموں خطہ کے سانبہ میں تین علاقوں کو چھوڑ کر جموںوکشمیر میںکووڈ لاک ڈائون ختم ختم ہوچکا ہے ۔بلا شبہ اس حکومتی اقدام سے لوگوںکو راحت ملی کیونکہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حدتک بحال ہو گئیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی چل رہاہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ ملنے لگا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے اور اب مسلسل تیسری لہر کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ یورپی ممالک اور مغرب میں بھی ایک خطرناک وائرس سٹرین کے آنے کی باتیں کی جارہی ہیں جس سے بیس سال کی عمر تک کے بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار

زرعی زمین کو بچائیں

  عدالت عالیہ نے اپنے ایک حکمنامہ میں زرعی اراضی کو تعمیراتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی روش ختم کرنے کیلئے صوبائی انتظامیہ کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس ضمن میں پولیس کی مدد لینے کی بھی بات کی گئی ہے ۔واضح رہے کہ عدالت عالیہ نے اس سے قبل تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں پر لازم بنایا تھا کہ وہ اپنے اضلاع میں زرعی اراضی کے غلط استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کریں تاہم ابھی تک سبھی اضلاع سے یہ رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش نہیں کی گئی ہے جس سے اس حساس مسئلہ کے تئیںانتظامیہ کی غیر سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔غذا کیلئے زرعی اراضی کا ہونا ضروری ہے۔ساری غذا زمین سے پیدا کی جاتی ہے۔ایسے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمین کے بغیر خوراک کا تصور محال ہے لیکن اس کے باوجود زرعی زمین کو غیر زرعی استعمال میں لایا جارہا ہے۔ لاکھوں کنال زرعی زمین کو پختہ جنگل میں تبدیل کیا گیا۔ایک وقت ت

سکڑتی ولر جھیل اور ہماری بے حسی!

 ستمبر2014کا سیلاب کشمیر میں ہرسوتباہی پھیلاکرمکانات،پلوں،سڑکوں،کھیت اورفصلوں کوجہاں اپنے ساتھ بہالے گیا،وہیں لوگوں کو آنے والے برسوں کیلئے تلخ یادوں کاایک خزانہ بھی دے گیا۔اس تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ ماہرین کے مطابق متواتر حکومتوں کی براعظم ایشیاء کے سب سے بڑے میٹھے پانی کے جھیل ،ولر کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکامی تھی کیونکہ یہ جھیل ہرگزرتے دن کے ساتھ سکڑتی ہی چلی جاتی ہے۔نہ صرف اس جھیل میں آس پاس رہائش پذیرلوگوں نے مداخلت کرکے اس کے پانیوں پرناجائزقبضہ کیا،بلکہ محکمہ جنگلات نے جھیل کے اندر لاکھوں کی تعدادمیں درخت اُگاکردریائے جہلم کے بہاؤمیں رکاوٹ پیداکردی اور جب اس دریا کا بہاؤجوبن پرتھا،تویہ خطرناک سیلاب کاموجب بنا۔1911میں جھیل ولرکارقبہ217مربع کلومیٹر تھاجواب نصف سکڑچکاہے ۔ویٹ لینڈانٹرنیشنل کے مطابق جھیل ولرحکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے سالہاسال سے سکڑرہا ہے اوردریائے جہ