تازہ ترین

کورونا کی تیسری لہرکا خطرہ

 کوروناانفیکشن کے معاملات میں نیا اضافہ مسلسل تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔چندریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد بدھ کو مرکزی سرکار نے تمام ریاستوں اورمرکزی زیر انتظام علاقوں میں کورونا وائرس کو قابومیں کرنے کیلئے ایک ماہ تک دوبارہ لوگوں کی نقل و حرکت محدود اور بھیڑ بھاڑ کو قابو کرنے اور وائرس کی روکتھام کیلئے نئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔ نئے رہنما خطوط کے تحت ریاستوں اور یوٹیز کوریڈزونوں کے دائرے میں آنے والے علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ریڈزون کے باہر آنے والے علاقوں میں پابندیاں عائد کرنے سے قبل مرکزی سرکار سے مشورہ کرنا ہوگا۔ مرکزی سرکار نے اپنے تازہ رہنما خطوط میں کہا ہے کہ ریاستوں اور یوٹیز کو 72گھنٹوں کے دوران کورونا متاثرین کے رابطوں کا پتہ لگانا ہوگا جبکہ ان کی قرنطین سہولیات، علاج و معالجہ فر

کشمیر میں ایمز کا قیام

وادی میں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے کیونکہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال اس وقاری ادارہ کا تعمیری کام شروع نہیں کیاجاسکا ہے ۔خیال رہے کہ سات نومبر2015کو وزیراعظم نریندر مودی نے اونتی پورہ میں ایمز کے قیام کا اعلان کیاتھااور مرکزی حکومت نے 1828کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے اس پروجیکٹ کو منظوری بھی دی تھی ۔اس طرز کا ایک انسٹی چیوٹ جموں کو بھی دیاگیاتھا جس کیلئے وجے پور سانبہ کا انتخاب عمل میں لایاگیاتھا اور وہاں تعمیری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر میں اس انسٹی چیوٹ کے قیام کے سلسلہ میں سرد مہری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے اور معاملہ ابھی ٹیندر نگ کے عمل سے بھی آگے نہیں بڑھ پارہا ہے۔ایمز کے قیام کیلئے اونتی پورہ میں تعمیراتی ایجنسی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1886کنال اراضی بھی دستیاب کرائی گئی تاہم حیرت کا م

منشیات اور کشمیر

 پوری دنیا سمیت جموںوکشمیر میں کورونا وائرس کے خونی پنجوں نے جب نوع انسانی کو اپنے شکنجے میں کسا ہے، وہیں ایسے جاں گسل حالات میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ حد سے زیادہ سرگرم ہوچکا ہے جو ان مخدوش اور نامساعد حالات کی آڑ میں انسانوں کو زہر بیچ کر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔بات منشیات کی چل رہی ہے ۔گزشتہ چند ہفتوں سے جس طرح ہر روز جموںوکشمیر کے کم وبیش سبھی علاقوں سے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نشہ آور ادویات ،چرس ،بھنگ ،افیون برآمد کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں،اُن سے انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔ ایک وقت جب جموں وکشمیر خاص کر وادیٔ کشمیر کے حوالے سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمبا کو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا ت

کورونا:وبائی بحران میں عبرت کاسامان!

 کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے دنیا کو صدی کی بدترین اقتصادی مندی سے دوچارکردیا ہے ۔آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد عالمی مالیاتی اداروںکے تازہ ترین تخمینوںکے مطابق اب تک دسیوں کروڑ لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وباء کی تیسری لہر نہ آئی تو امسال عالمی معیشت کے شرح نمو میں6فیصد کمی آئے گی اور اگلے سال اس میں کچھ حد تک بہتری آئے گی اور2.8فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگرتیسری لہر آئی تو عالمی معیشت میں8فیصد تک کمی ہوسکتی ہے،جو صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حالات کی جو مایوس کن منظر کشی کی ،وہ دل کو پسیج کر رکھ دینی والی تھی ۔اُن کا کہناتھا کہ آج بھی 82کروڑ لوگ بھوک کاشکا رہیں اورپانچ سال یا اس سے کم عمر کے14کروڑ 40لاکھ بچوں کی نشو نما جمود کا شک

ماحولیاتی آلودگی۔ انسان اپنی تباہی پرمُصرکیوں؟

ماحولیات کے بچائو کے لئے مسلسل آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔گزشتہ روز ہی وزیراعظم نریندرمودی نے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے سلسلے میں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا او رکہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر پہل کا ساتھ دے گا۔ مسلسل عالمی سطح پر جنگلات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ دنوںایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات پر مفصل روشنی ڈالی۔  زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرہ ارض پر پندرہ ملین انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آباد

صحت بیمہ سکیم …عمل آوری میں تاخیر کیوں؟

 جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گور نر منوج سنہا نے 11ستمبر کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جموںوکشمیر کے مرکزی زیرانتظام علاقہ کے 15لاکھ کنبوں کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا تھاجس سے ستر لاکھ کی آبادی کو فائدہ ملے گا۔اس سکیم پر سالانہ 123کروڑ روپے خرچ ہونے کی بات کی گئی تھی۔سکیم کے ذریعے جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کو مفت ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کا اہتما م ہے اور اس میں سبکدوش سرکاری ملازمین اور انکے اہل خانہ بھی شامل ہونگے۔یہ سکیم بالکل مرکزی حکومت کی سکیم ’آیوش مان بھارت سکیم‘کے طرز پر ہی ہے اور اس سکیم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں وہ سبھی لوگ بھی آجاتے جو آیوش مان بھارت سکیم میں رہ گئے تھے۔آیوش مان بھارت سکیم کے دائرے میںجموں کشمیر میں قریب 6لاکھ کنبوں کو پہلے سے لایا گیا ہے ، جو 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں، جنہیں فی سال 5 لاکھ روپے کا صحت بیمہ حا

شعبۂ تعلیم مائل بہ تنزل کیوں؟

 کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے اور اس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہیں لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیر میں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے بیشتر کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں، نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعد

دور اُفتادہ علاقے اور کٹھن موسمی حالات

 دنیا بھر میں شہریوں کو حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات میں سے ایک اہم بنیادی سہولت طبی نگہداشت کی فراہمی ہے ۔یہ کوئی استحقاق نہیں بلکہ اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔طبی نگہداشت کے نظام کو شہریوں کا بنیادی حق سمجھنے کی یہی فہم سبھی حکومتوں کو اس بات کا پابند بنا دیتی ہے کہ کسی بھی امتیاز کے بغیر سبھی شہریوں کو طبی نگہداشت کی یکساں سہولیات میسر ہوں تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ اس بنیادی حق کی فراہمی میں بھی امتیاز برتا جارہا ہے اور آج کے جدید دور میں بھی دور دراز علاقوں کے بد نصیب لوگ اس بنیادی سہولت کیلئے ترس رہے ہیں۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج بھی ہمارے جموںوکشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان پایا جارہا ہے جہاں سردیوں کے موسم میں بھاری برف باری کی وجہ سے باقی یوٹی سے کٹ کر رہنے والے لوگوںکا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ جمو

ہوائی کرایہ …لوٹ کھسوٹ آخر کب تک؟

 سردیاں شروع ہوتے ہی کشمیر سے ملک کے دیگر شہروں کیلئے ہوائی کرایہ میں بے تحاشا اضافہ کا رجحاں شروع ہوچکاہے ۔ایک ماہ قبل تک دلّی کا سفر 2سے3ہزار روپے میں ہوتا تھا لیکن اب یہی سفر 5سے10ہزار روپے کے درمیان ہوتا ہے ۔اسی طرح جموں کا سفر بھی اب کم سے کم چار ہزار روپے میں ہوتا ہے۔شہری ہوابازی کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ائر کرافٹ رولز1937کے تحت فضائی کمپنیوں کوکرایہ مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے اور شہری ہوابازی کے نظامت کو ہوائی کرایوں کو اعتدال میں رکھنے کے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔بہ الفاظ دیگر شہری ہوابازی کے ڈائریکٹر جنرل نے فضائی کمپنیوں کی من مانیوں کے سامنے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں ۔انہوں نے جس طرح فضائی کمپنیوں کی جانب سے سرینگر کیلئے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کمپنیوں کو اپنے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایہ مقرر کرنے کا حق می

بجلی سپلائی کا ناقص نظام

 گگ جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کی انتظامیہ نے اس بات کا عزم کیا ہوا ہے کہ آنے والے دو ایک برسوں میں دونوں صوبوں میں بجلی میٹروں کی صد فیصد تنصیب یقینی بنائی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ جموں اور سرینگر شہروں میں زیر زمین بجلی کیبلنگ کا منصوبہ بھی در دست لیاجارہا ہے ۔کشمیر اور جموں صوبوں کی پاور کارپوریشنوں کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبان آئے روز بتا رہے ہیں کہ میٹرنگ کا عمل ہنگامی بنیادوںپر سبھی قصبہ جات کے علاوہ دیہات میں بھی مکمل کیاجائے گا تاکہ بجلی کا منصفانہ استعمال یقینی بنایا جاسکے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میٹر لگانے سے بجلی کا منصفانہ استعمال کافی حد تک یقینی بنایا جاسکتا ہے اور لوگ میٹر لگانے کیلئے تیار بھی ہیں تاہم  پوری انتظامی مشینری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ میٹر لگوانے کے باوجود بھی صارفین کو بجلی مناسب انداز میں سپلائی نہیں کی جاتی ہے ۔جموںوکشمیر میں جب میٹر لگانے

سرحدی کشیدگی…عوام کو جینے دو

پلوامہ حملہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی اورپہلے دن سے خدشات ظاہر کئے جارہے تھے کہ یہ کشیدگی کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے ۔ فی الوقت یہ کشیدگی منقسم جموںوکشمیر کے سرحدوں پر آگ اُگل رہی ہے۔اس جنگی صورتحال کے بیچ منقسم جموں وکشمیر کی سرحدوں پر جو کچھ ہوا ،یا ہورہا ہے ،وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے ۔  کپوارہ اور گریز سے لیکر پونچھ تک لائن آف کنٹرول پر جنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشیں گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دو روز قبل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں حد متارکہ کے دونوں جانب کم ازکم16کے قریب اموات واقع ہوئیں اور 3درجن کے قریب زخمی ہوگئے ،نیز درجنوں رہائشی مکانات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے ۔جانکار ح

موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی

جموںوکشمیر میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ہنوز ایک خواب ہے ۔گوکہ گاندربل اور ادہم پور اضلاع میں فور جی موبائل انٹرنیٹ سروس  اب گزشتہ کئی ماہ سے چل رہی ہے تاہم ان دواضلاع کے لوگوں کی بھی شکایت ہے کہ کہنے کو تو فور جی انٹرنیٹ چل رہاہے لیکن اس کی رفتار قطعی فور جی نہیں ہے بلکہ یہ ٹو جی سے ذرا بہتر ہے ۔باقی اضلاع میں مسلسل ٹوجی انٹرنیٹ سروس ہی چل رہی ہے اور ایک کے بعد ایک حکم نامہ جاری کرکے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فی الحال اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی حکومت کے زیر غور نہیں ہے ۔اور تو اور ،اب تو مرکزی حکومت نے سست رفتار موبائل انٹرنیٹ کو لائق کار قرار دیا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ 2جی انٹرنیٹ کے سہارے جموںوکشمیر کا آن لائن تعلیمی نظام بخوبی چل رہا ہے اور فور جی انٹرنیٹ کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔  ان

صنعتی سیکٹر کا احیاء ناگزیر

 دنیا کی کوئی بھی معیشت صرف بنیادی شعبے پرنہیں چل سکتی۔ حقیقت میں زراعت سے صنعتوں کی طرف جھکائونے دنیا کے ترقی یافتہ حصوں میں معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی زرعی شعبے سے صنعتی شعبہ کی جانب سفر کی ضرورت کو بہت پہلے محسوس کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے صنعتوں کے فروغ میں مدد کے لئے بہت سارے پیکیج مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ان مثبت اقدامات کا صنعتوں کیلئے مقصد انفراسٹرکچر ، پیداوار اور مارکیٹنگ سے منسلک مشکلات پر قابو پانا تھا۔بلا شبہ نتائج اب تک حیرت انگیز رہے ہیں۔ پورے ملک میں وہ ریاستیں جو مضبوط صنعتی بنیادبنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، اُن کی معیشت اُن ریاستوں سے کافی بہتر ہے جو صنعتی سیکٹر میں پیچھے رہی ہیں۔بدقسمتی سے جموں وکشمیر، خاص کر کشمیر صوبہ، بھی اس زمرے میں پڑتا ہے جہاں صنعتی شعبہ آج تک پیر نہیں جما سکا ہے اور لاکھ کوششوں و خواہشات کے باوجود

آن لائن میڈیا…جوابدہی اچھی لیکن آزادی نہ چھینی جائے

مرکزی حکومت نے آن لائن نیوز پورٹلوں ،آن لائن صوتی وبصری مواد ،خبروں اور حالات حاضرہ کے آن لائن مواد کو بالآخر وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر نگین لایا ہے ۔اس سلسلہ میں باضابطہ طور ایک صدارتی آر ڈی نینس کے ذریعے مروجہ قانون میں ترمیم کو منظوری دی گئی اور یوں اب آن لائن میڈیا کو منظم بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ویسے عرصہ دراز سے یہ شکایت کی جارہی تھی کہ آن لائن میڈیاایک طرح سے ایک ایسا بے لگام گھوڑا ہے جس کاکوئی مالک نہیں ہے اور نہ ہی کہیں جواب طلبی ہے ۔جہاں تک خبروں اور حالات حاضرہ کے حوالے سے آن لائن مواد کا تعلق ہے تو بلاشبہ آن لائن میڈیا اس حوالے سے بہت اچھا کام کررہا ہے تاہم اس بات سے بھی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ جوابدہی کے فقدان کی وجہ سے آن لائن میڈیا ناسور بھی بن چکا تھا اور لوگوںکی پگڑیاں اچھالنے کا کام زوروں پر تھا۔علاوہ ازیں خبروں اور حالات حاضرہ کی پیشکش کے دوران صحاف

برف باری کی پیش گوئی | پیشگی اقدامات ناگزیر،کسان بھی جلدی کریں

محکمہ موسمیات نے 13نومبر کی شام سے 15نومبر کی شام تک جموں اور لداخ کے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں درمیانہ سے لیکر بھاری برف باری کی پیشگوئی کرتے ہوئے دونوں یونین ٹریٹریوں کی انتظامیہ کے نام ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ اس برف باری سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کریں۔محکمہ موسمیات کے مطابق 13نومبر کی شام کو مغربی ہوائیں جموںوکشمیر میں داخل ہونگیں جس کے نتیجہ میں موسمی صورتحال تبدیل ہوجائے گی اور 13نومبر کی رات سے ہی برف باری شروع ہوگی جس میں14اور15نومبر میں شدت آئے گی اور 15نومبر کی رات ہوتے ہوتے برف باری کا سلسلہ تھم جائے گا۔ گوکہ جموں منتقلی سے قبل لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے موسم سرما کے حوالے سے کئے گئے انتظامات کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیا جس میں متعلقہ محکموںکے علاوہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لوگ بھی شامل تھے ۔اس اجلاس میں لیفٹنٹ گورنر کو بتایا گیا کہ حکومت کسی بھی امکانی

بجلی کٹوتی کا نیا شیڈول … اندھیرا قائم رہے !

 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔سیول سیکریٹریٹ کی جموں منتقلی کیا ہوئی ،وادی میں عملی طور اندھیرے کا راج قائم ہوگیاہے۔دربار مو دفاتر سرینگر میں بند ہونے کے ایک روز بعد محکمہ بجلی نے نیا کٹوتی شیڈول مشتہر کیا جس میں اعلانیہ طور کہاگیا کہ میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں21گھنٹے بجلی نہیں رہے گی جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں یہ دورانیہ28گھنٹوں پر مشتمل ہوگا۔یوں نئے شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میں اعلانیہ روزانہ 3گھنٹوں جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوںمیں روزانہ4 گھنٹوں کی کٹوتی ہوناتھی تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ جہاں میٹر والے علاقوں میں ان تین گھنٹوں کے علاوہ غیر اعلانیہ طور کم ازکم مزید 5سے 8گھنٹوںکی کٹوتی ہورہی ہے وہیں بغیر میٹر والے علاقوں میں بجلی سپلائی کی صورتحال یہ ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ یہ کب آتی ہے اور کب چلی جاتی ہے اور یوں عملی طور ان علاقوں میں15سے لیکر20گھنٹوں تک ب

گوشت کی نئی قیمتوں پر عمل نہ ہوسکا | عوام چکی کے دو پاٹوں میں پِس رہے ہیں

ایسا لگ رہا ہے کہ ارباب اختیار اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اعتدال میں رکھنے میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔سبزیوں سے لیکر نان خشک اور مرغ سے لیکر گوشت تک سبھی اشیاء کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔نرخ ناموںکو بالائے طارق رکھ کر ہر کوئی اپنی مرضی کے نرخ مقرر کررہاہے اور من مانیوں کا یہ سلسلہ لکھن پور سے شروع ہوکر اوڑی تک برابر جاری ہے ۔کہیں کوئی سنوائی نہیں ہے اور عملی طور ایسا لگ رہا ہے کہ انتظامی مشینری کہیں موجود ہی نہیں ہے ۔جموں صوبہ کے بیشتر اضلاع سے آئے روز مہنگائی اور کالابازاری کی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔چناب سے لیکر پیر پنچال اور جموں کے میدانی علاقوں میں عام شکایت یہ ہے کہ محکمہ ناپ توپ سے لیکر امور صارفین محکمہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک سب جیسے سوئے ہوئے ہیں اور بازاروں میں مہنگائی عروج پر ہے ۔نان خشک کی قیمتیں بلا شبہ بڑھ نہیںرہی ہیں بلکہ اُنکا وزن گھٹتا ہی چلا جارہا ہے ۔مرغ کی

جموںوکشمیر میں بجلی شعبہ کی نجکاری

 جموںوکشمیر تب ریاست ہی تھی جب یہاں بجلی محکمہ کی نجکاری شروع کرکے باضابطہ طور نیم خود مختار کارپوریشنوںکاقیام عمل میں لاکر محکمہ بجلی کے ملازمین کو ان کارپوریشنوں کے ساتھ منسلک کردیاگیاتھا۔گوکہ اس حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج بھی ہوا تھا لیکن بات بن نہیں پائی تھی اور حکومت اس پالیسی پر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔5اگست2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس ریاست کی تنزلی عمل لاکر اس کو مرکز کے زیر انتظام دیاگیا تو لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے بھی سابق پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نفاذ میں مزید سرعت لائی اور پھر ایک دفعہ ملازمین احتجاج کی راہ پر نکل پڑے لیکن پھر ایک دفعہ ملازمین کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا اور بجلی شعبہ کی نجکاری جاری رہی ۔ اس سارے عمل میں کورونا کا بحران شروع ہوا اور اب امید کی جارہی تھی کہ شاید یہ بحران ختم ہوکر اس فیصلہ پر نظر ثانی کی جا

سیاسی سرگرمیوں کی مکمل بحالی

جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ جموںکشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں کیا ہے اور اس پر عملد ر آمد ضرور ہوگا۔ایک قومی انگریزی روزنامہ کو دئے گئے انٹرویو میں لیفٹنٹ گورنر نے انتظامی معاملات سے لیکر سیاسی معاملات پر کھل کر لب کشائی کی ہے ۔اس انٹرویو کے بین السطور مطالعہ سے یہی بات ابھر کر سامنے آرہی ہے کہ منوج سنہا جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی میں سنجیدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی قائدین آزادانہ ماحول میں اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔منوج سنہا کی یہ سوچ قابل ستائش ہے کیونکہ گزشتہ5اگست سے عملی طور یہاں سیاسی سرگرمیاںمفقود ہیں اور کلی طور حکومتی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جارہی تھی تاہم اب گزشتہ دو ایک ماہ سے سیاسی سرگرمیوں پر قدغن کو جزوی طور ہٹا لیاگیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اب رفتہ رفتہ سیاسی سرگرمیا

کشمیری زبان… اعلانات اچھے لیکن کچھ عمل بھی ہو

کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کل کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کی سفارشات کے مطابق کشمیری زبان و ادب کو فروغ دینے کیلئے کشمیر یونیورسٹی میں جلد ہی اکیڈیمی آف کشمیری لنگویج قایم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اکیڈیمی کے قیام سے نہ صرف اضافی فنڈ دستیاب ہونگے بلکہ اس میں مزید فیکلٹی عہدوں کے قیام کی گنجائش بھی پیدا ہوگی ۔ پروفیسر طلعت نے کہا کہ یہ اکیڈیمی ترجمے کے بارے میں مختصر نصاب پیش کر سکتی ہے تاکہ کشمیری ادب ، فلسفہ اور ثقافت کا بھرپور خزانہ پوری دنیا تک پہنچ سکے۔ یہ اعلان انتہائی اُمید افزاء ہے کیونکہ عملی طور پر سرکاری سطح پر کشمیری زبان کا دیس نکالاعمل میں لایا گیا ہے اور رسمی طور ہائی اسکولی سطح پر ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائے جانے کے علاوہ اس کی ترویج کیلئے عملی طور کچھ نہیں کیاجارہاہے ۔کشمیری زبان کی زبوں حالی پر آج کل بہت سے لوگ ماتم کناں ہیں ۔کچھ حکوم