سُکڑتی آبی پناہ گاہوں کو نابود ہونے سے بچائیں

 جموں و کشمیرکی خوبصورتی میں چار چاند لگانے والی قدرتی آب گاہوں اور جھیلوںمیں پچھلے 95سال کے دوران 50فیصد کمی آئی ہے۔ ایک تازہ ترین تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی جھیلوں اور آب گاہوں کوغیر قانونی قبضہ ، آلودگی اور پرتنائو صورتحال کی وجہ سے تشویشناک حد تک نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 22اضلاع میں کل 3651چھوٹی بڑی آب گاہیں موجود ہیں جن میں پانچ آب گاہیں عالمی شہرت کی حامل ہے ۔ان میں جموں کی دو آبگاہیں سرنسر اورمانسر اور کشمیر کی دو آب گاہیںہوکر سر اور ولر جھیل شامل ہیں۔  رپورٹ میں اس بات کاپریشان کن انکشاف کیاگیا ہے کہ شہر سرینگر میں موجود قدرتی آب گاہیں اور جھیلیں غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں 50فیصد آب گاہیں اور قدرتی جھیلیں ختم ہوچکی ہیںاور سرینگر شہر میں 95سال کے دوران آبی

صحت بیمہ سکیم … نادار مریضوں کیلئے اُمید کی نئی کرن

جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گور نر منوج سنہا نے 11ستمبر کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اِس مرکزی زیرانتظام علاقہ کے 15لاکھ کنبوں کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ،جس سے ستر لاکھ کی آبادی کو فائدہ ملے گا۔اس سکیم پر سالانہ 123کروڑ روپے خرچ ہونگے۔سکیم کے ذریعے جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کو مفت ہیلتھ انشورنس فراہم کیا جائے گا اور اس میں سبکدوش سرکاری ملازمین اور انکے اہل خانہ بھی شامل ہونگے۔یہ سکیم بالکل مرکزی حکومت کی سکیم ’آیوش مان بھارت سکیم‘کے طرز پر ہی ہے اور اس سکیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں وہ سبھی لوگ بھی آئیں گے جو آیوش مان بھارت سکیم میں رہ گئے ہیں۔آیوش مان بھارت سکیم کے دائرے میںجموں کشمیر میں قریب 6لاکھ کنبوں کو پہلے سے لایا گیا ہے ، جو 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں، جنہیں فی سال 5 لاکھ روپے کا صحت بیمہ حاصل ہے۔ اب نئی سکیم کے تحت مزید 15 لاکھ کن

جراحیوں کی سرِنو شروعات

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد گزشتہ6ماہ سے نظامت صحت کشمیر کے تحت آنے والے ہسپتالوں میں بند پڑا جراحیوں کا عمل دوبارہ شروع کیاجارہا ہے۔ہم نے انہی سطور میں کئی دفعہ اس سنگین مسئلہ کی جانب سے حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی ۔اب اگر حکام نے عوامی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے  ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات کے بعد آپریشن تھیٹر خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کا یقینی طور پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگیوںکے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں اور دونوں صوبوں کے نظامت صحت کے تحت آنے والے ضلعی و سب ضلعی ہسپتالوں ،کمیونٹی ہیلتھ سینٹروںاور پرائمری ہیلتھ مراکز میں جراحیوں کا عمل بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے

کورونا وبا… لاپرواہی کہیں لے نہ ڈوبے!

جموںوکشمیر یونین ٹریٹری میں کورونا کے حوالے سے حالیہ دنوںجو نئی درجہ بندی کی گئی ہے ،وہ قطعی اطمینان بخش نہیں ہے ۔وادی کشمیر میں صرف ایک ضلع بانڈی پورہ کو چھوڑ کر باقی سبھی اضلاع ریڈ زون میں رکھے گئے ہیں جبکہ جموں میں رام بن ضلع ریڈ زون میں ہے۔کٹھوعہ ، سانبہ ، ریاسی ، اودھمپور، پونچھ ، راجوری اور جموں کو اورینج زون اور خطہ چناب کے ڈوڈہ و کشتواڑ اضلاع کو گرین زون میں شمار کیا گیا ہے۔   حکومت کی نئی درجہ بندی اور بندشوں کی تفصیلات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں صورتحال قطعی اطمینان بخش نہیں ہے۔یہاں مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں اور روزانہ 1500سے2000کے قریب نئے معاملات کاسامنے آنا معمول بن چکا ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی دوہرے ہندسوں میں ہی رہتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ قطعی طور کوئی اطمینان بخش صورتحال نہیں ہے اور اس طرح متواتر اموات اور نئے کیسوں کا سامن

لیفٹنٹ گورنر کے خوشگوار اعلانات

 جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر حسب توقع کافی متحرک نظر آرہے ہیں۔منوج سنہا راج بھون میں کم جبکہ باہر زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اُس خلیج کو مسلسل پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان اب کافی عرصہ سے پائی جارہی ہے۔منوج سنہا چونکہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور زندگی کا بہت بڑا حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے تو اُن سے پہلے دن سے ہی یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کاغذی کیڑا بننے کی بجائے قضیہ زمین بر سر زمین والا اپروچ اختیار کریں گے ۔ویسے جب اُن کا تقرر ہوا تو اُس وقت بھی یہی بتایاجارہا تھا کہ مرکزی حکومت نے صرف اسی غرض سے جموںوکشمیر کا لیفٹنٹ گورنر بنا کر بھیجا کہ وہ عوامی رابطے استوار کریں اور جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں اپنا کردار نبھائیں کیونکہ سابق لیفٹنٹ گورنرنے کافی حد تک اپنے آپ کو راج بھون اور بیروکریسی کے ساتھ میٹنگوں تک ہی محدو کیا ہوا تھا۔ بہر

ماحولیاتی تحفظ کیلئے راست اقدامات ناگزیر!

  ماہرین ماحولیات نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یہاں کے گلیشئر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں ، جسکی وجہ سے مستقبل میں یہاں کے ماحولیات پر خطرناک اثرات مرتب ہونے کا قوی احتمال ہے۔گلیشئروں کے سرعت کے ساتھ پگھلنے کے نتیجے میں نہ صرف یہاں کے آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں بلکہ اسکے اثرات یہاں کی زرعی پیداوار اور اقتصادیات پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 1972سے اب تک وادی میں پانی کی قلت کے نتیجے میں تقریباً 1200مربع کلومیٹر زرعی زمین کو میوہ باغات میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی حدت یا موسمی تغیرات کا معاملہ ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن اسکے باوجود ہر خطے میں اس مسئلے کی مقامی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔عام طور سے گلیشئروں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی کے کلیدی اسباب میں اور باتوں کے علاوہ ماحولیاتی کثافت میں اضافہ اور جنگلات کے حجم میں کمی قرار دیئے جاتے ہیں۔ ماہری

کوروناکا قہراور حکومتی انتظامات ! | طوفان جب تھما نہیں تو لاپرواہ کیوں بنیں

 کورونا متاثرین کے حوالے سے مقامی اور ملکی سطح پر جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں،وہ پریشان کن ہی نہیں بلکہ نیندیں اچٹ دینے والے ہیں۔گزشتہ روز جموںوکشمیر میں 1700افراد کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی ۔اسی طرح آج جو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کورونا اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیں،وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔مذکورہ وزارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشما ر کے مطابق ملک میں کورونا اموات کی تعداد بڑھ کر79ہزارہوگئی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی تعداد تقریباً48لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً95ہزارافراد ملک میں کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ گوکہ مقامی اور ملکی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور معاملات کنٹرول میں ہیں لیکن اعدادوشمار کا باریک بینی سے تجزیہ کیاجائے تو یقینی طور پر سب ک

بجلی کی آنکھ مچولی

اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوجاتے ہیں تاہم اس بار چونکہ سیکریٹریٹ کے بیشتر دفاتر گرمیوں میں بھی کووڈ انیس کی وجہ سے جموں میں کھلے رہے جبکہ بیشتر بیروکریٹ اور لیفٹنٹ گورنر سے لیکر اُن کے مشیر بھی جموں آتے جاتے رہتے ہیں تو یہ اُمید کی جارہی تھی کہ شاید اس بار جموں باسیوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے نجات مل جائے گی لیکن یہ اُمیدیں بھر نہ آئیں اور فی الوقت بجلی کٹوتی اپنی انتہا پر ہے۔جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ عالم ہے کہ اکثرو بیشتر گرمی کی وجہ سے بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال رہتے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی

قبضہ چُھڑانے کی مہم

 گزشتہ چند مہینوں سے جموں شہر اور اس کے مضافاتی اضلاع میں سرکاری اور جنگلاتی اراضی سے قبضہ چھڑانے کے نام پر ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے تحت نہ صرف انہدامی مہم عمل میں لاکر مکینوںکو بے خانماں کیا جارہا ہے بلکہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں اندراجات کو ہذف بھی کیاجارہا ہے۔  انہدامی مہم اور سرکاری اراضی کی ’بازیابی‘ کا یہ سلسلہ اپنی نوعیت کا نہ کوئی پہلا واقعہ تھا اور نہ آخری ہوگا۔یہ مہم اب گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے اور شاید آگے بھی جاری رہے گی ۔سرکاری و جنگلاتی اراضی پر ناجائز قابضین کو یقینی طور پر بے دخل کیاجا نا چاہئے اور اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتنا چاہئے ۔سرکاری یا جنگلاتی اراضی اقلیتی طبقہ نے ہڑپ کر لی ہو یا اکثریتی طبقہ نے ،دونوں قانون کی نظروں میں قصور وار ہیں اور اس کی سزا ایسے قابضین کو ضرور ملنی چاہئے تاہم جہاں سرکاری مش

منشیات اور کشمیر

پوری دنیا سمیت جموںوکشمیر میں کورونا وائرس کے خونی پنجوں نے جب نوع انسانی کو اپنے شکنجے میں کسا ہے ،ایسے جاں گسل حالات میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ حد سے زیادہ سرگرم ہوچکا ہے جو ان مخدوش اور نامساعد حالات کی آڑ میں انسانوں کو زہر بیچ کر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔بات منشیات کی  ۔گزشتہ چند ہفتوں سے جس طرح ہر روز جموںوکشمیر کے کم وبیش سبھی علاقوں سے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نشہ آور ادویات ،چرس ،بھنگ ،افیون برآمد کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں،اُن سے انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔ ایک وقت جب جموں وکشمیر ،خاص کر وادیٔ کشمیر، کے حوالے سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی تھی کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشناہے بلکہ یہاں تمبا کو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورت

شعبہ تعلیم مائل بہ تنزل کیوں؟

گزشتہ روز یعنی8ستمبر کو عالمی یوم خواندگی اس عزم کے ساتھ منایاگیا کہ سو فیصد شرح خواندگی کی حصولی عالمی سطح پر یقینی بنانے کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ پوری دنیا نے کل اُس وقت عالمی یوم خواندگی منایا جب پوری دنیا میں تعلیمی ادارے گزشتہ چھ ماہ سے بند پڑے ہوئے ہیں اور اول جماعت کے طلاب سے لیکر پی ایچ ڈی سکالر تک گھر بیٹھے آن لائن ایجوکیشن نظام سے استفادہ حاصل کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ویسے دیکھا جائے توکسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمر

2014سیلاب کے چھ سال

 2014کے تباہ کن سیلاب کے 6سال مکمل ہوچکے ہیں ۔گوکہ اس سیلاب کے بعد وزیراعظم کی جانب سے تعمیر نو پروگرام کے تحت 80ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیاگیاتاہم زمینی صورتحال مایوس کن ہے ۔تعمیر نو کا کام جو چھ سال قبل شروع کیاگیاتھا،تاحال مکمل نہیں ہوپایا ہے جبکہ 63پروجیکٹوں میں سے اب تک صرف18مکمل کئے گئے ہیں۔انتظامی سست روی کی انتہا یہ ہے کہ جہلم کی کھدائی کا پروجیکٹ بھی مکمل نہیں ہوپایا۔ حالیہ بارشوں کے بعد جب جہلم بپھر نے لگا تھا تو پوری وادی میں لوگ دہشت میں مبتلا ہوگئے تھے کیونکہ وہ ابھی2014کے تباہ کن سیلاب کو نہیںبھولے ہیں جب جہلم کے پانیوں نے بیشتر وادی کو اپنی لپیٹ لیکر بھاری پیمانے پر تباہی مچادی تھی۔2014سیلاب کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ حکومت نے کچھ سبق سیکھا ہوگا اور اب پیشگی اقدامات کئے جائیں گے تاہم جب جب گزشتہ دنوں دو دن کی بارشوں کے بعدپانی کی سطح جہلم میں بل

کورونا اور جموں…گھبرائیں نہیں بس سنبھل جائیں

صوبہ جموں خاص کر جموںشہر میں جس طرح گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کووڈ معاملات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،وہ واقعی تشویشناک ہے اور ایک بار پھر اس ناقابل تردید حقیقت کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے کہ کورونا ہمارے انسانی سماج میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔جموں شہر میں گزشتہ چارروز کے دو ران کم و بیش دو ہزار کورونا معاملات سامنے آئے ہیں اور مارچ سے شروع ہونے والے کووڈ بحران میں پہلی دفعہ گزشتہ تین روز سے جموں نے کشمیر کو ہلاکتوں اور کیسوں کے معاملات میں پچھاڑ دیاہے ۔گزشتہ ہفتہ تک عام تاثر یہی تھاکہ کورونا کشمیر میں بری طرح پھیل چکا ہے جبکہ جموں قدرے محفوظ ہے کیونکہ کیس زیادہ نہیں آرہے تھے ۔عوامی تاثر یہ تھا کہ شاید کشمیر میںلاپرواہی زیادہ ہورہی ہے ،اسی لئے وہاں کورونا پھیل رہا ہے ۔ہمارے سیول سیکریٹریٹ میں بھی بیروکریٹوں کی سوچ اس سے کچھ مختلف نہیں تھی اور عملی طور کشمیری لوگوں پر لاپرواہی کے طعنے ک

اخلاقی انحطاط… کشمیری سماج کا پوسٹ مارٹم ناگزیر

 اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے جائ

سرحدی آبادی … نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن

جموںوکشمیرمیں دراندازی پر قابو پانے کیلئے سرحدوں پر فوج کی جانب سے کی گئی تار بندی کی وجہ سے2.5لاکھ کنال اراضی اور ہزاروں مکانات تار بندی کے اُس پار رہ گئے تاہم آج تک اراضی اور مکان مالکان کو کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیاگیا۔ان باتوں کا انکشاف وزارت داخلہ نے    حق اطلاعات قانون کے تحت دائر ایک عرضی کے جواب میں کیا ہے ۔اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع پونچھ ہے ،جہاں ایک لاکھ43ہزار643کنال اراضی سرحد پر تار بندی کی وجہ سے حصار کے اُس پار رہ گئی ہے اور نتیجہ کے طور یہ اراضی بنجر بن چکی ہے ۔کٹھوعہ سے لیکر کپوارہ اور اوڑی سے لیکر پونچھ تک پھیلی کنٹرول لائن حقیقی معنوں میں انسانی آبادی کیلئے وبال جان بن چکی ہے کیونکہ جہاں حد متارکہ پر کی گئی باڑ بندی کی وجہ سے لاکھوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی اس باڑ بندی کی زد میں آکر لوگوں کی دسترس سے باہر ہوچکی ہے وہیں ہزاروں مکانات بھی ایسے ہی

کووڈ 19-اور عوامی لاپر واہی

ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارت میں اگر فیس ماسک اور سماجی فاصلوں کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمدہوتا ہے تویکم دسمبر تک کم از کم 2لاکھ اموات کو روکا جاسکتا ہے۔امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی چیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ اِویلی ویشن کی ایک سروے میں کہاگیا ہے کہ بھارت کے پاس اموات کم کرنے کا موقعہ ہے ۔مذکورہ تحقیق کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے وضع کردہ رہنماخطوط پر مکمل طور عملدرآمد کیاجاتا ہے تو معاملات مختلف ہوسکتے ہیں ورنہ صورتحال گھمبیر ہوسکتی ہے کیونکہ بھارت میں ابھی بھی کووڈ 19- عروج پر پہنچنا باقی ہے اور ملک کی ایک بڑی آبادی کو اس وائرس سے خطرہ لاحق ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر لاک ڈائون قدغنوں میں یونہی نرمی برتنے کا سلسلہ جاری رہا اور لوگوں کی جانب سے فیس ماسک استعمال کرنے کا رجحان بھی موجودہ ہیت میں ہی رہا تو بھارت میں یکم دسمبر تک قریب پانچ لاکھ اموات ہوسکتی ہیں او

کورونا اور معاشی انحطاط!

گزشتہ روز سرکاری سطح پر ملکی معیشت کے حوالے سے جو اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیںوہ قطعی حوصلہ بخش نہیں ہیں۔اپریل تا جون سہ ماہی کیلئے جاری کئے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً24فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔یہ ملکی معیشت میں آزادی کے بعد سب سے بدترین گراوٹ تصور کی جارہی ہے ۔ جی ڈی پی اعدادوشمار کے مطابق اس عرصہ کے دوران نہ صرف سرمایہ کاری مکمل طور پر منجمد ہوچکی ہے بلکہ آمدنی کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے کھپت میں بھی بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے ۔اس عرصہ کے دوران مجموعی سرمایہ کاری میں پچاس فیصد کمی درج کی گئی ہے جبکہ کھپت میں بھی 25فیصد کمی واقع ہوئی تاہم سرکاری کھپت میں اضافہ ہوا ہے ۔  یہ اعدادوشمار آنے والے مشکل ترین ایام کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔کہنے کو تو لوگ بہت کچھ کہیں گے لیکن ملک کی شرح نمو میں یہ تشویشناک گراوٹ دراصل کورونا وائرس کی دین ہے اور

سرحدی کشیدگی …جموں و کشمیر کے لوگ توپ کی رسد کیوں ؟

 منقسم جموںوکشمیر میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر عملی طورجنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں ماہ کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحدکی  دونوں جانب کم ازکم10کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔ ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب سرحدوں پر لگی توپیں آگ اُگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک وقفہ وقفہ سے سرحدی گولہ باری جاری ہے ۔

شاہرا ئوں پر موت کا رقص کب تک ؟

محکمہ ٹریفک کے مطابق گذشتہ 4برسوں میں جموںوکشمیرکے مختلف علاقوں میں سڑک حادثات کے دوران 4ہزارسے زائد شہری لقمۂ اجل بن گئے ہیں ۔ دیگر شاہرائوں کے ساتھ ساتھ سرینگرجموںقومی شاہراہ پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے خونین حادثات نے ایک بار پھراس شاہراہ کی تعمیرو و تجدید کیلئے ایک مؤثر اور تخلیقی منصوبے کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے۔ دنیا بھر میں شاہرائوں کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک اہم ترین شاہراہ، جو اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑنے کا واحدزیر استعمال زمینی ذریعہ بھی ہے، دردناک اموات کی علامت بن کررہ گئی ہے۔یہ حادثے اور ان میں ہوئی اموات دراصل دہائیوں سے اس موت کی شاہراہ پر ہونے والے لاتعداد حادثات اور ہزاروں اموات کا تسلسل ہے۔المیہ بھی یہی ہے کہ مسلسل حادثات اور اموات کے باوجود اب تک کسی بھی حکومت نے سرینگر۔ جموںقومی شاہراہ کی تجدید نو کے

مغل شاہراہ…ہو نگاہ ِ کرم !

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی والی انتظامی کونسل نے گزشتہ روز جموں صوبہ کے پیر پنچال خطہ کو وادی کشمیر سے جوڑنے والی تاریخی مغل شاہراہ کے بہتر رکھ رکھائو اور میکڈمائزیشن کیلئے47.41کروڑ روپے منظور کئے اور تجدید ومرمت کا یہ کام 84.11کلومیٹر پر کیاجائے گا۔انتظامی کونسل کا یہ فیصلہ بر وقت اور قابل ستائش ہے کیونکہ مغل روڈ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہوچکی ہے اور بفلیاز سے شوپیاں تک اس شاہراہ پر سفر اگر چہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور بن چکا ہے کیونکہ اول تو سرما کے چھ ماہ دس فٹ برف تلے رہنے کی وجہ سے سارا تارکول اکھڑ چکا ہے اور دوم پسیاں گرآنے کی وجہ سے شاہراہ درجنوں مقامات پر انتہائی تنگ ہوچکی ہے جبکہ فی الوقت شاہراہ کی یہ صورتحال ہے کہ ہیرپورہ سے لیکر بفلیاز تک آپ کو کہیں کہیں ہی تارکول نظر آئے گا اور بیشتر حصہ میں آپ کا استقبال صرف خندقوں سے ہی ہوگا۔ایسے میں جو تقریباً ساڑھے سنتالیس

تازہ ترین