تازہ ترین

روزگار کے نت نئے اعلانات

 گزشتہ برس5اگست کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تقسیم کیاگیا تو پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہم ایک سال بعد صورتحال یہ ہے کہ ایک بھی نوکری نہیں لگی ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سرکاری سیکٹر میں نوکریاں فراہم کرنے کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں آٹھ ہزار سے زائد درجہ چہارم اسامیاں مشتہر کی گئیں جس کے بعد پنچایت محکمہ میں اکائونٹس اسسٹنٹوں کی پندرہ اسامیاں مشتہر کی گئیں ۔یوں ایک سال میں محض10ہزار اسامیاں ہی مشتہر کی گئیں اور اب بتایا جارہا ہے کہ مزید دس ہزار اسامیاںعنقریب مشتہر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ80ہزار کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہوئی

تازہ ترین