تازہ ترین

آوارہ کتوں کی خونچکانی

  وادی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی انسانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔کتوں کو انسانی خون کا کس قدر چسکا لگ چکا ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ 10برسوں کے دوران صرف صدر ہسپتال سرینگر کے اینٹی ریبیز کلینک میں60ہزار ایسے مریضوںکا علاج کیاگیا جنہیں کتوں نے کاٹا تھا اور حیرانی کی بات ہے کہ ان میں سے80فیصد معاملات کا تعلق صرف سرینگر شہر سے تھا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر شعبہ کمیو نٹی میڈیسن کی ایک رپورٹ کے مطابق سرینگر اور جموں کی میونسپل حدود میں سالانہ10ہزار لوگوں کو آوارہ کتے کاٹتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کتوں کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ کتوں کی جارحیت کا نشانہ بننے والے افراد کے تناسب کے تجزیہ اخذ ہوتاہے کہ فی دن کتوں نے اس مدت کے دوران27افراد کو کاٹ کھایا۔ اگر وادی کے 9اضلاع کے طبی اداروں سے اعدادو شمار حاصل کئے جائیں توشہریوں کے کتوں کے ذریعہ ک

تازہ ترین