تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی

  رواں ماہ کے ابتدائی ہفتہ میں جنگلاتی شجر کاری کا عالمی دن منایاگیا ۔اس سلسلے میںدنیا بھر میں تقاریب کا اہتمام ہوا۔ہمارے جموںوکشمیر میں بھی تقاریب منعقد ہوئیں اور جب سے شجر کاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔شجرکاری کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بگاڑ پر مسلسل تشویش کا اظہارکیاجارہا ہے۔ماحولیات کے بچائو کے لئے مسلسل آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔گزشتہ ماہ ہی وزیراعظم نریندرمودی نے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے سلسلے میں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا او رکہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر پہل کا ساتھ دے گا ۔مسلسل عالمی سطح پر جنگلات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ دنوںایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات

ہر حال میں احتیاط ناگزیر!!

حال ہی میں عالمی سطح پر دو اہم بیانات سامنے آئے اور دونوںکا تعلق کورونا وائرس سے ہی تھا ۔ایک پالیسی بیان اقوام متحدہ کی جانب جاری کیاگیا جس میں خبردار کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے چکاہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں اور یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قیدرہے بچوں اور طالب علموں تک، سب لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث بنا۔دوسرا بیان اقوام متحدہ کے ہی صحت سے متعلق سؤیزر لینڈ میں قائم ذیلی ادارہ عالمی ادارہ صحت کا تھا۔عالمی ادارہِ صحت یاڈبلیو ایچ او نے بھی خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کووڈ 19 ویکسین آنے کے بعد بھی ختم نہ ہو اور مزید ایک سال تک کم ازکم یہ وبا کہیں جانے والی نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات کے شعبے کے ڈائریکٹر مائی

نقلی ادویات کے خلاف ہمہ گیر کارروائی کی ضرورت

وادی ٔکشمیر میں برسو ں طویل سیاسی غیر یقینیت اور عوامی بے چینی کے سبب ہر شعبہ ٔ زندگی میں بہت سارے گھمبیر مسائل کا گھنا جنگل اْ گ آیا ہے۔ اس جنگل میں چونکہ آ دم خور درندو ں کی بو دو با ش کا بڑا اہتمام ہے، اس لئے وہ آرام سے زند گی کی ہر قیمتی شئے کو نو چ کھا رہے ہیں بلکہ یہ انسا نیت کے حسین چہرے کو بد نما بنا نے میںکو ئی کسر نہیں چھو ڑتے۔ نقلی ادویات کی رسو ائے زما نہ تجا رت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑ ی ہے۔ خو د ہی اندازہ کیجئے کہ جو بد قما ش عنا صر دوا کے بدلے لو گو ں کو زہر بیچ رہے ہو ں ، جو پیشہ ٔ طب جیسے عظیم اور مقدس خد مت کو اپنی نفسانیت کی پرستش میں پا ما ل کر نے کا نا قابل معافی جرم کر رہے ہو ںاور جن کی نگا ہ میں انسانی جا نو ں یا انصاف کے قدرو ں کی رتی بھر بھی اہمیت نہ ہو، کیاان کو جنگلی جا نو رو ں میں بھی شما ر کیا جا سکتا ہے ؟ نہیں ، قطعی طور نہیں۔ ستم بالا ئے ستم یہ کہ انتظا

شعبہ تعلیم مائل بہ تنزل کیوں؟

  کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی سینکڑ

سڑک حادثات …حکام کی نیند کب ٹوٹے گی ؟

  جموںوکشمیر کے یمین و یسار میں آئے روز پیش آرہے سڑک حادثات نے پھر ایک بار یہ ثابت کردیاہے کہ جموں وکشمیر میں ٹریفک کنٹرول کا نظام اپنی ابتری کی انتہاء کو پہنچ چکاہے۔ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی علاقے سے سڑک حادثات میں انسانی زندگیوں کے اتلاف کی خبریں موصول نہ ہوتی ہوں۔اس طرح کی اموات اب معمول اور معمولات کا حصہ بنتی جارہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں بھی حادثاتی اموات کی خبریں سرسری طور شائع کی جاتی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ سڑک حادثات صرف ہمارے یہاں ہی رونما ہورہے ہیں۔ سڑک حادثات دنیا کے ہر خطے میں رونما ہوتے ہیں اور ان میں انسانی جانوں کا اتلاف بھی ہوجاتا ہے لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں تسلسل کے ساتھ ہر دن حادثاتی اموات کی شرح میں اضافہ ہورہاہے۔ثانیاً یہ کہ ہمارے یہاںتسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے ان سڑک حادثات کی جو عمومی وجوہات ہیں، وہ عام طور کہیں دیکھ

زرعی زمین کو بچائیں !

  غذا کیلئے زرعی اراضی کا ہونا ضروری ہے۔ساری غذا زمین سے پیدا کی جاتی ہے۔ایسے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمین کے بغیر خوراک کا تصور محال ہے لیکن اس کے باوجود زرعی زمین کو غیر زرعی استعمال میں لایا جارہا ہے۔ لاکھوں کنال زرعی زمین کو پختہ جنگل میں تبدیل کیا گیا۔ایک وقت تھا جب کشمیر خوراک کے معاملے میں کم و بیش خود کفیل تھا لیکن آج حالت یہ ہے کہ جواہر ٹنل چند دن بند ہوجاتی ہے تو کہرام مچ جاتا ہے ۔سرکار نے علامتی طور آبی زمین کوتعمیرات کے استعمال پر پابندی تو عائد کردی ہے لیکن سرکار کی ناک کے نیچے بلکہ خود سرکار کے بیشتر اعلیٰ عہدیداروں نے آبی زمین پر ہی اپنے نشیمن تعمیر کئے ،نتیجہ یہ ہوا کہ زرعی زمین سکڑتی گئی اور اب دانے دانے کیلئے ریاست کو پنجاب اور دیگر ریاستوں سے درآمد ہونے والے اناج کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔چاولوں سے لیکرگندم اور یہاں تک کہ سبزیاں بھی باہر سے آتی ہیں۔مردم شم

کورپشن کیخلاف جنگ!

 کورپشن کے خلاف جنگ میں اینٹی کورپشن بیورو نامی انسداد رشوت ستانی ادارہ کا قیام جب عمل میں لایاگیاتھا تویہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اب رشوت خوروں کی خیر نہیں ہے ۔سابق گورنر ستیہ پال ملک بار بار کہہ رہے تھے کہ جموں وکشمیر میں کورپشن عام ہے اور اس ضمن میں وہ بارہا مثالیںبھی دیتے تھے ۔اینٹی کورپشن بیورو اُن کے دور میں ہی بنا۔انہوںنے تمام سرکاری افسران سے جائیداد کی تفصیلات جمع کرنے کو لازمی قرار دیا تھا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آمدنی سے زیادہ جائیداد کس کے پاس ہے ۔گوکہ وہ تفصیلات تقریباً جمع ہوچکی ہیں لیکن عمل ہنوز مفقود ہے ۔ گوکہ موجودہ لیفٹنٹ گورنرکی نیت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کورپشن کے خلاف ان کے موقف کو مستحسن ہی قرار دیاجاسکتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محض چند ملازمین کے خلاف کارروائی کرکے حکومت کورپشن کا قلع قمع نہیں کرسکتی ہے ۔ارباب اختیار کو اس حقیقت کا ادراک و اع

دیہی خواتین کو ماہر معالج میسر کیوں نہیں؟

 نیشنل ہیلتھ مشن یاقومی صحت مشن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مجموعی طور دیہی علاقوںمیں طبی سہولیات بہتر بنانے کے علاوہ خصوصی طور پر زچگی کے دوران نوزائیدوں کی شرح اموات میں کمی لانے کیلئے ادارہ جاتی زچگی کو فروغ دیا جائے ۔گوکہ اس مشن کے نتیجہ میں ہسپتالوں میں ہونے والے زچگی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے تاہم دیہی علاقوں کے طبی مراکز میں آج بھی ماہر امراض خواتین کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ماہر ڈاکٹروںکی عدم موجودگی میں محض ووٹ بنک سیاست گزشتہ کچھ برسوں کیلئے ایک کے بعد زچگی مراکز کھولے گئے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق دیہی کشمیر کے تقریباً ساٹھ ہسپتالوں میںمحض 44ماہر امراض خواتین تعینات ہیں جبکہ انڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈارڈ کی جانب سے وضع کردہ ضوابط کے مطابق ہر ضلع ہسپتال میں کم از کم دو جبکہ ہرکمیو نٹی ہیلتھ سنٹر یا سب ضلع ہسپتال میں ایک ماہرامراض خواتین تعینات ہونا چاہئے ۔د

بچہ مزدوری …باتیں بہت ہوئیں،عملی طور کچھ کریں

12جون سنیچر کو عالمی سطح پر یوم انسداد بچہ مزدوری منایاگیا۔اس دن کی مناسبت سے بچوں کو انصاف کی فراہمی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق منعقدہ ایک ورچیول ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔مقررین نے جس طرح بچہ مزدوری اورنابالغ بچیوں کی شادی کو لمحہ فکر قراردیتے ہوئے غلط سماجی رْجحانات کاقلع قمع کرنے کیلئے مشترکہ کوششوںکو لازمی قراردینے کے علاوہ اس بات پر زور دیا کہ سماج میں پنپنے والے مختلف قسم کے غلط رحجانات اور جرائم کا قلع قمع کرنے میں پولیس کا اہم رول بنتا ہے ، اس لئے پولیس افسروں کو اس بات کی مکمل جانکاری ہونی چاہیے کہ سماج کے مختلف طبقوں بالخصوص بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے،وہ واقعی قابل ستائش ہے ۔ مقررین کا یہ کہنا کہ حقو ق زن اور حقوق اطفال کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات کے بارے میں پولیس کے پاس قوانین موجود ہیں اور ضر

کووڈ کہیں گیا نہیں… احتیاط جاری رکھیں!

  جموںوکشمیر کے بیشتر حصوں کووڈ لاک ڈائون تقریباً ختم ختم ہوچکا ہے اور اب صرف جزوی بندشیں جاری ہیں ۔بلا شبہ اس حکومتی اقدام سے لوگوںکو راحت ملی کیونکہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حدتک بحال ہو گئیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی کافی حد تک چل رہاہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ ملنے لگا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے اور اب مسلسل تیسری لہر کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ یورپی ممالک اور مغرب میں بھی ایک خطرناک وائرس سٹرین کے آنے کی باتیں کی جارہی ہیں جس سے بیس سال کی عمر تک کے بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چاہئے وہیں

جنگلی جانوروں کی خونچکانی اور حکومتی بے بسی!

 انسان اور جنگلی جانوروں کے مابین تصادم کا مسئلہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ اس عا لم ِ رنگ و بو کا وجوداور فریقِ اوّ ل نے ہمیشہ فریق ِ ثانی پر اس کی تمام تر وحشت ، خونخواری اور طاقت کے باوجود غلبہ پایا ہے۔لیکن بارہا پانسہ پلٹ بھی جاتا ہے اور غالب مغلوب ہو کر جنگلی جانوروں کی درندگی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے۔ جنگلی درندوں کے بارے میں ما ہرین کا کہنا ہے کہ وہ تب تک انسانوں پر حملہ آور نہیں ہوتے جب تک انہیں اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا یا پھر دونوں کا براہِ راست آمنا سامنا نہیں ہوتا۔ یعنی ان کے لئے ایک طرح سے یہ بقا کی لڑائی ہو تی ہے اور یہ جبلت دنیا کی ہر زندہ شے میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جب درندے اپنی فطری خوراک کے علاقوں کو چھوڑ کر بستیوں کا رخ کر کے انسانوں کا شکار کرنے لگتے ہیں تو یہ ایک تشویشناک اور غیر فطری رجحان ہے جس پر غور و فکر کرنا اور اس کے سدِ باب کے ل

روزگار کے مواقع پیداکرنا سرکار کی ذمہ داری

  5اگست 2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تقسیم کیاگیا تو پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی تاہمدو سال بعد صورتحال یہ ہے کہ ایک بھی نوکری نہیں لگی ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سرکاری سیکٹر میں نوکریاں فراہم کرنے کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال آٹھ ہزار سے زائد درجہ چہارم اسامیاں مشتہر کی گئیں جس کے بعد پنچایت محکمہ میں اکائونٹس اسسٹنٹوں کی پندرہ اسامیاں مشتہر کی گئیں ۔یوںدو سال میں محض10سے بارہ ہزار اسامیاں ہی مشتہر کی گئیں اور اب بتایا جارہا ہے کہ مزید دس ہزار اسامیاںعنقریب مشتہر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ اس وقت کچھ80ہزار کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہوئی

تعمیراتی سیزن میں کام نہ ہوگا تو پھر کب ہوگا؟

 جموںوکشمیر انتظامیہ کی جانب سے کورونا کی عالم گیر وبا ء کے بیچ ہی آئے روز محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایسی تصاویر اور بیانات جاری کئے جارہے ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہاہے کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود ترقیاتی عمل جاری ہے اور نہ صرف محکمہ دیہی ترقی کے ذریعے دیہی علاقوں میں منریگا اور دیگر سکیموں کے تحت کام شروع کئے جاچکے ہیں بلکہ تعمیرات عامہ اور دیگر منسلک محکموںکی جانب سے بھی ترقیاتی پروجیکٹوں پر کام شروع کیاگیا ہے ۔گوکہ حکومتی دعوئوں کو مسترد نہیں کیاجاسکتا ہے اور غالب امکان ہے کہ کام شروع ہوچکے ہوں تاہم زمینی سطح پر جو صورتحال بنی ہوئی ہے ،وہ مسلسل مایوس کن ہی ہے ۔کورونا کی آڑ میں مسلسل دوسرا تعمیراتی سیزن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا رجحان جاری ہے ۔گزشتہ برس بھی پہلے کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے وہ سیزن مکمل طور پر ضائع ہوگیا جب کشمیر اور جموںصوبہ کے پیر پنچال اور چناب خطوں میںکا

بچہ مزدوری …رجحان تشویشناک ،تدارک ناگزیر

 گزشتہ دنوں سرینگر میں بچوں کو انصاف کی فراہمی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق منعقدہ ایک ورچیول ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔مقررین نے جس طرح بچہ مزدوری اورنابالغ بچیوں کی شادی کو لمحہ فکر قراردیتے ہوئے غلط سماجی رْجحانات کاقلع قمع کرنے کیلئے مشترکہ کوششوںکو لازمی قراردینے کے علاوہ اس بات پر زور دیا کہ سماج میں پنپنے والے مختلف قسم کے غلط رحجانات اور جرائم کا قلع قمع کرنے میں پولیس کا اہم رول بنتا ہے ، اس لئے پولیس افسروں کو اس بات کی مکمل جانکاری ہونی چاہیے کہ سماج کے مختلف طبقوں بالخصوص بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے،وہ واقعی قابل ستائش ہے ۔ مقررین کا یہ کہنا کہ حقو ق زن اور حقوق اطفال کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات کے بارے میں پولیس کے پاس قوانین موجود ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین کی روشنی میں

ماحولیاتی تباہی سے گریز ناگزیر

گزشتہ سنیچر یعنی5جون کو پوری دنیا میں عالمی یوم ماحولیا ت منایا گیا۔یہ وہ دن ہے جب پہلی بار1972میں اقوام متحدہ میں ماحولیات پر5سے16جون تک کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کے بعد 1973میں پہلی بار عالمی یوم ماحولیات منایا گیا اور جب سے آج تک یہ دن مسلسل 5جون کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتاہے کہ قدرتی ماحول کی حفاظت کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ہر سال اس دن کی مناسبت سے الگ الگ نعرے مقرر کئے جاتے ہیںاور اس سال کا نعرہ’’ماحولیات کی بحالی ‘‘رکھا گیا تھا۔ زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرۂ ارض پر پندرہ ملین انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔انسان نے ترقی کے لئے قدرتی جنگلات کا کافی بڑا حصہ ص

کشمیر میں امن ،ترقی و خوشحالی

فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے، نے کہا ہے کہ کشمیر میں امن کا انحصار پاکستان پرمنحصر ہے اور امن وسکون کے بغیر ترقی ناممکن ہے ۔فوجی سربراہ نے کہا کہ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، اس کے برعکس امن کو گلے لگانے سے جموں و کشمیر میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ باتیں جمعرات کو اپنے دو روزہ کشمیر دورہ سمیٹنے کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔ فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل درآمد اور بھارتی حدود میں جنگجوؤں کے بھیجنے کو بند کرنے کے عمل سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگجویانہ سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کے پیش نظر ہم کسی بھی صورت میں اپنی تیاریوں کی سطح کو کم نہیں کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کی بحالی ایک مشکل کام ہے ،دہائیوں سے دونوں ممالک

جنگ بندی کے تین ماہ

 بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جنگ بندی معاہدہ کے اعادہ کو اب تین ماہ ہوچکے ہیں۔ان تین ماہ کے دوران سرحدیں پُر سکون رہیں اور کہیں بھی آتشی گولہ باری کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔کشمیر سے لیکر کٹھوعہ تک ایل اوسی اور بین الاقوامی سرحد پر توپیں خاموش ہوچکی ہیں اور بندوقیں آگ اگلنا بند کرچکی ہیں۔جنگ بندی کا یہ معاہدہ ہوا کے خوشگوار جھونکے کی طرح آیا ہے جس نے سرحدی گولہ باری سے متاثرہ لوگوں کو راحت و فراوانی کاسامان مہیا کیا ہے ۔مدتوں بعد سرحدی آبادی سکون سے اپنے گھروں میںپیر پسار کرسونے لگی ہے اور اب انہیں اس بات کا ڈر نہیں لگا رہتا ہے کہ اچانک کہیں سے کوئی گولہ گر آئے اور ان کی خوشیاں لوٹ لے ۔آج سرحدی علاقوں میں زندگی رواں دواں ہے ۔نہ صرف سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں بلکہ زرعی سرگرمیاں بھی جوبن پر ہیں اور لوگ کسی خوف کے بغیر اپنے کھیتوں میں کام کررہے ہی

لیفٹیننٹ گورنر کی وعظ و نصیحت

 ایک جوابدہ ، شفاف اور ذمہ دار انتظامیہ کسی بھی اچھی حکمرانی کے ڈھانچے کی سنگ بنیاد قرار دیتے ہوئے جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تمام انتظامی سیکریٹریوں سے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر عوام سے بات کریں اور ہمدردی کے ساتھ ان کی شکایات کا ازالہ کریں۔لیفٹیننٹ گورنر گزشتہ روز سیول سیکریٹریٹ سرینگر میں تمام انتظامی سیکریٹریوں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ افسران کو چاہئے کہ وہ ایڈہاک ازم کو ختم کریں اورعام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے درکار ضروری  اقدامات کا تعین کریں۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ لوگوں سے مربوط رابطے میں رہیں تاکہ حکومت کے ذریعہ کیے گئے عوام دوست اقدامات کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے موجود کووڈ صورتحال میں حکومتی اقدامات کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ صحت کے ڈھانچہ کو

اخلاقی انحطاط: وجوہات جاننے کی کوشش کریں!

  اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے ج

عام مریضوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں

 کووڈ انیس کے معاملات کیا بڑھنے لگے کہ شفاخانے عام مریضوں کیلئے پھر سے بند ہونے لگے ۔جموں سے لیکر کشمیر تک سبھی بڑے ہسپتالوں کے اوپی ڈی شعبے بند کر دئے گئے ہیں جبکہ معمول کے داخلے بھی بند کئے جاچکے ہیں اوراب صرف ایمر جنسی سروس ہی چل رہی ہے ۔جموںاور سرینگر میں قائم دونوں میڈیکل کالجوں سے منسلک ہسپتالوں کے علاوہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزصورہ اور سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ میں بھی اوپی ڈی خدمات بند کردی گئی ہیں اور اب دکھانے کیلئے آن لائن سہولت کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پرپہلے بھی تفصیل سے بات کی تھی اور مثالیں دیکر یہ واضح کیا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے ہم عام مریضوںکو مرنے کیلئے چ