تازہ ترین

زچگی بذریعہ جراحی

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ بالآخر جراحی کے ذریعے زچگی کے بڑھتے رجحان پر بیدار ہوچکی ہے اور نہ صرف اس رجحان پر قابو پانے کی ہدایت دی گئی ہے بلکہ جراحی کے ذریعے زچگی کے معاملات کا آڈٹ کرنے کیلئے بھی کہاگیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS)-5 کے مطابق جموں و کشمیرسیزرین سیکشن (سی-سیکشن) پیدائش کے معاملہ میں تمام ہندوستانی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دوسرے نمبر پررہا ہے۔مذکورہ سروے کے مطابق جموں و کشمیرمیں42.7% زچگیاں جراحی کے ذریعے عمل میںلائی جاتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ 100میں سے قریب43زچگیاں جراحی کے ذریعے ہوتی ہیں۔جب ہم نجی صحت کے اداروں میںزچگی کے اعدادوشمار دیکھتے ہیں تو  صورتحال جموں و کشمیر کیلئے بدترین ہے کیونکہ سروے میں کہاگیا ہے کہ جموں وکشمیر کے نجی ہسپت

نوجوانوں کی توانائی کو صحیح سمت دیں

  آبادیاتی پروفائل ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کا تناسب نمایاں ہے اورنوجوانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً وضع کردہ پالیسیوں میں نوجوانوں کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔یہ اسی احساس کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں پر مبنی مختلف سکیموں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ہم اکثر نوجوانوں کو ان سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے کھیلوں میں شروع کیے جانے والے اقدامات کو دیکھتے ہیں جو ان کی مشکلات کو دور کرتی ہیں۔صرف کھیل ہی نہیں، حکومت روزگار کے حوالے سے جو بھی پالیسیاں بناتی ہے وہ دراصل نوجوانوں کے لئے ہوتی ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی میں ابھرتے ہوئے رجحانات کا بھی خیال رکھا گیا ہے تاکہ ہمارے نوجوان ان رجحانات سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقے سے لیس ہوں۔مجموعی طور پر حکومت آبادی کے اس حصے کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتی ہے

خطوں اور ذیلی خطوں کا جوڑنا ناگزیر

 جموں وکشمیر مختلف جغرافیائی زونوں کا علاقائی مجموعہ ہے اور یہ زون زیادہ تر دشوار گزار علاقوں سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں۔جب موسم خراب ہوتا ہے تو یہ مشکل ہمیں شدید ترین مشکل سے دوچار کرتی ہے۔ لوگ بارش یا برف باری کی صورت میں ان علاقوں کا سفر نہیں کر سکتے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو اب ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات بھی مستقل ہی ہیں۔ خاص طوروہ لوگ مسلسل اثرات سے دوچار ہیں جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ اب جب کہ سردیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے اور چند روز قبل سال کی پہلی برف باری بھی ہوئی جس کے نتیجہ میں جموں وکشمیر یوٹی کے کئی خطے ہنوز منقطع ہیںاور کئی خطوں و ذیلی خطوں کا سڑک رابطہ بحال نہیںہوپایا ہے جس کے نتیجہ میںان خطوں میںعوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ ایسے حالات میں پھر ایک بار وہی سوال جواب طلب ہے جو اب تک سینکڑوں بار اجاگر کیاگیا ہے۔ اس تکنیکی لحاظ سے ترقی ی

غیر معیاری اور ملاوٹی خوراک

 کشمیرکی ہر سڑک پرتلے آلو ، مٹھائیاں اور دیگر پکے ہوئے غذائی اجناس فروخت کرنے والے خوانچہ فروشوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اور جلدی میں سفر کرنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعد اپنی بھوک مٹانے کیلئے انہی خوانچہ فروشوں کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔جہاں سڑکوں اور بازاروں میں ایسی ہی چھاپڑیوں پر غذائی اجناس خرید کرکھانے والے عام لوگوں کی شکایت ہے کہ سڑک پر ملنے والے غذائی اجناس غیر معیاری اور ملاوٹی ہوتے ہیں وہیں بڑے نام رکھنے والے ریستورانوں اور بیکری دکانوں کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور اب ڈبہ بند خوراک نے یہ تمیز ہی ختم کردی ہے ۔چھاپڑی فروشوں، دکانوں اور ریستورانوں میں لوگوں کو فروخت کئے جانے والے غذا کی وجہ سے صارفین دست ، بخار اور دیگر بیماریوں کے شکار ہوتے ہیںجبکہ Processed Foodبنانے والے اور چھاپڑیوں اور دکانوں پر غذائی اجناس فروخت ک

تباہی نہیں، بھلائی پر توجہ دیں

  ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا معاشی نظام تلپٹ ہوچکا ہے اور عالمی معیشت کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی اچھے تخمینے سامنے نہیں آرہے ہیں ،یہ پریشان کن انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں نسل انسانی کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عالمی دفاعی بجٹ مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔سال رفتہ میں دفاعی ساز و سامان کی خریداری میںگزشتہ دہائی کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس صرفہ میں بیک وقت3.6فیصد اضافہ ہوا ہے ۔حیرانگی کی با ت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑیں ،اب تو ہمارا ملک بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے اور امریکہ وچین کے بعد بھارت دنیا کا ایسا تیسرا ملک بن چکا ہے جہاں دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکہ میں 2019کے مقابلے میں3.6فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ 1917بلین ڈالر تک پہنچ گیااور یہ 2010کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔اسی طرح چی

دیہی ترقی بہتر شہری زندگی کیلئے لازمی

چونکہ اب شہر کاری کا رجحان بدستور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اور دیہات سے قصبوں اور شہر کی جانب ہجرت کا سلسلہ رکنے کا نام نہیںلے رہا ہے تو شہری کاری کے اس جاریہ رجحان کے تحت ہم یہ غلط تصور کر بیٹھے ہیں کہ شہر ہی ترقی کے انجن کو چلاتے ہیں۔تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کے پالیسی سازاور سیاسی ادارے بھی زیادہ سے زیادہ شہر بنانے یا پہلے سے قائم کئے گئے شہروں کو وسعت دینے کے جنون میں مبتلا ہیں جن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے اس حصے میں زیادہ تر خدمات اور سہولیات شہروں تک ہی محدودہیں اور پھر ہم یہ واویلا مچاتے ہیں کہ لوگ شہروں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ جب دیہات میں خدمات اور سہولیات میسر نہ ہوں تو لوگ قصبوں اور شہروں کی جانب رخ کریں گے کیونکہ وہاں معیار حیات اور خدمات و سہولیات دیہات کی نسبت بہتر ہوتی ہیں اور وہاں نہ صرف انہیں بچوں کو اچھی تعلیم نصیب ہوتی ہے بلکہ صحت کے حوالے سے

مابعد کووڈ عالمی معیشی بحران

 پچھلے دو سال ہم تقریباً پوری طرح سے وبائی مرض کی زد میں آ چکے تھے۔ ہماری نسل نے اپنا بدترین وقت دیکھا جہاں ہر جگہ لوگوں کو خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ہم نے بڑی تعداد میں لوگوں کے مرنے، کاروبار راتوں رات ختم ہونے اور چند ہی دنوں میں ملک کے بعد ملک میں ویرانی کے خوفناک مناظر دیکھے۔ یہ خوفناک وقت تھے اور اس کا اثر ابھی باقی ہے۔اس وبائی مرض نے کاروبار اور حکمرانی کے عالمی نظام میں جو تباہی لائی ہے وہ ایسی چیز ہے جس کا ابھی پوری طرح سے ادراک ہونا باقی ہے۔ درحقیقت جو تجزیہ اب ہو رہا ہے وہ ہمیں ایک انتہائی افسوسناک کہانی سناتا ہے۔دنیا ایک کثیر الجہتی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے اگر کچھ فوری اور ہنگامی نوعیت کے اصلاحی اقدامات نہیںکئے جاتے ہیں۔ وبائی مرض کے دوران ہم نے لاکھوں میں ملازمتوں کا نقصان دیکھا ہے۔ ہم نے اعلیٰ، درمیانے اور نچلے درجے کے کاروبار بند ہوتے ہوئے دیکھے یا نمایاں کمی

تعلیم یافتہ نوجوان اور بیروزگاری

آج کے نوجوانوں کے لئے سب سے اہم چیز کیا ہے؟۔ اس سوال کے جواب میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتاکہ آج نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت روزگار ہے کیونکہ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے ہی ہم قوم کو آگے لیجاسکتے ہیں۔جہاں تک روزگار کی فراہمی کا تعلق ہے تو یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور جس طرح اس وقت جموںوکشمیر میں بیروزگاری کی شرح ملکی سطح پر سب سے زیادہ ہے ،ایسے میں ہر تعلیم یافتہ نوجوان کیلئے سرکاری سیکٹر میں روزگار کا بندوبست کرنا ممکن ہے ۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر نوجوانوںکو باروزگار کیسے بنایا جائے۔جواب مختصراً یہ ہے کہ ہمیں روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔جو بھی حکومت نوجوانوں کے اس مطالبے پر لبیک کہے گی، وہ بہتر طرز حکمرانی کی مثال پیدا کرے گی۔اگر اس پس منظر میں دیکھا جائے توجموںوکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہاکاجموں و کشمیر مشترکہ مسابقتی امتحانات (جے کے سی سی ای) کی

گھریلو تشدد …سفاکانہ طرز عمل کب ختم ہوگا؟

 گزشتہ روز ایک او ر خاتون خانہ مبینہ طور گھریلو تشدد کا شکا ر ہوکر زندگی کی جنگ ہار بیٹھی جبکہ گزشتہ چند ایک ماہ میں ایسے کئی معاملات سامنے آئے جن میں خواتین کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایاگیا تھا ۔اخباری رپورٹوںکے مطابق سرینگر کے صدر ہسپتال میں ہفتے میں اوسطاً ایک خاتون کو داخل کیاجاتا ہے جو گھریلو تشدد کی نذر ہوئی ہوتی ہے۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو آگ سے جھلسا دیتی ہیں اور اس وقت بھی ہسپتال کے برن وارڈ میں کئی خواتین جھلس جانے کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ماہرین سماجیات کی جانب سے حال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کی شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات دہیج ،سسرال والوں کی مداخلت ،غلط فہمی ،شوہر کی طرف سے زیادتیاں، بچیوں کو جنم دینا وغی

ناگہانی آفات متاثرین

جدید دور میں سب سے اہم ادارہ ، در حقیقت تمام اداروں کی ماں ، ریاست ہی ہے۔ اس میں اجتماعیت کے تمام افعال کا احاطہ کیا گیا ہے اور جدید دور کے بین الاقوامی نظام کی بنیاد بنتی ہے۔ ریاست کا ایک اہم کام معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور دستیاب وسائل کو منصفانہ اور موثر انداز میں تقسیم کرنا ہے۔ جوریاست یہ کام کرتی ہے وہ کامیاب کہلاتی ہے اور جویہ کام کرنے میں ناکام رہتی ہے ،وہ لوگوں کی نظروں میں جواز کھو دیتی ہے۔ ایک ہی کام کی قدرتی اور منطقی توسیع ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے مالی یا دوسرے بحران میں الجھے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کی ریاستیں معاشرے کے ان طبقوں کے لئے پیکیجوں اورسکیموں کا اعلان کرتی ہیں جنہیں انسا ن کی لائی ہوئی یا قدرتی تباہی کا سامنا کرنا پڑاہو۔ ایسے تمام حالات میں ،چاہئے وہ طوفان ہو، زلزلہ ہو ، سیلاب ہو یا آگ ، لوگ توقع کرتے ہیں کہ ریا

مذہبی مقامات کی بحالی کا اعلان مستحسن

 جموں وکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اتوار کو اننت ناگ کا دورہ کیا اور مٹن کے قدیم مارتنڈسوریہ مندر میں نوگراہ آستھا منگلم پوجا میں حصہ لیا۔ اس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے ثقافتی اور روحانی اہمیت کے حامل قدیم مقامات کی حفاظت اور ترقی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر متنوع مذہبی اور ثقافتی اثرات کا گھر ہے اور ملک میں علم کا مرکز ہے اورہم جموںوکشمیر کے تاریخی روحانی مقامات کو متحرک مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں جو ہمیں نیکی کی راہ پر گامزن کریں گے اور اِس خوبصورت سر زمین کو اَمن ، خوشی اور خوشحالی سے نوازیں گے۔جہاں تک مارتنڈ سوریہ مندر کا تعلق ہے تو آٹھویں صدی کایہ مندر ہندوستان میںسوریہ منادر میں سب سے قدیم ہے اور انمول قدیم روحانی ورثے کی علامت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کا اس قدیم اور تاریخی مندر کا دورہ اور وہاں پو

ترقیاتی عمل کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں

 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی اقتصادی اور ہمہ گیر ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے مختلف تاریخی اقدامات  کئے ہیں۔ماضی میں مناسب بنیادی ڈھانچے کی کمی کو جموں و کشمیر کی معیشت کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پچھلے تین برسوں میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے اہم اقدامات کیے گئے جن کے بروقت نفاذ کے لئے منظوریوں پر فیصلوں کو تیز کیا گیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ترقی کی رفتار میں گزشتہ دو ایک برسوں میں تیزی آئی ہے اور جموںوکشمیر میں زندگی کے ہر شعبہ میں ہمہ گیر ترقی یقینی بنانے کیلئے تمام سیکٹروں میں زر کثیر خرچ کیاجارہا ہے ۔ترقی کی رفتار میں کس حد تک تیزی آئی ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں50ہزار7سو 26ترقیاتی پروجیکٹ مکمل کئے گئے جبکہ2018میں یہ تعداد فقط 9ہزار2سو 29ت

صنعتی انقلاب اور کشمیر | خانہ پُری سے آگے بڑھنے کی ضرورت

دنیا کی کوئی بھی معیشت صرف بنیادی شعبے پرنہیں چل سکتی۔ حقیقت میں زراعت سے صنعتوں کی طرف جھکائونے دنیا کے ترقی یافتہ حصوں میں معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی زرعی شعبے سے صنعتی شعبہ کی جانب سفر کی ضرورت کو بہت پہلے محسوس کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے صنعتوں کے فروغ میں مدد کے لئے بہت سارے پیکیج مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ان مثبت اقدامات کا صنعتوں کیلئے مقصد انفراسٹرکچر ، پیداوار اور مارکیٹنگ سے منسلک مشکلات پر قابو پانا تھا۔بلا شبہ نتائج اب تک حیرت انگیز رہے ہیں۔ پورے ملک میں وہ ریاستیں جو مضبوط صنعتی بنیادبنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، اُن کی معیشت اُن ریاستوں سے کافی بہتر ہے جو صنعتی سیکٹر میں پیچھے رہی ہیں۔بدقسمتی سے جموں وکشمیر خاص کر کشمیر صوبہ بھی اس زمرے میں پڑتا ہے جہاں صنعتی شعبہ آج تک پیر نہیں جما سکا ہے اور لاکھ کوششوں و خواہشات کے باوجود یہاں صن

منشیات کے طوفان سے نسلِ نو کو بچائیں!

  حال ہی میں حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں 6لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں جو اس کی ایک کروڑ 36لاکھ 50ہزار آبادی کا تقریباً 4.6فیصد ہے اور منشیات کا استعمال کرنے والوں میں 90فیصد 17سے35سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں گذشتہ 6برسوں کے دوران ہیروئن اور برائون شوگر کا نشہ کرنے والوں کی تعداد میں 85فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ہر دن پولیس کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ کشمیر سے کٹھوعہ تک پورا جموںوکشمیر اس وباء کی لپیٹ میں آچکاہے ۔گو پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات مخالف مہم میں سرگرم ہے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ جموںوکشمیر منشیات کے خریدو فروخت اور استعمال کی پسندیدہ جگہ بن چکا ہے۔ جہاں تک ہماری وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل ط

! جذبہ اخوت سے عاری ہو تو وہ زکواۃ کیا

برکتوں اور سعادتوں کا یہ مہینہ اختتام پذیر ہورہا ہے۔رمضان کا مہینہ واقعی عملوں کاموسم بہار ہوتا ہے۔ مسلمان اس ماہ کے دوران روزوںکے علاوہ دیگر نیکیوں میں بھی ایک دوسرے پر سبقت  لینا چاہتے ہیں۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق سماج کے سبھی حلقے فراخدلی سے محتاجوں ، مسکینوں اور مفلوک الحال لوگوں کے لئے نقدو جنس دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ قابل تحسین رحجان ہے لیکن زندگی کی تیز رفتاری نے زکواۃ کے بنیادی مقصد پر انجمنوں اور تنظیموں کا غبار چڑھا کے رکھ دیا ہے۔ زکواۃ کا مقصد جہاں مال کا تزکیہ ہے وہیں اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ آسودہ حال لوگوں کے دلوں میں غریب پروری کا جذبہ پروان چڑھے۔ یہ مقصد کسی تنظیم یا کسی انجمن کو چندہ دینے سے پروان نہیں چڑھتا۔ ہزاروں سال سے فلاکت زدہ طبقے نظروں سے اوجھل رہے ہیں۔ امیر لوگ غریبوں کے حال پر رحم کھا کر کچھ نہ کچھ دھان تو کردیتے ہیں، لیکن اِ ن کی دلجوئی کو عار سمجھتے ہیں

عید الفطر کی آمد آمداو رہماری ذمہ داریاں

  برکتوں اور سعادتوں کا یہ مہینہ اختتام پذیر ہورہا ہے اور مسلمانان عالم عید الفطر منانے کی تیاریوں میں جْٹ گئے ہیں۔امت مسلمہ کیلئے عید کا تصور ہی دل کو شاد ماںکرنے والا ہے کیونکہ پورے ایک مہینے تک بدنی اور مالی عبادات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا جوش و خروش ہی بلند نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی اور روحانی سطح پر جذبات کی سطح عروج پر ہوتی ہے۔ وادی کشمیر میں بھی عید سے پہلے ہی چہل پہل اورجوش و جذبے کو جلا ملنا شروع ہوئی ہے۔ جوش و خروش کا عالم شروع ہوا۔ بازاروں میں گہما گہمی ہے اور لوگ خریداریوں میں مصروف نظر آرہے ہیں۔کاروباری سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں۔بچوں کی خوشی کی عالم ہی نرالا ہے۔یقینا اس مقدس عید کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں کی گہرائیوں میں موجود جذبات وابستہ ہیں۔ لیکن عید کی تیاریوں اور عید منانے کے طریقے کے حوالے سے بھی ہمارے معاشرے میں دو طرح کے رویے دیکھنے کو مل رہے ہیں

بجلی بحران…عذرات نہیں ،عملی اقدامات چاہئیں!

  جموںوکشمیر میں بجلی کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور اب تو 10سے12گھنٹے کی یومیہ کٹوتی معمول بن چکی ہے جبکہ اب محکمہ بجلی کی جانب سے اس بات کے واضح اشارے دئے جارہے ہیں کہ مستقبل قریب میں بجلی بحران ختم ہو نے کا کوئی امکان نہیں ہے بلکہ اگر واقف کار حلقوں کا اعتبار کیاجائے تو آنے والے دنوں یہ بحران مزید سنگین ہوجائے گا اورکٹوتی کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے ۔بادی النظر میں انتہائی ظالمانہ کٹوتی شیڈول کیلئے حسب دستور محکمہ رسد اور طلب میں واضح خلیج کو وجہ قرار دے رہا ہے اور محکمہ کا کہنا ہے کہ انہیں کشمیر میں 1600میگاواٹ بجلی درکار ہے جبکہ دستیاب بجلی صرف 1000سے1200میگاواٹ ہی ہے اور ڈیمانڈ اور سپلائی میں موجود اس خلیج کو پاٹنے کیلئے کٹوتی ناگزیر بن چکی ہے۔اب تو محکمہ ایک اور عذرِلنگ سامنے آیا ہے کہ گزشتہ برس جولائی کے مہینہ میں قومی سطح پرڈ 2لاکھ میگاواٹ کی ڈیمانڈ کا ریک

ٹریفک نظام میں بہتری کب آئے گی؟

 شہرسرینگر سمیت پوری وادی میں ٹریفک نظام کی بدحالی ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ ٹریفک نظام کی تباہی اور بربادی کے مسائل وہی ہیں ، جو کئی سال پہلے تھے لیکن ان مسائل کو مکمل طور حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سڑکوں کی تنگ دامانی، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ، عوام کی جانب سے قوانین و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں، محکمہ ٹریفک میںا نفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی قلت جیسے مسائل کو حل کرنے کی جانب جب تک توجہ نہیں دی جاتی ، ٹریفک ہفتے تو کیا ’ ٹریفک سال ‘ منانے سے بھی کچھ نہیں بدلے گا بلکہ مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جائیں گے۔ پہلے تو ٹریفک جامنگ کا مسئلہ صرف شہر کے بالائی علاقوں تک محدود تھا ، اب ہائی ویز پر تمام قصبہ جات میں ٹریفک جامنگ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے تئیں اتنی سنجیدگی سے توجہ

یومیہ مزدوروں کی اجرت میں اضافہ | شروعات اچھی لیکن بہت کچھ کرنا ابھی باقی

وزیراعظم نریندر مودی کے جموں دورہ سے محض دو روزقبل جس طرح لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے یومیہ اجرت والوں کی کم از کم اجرت میں اضافے کو منظوری دینے کا اعلان کیاگیا،وہ بڑی اصلاحات کی طرف ایک اچھی شروعات ہے۔مذکورہ حکم نامہ میں تمام سرکاری محکموں میںکام کررہے کیجول لیبروں کو شامل کیاگیا ہے اور یہ اضافہ موجودہ 225 روپے یومیہ سے 300 روپے یومیہ تک کیاگیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک عبوری اقدام ہے جب تک کہ لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کم سے کم اجرت کی شرحوں پر نظر ثانی نہیں کی جاتی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ محنت و روزگار محکمہ کو 3 ماہ کے اندر اس عمل کو مکمل کرنے کیلئے کہاگیا ہے۔کم از کم اجرت کا خیال مزدوری سے متعلق قوانین اور قواعد کے تعین میں رہنما قوت بنناچاہئے۔یہ صرف معیشت اور غریبوں کی مدد کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر انسانی وقار کے خیال سے جڑا ہوا معاملہ ہے

تعلیمی شعبہ کی زبوں حالی | دعوے بہت ہوئے ،کچھ عملی طور بھی کریں!

 کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں۔ نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی سینکڑووںمیںہے جن کے