سمارٹ سٹی بنے نہ بنے | صاف ستھرا شہر تو بنائیں

گزشتہ دنوں جب قومی سطح پر سرینگرکو صفائی کے حوالے سے اعزاز سے نوازا گیا تو اس کا سہرا لینے کیلئے حکام کی قطاریں لگ گئیں اور سمارٹ سٹی لمیٹیڈسے جڑے لوگوں سے لیکر ضلع انتظامیہ سرینگر اور سرینگرمیونسپل کارپوریشن تک سبھی سینہ ٹھونک کر یہ کہنے لگے کہ یہ سب ان کی کاوشوں کی بدولت ہی ممکن ہوپا یا۔یہ تو بات تھی کاغذی گھوڑے دوڑا کر قومی سطح پر اعزاز پانے کی ،لیکن جب ہم زمینی سطح پر صورتحال کاجائزہ لیتے ہیں تو سرینگر شہر میں کچھ سمارٹ نہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ شہر کی حالت پہلے سے بد تر ہوچکی ہے تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ نہ شہر کی فیس لفٹنگ ہوپائی ہے اور نہ ہی غلاظت شہر سے جانے کا نام لے رہی ہے۔ان حالات میں کوئی نہیں جانتا کہ سرینگر کب سمارٹ شہر بن جائے گا لیکن کم از کم ہرایک شہری کی یہ خواہش ہے کہ سرینگرکا رہنے رہنے کے قابل بن جائے تاہم اس کیلئے بھی حقیقی معنوں میں کچھ بہت بدلنا ناگزیر ہے۔ وہ ب

خودروزگاری کیلئے موافق ماحول تیار کریں!

  جموںوکشمیر میں بے روزگاری کابحران سنگین ترہوتا جارہاہے ۔بے روزگاروںکی فوج میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔جبکہ دوسری جانب ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارانوجوان سرکاری سیکٹرکے علاوہ دائیںبائیںکہیںدیکھنے کو تیارہی نہیں ہے ۔معاشی سرگرمیوں کا کوئی ایک شعبہ اتنا بڑا نہیں ہو سکتا جوہمارے تمام نوجوانوں کو ایڈجسٹ کر سکے۔ سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والی حکومت ہوتی ہے تاہم وہ بھی ایک حد سے زیادہ لوگوں کو روزگار نہیں دے سکتی ہے۔اب حالات بدل رہے ہیں۔ حکومت کے محکموں میں بھی روزگارکے مواقع بتدریج سکڑتے چلے جارہے ہیں۔ کاروبار کی معمول کی شکلوں میںبھی مقابلہ زیادہ سے زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔نئے آنے والوں کیلئے پیسے اور مارکیٹ کے مسائل کا سامنا کرنا آسان نہیں ہے۔ اس سب کا خالص اثر یہ ہے کہ اچھی زندگی گزارنے کے مواقع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیںاور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ روزگار کے م

مہنگائی کی مار اور غریب لاچار!

گوکہ کورونا وائرس کی تیسری لہر تقریباً دم توڑ چکی ہے تاہم عوام کے مشکلات ختم ہونے کا نام نہیںلے رہے ہیں ۔اس وبائی مرض نے دنیا کا معاشی نظام تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے اور یقینی طور پر عام آدمی کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگئی ہے ۔اس طبی بحران نے انسان کو زیر کرہی دیاتھا لیکن سب سے زیادہ مسئلہ جو اس وقت انسانی آبادی کو درپیش ہے ،وہ مہنگائی کا ہے اور روز مرہ زندگی کی بیشتر چیزیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہونے لگی ہیں۔ہمارے ملک بھارت میںمہنگائی کا جن بوتل سے کچھ اس طرح باہر آیا ہے کہ اب مہنگائی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آرہا ہے اور اب تو حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑنا شروع ہوچکے ہیں۔ضروری اشیاء ، جن کے بغیر کوئی زندہ نہیں رہ سکتا، اب وبائی مرض سے پہلے کی نسبت کئی گنا مہنگی ہوچکی ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کا رجحان کوئی معمولی نہیں ہے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمت

متعدی امرا ض کیلئے مخصوص ہسپتال | حکومتی منصوبہ لائق تحسین ،عملی اقدامات کئے جائیں

کووڈ 19 معاملات میں کمی کے آنے کے نتیجہ میں ڈی آر ڈی او کی جانب سے ہندوستان بھر میں کووڈ 19 اسپتالوں سے دستبرداری کے بعدجموں و کشمیر حکومت نے کھنموہ سرینگرمیں 500 بستروں کی سہولت والے ایمرجنسی ہسپتال کو اپنی تحویل میں لینے اور اسے ایک مکمل متعدی امراض کے ہسپتال میں تبدیل کرنے کا فیصلہ لیاہے جو جموںوکشمیر یونین ٹریٹری میں اس نوعیت کا پہلا ہسپتال ہوگا۔ اس ضمن میں انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر میں گزشتہ شمار ے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کے اعلیٰ حکام کا حوالہ دیکر یہ خوش خبری دی گئی ہے ۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں کام آخری مراحل میں ہے اور اگر سب کچھ حسب پروگرام چلا تو آنے والے دنوں میں جموںوکشمیر کے پاس متعدی امراض سے نمٹنے والا اپنا پہلا ہسپتال ہوگا۔چونکہ جموںوکشمیر ،خاص کر کشمیر میں متعدد متعدی امراض وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں تو ایسے می

خونی نالہ ٹنل حادثہ

جموں سرینگر قومی شاہراہ کی توسیع کے دوران خونی نالہ کے مقام پر زیر تعمیر ٹنل کا ایک حصہ ڈھہ جانے کے نتیجہ میں10مزدوروںکی ہلاکت سے بالآخر ارباب اقتدار جاگ چکے ہیں اور انہوںنے پسیوں کے گر نے کی وجوہات اور ان کے تدارک کے اقدامات کی تحقیقات کیلئے ماہرین پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو دس روز کے اندر حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی ۔گوکہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم کیاجاناچاہئے تاہم افسوس کی بات ہے کہ یہاں حکمران حادثات کے بعد ہی جاگ جاتے ہیں اور انسانی جانوں کے اتلاف سے قبل انسانی المیوں کو روکنے کیلئے پیشگی اقدامات نہیںکئے جاتے ہیں۔کشمیر عظمیٰ نہ صرف خصوصی تحقیقی رپورٹوں بلکہ مختلف اداریو ں کے ذریعے گزشتہ تین سال سے مسلسل یہ کہہ رہا تھاکہ قومی شاہراہ کی تعمیر کیلئے پہاڑوں کی کھدائی بے ہنگم اور غیر سائنسی طریقوں سے کی جارہی ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے ۔ہ

ماحولیاتی آلودگی کا تدارک ناگزیر

مقامی اور عالمی سطح پر مسلسل جنگلات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ دنوں ہی ایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات پر مفصل روشنی ڈالی۔ زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرہ ارض پر پندرہ ملین انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔انسان نے ترقی کے لئے قدرتی جنگلات کا کافی بڑا حصہ صاف کردیا ہے۔ مچھلیوں کے ذخیرہ کا تین چوتھائی حصہ ختم کرڈالا ہے ،پانی کے نصف ذخائر کو آلودہ کردیا ہے اور اس قدر زیادہ زہریلی گیس فضاء میں خارج کی ہیں جو زمین کو آنے والی کئی صدیوں تک گرم رکھیں

زچگی بذریعہ جراحی

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ بالآخر جراحی کے ذریعے زچگی کے بڑھتے رجحان پر بیدار ہوچکی ہے اور نہ صرف اس رجحان پر قابو پانے کی ہدایت دی گئی ہے بلکہ جراحی کے ذریعے زچگی کے معاملات کا آڈٹ کرنے کیلئے بھی کہاگیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS)-5 کے مطابق جموں و کشمیرسیزرین سیکشن (سی-سیکشن) پیدائش کے معاملہ میں تمام ہندوستانی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دوسرے نمبر پررہا ہے۔مذکورہ سروے کے مطابق جموں و کشمیرمیں42.7% زچگیاں جراحی کے ذریعے عمل میںلائی جاتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ 100میں سے قریب43زچگیاں جراحی کے ذریعے ہوتی ہیں۔جب ہم نجی صحت کے اداروں میںزچگی کے اعدادوشمار دیکھتے ہیں تو  صورتحال جموں و کشمیر کیلئے بدترین ہے کیونکہ سروے میں کہاگیا ہے کہ جموں وکشمیر کے نجی ہسپت

نوجوانوں کی توانائی کو صحیح سمت دیں

  آبادیاتی پروفائل ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کا تناسب نمایاں ہے اورنوجوانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً وضع کردہ پالیسیوں میں نوجوانوں کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔یہ اسی احساس کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں پر مبنی مختلف سکیموں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ہم اکثر نوجوانوں کو ان سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے کھیلوں میں شروع کیے جانے والے اقدامات کو دیکھتے ہیں جو ان کی مشکلات کو دور کرتی ہیں۔صرف کھیل ہی نہیں، حکومت روزگار کے حوالے سے جو بھی پالیسیاں بناتی ہے وہ دراصل نوجوانوں کے لئے ہوتی ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی میں ابھرتے ہوئے رجحانات کا بھی خیال رکھا گیا ہے تاکہ ہمارے نوجوان ان رجحانات سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقے سے لیس ہوں۔مجموعی طور پر حکومت آبادی کے اس حصے کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتی ہے

خطوں اور ذیلی خطوں کا جوڑنا ناگزیر

 جموں وکشمیر مختلف جغرافیائی زونوں کا علاقائی مجموعہ ہے اور یہ زون زیادہ تر دشوار گزار علاقوں سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں۔جب موسم خراب ہوتا ہے تو یہ مشکل ہمیں شدید ترین مشکل سے دوچار کرتی ہے۔ لوگ بارش یا برف باری کی صورت میں ان علاقوں کا سفر نہیں کر سکتے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو اب ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات بھی مستقل ہی ہیں۔ خاص طوروہ لوگ مسلسل اثرات سے دوچار ہیں جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ اب جب کہ سردیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے اور چند روز قبل سال کی پہلی برف باری بھی ہوئی جس کے نتیجہ میں جموں وکشمیر یوٹی کے کئی خطے ہنوز منقطع ہیںاور کئی خطوں و ذیلی خطوں کا سڑک رابطہ بحال نہیںہوپایا ہے جس کے نتیجہ میںان خطوں میںعوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ ایسے حالات میں پھر ایک بار وہی سوال جواب طلب ہے جو اب تک سینکڑوں بار اجاگر کیاگیا ہے۔ اس تکنیکی لحاظ سے ترقی ی

غیر معیاری اور ملاوٹی خوراک

 کشمیرکی ہر سڑک پرتلے آلو ، مٹھائیاں اور دیگر پکے ہوئے غذائی اجناس فروخت کرنے والے خوانچہ فروشوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اور جلدی میں سفر کرنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعد اپنی بھوک مٹانے کیلئے انہی خوانچہ فروشوں کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔جہاں سڑکوں اور بازاروں میں ایسی ہی چھاپڑیوں پر غذائی اجناس خرید کرکھانے والے عام لوگوں کی شکایت ہے کہ سڑک پر ملنے والے غذائی اجناس غیر معیاری اور ملاوٹی ہوتے ہیں وہیں بڑے نام رکھنے والے ریستورانوں اور بیکری دکانوں کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور اب ڈبہ بند خوراک نے یہ تمیز ہی ختم کردی ہے ۔چھاپڑی فروشوں، دکانوں اور ریستورانوں میں لوگوں کو فروخت کئے جانے والے غذا کی وجہ سے صارفین دست ، بخار اور دیگر بیماریوں کے شکار ہوتے ہیںجبکہ Processed Foodبنانے والے اور چھاپڑیوں اور دکانوں پر غذائی اجناس فروخت ک

تباہی نہیں، بھلائی پر توجہ دیں

  ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا معاشی نظام تلپٹ ہوچکا ہے اور عالمی معیشت کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی اچھے تخمینے سامنے نہیں آرہے ہیں ،یہ پریشان کن انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں نسل انسانی کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عالمی دفاعی بجٹ مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔سال رفتہ میں دفاعی ساز و سامان کی خریداری میںگزشتہ دہائی کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس صرفہ میں بیک وقت3.6فیصد اضافہ ہوا ہے ۔حیرانگی کی با ت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑیں ،اب تو ہمارا ملک بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے اور امریکہ وچین کے بعد بھارت دنیا کا ایسا تیسرا ملک بن چکا ہے جہاں دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکہ میں 2019کے مقابلے میں3.6فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ 1917بلین ڈالر تک پہنچ گیااور یہ 2010کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔اسی طرح چی

دیہی ترقی بہتر شہری زندگی کیلئے لازمی

چونکہ اب شہر کاری کا رجحان بدستور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اور دیہات سے قصبوں اور شہر کی جانب ہجرت کا سلسلہ رکنے کا نام نہیںلے رہا ہے تو شہری کاری کے اس جاریہ رجحان کے تحت ہم یہ غلط تصور کر بیٹھے ہیں کہ شہر ہی ترقی کے انجن کو چلاتے ہیں۔تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کے پالیسی سازاور سیاسی ادارے بھی زیادہ سے زیادہ شہر بنانے یا پہلے سے قائم کئے گئے شہروں کو وسعت دینے کے جنون میں مبتلا ہیں جن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے اس حصے میں زیادہ تر خدمات اور سہولیات شہروں تک ہی محدودہیں اور پھر ہم یہ واویلا مچاتے ہیں کہ لوگ شہروں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ جب دیہات میں خدمات اور سہولیات میسر نہ ہوں تو لوگ قصبوں اور شہروں کی جانب رخ کریں گے کیونکہ وہاں معیار حیات اور خدمات و سہولیات دیہات کی نسبت بہتر ہوتی ہیں اور وہاں نہ صرف انہیں بچوں کو اچھی تعلیم نصیب ہوتی ہے بلکہ صحت کے حوالے سے

مابعد کووڈ عالمی معیشی بحران

 پچھلے دو سال ہم تقریباً پوری طرح سے وبائی مرض کی زد میں آ چکے تھے۔ ہماری نسل نے اپنا بدترین وقت دیکھا جہاں ہر جگہ لوگوں کو خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ہم نے بڑی تعداد میں لوگوں کے مرنے، کاروبار راتوں رات ختم ہونے اور چند ہی دنوں میں ملک کے بعد ملک میں ویرانی کے خوفناک مناظر دیکھے۔ یہ خوفناک وقت تھے اور اس کا اثر ابھی باقی ہے۔اس وبائی مرض نے کاروبار اور حکمرانی کے عالمی نظام میں جو تباہی لائی ہے وہ ایسی چیز ہے جس کا ابھی پوری طرح سے ادراک ہونا باقی ہے۔ درحقیقت جو تجزیہ اب ہو رہا ہے وہ ہمیں ایک انتہائی افسوسناک کہانی سناتا ہے۔دنیا ایک کثیر الجہتی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے اگر کچھ فوری اور ہنگامی نوعیت کے اصلاحی اقدامات نہیںکئے جاتے ہیں۔ وبائی مرض کے دوران ہم نے لاکھوں میں ملازمتوں کا نقصان دیکھا ہے۔ ہم نے اعلیٰ، درمیانے اور نچلے درجے کے کاروبار بند ہوتے ہوئے دیکھے یا نمایاں کمی

تعلیم یافتہ نوجوان اور بیروزگاری

آج کے نوجوانوں کے لئے سب سے اہم چیز کیا ہے؟۔ اس سوال کے جواب میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتاکہ آج نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت روزگار ہے کیونکہ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے ہی ہم قوم کو آگے لیجاسکتے ہیں۔جہاں تک روزگار کی فراہمی کا تعلق ہے تو یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور جس طرح اس وقت جموںوکشمیر میں بیروزگاری کی شرح ملکی سطح پر سب سے زیادہ ہے ،ایسے میں ہر تعلیم یافتہ نوجوان کیلئے سرکاری سیکٹر میں روزگار کا بندوبست کرنا ممکن ہے ۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر نوجوانوںکو باروزگار کیسے بنایا جائے۔جواب مختصراً یہ ہے کہ ہمیں روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔جو بھی حکومت نوجوانوں کے اس مطالبے پر لبیک کہے گی، وہ بہتر طرز حکمرانی کی مثال پیدا کرے گی۔اگر اس پس منظر میں دیکھا جائے توجموںوکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہاکاجموں و کشمیر مشترکہ مسابقتی امتحانات (جے کے سی سی ای) کی

گھریلو تشدد …سفاکانہ طرز عمل کب ختم ہوگا؟

 گزشتہ روز ایک او ر خاتون خانہ مبینہ طور گھریلو تشدد کا شکا ر ہوکر زندگی کی جنگ ہار بیٹھی جبکہ گزشتہ چند ایک ماہ میں ایسے کئی معاملات سامنے آئے جن میں خواتین کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایاگیا تھا ۔اخباری رپورٹوںکے مطابق سرینگر کے صدر ہسپتال میں ہفتے میں اوسطاً ایک خاتون کو داخل کیاجاتا ہے جو گھریلو تشدد کی نذر ہوئی ہوتی ہے۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو آگ سے جھلسا دیتی ہیں اور اس وقت بھی ہسپتال کے برن وارڈ میں کئی خواتین جھلس جانے کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ماہرین سماجیات کی جانب سے حال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کی شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات دہیج ،سسرال والوں کی مداخلت ،غلط فہمی ،شوہر کی طرف سے زیادتیاں، بچیوں کو جنم دینا وغی

ناگہانی آفات متاثرین

جدید دور میں سب سے اہم ادارہ ، در حقیقت تمام اداروں کی ماں ، ریاست ہی ہے۔ اس میں اجتماعیت کے تمام افعال کا احاطہ کیا گیا ہے اور جدید دور کے بین الاقوامی نظام کی بنیاد بنتی ہے۔ ریاست کا ایک اہم کام معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور دستیاب وسائل کو منصفانہ اور موثر انداز میں تقسیم کرنا ہے۔ جوریاست یہ کام کرتی ہے وہ کامیاب کہلاتی ہے اور جویہ کام کرنے میں ناکام رہتی ہے ،وہ لوگوں کی نظروں میں جواز کھو دیتی ہے۔ ایک ہی کام کی قدرتی اور منطقی توسیع ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے مالی یا دوسرے بحران میں الجھے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کی ریاستیں معاشرے کے ان طبقوں کے لئے پیکیجوں اورسکیموں کا اعلان کرتی ہیں جنہیں انسا ن کی لائی ہوئی یا قدرتی تباہی کا سامنا کرنا پڑاہو۔ ایسے تمام حالات میں ،چاہئے وہ طوفان ہو، زلزلہ ہو ، سیلاب ہو یا آگ ، لوگ توقع کرتے ہیں کہ ریا

مذہبی مقامات کی بحالی کا اعلان مستحسن

 جموں وکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اتوار کو اننت ناگ کا دورہ کیا اور مٹن کے قدیم مارتنڈسوریہ مندر میں نوگراہ آستھا منگلم پوجا میں حصہ لیا۔ اس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے ثقافتی اور روحانی اہمیت کے حامل قدیم مقامات کی حفاظت اور ترقی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر متنوع مذہبی اور ثقافتی اثرات کا گھر ہے اور ملک میں علم کا مرکز ہے اورہم جموںوکشمیر کے تاریخی روحانی مقامات کو متحرک مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں جو ہمیں نیکی کی راہ پر گامزن کریں گے اور اِس خوبصورت سر زمین کو اَمن ، خوشی اور خوشحالی سے نوازیں گے۔جہاں تک مارتنڈ سوریہ مندر کا تعلق ہے تو آٹھویں صدی کایہ مندر ہندوستان میںسوریہ منادر میں سب سے قدیم ہے اور انمول قدیم روحانی ورثے کی علامت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کا اس قدیم اور تاریخی مندر کا دورہ اور وہاں پو

ترقیاتی عمل کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں

 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی اقتصادی اور ہمہ گیر ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے مختلف تاریخی اقدامات  کئے ہیں۔ماضی میں مناسب بنیادی ڈھانچے کی کمی کو جموں و کشمیر کی معیشت کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پچھلے تین برسوں میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے اہم اقدامات کیے گئے جن کے بروقت نفاذ کے لئے منظوریوں پر فیصلوں کو تیز کیا گیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ترقی کی رفتار میں گزشتہ دو ایک برسوں میں تیزی آئی ہے اور جموںوکشمیر میں زندگی کے ہر شعبہ میں ہمہ گیر ترقی یقینی بنانے کیلئے تمام سیکٹروں میں زر کثیر خرچ کیاجارہا ہے ۔ترقی کی رفتار میں کس حد تک تیزی آئی ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں50ہزار7سو 26ترقیاتی پروجیکٹ مکمل کئے گئے جبکہ2018میں یہ تعداد فقط 9ہزار2سو 29ت

صنعتی انقلاب اور کشمیر | خانہ پُری سے آگے بڑھنے کی ضرورت

دنیا کی کوئی بھی معیشت صرف بنیادی شعبے پرنہیں چل سکتی۔ حقیقت میں زراعت سے صنعتوں کی طرف جھکائونے دنیا کے ترقی یافتہ حصوں میں معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی زرعی شعبے سے صنعتی شعبہ کی جانب سفر کی ضرورت کو بہت پہلے محسوس کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے صنعتوں کے فروغ میں مدد کے لئے بہت سارے پیکیج مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ان مثبت اقدامات کا صنعتوں کیلئے مقصد انفراسٹرکچر ، پیداوار اور مارکیٹنگ سے منسلک مشکلات پر قابو پانا تھا۔بلا شبہ نتائج اب تک حیرت انگیز رہے ہیں۔ پورے ملک میں وہ ریاستیں جو مضبوط صنعتی بنیادبنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، اُن کی معیشت اُن ریاستوں سے کافی بہتر ہے جو صنعتی سیکٹر میں پیچھے رہی ہیں۔بدقسمتی سے جموں وکشمیر خاص کر کشمیر صوبہ بھی اس زمرے میں پڑتا ہے جہاں صنعتی شعبہ آج تک پیر نہیں جما سکا ہے اور لاکھ کوششوں و خواہشات کے باوجود یہاں صن

منشیات کے طوفان سے نسلِ نو کو بچائیں!

  حال ہی میں حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں 6لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں جو اس کی ایک کروڑ 36لاکھ 50ہزار آبادی کا تقریباً 4.6فیصد ہے اور منشیات کا استعمال کرنے والوں میں 90فیصد 17سے35سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں گذشتہ 6برسوں کے دوران ہیروئن اور برائون شوگر کا نشہ کرنے والوں کی تعداد میں 85فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ہر دن پولیس کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ کشمیر سے کٹھوعہ تک پورا جموںوکشمیر اس وباء کی لپیٹ میں آچکاہے ۔گو پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات مخالف مہم میں سرگرم ہے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ جموںوکشمیر منشیات کے خریدو فروخت اور استعمال کی پسندیدہ جگہ بن چکا ہے۔ جہاں تک ہماری وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل ط

تازہ ترین