تازہ ترین

آوارہ کتوں کی خونچکانی

  وادی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی انسانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔کتوں کو انسانی خون کا کس قدر چسکا لگ چکا ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ 10برسوں کے دوران صرف صدر ہسپتال سرینگر کے اینٹی ریبیز کلینک میں60ہزار ایسے مریضوںکا علاج کیاگیا جنہیں کتوں نے کاٹا تھا اور حیرانی کی بات ہے کہ ان میں سے80فیصد معاملات کا تعلق صرف سرینگر شہر سے تھا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر شعبہ کمیو نٹی میڈیسن کی ایک رپورٹ کے مطابق سرینگر اور جموں کی میونسپل حدود میں سالانہ10ہزار لوگوں کو آوارہ کتے کاٹتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کتوں کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ کتوں کی جارحیت کا نشانہ بننے والے افراد کے تناسب کے تجزیہ اخذ ہوتاہے کہ فی دن کتوں نے اس مدت کے دوران27افراد کو کاٹ کھایا۔ اگر وادی کے 9اضلاع کے طبی اداروں سے اعدادو شمار حاصل کئے جائیں توشہریوں کے کتوں کے ذریعہ ک

جموں وکشمیر میں صنعتکاری کا فروغ

  اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج نے ہیومن کیپٹل اور انڈسٹری کی ضروریات کے مابین پائے جانے والے فرق کو ختم کرنے کیلئے کی تعلیم پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے نتائج پر مبنی تعلیم کے ذریعہ یونیورسٹی کی سطح پر جدت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مستقبل میں سائنس اور انتظامی اداروں ، تحقیقی اداروں ، ٹیکنالوجی فرموں ، تکنیکی خدمات کے نیٹ ورک کو بھی اس میں شامل کیا جاسکے۔دراصل لیفٹیننٹ گورنر گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلسل جموںوکشمیر میں صنعتی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور وہ تعلیم کے شعبہ کو بھی کچھ ایسی لائنوںپر استوار کرنا چاہتے ہیں جہاں سے ہمیں صنعتی سیکٹر کیلئے پیشہ ور اور ہنر مند انسانی وسائل میسر رہ سکیںکیونکہ جب صنعتی سیکٹر کو پیشہ ور اور ہنر مند انسانی وسائل دستیاب ہونگے تو صنعتوں کو

کھیلو انڈیا سرمائی کھیل مقابلہ ا ختتام پذیر

 کھیلو انڈیا قومی سرمائی کھیلوں کا دوسرا مرحلہ شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ دوسر ے ایڈیشن میں ملک بھر سے سینکڑوں کھلاڑیوں نے مختلف سرمائی کھیلوں میں حصہ لیکر اپنی صلاحیتوں کابھرپورمظاہرہ کیا اور نہ صرف داد سمیٹی بلکہ میڈل اورٹرافیاں بھی جیت گئے ۔ اطمینان بخش امر ہے کہ جموںوکشمیر نے بھی اس ایونٹ میں مختلف کھیلوں میں انتہائی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنا بلکہ پورے جموںوکشمیر کا نام روشن کردیا ۔ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس میگا ایونٹ میں جس طرح منتظمین نے اعلیٰ سہولیات دستیاب رکھی تھیں ،وہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جموںوکشمیر قومی سطح کے مقابلوںکی میزبانی کیلئے مکمل طور تیار ہے ۔اس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی خطاب کیا اورکہا کہ جموںوکشمیر کو سرمائی کھیلوںکا مرکز بنا یا جائے گا اور یہاں ترقی و خوشحالی کے ایک نئ

کووِڈ ٹیکہ کاری…اپنی باری تک صبر کرتے رہیں

 ملک میں کورونا ٹیکہ کاری کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کووڈ19 سے بچاؤ کے لئے کورونا ویکسین کی خوراک لی۔ وزیراعظم مودی پیر کی صبح آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزپہنچے جہاں انہیں بھارت بائیوٹیک کی جانب سے تیار کردہ ’کوویکسین ‘کی پہلی ڈوز دی گئی ۔وزیر اعظم نے خود ٹویٹ کرکے اس کی اطلاع دی اور کورونا مخالف مہم میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں سے ویکسین لگوانے کی اپیل کی اور کہاکہ ہمیں مل کر ملک کو کورونا سے مبرا بنانا ہے۔ واضح رہے کہ آج سے کورونا کی روک تھام کے لئے ملک میں ٹیکہ کاری کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ اس مرحلے میں 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور مختلف امراض میں مبتلا 45 سال سے کم عمر کے لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں طبی اہلکاروں اور فرنٹ لائن ورکروں کو ٹیکے لگائے گئے تھے۔اس مہم کا مقصد دراصل ملک کے ہر فرد کو کورو

میٹرک نتائج… شادمانی کیساتھ احتساب بھی لازمی

 جموں وکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی جانب سے لئے گئے میٹرک امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے جس میں بورڈ حکام کے مطابق 75فی صد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ اس امتحان میں مجموعی طور پر 75132اُمیدوار شامل تھے جن میں 38340لڑکے جبکہ 36772لڑکیاں شامل تھیں ۔مجموعی طور پر 56348اُمید وار کامیاب اور 18626ناکام ہوئے ہیں۔حسب سابق لڑکیوں نے لڑکوں پر بازی مارلی۔ لڑکوں میں کامیابی کی شرح 74.04فیصدرہی جب کہ لڑکیوں میں یہ شرح 76.09فیصدرہی ۔ مجموعی طور پردسویں جماعت کے یہ نتایج انتہائی حوصلہ افزاتو لگ رہے ہیں کیونکہ کامیابی کی شرح کافی اچھی رہی ہے تاہم جب رزلٹ گیزٹ کا پوسٹ مارٹم کیاجاتا ہے تو ایک الگ ہی تصویر ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔75فیصد کامیابی کی شرح کیلئے محکمہ تعلیم کو دراصل نجی سکولوںکا مرہون منت رہنا چاہئے جہاں کامیابی کی شرح تقریباً صد فیصد رہی ہے ۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ا

مہنگائی کا بھوت بے لگام کیوں؟

ریاستی عوام کے لئے کمر توڑ مہنگائی میں کوئی کمی آنے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں شدت وحدت پیدا ہورہی ہے۔ ظاہر ہے غریب عوام کی قوت خرید کمزور سے کمزور تر ہو نے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کیلئے زندگی اجیرن ہو۔اس وقت بازاروں کا حال یہ ہے کہ ساگ سبزی سے لے کرگز ر اوقات کے لئے درکار دیگر اشیاء تک کی قیمتیں واقعتاً آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس بیچ جب کبھی سرکاری نرخ نا موں کی شکل میں خوردنی چیزوں کے جو نرخ مشتہر کئے جاتے ہیں ان کی وقعت ردی کا غذ سے زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ خرید وفروخت میں عملاًان کی طرف ادنیٰ سی بھی توجہ نہیں کی جا تی۔ دوکاندار تو دوکاندار ، خریدار بھی یہ قبل ازوقت جا ن رہے ہوتے ہیں کہ کسی چیز کی جو قیمت ریٹ لسٹ پر دی گئی ہے اس کا بیچنے یا خریدنے میں قطعاًکو ئی عمل دخل نہیں۔ کاروباری معاملات میںآج کل یہی حال عیاں وبیاں انداز میں ہر جگہ دکھا ئی دے رہا ہے۔ ایک طرف گر

جنگ بندی پر تازہ اتفاق، ہوا کا خوشگوار جھونکا

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے حد متارکہ اور بین الاقوامی پر کشیدگی کے خاتمہ سے متعلق تمام معاہدوںکی مکمل پاسداری کا عزم ظاہر کیا ہے ۔اس اتفاق رائے کے طفیل اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم از کم ہندوپاک سرحدوںپر سکون لوٹ آئے گا اور سرحدی آبادی کو طویل عرصہ بعد چین سے سونے کا موقعہ میسر آئے گا۔سرحدی آبادی اب کئی برسوں سے توپ کی رسد بن چکی تھی اور آئے روز کی گولہ باری سے سرحدی آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران جنگ بندی خلاف ورزیوںکے معاملات کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے اور اب ایسا لگ رہاہے کہ آمنے سامنے نا سہی ،لیکن سرحدوںپر سرد جنگ چل رہی ہے جس کی رفتار مدہم ہی سہی لیکن یہ جنگ دونوںجانب نہتے عوام کو نگل رہی ہے ۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم تھاکہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2020کو اس معاہدہ کی خلاف ورز

پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر

 عدالت عالیہ نے گزشتہ دنوںحکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے نگرانی نظام مزید سخت کرے اور نہ صرف جموں وکشمیرمیں پالی تھین کی برآمد روکی جائے بلکہ جموںوکشمیر کے اندر بھی پالی تھین کا استعمال ختم کیاجائے ۔عدالت نے حکومت کی جانب سے پالی تھین لفافوں کے استعمال کے اعتراف کے بعد کہا کہ پالی تھین کے استعمال سے خوبصورتی ماند پڑرہی ہے اور اگر حساس ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے تواس ناسور کا خاتمہ لازمی ہے ۔یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب عدلیہ نے پالی تھین کے استعمال کو لیکر حکومت کی کھینچائی کی ہو بلکہ اس سے قبل بھی کئی دفعہ عدلیہ کی جانب سے حکومت کو کھری کھری سننا پڑی اور سچ تو یہ ہے کہ عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں ہی حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون بنانے

مغل شاہراہ …ٹنل کے آخر پر روشنی بھی توہوگی؟

  خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ مسلسل ٹریفک کیلئے بند ہے۔ایک طرف حکومت نے اس شاہراہ کے تئیں سنجیدگی ظاہر کرنے کیلئے اس کی دیکھ ریکھ کی خاطر محکمہ تعمیرات عامہ نے ایک الگ ڈویژن ’’مغل روڈ ڈویژن‘‘کے نام سے قائم کیا ہوا ہے تاہم دوسری جانب حالت یہ ہے کہ یہ شاہراہ ایک رابطہ سڑک تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ اس سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے ۔یہ شاہراہ ، جس کا تخیئل مرحوم شیخ محمد عبد اللہ نے پیر پنچال خطہ کے لوگوں کو وادی کے ساتھ جوڑنے اور ان کی اقتصادی حالت میں بہتری لانے کی غرض سے دیا تھا ، اب یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے تاہم سرما کے 4سے6ماہ کے دوران جب یہ بند ہو جاتی ہے تو خطہ کے لوگوں کا انحصار دوبارہ جموں۔ سرینگرقومی شاہراہ پر ہو جا تا ہے جس کے باعث اس کی افادیت پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ بفلیاز اور شوپیاں کے د

کشمیر ریل پروجیکٹ …خواب شرمندۂ تعبیر کب ہوگا؟

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ ایک سال کے وقفہ کے بعد بانہال ۔بارہمولہ ریل سروس دوبارہ شروع کی گئی ہے ۔گوکہ ابھی دو ہی ریل گاڑیاں چل رہی ہیں تاہم آنے والے دنوں میں ریل گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرکے اس کو معمول پر لاجائے گاجس سے یقینی طور پر لوگوں کو راحت ملے گی تاہم ریل سفر کا اصل فایدہ کشمیری عوام کو تب ملے گا جب کشمیر ریل پروجیکٹ مکمل ہوگا اور بارہمولہ کا ریلوے سٹیشن ادہم پور ریلوے سٹیشن سے جُڑ جائے گا۔سابق ریاستی حکومت نے کہاتھا کہ جموں وکشمیرکو بیرون ملک کے ساتھ سال 2017تک ریل سروس کے ذریعے جوڑا جائیگا اور یہ کہ ادھمپور سے سرینگر تک ریلوے لائن 2017میں مکمل ہوگی تاہم یہ ڈیڈلائن بھی ناکام ہوگئی اورپھر2020تک کٹرہ قاضی گنڈ 111کلومیٹر حصے کو مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا لیکن وہ ڈیڈلائن بھی پوری نہ ہوسکی جس کے بعد اب15اگست2022کی ایک اور ڈیڈ لائن خود وزیراعظم نریندر مودی نے مقرر کی ہے تاہم

آوارہ کتّوں کی خونچکانی

 ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے ، لیکن روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔اب جب کہ رمضان المبارک کا بھی  مہینہ آنے والا ہے اور سحری کے وقت مساجد میں نمازیوں کی آمد ورفت میں خاصا اضافہ ہوگا،ایسے میں آوارہ کتوں کے حملوں کے خدشات دو چند ہیں۔ چنانچہ ابھی تک لوگوں کو درپیش اس مصیبت پر قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے،جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہو تا رہے گا ۔آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالو

جاگو کہ یہ سونے کا وقت نہیں ہے !

 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ اولین فرصت میں دریائے جہلم کی کھدائی عمل میں لاکر اس کے کناروں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کیاجائے گا۔سیلاب کو آئے اب سات سال ہونے والے ہیںلیکن حکومتی اعلان حکم نواب تادر نواب ہی ثابت ہوا ۔نہ ہی جہلم کی کھدائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی اس کی معاون ندیوں کو وسعت دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جہلم سمیت تمام ندی نالوں اور دیگر آب گاہوں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم بھی دم توڑ بیٹھی ۔سیلاب کے بعد بار بار کی عدالتی پھٹکار کی وجہ سے حکومتی مشینری کسی حد تک متحرک ہونے لگی تھی اور نہ صرف جہلم بلکہ فلڈ چینلوں کی کھدائی کا عمل شروع کرکے جہلم کے ساتھ تمام ندی نالوں کے کناروں سے ناجائز تجاوازت ہٹانے کا بیڑا اٹھالیاگیا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ،یہ مہم خاموشی کی موت مر گئی اور جہلم سمیت تمام ندی نالوں کے

ہوائی کرایہ کو اعتدال میں لائیں !

 کشمیر سے ملک کے دیگر شہروں کیلئے ہوائی کرایہ میں بے تحاشا اضافہ کا رجحاں جاری ہے ۔سردیوں سے قبل تک دلّی کا سفر 2سے3ہزار روپے میں ہوتا تھا لیکن اب یہی سفر 5سے10ہزار روپے کے درمیان ہوتا ہے ۔اسی طرح جموں کا سفر بھی اب کم سے کم چار ہزار روپے میں ہوتا ہے۔شہری ہوابازی محکمہ کے مطابق ائر کرافٹ رولز1937کے تحت فضائی کمپنیوں کوکرایہ مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے اور شہری ہوابازی کے نظامت کو ہوائی کرایوں کو اعتدال میں رکھنے کے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔بہ الفاظ دیگر شہری ہوابازی محکمہ نے فضائی کمپنیوں کی من مانیوں کے سامنے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں ۔ محکمہ نے جس طرح فضائی کمپنیوں کی جانب سے سرینگر کیلئے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کمپنیوں کو اپنے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایہ مقرر کرنے کا حق میسر ہے ،اُس سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ مرکزی حکوم

حالیہ زلزلہ :اَرباب اقتدار کیلئے اعلانِ بیداری

 چند روز قبل آئے زلزلے ،جس کا محور قزاقستان ۔چین سرحد تھا ،نے8اکتوبر2005کے ہلاکت خیز زلزلے کی یادیں تازہ کردیں اور لوگ خوف و دہشت میں مبتلاء ہوگئے ۔ تاہم انتظامیہ نے حسب روایت حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے لوگوں کو اطمینان رکھنے کی نہ صرف تاکید کی بلکہ خبردار کیا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے گی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے اور لوگوں کو یہ کہہ کر اضطرابی کیفیت سے باہر نکالنا چاہتی ہے کہ مزید کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔مانا کہ لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت مٹانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے ،کبھی بھی ہمیں نگل سکتا ہے۔  گزشتہ ایک دو برس کے دوران کشمیراور جموں میں منعقد ہونے والے ورکشاپوں اور سمیناروں میں ماہرین ارضیات نے کشمیرمیں زلزلوں کے حوالہ سے جو انکشافات ک

سیلاب کی پیشگوئی کا انتظام

 مرکز ی زیر انتظام جموں و کشمیر نے’ فلڈ فورکاسٹنگ ‘یعنی سیلاب کی پیش گوئی کے ایک باہمی تعاون کے منصوبے کیلئے برطانیہ میں قائم خلائی ایجنسی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ اس منصوبے سے مرکزی علاقے میں سیلاب کی پیش گوئی میں مدد ملے گی ۔12 فروری2021 کو اس ضمن میں باضابطہ معاہدہ طے پایا۔حکومت کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا یہ ایک بڑا قدم ہے جو سیلاب سے ہونے والے متوقع نقصانات، لوگوں کےزخمی ہونے، عمارتوں کو نقصانات پہنچنے اور معاشی نقصان کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔خیال رہے فی الحال جموں وکشمیر میں فلڈ فورکاسٹنگ( سیلاب کی پیشگوئی) کا کوئی ایسا میکانزم یاطریقہ کار موجود نہیں ہے۔نیا بین الاقوامی تعاون ماضی کے سیلاب کے واقعات کا تجزیہ کرنے اور پیش گوئی شدہ سیلاب اور ان کے اثرات کے مابین تعلقات کی نشاندہی کرنے میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔یہ میکانیزم لوگوں، ان کے مکانات، فصلوں

قضیہ نجی سکولوں کے ٹرانسپور ٹ کا

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ نجی سکولوں کے فیس کا تعین کرنے سے متعلق حکومتی کمیٹی نے وادی میں چل رہے نجی سکولوں کی تازہ من مانیوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تمام نجی سکولوں کو10سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ ارسال کرکے فوری جواب طلب کیا ہے ۔مذکورہ کمیٹی کا یہ تازہ اقدام اس لئے اطمینان بخش ہے کیونکہ نجی سکول پورے جموںوکشمیر خصوصاً کشمیر میں اب ایک مافیا کی طرح برتائو کرنے لگے ہیں اور اپنی من مانیوں سے بازنہیں آرہے ہیں۔تازہ فیصلے میں پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن نے مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر سکول گاڑیاں بند کرنے کا اعلان کیاتھااور والدین سے کہاگیاتھا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول لانے اور لیجانے کا بندو بست خود کریں۔نجی سکولوں کی ایسو سی ایشن کا کہناتھا کہ گزشتہ دو برسوں سے سکول بند رہنے کے نتیجہ میںسکولوں میں ڈرائیوروں اورٹرانسپورٹ شعبہ سے منسلک عملے کی تنخواہ ، ٹیکس ، انشورنس اور بینک کی قسطوں

آو سکول چلیں لیکن احتیاط کے ساتھ!

جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ کے سرمائی زون میں یکم مارچ سے بالآخر ایک سال کے وقفہ کے بعد تعلیمی ادارے کھل جائیں گے۔ایک سال بعد سکول کھولنے کا عمل اپنے آپ میں مستحسن قدم ہے اور اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری ہیں۔سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ نے کہاتھا کہ سکولوں کا وائٹ واش کرانے کے علاوہ وہاں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی یہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گا۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا تھا،وہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکر لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں

کھیلو انڈیا مہم اور کشمیر | کھیل میلہ بجا لیکن مقامی کھیل ڈھانچہ کہاں ؟

شہرہ ٔ آفاق سیاحتی مقا م گلمرگ میں کھیلو انڈیا سرمائی میلہ شروع ہوچکا ہے جس میں ملک بھر سے سرمائی کھیلوں کے کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔یہ پروگرام اپنے آپ میں ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ پہلی دفعہ یہاں اس نوعیت کا سرمائی کھیلوں کا فیسٹول ہورہا ہے ۔اس طرح کے پروگرام کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ اس سے جہاں ملک اور ملک سے باہر مثبت پیغام جاتا ہے وہیں جموںوکشمیر خاص کر کشمیر کے سیاحتی سیکٹر کو سہارا ملتا ہے ۔بتایاجارہا ہے کہ گلمرگ ہائوس فُل چل رہا ہے اور ہوٹلوں میں کمرے خالی نہیں ہیں۔یہ اچھی بات ہے ۔سیاحتی انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو کافی وقت سے سیاحوں کا انتظار تھا اور اگر اسی کھیل مقابلے کے بہانے گلمرگ کی رونق لوٹ آتی ہے تو یہ سونے پہ سہاگا ہے تاہم یہاں ہمارا مقصد کھیلو انڈیا سرمائی فیسٹول پر بات کرنا نہیں ہے بلکہ بحیثیت مجموعی کھیلو انڈیا سکیم کو زیر بحث لانا ہے ۔اس سکیم کے تحت فیصلہ ہوا

ڈل جھیل کی بحالی… دلّی ہنوز دور است!

  حکومت کا دعویٰ ہے کہ کبوتر خانہ،لولی محلہ،خانہ محلہ اورکانڈہ محلہ کے پاس ڈل کے ایک حصے دولہ ڈیمب سے تجاوزات اور گھاس پھوس باہر نکال کر تقریباً ایک ہزار کنال اراضی کو صاف کرکے اِس کو آبی ذخائر میں منتقل کردیا گیا۔ حکومت کے مطابق ڈل جھیل ،نگین،آنچار اور خوشحال سرکے بارے میںریکارڈ کو درست رکھنے کے لئے ان آبی ذخائرکی تازہ پیمائش کی گئی ہے، جس کے مطابق ڈل اور نگین کا رقبہ 50432.18کنال اراضی ہے جس میں 39226آبی ذخائر اور 10206کنال اراضی خشکی ہے جبکہ تازہ ترین پیمائش کے مطابق خوشحال سر کارقبہ 1791کنال اراضی ہے جس میں 1701آبی ذخائراور 90کنال خشکی ہے ۔جہاں تک آنچار جھیل کا تعلق ہے تواس کا رقبہ 40728.5 کنال اراضی ظاہر کیا گیا جس میں 15748کنال اراضی آبی ذخائر اور28980کنال خشکی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پیمائش جدید آلات اور ریموٹ سنسنگ سیٹلائٹ کے ذریعے کرائی گئی ہے۔ حکومت کا مزید کہنا ہے

روزگار کی فراہمی… اعلان اچھا، عمل بھی ہو

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں کہا ہے کہ ان کی توجہ اگلے پانچ سال میں 80 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر ہے۔ ہارورڈ یو ایس انڈیا انیشیٹو (HUII) کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ میرا مقصد اگلے پانچ سال میں جموں و کشمیر کی 80 فیصد نوجوان آبادی تک پہنچنا اور اس کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا ہے ،میں جموں و کشمیر کے ہر بچے کو سمجھدار ، کامیاب اور اچھے انسان کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں، ہم سب مل کر مطلوبہ ہدف حاصل کریں گے۔جموں وکشمیر کے 80فیصد نوجوانو ں کو روزگار فراہم کرنے کے تعلق سے لیفٹنٹ گورنر کے یہ کلمات سننے میں تو کافی اُمید افزا لگتے ہیں لیکن عملی طور پر اگلے پانچ سال میں کتنے فیصد نوجوانوں کو روزگار ملے یاپھر بیروزگار ی کی موجودہ شرح میں تب تک مزید کتنے فیصد اضافہ ہوچکاہوگایہ مستقبل قریب میں ہی پتہ چل جائے گا۔لیفٹنٹ گورنر اوران کی انتظامیہ کی ر