جنگ بندی پر تازہ اتفاق، ہوا کا خوشگوار جھونکا

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے حد متارکہ اور بین الاقوامی پر کشیدگی کے خاتمہ سے متعلق تمام معاہدوںکی مکمل پاسداری کا عزم ظاہر کیا ہے ۔اس اتفاق رائے کے طفیل اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم از کم ہندوپاک سرحدوںپر سکون لوٹ آئے گا اور سرحدی آبادی کو طویل عرصہ بعد چین سے سونے کا موقعہ میسر آئے گا۔سرحدی آبادی اب کئی برسوں سے توپ کی رسد بن چکی تھی اور آئے روز کی گولہ باری سے سرحدی آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران جنگ بندی خلاف ورزیوںکے معاملات کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے اور اب ایسا لگ رہاہے کہ آمنے سامنے نا سہی ،لیکن سرحدوںپر سرد جنگ چل رہی ہے جس کی رفتار مدہم ہی سہی لیکن یہ جنگ دونوںجانب نہتے عوام کو نگل رہی ہے ۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم تھاکہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2020کو اس معاہدہ کی خلاف ورز

پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر

 عدالت عالیہ نے گزشتہ دنوںحکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے نگرانی نظام مزید سخت کرے اور نہ صرف جموں وکشمیرمیں پالی تھین کی برآمد روکی جائے بلکہ جموںوکشمیر کے اندر بھی پالی تھین کا استعمال ختم کیاجائے ۔عدالت نے حکومت کی جانب سے پالی تھین لفافوں کے استعمال کے اعتراف کے بعد کہا کہ پالی تھین کے استعمال سے خوبصورتی ماند پڑرہی ہے اور اگر حساس ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے تواس ناسور کا خاتمہ لازمی ہے ۔یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب عدلیہ نے پالی تھین کے استعمال کو لیکر حکومت کی کھینچائی کی ہو بلکہ اس سے قبل بھی کئی دفعہ عدلیہ کی جانب سے حکومت کو کھری کھری سننا پڑی اور سچ تو یہ ہے کہ عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں ہی حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون بنانے

مغل شاہراہ …ٹنل کے آخر پر روشنی بھی توہوگی؟

  خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ مسلسل ٹریفک کیلئے بند ہے۔ایک طرف حکومت نے اس شاہراہ کے تئیں سنجیدگی ظاہر کرنے کیلئے اس کی دیکھ ریکھ کی خاطر محکمہ تعمیرات عامہ نے ایک الگ ڈویژن ’’مغل روڈ ڈویژن‘‘کے نام سے قائم کیا ہوا ہے تاہم دوسری جانب حالت یہ ہے کہ یہ شاہراہ ایک رابطہ سڑک تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ اس سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے ۔یہ شاہراہ ، جس کا تخیئل مرحوم شیخ محمد عبد اللہ نے پیر پنچال خطہ کے لوگوں کو وادی کے ساتھ جوڑنے اور ان کی اقتصادی حالت میں بہتری لانے کی غرض سے دیا تھا ، اب یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے تاہم سرما کے 4سے6ماہ کے دوران جب یہ بند ہو جاتی ہے تو خطہ کے لوگوں کا انحصار دوبارہ جموں۔ سرینگرقومی شاہراہ پر ہو جا تا ہے جس کے باعث اس کی افادیت پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ بفلیاز اور شوپیاں کے د

کشمیر ریل پروجیکٹ …خواب شرمندۂ تعبیر کب ہوگا؟

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ ایک سال کے وقفہ کے بعد بانہال ۔بارہمولہ ریل سروس دوبارہ شروع کی گئی ہے ۔گوکہ ابھی دو ہی ریل گاڑیاں چل رہی ہیں تاہم آنے والے دنوں میں ریل گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرکے اس کو معمول پر لاجائے گاجس سے یقینی طور پر لوگوں کو راحت ملے گی تاہم ریل سفر کا اصل فایدہ کشمیری عوام کو تب ملے گا جب کشمیر ریل پروجیکٹ مکمل ہوگا اور بارہمولہ کا ریلوے سٹیشن ادہم پور ریلوے سٹیشن سے جُڑ جائے گا۔سابق ریاستی حکومت نے کہاتھا کہ جموں وکشمیرکو بیرون ملک کے ساتھ سال 2017تک ریل سروس کے ذریعے جوڑا جائیگا اور یہ کہ ادھمپور سے سرینگر تک ریلوے لائن 2017میں مکمل ہوگی تاہم یہ ڈیڈلائن بھی ناکام ہوگئی اورپھر2020تک کٹرہ قاضی گنڈ 111کلومیٹر حصے کو مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا لیکن وہ ڈیڈلائن بھی پوری نہ ہوسکی جس کے بعد اب15اگست2022کی ایک اور ڈیڈ لائن خود وزیراعظم نریندر مودی نے مقرر کی ہے تاہم

آوارہ کتّوں کی خونچکانی

 ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے ، لیکن روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔اب جب کہ رمضان المبارک کا بھی  مہینہ آنے والا ہے اور سحری کے وقت مساجد میں نمازیوں کی آمد ورفت میں خاصا اضافہ ہوگا،ایسے میں آوارہ کتوں کے حملوں کے خدشات دو چند ہیں۔ چنانچہ ابھی تک لوگوں کو درپیش اس مصیبت پر قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے،جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہو تا رہے گا ۔آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالو

جاگو کہ یہ سونے کا وقت نہیں ہے !

 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا تھا کہ اولین فرصت میں دریائے جہلم کی کھدائی عمل میں لاکر اس کے کناروں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کیاجائے گا۔سیلاب کو آئے اب سات سال ہونے والے ہیںلیکن حکومتی اعلان حکم نواب تادر نواب ہی ثابت ہوا ۔نہ ہی جہلم کی کھدائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی اس کی معاون ندیوں کو وسعت دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جہلم سمیت تمام ندی نالوں اور دیگر آب گاہوں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم بھی دم توڑ بیٹھی ۔سیلاب کے بعد بار بار کی عدالتی پھٹکار کی وجہ سے حکومتی مشینری کسی حد تک متحرک ہونے لگی تھی اور نہ صرف جہلم بلکہ فلڈ چینلوں کی کھدائی کا عمل شروع کرکے جہلم کے ساتھ تمام ندی نالوں کے کناروں سے ناجائز تجاوازت ہٹانے کا بیڑا اٹھالیاگیا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ،یہ مہم خاموشی کی موت مر گئی اور جہلم سمیت تمام ندی نالوں کے

ہوائی کرایہ کو اعتدال میں لائیں !

 کشمیر سے ملک کے دیگر شہروں کیلئے ہوائی کرایہ میں بے تحاشا اضافہ کا رجحاں جاری ہے ۔سردیوں سے قبل تک دلّی کا سفر 2سے3ہزار روپے میں ہوتا تھا لیکن اب یہی سفر 5سے10ہزار روپے کے درمیان ہوتا ہے ۔اسی طرح جموں کا سفر بھی اب کم سے کم چار ہزار روپے میں ہوتا ہے۔شہری ہوابازی محکمہ کے مطابق ائر کرافٹ رولز1937کے تحت فضائی کمپنیوں کوکرایہ مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے اور شہری ہوابازی کے نظامت کو ہوائی کرایوں کو اعتدال میں رکھنے کے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔بہ الفاظ دیگر شہری ہوابازی محکمہ نے فضائی کمپنیوں کی من مانیوں کے سامنے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں ۔ محکمہ نے جس طرح فضائی کمپنیوں کی جانب سے سرینگر کیلئے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کمپنیوں کو اپنے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایہ مقرر کرنے کا حق میسر ہے ،اُس سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ مرکزی حکوم

حالیہ زلزلہ :اَرباب اقتدار کیلئے اعلانِ بیداری

 چند روز قبل آئے زلزلے ،جس کا محور قزاقستان ۔چین سرحد تھا ،نے8اکتوبر2005کے ہلاکت خیز زلزلے کی یادیں تازہ کردیں اور لوگ خوف و دہشت میں مبتلاء ہوگئے ۔ تاہم انتظامیہ نے حسب روایت حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے لوگوں کو اطمینان رکھنے کی نہ صرف تاکید کی بلکہ خبردار کیا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے گی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے اور لوگوں کو یہ کہہ کر اضطرابی کیفیت سے باہر نکالنا چاہتی ہے کہ مزید کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔مانا کہ لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت مٹانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے ،کبھی بھی ہمیں نگل سکتا ہے۔  گزشتہ ایک دو برس کے دوران کشمیراور جموں میں منعقد ہونے والے ورکشاپوں اور سمیناروں میں ماہرین ارضیات نے کشمیرمیں زلزلوں کے حوالہ سے جو انکشافات ک

سیلاب کی پیشگوئی کا انتظام

 مرکز ی زیر انتظام جموں و کشمیر نے’ فلڈ فورکاسٹنگ ‘یعنی سیلاب کی پیش گوئی کے ایک باہمی تعاون کے منصوبے کیلئے برطانیہ میں قائم خلائی ایجنسی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ اس منصوبے سے مرکزی علاقے میں سیلاب کی پیش گوئی میں مدد ملے گی ۔12 فروری2021 کو اس ضمن میں باضابطہ معاہدہ طے پایا۔حکومت کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا یہ ایک بڑا قدم ہے جو سیلاب سے ہونے والے متوقع نقصانات، لوگوں کےزخمی ہونے، عمارتوں کو نقصانات پہنچنے اور معاشی نقصان کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔خیال رہے فی الحال جموں وکشمیر میں فلڈ فورکاسٹنگ( سیلاب کی پیشگوئی) کا کوئی ایسا میکانزم یاطریقہ کار موجود نہیں ہے۔نیا بین الاقوامی تعاون ماضی کے سیلاب کے واقعات کا تجزیہ کرنے اور پیش گوئی شدہ سیلاب اور ان کے اثرات کے مابین تعلقات کی نشاندہی کرنے میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔یہ میکانیزم لوگوں، ان کے مکانات، فصلوں

قضیہ نجی سکولوں کے ٹرانسپور ٹ کا

 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ نجی سکولوں کے فیس کا تعین کرنے سے متعلق حکومتی کمیٹی نے وادی میں چل رہے نجی سکولوں کی تازہ من مانیوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تمام نجی سکولوں کو10سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ ارسال کرکے فوری جواب طلب کیا ہے ۔مذکورہ کمیٹی کا یہ تازہ اقدام اس لئے اطمینان بخش ہے کیونکہ نجی سکول پورے جموںوکشمیر خصوصاً کشمیر میں اب ایک مافیا کی طرح برتائو کرنے لگے ہیں اور اپنی من مانیوں سے بازنہیں آرہے ہیں۔تازہ فیصلے میں پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن نے مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر سکول گاڑیاں بند کرنے کا اعلان کیاتھااور والدین سے کہاگیاتھا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول لانے اور لیجانے کا بندو بست خود کریں۔نجی سکولوں کی ایسو سی ایشن کا کہناتھا کہ گزشتہ دو برسوں سے سکول بند رہنے کے نتیجہ میںسکولوں میں ڈرائیوروں اورٹرانسپورٹ شعبہ سے منسلک عملے کی تنخواہ ، ٹیکس ، انشورنس اور بینک کی قسطوں

آو سکول چلیں لیکن احتیاط کے ساتھ!

جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ کے سرمائی زون میں یکم مارچ سے بالآخر ایک سال کے وقفہ کے بعد تعلیمی ادارے کھل جائیں گے۔ایک سال بعد سکول کھولنے کا عمل اپنے آپ میں مستحسن قدم ہے اور اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری ہیں۔سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ نے کہاتھا کہ سکولوں کا وائٹ واش کرانے کے علاوہ وہاں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی یہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گا۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا تھا،وہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکر لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں

کھیلو انڈیا مہم اور کشمیر | کھیل میلہ بجا لیکن مقامی کھیل ڈھانچہ کہاں ؟

شہرہ ٔ آفاق سیاحتی مقا م گلمرگ میں کھیلو انڈیا سرمائی میلہ شروع ہوچکا ہے جس میں ملک بھر سے سرمائی کھیلوں کے کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔یہ پروگرام اپنے آپ میں ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ پہلی دفعہ یہاں اس نوعیت کا سرمائی کھیلوں کا فیسٹول ہورہا ہے ۔اس طرح کے پروگرام کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ اس سے جہاں ملک اور ملک سے باہر مثبت پیغام جاتا ہے وہیں جموںوکشمیر خاص کر کشمیر کے سیاحتی سیکٹر کو سہارا ملتا ہے ۔بتایاجارہا ہے کہ گلمرگ ہائوس فُل چل رہا ہے اور ہوٹلوں میں کمرے خالی نہیں ہیں۔یہ اچھی بات ہے ۔سیاحتی انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو کافی وقت سے سیاحوں کا انتظار تھا اور اگر اسی کھیل مقابلے کے بہانے گلمرگ کی رونق لوٹ آتی ہے تو یہ سونے پہ سہاگا ہے تاہم یہاں ہمارا مقصد کھیلو انڈیا سرمائی فیسٹول پر بات کرنا نہیں ہے بلکہ بحیثیت مجموعی کھیلو انڈیا سکیم کو زیر بحث لانا ہے ۔اس سکیم کے تحت فیصلہ ہوا

ڈل جھیل کی بحالی… دلّی ہنوز دور است!

  حکومت کا دعویٰ ہے کہ کبوتر خانہ،لولی محلہ،خانہ محلہ اورکانڈہ محلہ کے پاس ڈل کے ایک حصے دولہ ڈیمب سے تجاوزات اور گھاس پھوس باہر نکال کر تقریباً ایک ہزار کنال اراضی کو صاف کرکے اِس کو آبی ذخائر میں منتقل کردیا گیا۔ حکومت کے مطابق ڈل جھیل ،نگین،آنچار اور خوشحال سرکے بارے میںریکارڈ کو درست رکھنے کے لئے ان آبی ذخائرکی تازہ پیمائش کی گئی ہے، جس کے مطابق ڈل اور نگین کا رقبہ 50432.18کنال اراضی ہے جس میں 39226آبی ذخائر اور 10206کنال اراضی خشکی ہے جبکہ تازہ ترین پیمائش کے مطابق خوشحال سر کارقبہ 1791کنال اراضی ہے جس میں 1701آبی ذخائراور 90کنال خشکی ہے ۔جہاں تک آنچار جھیل کا تعلق ہے تواس کا رقبہ 40728.5 کنال اراضی ظاہر کیا گیا جس میں 15748کنال اراضی آبی ذخائر اور28980کنال خشکی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پیمائش جدید آلات اور ریموٹ سنسنگ سیٹلائٹ کے ذریعے کرائی گئی ہے۔ حکومت کا مزید کہنا ہے

روزگار کی فراہمی… اعلان اچھا، عمل بھی ہو

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں کہا ہے کہ ان کی توجہ اگلے پانچ سال میں 80 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر ہے۔ ہارورڈ یو ایس انڈیا انیشیٹو (HUII) کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ میرا مقصد اگلے پانچ سال میں جموں و کشمیر کی 80 فیصد نوجوان آبادی تک پہنچنا اور اس کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا ہے ،میں جموں و کشمیر کے ہر بچے کو سمجھدار ، کامیاب اور اچھے انسان کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں، ہم سب مل کر مطلوبہ ہدف حاصل کریں گے۔جموں وکشمیر کے 80فیصد نوجوانو ں کو روزگار فراہم کرنے کے تعلق سے لیفٹنٹ گورنر کے یہ کلمات سننے میں تو کافی اُمید افزا لگتے ہیں لیکن عملی طور پر اگلے پانچ سال میں کتنے فیصد نوجوانوں کو روزگار ملے یاپھر بیروزگار ی کی موجودہ شرح میں تب تک مزید کتنے فیصد اضافہ ہوچکاہوگایہ مستقبل قریب میں ہی پتہ چل جائے گا۔لیفٹنٹ گورنر اوران کی انتظامیہ کی ر

اخلاقی انحطاط… کشمیری سماج غلط ڈگر پر تو نہیں؟

  اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حِس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے

منشیات… ہمہ جہت کاروائی تقاضائے وقت

جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند روز کے دوران منشیات کی فصلیں تباہ کرنے کی جو کارروائیاں ہوئی ہیں عوامی حلقوں میںاُنکا خیر مقدم کیا جا رہا ہے نیز یہ اُمید کی جارہی ہے کہ یہ کاروائی مشتے از خروارے کے اصول پر نہیں کی جائیگی بلکہ منشیات کی کاشت میں مصروف تمام عناصر کے خلاف منظم مہم چھیڑ نے میں کوئی پس وپیش نہیں کیا جائیگا۔ اس حوالے سے پولیس اور نارکوٹکس محکمہ پر کلیدی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، کیونکہ منشیات کے کاروبار نے جس وسیع پیمانے پر اپنے پر پھیلائے ہیں اس کے دبائو سے سارا سماج چُر مرارہا ہے اور نئی نسل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں۔ ریاست کے دونوں بڑے شہروں سرینگر اور جموں کے علاوہ قصبہ جات میں بھی فی الوقت منشیات کے کالے کاروبار کی سرگرمیاں جس منظم پیمانے پر چلائی جارہی ہیں اُس شدت سے اسکے خلاف کاروائی کا عشر عشیر بھی کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ منشیات فروشوں کی گرفت

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی سپلائی بہتر بنانے کی ضرورت!

 جموں و کشمیرمیں شعبہ طب میں موجود کمزوریوں کے بہ سبب عام لوگوں کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، وہ کسی سےچھپا نہیں ہے۔ ضلعی اور مضافاتی ہسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کے بہ سبب نہ صرف شہر کے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اکثر اوقات سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے رش کی وجہ سے متعدد لوگوں کو پرائیوٹ ہسپتالوں اور نرسنگ ہوموں کا رُخ کرنا پڑتا ہے ، جہاں علاج معالجے کے نام پر اُنکی کھال کھینچنے میں کوئی کثراُٹھائے نہیں رکھی جاتی ۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں معالجوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی کمپنیوں کے ادویات تجویز کرتے ہیں، جو مخصوص میڈیکل سٹوروں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں ۔ اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہوسکتی ہیں، اسکا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی معالج اس عمل کے قائل ہوں بلکہ متعدد ایسے حضرات

بجلی سیکٹرکی نجکاری ! | غیرمقبول فیصلوںسے اجتناب ہی بہتر

جموںوکشمیر تب ریاست ہی تھی جب یہاں محکمہ بجلی کی نجکاری شروع کرکے باضابطہ طور نیم خود مختار کارپوریشنوںکاقیام عمل میں لاکر محکمہ بجلی کے ملازمین کو ان کارپوریشنوں کے ساتھ منسلک کردیاگیاتھا۔گوکہ اس حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج بھی ہوا تھا لیکن بات بن نہیں پائی تھی اور حکومت اس پالیسی پر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔5اگست2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس ریاست کی تنزلی عمل لاکر اس کو مرکز کے زیر انتظام دیاگیا تو لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے بھی سابق پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نفاذ میں سرعت لائی اور ملازمین پھر ایک دفعہ احتجاج کی راہ پر نکل پڑے لیکن پھر ایک دفعہ ملازمین کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا اور بجلی شعبہ کی نجکاری جاری رہی اورآ ج کل بھی بجلی ملازمین احتجاج کررہے ہیںلیکن لگتا ہے کہ بات نہیں بنے گی۔اس سارے عمل میں کورونا کا بحران شروع ہوا اور اب اُمید کی جا

محکمہ بجلی اور سپلائی کا ناقص نظام ! | اپنی نااہلی کا نزلہ صارفین پر نہ گرائیں

 جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کی انتظامیہ نے اس بات کا عزم کیا ہوا ہے کہ آنے والے دو ایک برسوں میں دونوں صوبوں میں بجلی میٹروں کی صد فیصد تنصیب یقینی بنائی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ جموں اور سرینگر شہروں میں زیر زمین بجلی کیبلنگ کا منصوبہ بھی در دست لیاجارہا ہے ۔کشمیر اور جموں صوبوں کی پاور کارپوریشنوں کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبان آئے روز بتا رہے ہیں کہ میٹرنگ کا عمل ہنگامی بنیادوںپر سبھی قصبہ جات کے علاوہ دیہات میں بھی مکمل کیاجائے گا تاکہ بجلی کا منصفانہ استعمال یقینی بنایا جاسکے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میٹر لگانے سے بجلی کا منصفانہ استعمال کافی حد تک یقینی بنایا جاسکتا ہے اور لوگ میٹر لگانے کیلئے تیار بھی ہیں تاہم  پوری انتظامی مشینری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ میٹر لگوانے کے باوجود بھی صارفین کو بجلی مناسب مقدار میں سپلائی نہیں کی جاتی ہے ۔جموںوکشمیر میں جب میٹر لگانے کی

روڈ سیفٹی …نظام ہی آلودہ ہو بہتری کیسے آئے!

 آج کل روڈ سیفٹی مہینہ چل رہا ہے اور تمام اضلاع میں محکمہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکمہ کی جانب سے تقاریب کاانعقاد کیا جارہا ہے جن میں لوگوںکو ٹریفک قوانین کی جانکاری دینے کے علاوہ انہیں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے اصولوں سے روشناس کرایا جارہا ہے ۔اس طرح کی سرگرمیاں اطمینان بخش ہیں اور اگر تسلسل برقرار رکھاجائے تو بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں تاہم آگاہی یا بیداری پروگراموں سے کیا ہوگا جب ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سے جڑا سارا سرکاری نظام ہی آلودہ ہوچکا ہو۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے دفاتر کورپشن کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور ٹریفک پولیس محکمہ پر بھی کورپشن کے الزامات لگتے رہتے ہیں ۔ڈرائیونگ لائسنسوں کی اجرائی سے لیکر روٹ پرمٹ اور روڈ ٹیکس کی ادائیگی تک ایک ایسا مافیا سرگرم ہوچکا ہے جس نے اس محکمہ کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے ۔ریجنل ٹرانسپورٹ دفاتر کشمیر اور جموں سے لیکر تمام اضلاع میں ق

تازہ ترین