آوارہ کتّوں کی خونچکانی

 ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے ، لیکن روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔اب جب کہ رمضان المبارک کا بھی  مہینہ آنے والا ہے اور سحری کے وقت مساجد میں نمازیوں کی آمد ورفت میں خاصا اضافہ ہوگا،ایسے میں آوارہ کتوں کے حملوں کے خدشات دو چند ہیں۔ چنانچہ ابھی تک لوگوں کو درپیش اس مصیبت پر قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے،جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہو تا رہے گا ۔آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالو

تازہ ترین