معیشت اور عوامی صحت…توازن برقرار رکھیں

کورونا وائرس کے پھیلائو میں فی الحال بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور مستقبل قریب میں اس وباء سے خلاصی کی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی ہے ۔گوکہ اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک اور جموںوکشمیر میں بھی حکومتی سطح پر اس وباء سے نمٹنے کی کوششیں جاری رہیں تاہم فی الحال نتائج کوئی اطمینان بخش نہیں ہیں۔اب تو یہ بات تقریباً طے ہوچکی ہے کہ اس وائرس کا ویکسین تیار ہونے میں اگر جلدی بھی ہوئی تو اس سال کے اختتام سے قبل نہیں آئے گاجبکہ دوسری جانب انسانی جسم میں وبائی عفونت کی تشخیص کیلئے جو انٹی باڈی ٹیسٹ کٹس منگوائے گئے ہیں،ان کے معیار پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور خودعالمی ادارہ صحت سے لیکر امریکہ نے بھی متعدد خدشات کا اظہار کیا ۔جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے تو گوکہ یہاں بھی یہ کٹس ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کوحکومت کی طرف سے سپلائی کئے گئے تھے تاہم

رمضان کے بعد اب ہے اصل امتحان!

 اب جبکہ رمضان المبارک کا بابر کت اور مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے اور کل یا پرسوں ہم عید کی خوشیاں منارہے ہونگے جو واجب بھی ہے تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لمحے،یہ دن ،یہ ماہ وسال اصل میں ہماری زندگی کے کم ہورہے ہیں اور ہر گزرنے والا لمحہ ہمیں موت کے قریب لے جاتا ہے ۔رمضان المبارک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اگلے سال پھر وارد ہوگا لیکن کیا پتہ ،اُس سال کس کو موت سے رستگاری ملی ہوگی اور اس کو اگلے رمضان کے روزے رکھنا نصیب ہوں۔ زندگی انتہائی قلیل ہے اور اس قلیل زندگی میں کام بہت ہیں۔رمضان کے تین عشروں میں روزے رکھ کر اور نمازیں اد اکرکے بے شک ہم سکون محسوس کررہے ہیں لیکن رمضان کے بعد اصل امتحان اب شروع ہوگا۔رمضان المبارک بنیادی طور پر ایک تربیتی کورس ہے کہ ایک مسلمان کو سال کے بارہ ماہ اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے ۔امتحان یہ ہے کہ جس طرح رمضان المبارک میں ہم نے اللہ کی خوشنودی کیلئ

عید کے چاند کی خوشی کہاں؟

 رمضان کا مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہورہا ہے۔ عید کا چاند سایہ فگن ہونے کی تاک میں بے قرار ہے۔عید کی آمد آمد ہے ۔عمومی طور پر عید مسلمانوں کیلئے خوشی کا تہوار ہے لیکن جس ماحول میں عید کشمیر پر سایہ فگن ہورہی ہے ،وہ کوئی خوشیوں سے بھرا ماحول نہیں ہے۔ لوگ کربناک حالات سے دوچار ہیں، آہوں اور سسکیوں کی آواز یں ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا نظام تہہ وبالا ہوچکا ہے ۔دنیا سمیت کشمیر لاک ڈائون کی پوزیشن میں ہے ۔لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں ۔سینکڑوں کی تعداد میں معصوم نوجوان زندانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔سینکڑوں مائیں آج بھی دریچوں سے باہرٹکٹکی لگائے جھانک رہی ہیں کہ شاید ان کا لخت جگر عید کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے ضرور آئے گا۔گھروں کے ٹوٹے درودیوار،ٹوٹی کھڑکیاں،تباہ شدہ املاک اور اربوں روپے کی مالی قربانی زبان حال سے ہمارے ضمیرکوجھنجوڑ رہی ہے۔ ان ج

طبی و نیم طبی عملہ پر کورونا کاوار

گزشتہ کچھ روز سے مسلسل ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ جموںوکشمیر کے اُن ہسپتالوں ،جہاں فی الوقت کووڈ۔19مریضوں کا علاج چل رہا ہے ،میں طبی اور نیم طبی عملہ سے وابستہ افراد خود کورونا وائرس کے شکار ہورہے ہیں۔گزشتہ کچھ دنوں میں نہ صرف سرینگر کے صدر ہسپتال میں مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں کو کورونا وائرس میں مبتلا پایاگیا بلکہ بڑی تعداد میں نیم طبی عملہ کو بھی قرنطین کردینا پڑا ۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ صدر ہسپتال سے منسلک سپر سپیشلٹی ہسپتال کے چار اہم شعبوں کو ہی بند کردینا پڑا اور ان میں سرطان کے مریضوںکیلئے کیمو تھراپی کا اہم شعبہ بھی شامل ہے۔اسی طرح کووڈ۔19مریضوںکیلئے مخصوص کئے گئے سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ میں بھی کئی ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور اس وقت بھی اس ہسپتال میں طبی و نیم طبی عملے کی ایک اچھی خاصی تعداد قرنطین میں ہے ۔شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ

اقامتی سند کی اجرائی کے قواعد وضوابط

بالآخر وہ ہو کر ہی رہ گیا جس کا 5اگست2019سے انتظار کیاجارہا ہے۔ پشتینی باشندگی سند بالآخر ختم کردی گئی اور اس کی جگہ اقامتی سند متعارف ہوگئی جس کی اجرائی کیلئے گزشتہ روز باضابطہ گیزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ قواعد وضوابط جاری کئے گئے ۔یہ قواعد و ضوابط کم و بیش وہی ہیں جو مرکزی حکومت نے اقامتی سند کی اجرائی کے قانون میں وضع کئے تھے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب صراحت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے کہ نوکریوںکے حصول کیلئے اقامتی اسناد کی حصولی کیسے ممکن بن پائے گی اور اس کی اجرائی کا کیا طریقہ کار رہے گا۔قواعد و ضوابط کے مطابق31اکتوبر2019تک جن افراد کے حق میں جموںوکشمیر میں پشتینی باشندگی اسناد جاری کی گئیں، وہ اقامتی سند کے حصول کے اہل ہونگے اور انہیں صرف یہ سند دکھانا ہوگی، جس کے عوض انہیں اقامتی سند ملے جبکہ انکے بچوں کو والدین کی پشتینی باشندگی سند اور اپنی سندِ تاریخ پیدائش دکھا نا ہوگی جس کے عوض وہ ا

لاک ڈائون کا چوتھا مرحلہ

اتوار کی شام کو جب مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کا اعلان کیاگیا تو جموںوکشمیر کے عوام میں یہ اُمید بندھ گئی تھی کہ شاید انہیں کوئی راحت ملے گی کیونکہ اتوار کی شام کو کہاجارہاتھا کہ ریاستیں اور مرکزی زیر انتظام علاقے اپنی سطح پر مقامی صورتحال کودیکھتے ہوئے بندشوں میں نرمی لانے کے مجاز ہونگے ۔لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کے اعلان کے فوراً بعد جموںوکشمیر انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ آج یعنی19مئی کو اس ضمن میں حتمی فیصلہ لیں گے لیکن اب شاید اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی داخلہ سیکریٹری کی جانب سے کل یعنی پیر کو تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹریز کے چیف سیکریٹریوں کو جو مکتوب روانہ کیاگیا ہے ،اُس میں واضح کیاگیا ہے کہ کوئی بھی ریاست یا یونین ٹریٹری مرکزی سرکار کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو نرم نہیں کرسکتی ہے تاہم انہیں بندشوں میں مزید سختی کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔تازہ مک

بجلی سیکٹرکی نجکاری کا فیصلہ ! | اپنی نااہلی کا ملبہ صارفین پر نہ گرائیں

جموں وکشمیر تب ریاست ہی تھی جب یہاں بجلی محکمہ کی نجکاری شروع کرکے باضابطہ طور نیم خود مختار کارپوریشنوںکاقیام عمل میں لاکر محکمہ بجلی کے ملازمین کو ان کارپوریشنوں کے ساتھ منسلک کردیاگیاتھا۔گوکہ اس حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج بھی ہوا تھا لیکن بات بن نہیں پائی تھی اور حکومت اس پالیسی پر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔5اگست2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس ریاست کی تنزلی عمل میں لاکر اس کو مرکز کے زیر انتظام دیاگیا تو لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے بھی سابق پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نفاذ میں سرعت لائی جسکے خلاف پھر ایک دفعہ ملازمین احتجاج کی راہ پر نکل پڑے لیکن انہیں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا اور بجلی شعبہ کی نجکاری جاری رہی ۔اس سارے عمل میں کورونا کا بحران شروع ہوا اور اب اُمید کی جارہی تھی کہ شاید یہ بحران ختم ہوکر اس فیصلہ پر نظر ثانی کی جائیگی لیکن اب ساری امید

صنف نازک زیرِ عتاب کیوں؟

  جموںوکشمیر ہائی کورٹ نے خواتین کے خلاف تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی امداد کیلئے سرکاری سکیموں کی وسیع تشہیر پر زور دینے کے علاوہ تشدد کے اس سلسلہ کے خاتمہ کی بھی وکالت کی ہے ۔مفاد عامہ کی ایک عرضی کی سماعت کے دوران ایک مفصل حکم نامہ جاری کیاگیا ہے جس میں خواتین کیخلاف تشدد کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے ،وہ دل دہلادینے والا ہے۔اُن تفصیلات میں جائے بغیر ماہرین سماجیات کی جانب سے گزشتہ برس کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات جہیز،سسرال والوں کی مداخلت ،غلط فہمی ،شوہر کی طرف سے زیادتیاں، بچیوں کو جنم دینا وغیرہ شامل ہیں۔ سابق ریاستی خواتین کمیشن کے اشتراک سے2003میں ایک سروے کیاگیاتھا جس میں پایا گیا تھا کہ کشمیر میں30فیصد خواتین کو اپنے شوہروں کی جانب سے جسمانی تشدد کا س

کورونا وائرس اور انتباہی بیانات

گزشتہ دنوں یعنی جمعرات اور جمعہ کوعالمی سطح پر دو اہم بیانات سامنے آئے اور دونوںکا تعلق کورونا وائرس سے ہے ۔ایک پالیسی بیان جمعرات کو اقوام متحدہ کی جانب جاری کیاگیا جس میں خبردار کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں اور یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں اور طالب علموں تک، سب لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث ہے اور سبھی اپنے اپنے طور پر وبا سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کے علاج اور عوام کے لیے نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے طریقے بھی شامل کریں۔  دوسرا بیان جمعہ کو جاری کیاگیا جو اقوام متحدہ کے ہی صحت سے متعلق سویزر لینڈ میں قائم ذیلی ادارہ عالمی ادارہ صحت کا تھا۔عالمی ادارہِ صحت یاڈبلیو ا

جون میں سکول کھولنے کی نوید

 جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں سکولی تعلیم محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری اصغر سامعون نے گزشتہ روز یہ نوید سنائی کہ حکومت کے پاس جون سے تعلیمی ادارے بحال کرنے کا پروگرام ہے ۔اگر واقعی ایسا کوئی پروگرام ہے تو اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری ہیں۔سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ کے مطابق سکولوں کا وائٹ واش کرنے کے علاوہ انہیں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی یہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گا۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا ،وہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ حکومت واقعی نونہالوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکرمندہے اور ہونا بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قر

کشمیری معیشت لرزہ براندام

کشمیر عظمیٰ کے صفحہ اول پر گزشتہ دو روز سے کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیری معیشت کے مختلف شعبوں کو پہنچنے والے نقصانات کی جومفصل خبریں شائع ہورہی ہیں،وہ نہ صرف کورونا لاک ڈائون کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں ،بلکہ ان خبروںکے بین السطور معاملہ سے ہم یہ بھی محسوس کرسکتے ہیںکہ ہم کس سمت میں جارہے ہیں۔11مئی کو گیلاس کی پیداوار سے متعلق جو رپورٹ شائع ہوئی تھی،وہ برمحل تھی کیونکہ یہاں گیلاس کا سیزن شروع ہوچکا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں 13ہزار میٹرک ٹن گیلا س کی پیداوار ہوتی ہے لیکن جس طرح کا ماحول بناہوا ہے ،ایسا نہیںلگتا ہے کہ یہ فصل اپنی قیمت وصول کرسکے ۔جانکار حلقوںکے مطابق کشمیر کی گیلاس صنعت 1000کروڑ روپے مالیت کی ہے اور اگر لاک ڈائون کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو شاید یہ سارے کا سارا پیسہ ڈوب جائے گا۔کشمیر ی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برآمدات پر منحصر اور درآمد

بڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد گزشتہ48روز سے بندگورنمنٹ میڈیکل کالج جموں اور اس سے منسلک ہسپتالوں میں او پی ڈی خدمات آج سے دوبارہ بحال ہونگیں۔ہم نے انہی سطور میں گزشتہ دنوں بھی اس سنگین مسئلہ کی جانب سے حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی ۔اب اگر حکام نے عوامی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جی ایم سی جموں سے منسلک ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کا یقینی طور پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگیوںکے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پر تفصیل سے بات کی تھی اور مثالیں دیکر یہ واضح کیا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے ہم عام مریض

درماندہ شہریوں کی گھر واپسی | تال میل کے فقدان اور بدنظمی سے بچنے کی ضرورت

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جموںوکشمیر انتظامیہ ملک اور بیرون ملک درماندہ شہریوں کی واپسی کیلئے کوشاںہے اور اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی کوششوں سے یہ ممکن ہوپایا کہ بنگلہ دیش میں درماندہ کشمیری طلباء کا ایک قافلہ وادی واپس پہنچایاگیا ہے، جس کے بعد چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرا منیم نے ذاتی طور خارجہ سیکریٹری کو مکتوب لکھ کر انہیں رمضان اور آنے والی عید الفطر کے پیش نظر بنگلہ دیش میں باقی درماندہ سبھی جموںوکشمیر کے طلاب کی فوری واپسی کیلئے مداخلت کی گزارش کی ہے ۔بتایا جارہا ہے کہ جموںوکشمیر انتظامیہ اس سلسلے میںمسلسل مرکزی اکابرین کے ساتھ رابطہ میں ہے تاہم یہ امر ملحوظ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جموںوکشمیر کے طلاب صرف بنگلہ دیش میں نہیںبلکہ آزر بائیجان ،کرغستان ،روس اور فلپائن کے علاوہ کئی ممالک میں بڑی تعداد میں زیر تعلیم ہیں جو گھر واپسی کیلئے حکومت کو ک

کورونا اور غربت و افلاس

ایک ایسے وقت میں جب بیشتر ممالک نے لاک ڈائون بندشوں کو نرم کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ،عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ لاک ڈائون سے نکلنے کے اقدامات کو انتہائی ہوشیاری کے ساتھ اٹھایا جائے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اگر ممالک نے مرحلہ وار اپروچ کے تحت لاک ڈائون سے معمولات کی بحالی کے سفر کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے نہ بڑھایاتو اُس صورت میں دوبارہ لاک ڈائون کی جانب لوٹنے کا خطرہ بالکل حقیقی ہوگا اور اس طرح کے خطرہ کو اُس صورت میں ٹالنا محال ہے ۔اُن کا کہناتھا کہ اس ضمن میں انکے ادارے کی جانب سے جاری کی گئی احتیاطی ہدایات پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہمیں بڑے خسارے سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔دنیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے خدشات بیجا بھی نہیںلگتے ۔قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ادارہ کی جانب سے یہ خدشات اُس وقت ظاہر کئے گئے جب

کوروناکا قہر

 کورونا متاثرین کے حوالے سے مقامی اور ملکی سطح پر جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں،وہ پریشان کن ہی نہیں بلکہ نیندیں اچاٹ دینے والے ہیں۔بُدھ کے روز جموںوکشمیر میں 44افراد کورونا وائرس میں مبتلا ٔپائےگئے جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی ۔ اسی طرح کل جو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کورونا اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیں،وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔مذکورہ وزارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشما ر کے مطابق ملک میں کورونا اموات کی تعداد بڑھ کر1783ہوگئی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی تعداد تقریباً53ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔وزارت کے مطابق جمعرات کو چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً3600افراد ملک بھر میں کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ گوکہ مقامی اور ملکی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور صورتحال کنٹرول میں ہےلیکن اگر اعدادوشمار کا باریک بینی سے تجزیہ کیاجائے تو یقینی طور پر س

کورونا وباء اور حکومتی بندشیں

کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے عوامی مشکلات میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتاچلا جارہا ہے۔موجودہ لاک ڈائون کے پہلے مرحلہ میں جب مرکزی سرکار کی جانب سے راحت کاری اقدامات کا اعلان کیاگیا تو ایسا تاثر دیاگیا جیسے حاتم کی قبر پر لات ماردی گئی ہو لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ وہ اقدامات عام لوگوںکو زیادہ راحت نہ پہنچا سکے ۔اب اُمید کی جارہی ہے کہ مرکزی سرکار کی جانب سے ایک بڑے اقتصادی پیکیج کا بھی اعلان کیاجائے گا جو ملک گیر ہوگا اور اس میں اقتصادی بحالی پر توجہ مرکوز ہوگی ۔گوکہ ایسے کسی پیکیج کا خیر مقدم کیاجائے گا تاہم اس طرح کے پیکیج سے ریاستوںکی منففرد ضروریات پوری نہیں ہوسکتی ہیں اور نہ ہی عا م لوگوں کا کچھ زیادہ بھلا ہوسکتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ریاستیں اپنی سطح پر راحت کاری پیکیجوںکا اعلان کررہی ہیں تاکہ غریب عوام کا کچھ بھلا ہوسکے لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ جموںوکشمیر یونین ٹریٹری انت

کورونا کے ستائے لوگ

 کورونا وائرس سے شفایاب ہونے والے مریضوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کی جو خبریں سامنے آرہی ہیں،وہ یقینی طور پر پریشان کن ہیں اورکورونا سے پیدا شدہ خوف و دہشت کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔اس ضمن میں کووڈ ہسپتال درگجن ڈلگیٹ سرینگر کے سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر شاہ کے سوشل میڈیا پوسٹس اس تکلیف دہ صورتحال کی منظر کشی کرنے کیلئے کافی ہیں۔ایک ایسے ہی پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں’’میں  دیکھ رہا ہوں کہ کورونا وائرس سے شفایاب ہونے والے مریضوںکے ساتھ گھر پہنچ کر ایسا سلوک کیاجارہا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہوں۔ایسے ایک مریض نے شکایت کی کہ ان کے گھر کی لینڈ لائن بحال نہ ہوسکی کیونکہ لائن مین نے تار کی جانچ کیلئے گھر کے مرکزی دروازہ تک بھی آنے سے انکار کردیا۔اسی طرح کچھ شفایاب مریضوں کے گھروں سے کوڑا کرکٹ ہٹایا نہیں جارہا ہے اور نہ ہی سبزی فروش انہیں سبزیاں بیچتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اُن سے لئ

کورونا وباء اور بے تکی طبی پالیسی

 حالیہ ایام میں تین حاملہ خواتین کے ساتھ ہسپتالوں میں جو کچھ ہوا ،اُس نے اُن مصائب و مشکلات کو کھول کر سامنے لایا ہے جن کا کورونا بحران کے بیچ کشمیر کے بیمار او ر حاملہ خواتین کو سامنا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس کیخلاف جنگ کو پہلی ترجیح حاصل ہے اور اس ضمن میں کسی لیت و لعل کی گنجائش نہیں ہے تاہم جس طرح کشمیر کے سبھی بنیادی طبی مراکز سے لیکر بیشتر اعلیٰ طبی مراکز کوعملی طور کووڈ ۔19کیلئے مختص رکھاگیا ہے ،اُس نے یقینی طور پر کشمیر میں طبی بحران پید اکردیا ہے ۔آج کل حالت یہ ہے کہ عام مریضوںکا ہسپتالوں میںکوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہے ۔بیشتر ہسپتالوںکے اوپی ڈی بند رکھے گئے ہیں اور سرجری شعبے تو تالہ بند کئے جاچکے ہیں۔پرائمری ہیلتھ سینٹروں،کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں ،سب ضلع ہسپتالوں اور ضلع ہسپتالوں ،جن پر دیہی آبادی کے 90فیصد مریضوں کا انحصار ہوتا ہے ،کی حالت غیر ہوچکی ہے ۔ای

لاک ڈائون کا تیسرا مرحلہ | بقاء کی جنگ کو لاپرواہی کی نذر نہ ہونے دیں

آج سے ے شروع ہونے والے لاک ڈائون کے تیسرے مرحلہ کیلئے پہلے پورے ملک میں ریڈ ،اورینج اور گرین زونوںکا خاکہ مرتب کیاگیاہے اور کورونا انفیکشن کے خطرہ کی بنیاد پر ہی اس تیسرے مرحلہ کے لاک ڈائون میں نرمیوں اور سختیوںکا فیصلہ بھی ہوا ہے ۔گرین اور اورینج زون میں آنے والے اضلاع کے لئے کافی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ پورے ملک میں ریڈ زون میں لاک ڈاؤن کا سختی سے نفاذ کیاجائے گا اور ان میں میڈیکل ایمرجنسی اور ضروری سامان اور خدمات کو چھوڑ کر دیگر کسی طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہوائی، ریلوے اور میٹرو سفر کے ساتھ ساتھ سڑکوں سے بین ریاستی آمدورفت پر پہلے ہی کی طرح پورے ملک میں پابندی کا نفاذ رہے گا اور ان کے جاری رکھنے کی اجازت گرین زون میں بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسکول، کالج، تعلیم، ٹریننگ اور کوچنگ ادارے ، ہوٹل، ریستورا، سینما ہال، مال، جم، کھیل کے احاطے اور بھیڑ بھاڑوالی دیگر جگہیں

معاملات ِ ملازمت کی چنڈی گڑھ منتقلی

بالآخر وہی ہوا ،جس کا ڈر تھا۔دیگر معاملات کی طرح جموںوکشمیر اور لداخ میں ملازمت سے متعلق تمام تنازعات بھی نپٹارے کیلئے جموںوکشمیر سے باہر لئے گئے اور اس کیلئے چنڈی گڑھ میں شمالی ہند کیلئے قائم مرکزی انتظامی ٹریبونل ادارہ تصفیہ نامزد کیاگیا ہے۔چونکہ جموںوکشمیر اور لداخ دونوںمرکزی زیرانتظام علاقے بن چکے ہیںتو جموںوکشمیر تنظیم نو قانون 2019کی رو سے مرکزی حکومت کو ایسے فیصلے لینے کا اختیار حاصل ہے۔اس ضمن میں 29اپریل کوباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیاگیا ہے جس کے بعد مرکزی انتظامی ٹریبونل کی چنڈی گڑھ شاخ کو جموں کشمیر کے علاوہ لداخ،چنڈی گڑھ ،پنجاب،ہماچل پردیش اور ہریانہ تک دائرہ حدود ہوگا۔ جب جموںوکشمیر ریاست تھی اور آئین ہند کی دفعہ370کو اس کو خصوصی پوزیشن حاصل تھی تو مرکزی انتظامی ٹریبونل کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا تھااور ریاستی ملازمین کے ملازمت سے متعلق مسائل ریاستی عدالت عالیہ میں ہی حل ک