تازہ ترین

مہنگائی،عوام اور انتظامیہ

بلا شبہ جموں و کشمیر کے لوگ جہاں ایک طویل عرصہ سے شدید مصائب ومشکلات سے دوچار ہیںوہیں اِشیائے خوردنی اور دیگر ضروری چیزوں کی مہنگائی نے غریب طبقےکی زندگی  تلپٹ کرکے رکھ دی ہے۔ دنیا بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی کورونا ئی وبا نے یہاں کی بچی کھچی معاشی اور اقتصادی حالت کو بُری طرح سے متاثر کرکے رکھ دیا۔ جموں و کشمیر میں عوام جہاں پہلے ہی بے روزگاری اور بے کار ی سے بد حال ہوچکے ہیں وہیں دفعہ370 کو ہٹانےاور تسلسل کے ساتھ بندشیں لاگو رہنےاور پھر لاک ڈاون سے یہاں  کی بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہےاور یہاں کی معاشی اور اقتصادی حالت بالکل ڈانواں ڈول ہوگئی ہے۔جبکہ کمر توڑ مہنگائی نے جموں وکشمیر کے غریب اور متواسط طبقے کے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں ،اُن کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول نہ ہونے کے برابر ہوگیا جس کے باعث اُن تمام تر سکون بھی غارت ہوگیا ہے۔ موجودہ دور میں جموں و کشمی

مرحوم نذیر احمد قادری کی علمی و ادبی خدمات

قُدرت نے وادی ٔکشمیر کو بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے۔جہاں ایک طرف یہاں کے فطری مناظردل ونگاہ کو مسرور کرتے ہیں وہیں دوسری جانب یہ خطہ علم و ادب کی ایک مستحکم تاریخ رکھتا ہے۔ کشمیر کی زرخیز مٹی نے بلند پایہ دانشوروں، مبلغوں، عالموں اور ادیبوں اور شاعروں کو جنم دیا ہے‘ جن میں عاشقِ علم وادب اور ہردلعزیزاستادمرحوم نذیر احمد قادری صاحب کا نام بھی شامل ہے۔ قادری صاحب شریف النفس، خوش مزاج، اور نرم گفتار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی ولادت ۲۷ اپریل ۱۹۴۴؁ء میں نعل بند پورہ صفا کدل سرینگر میں ہوئی۔ والد کا نام محمد امین قادری اور والدہ کا نام عائشہ قادری تھا۔ آپ کے والد ماجد ایک روحانی بزرگ تھے ۔اُن کا میل مِلاپ زیادہ تر مختلف علاقوں کے مُریدوں کے ساتھ رہتا تھا۔  ۱۹۴۸؁ء میں آپ کے والد ماجد محمد امین قادری نے بحکم مرشد صفا کدل سرینگر سے ہجرت کی اور علاقۂ بُرن پٹن میں سکونت اختیار کی۔

ضیاء الحق مینیجر

انسان کے وہ اوصاف جو اسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتے ہیں ان میںخدا ترسی، حق شناسی ، ایمانداری، وفاداری اور احساس ذمہ داری کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔یہ خوبیاں کسی کی میراث نہیں ہوتیں۔ ان اوصاف سے متصف ہونے کے لئے نہ عمرکی کوئی قید ہے اورنہ ہی خاندانی عظمت درکار ہے۔ اللہ رب العزت جسے چاہتاہے؛ ان  صفات سے نوازدیتاہے۔مجھے 2006سے 2010ء تک ماہنامہ ’ماہ نور‘دہلی کی ادارت کے فرائض انجام دینے کاموقع ملا۔ دفتر میں ضیاء الحق نامی ایک کم سن لڑکے کو’ آفس بوائے‘ کی حیثیت سے رکھا گیا تھا، اس کے چہرے پرپھیلی معصومیت  اور اداسی اس کے یتیم ہونے کااعلان کرتی تھی ۔غربت و افلاس کے سبب اس کی صحت اپنے فطری نشو ونما سے محروم تھی، منحنی بدن، سیاہ گھنگھریلے بال، سانولارنگ، کشادہ پیشانی، آنکھوں میں نورانی چمک، قدعمرکے اعتبارسے نسبتاً چھوٹالیکن ہمت اور حوصلہ جوان، چہرے پر فطری

مرغوبؔ بانہالی

مرغوب بانہالی صاحب کشمیرکے ایک ایسے صاحب علم و صاحب قلم محقق و شاعر تھے،جنہوں نے دورِ غلامی میں آنکھیں کھولی اور اپنی ابتدائی تعلیم بھی اسی دور میں شروع کی۔ 1937ء میں پیدا ہوئے اور 1954ء میں میٹرک کا امتحان پاس کرکے محکمہ تعلیم میں ایک استاد کی حیثیت سے تعینات کئے گئے۔ پھر پرائیویٹ سطح پر رفتہ رفتہ پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور کشمیر یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ اور اسی دانش گاہ سے اپنی سرکاری خدمات انجام دینے کے بعد 1997ء میں سبکدوش ہوئے۔ اور رمضان کے اس متبرک مہینے میں رحمت ِحق ہوئے۔  یوں تو اس دور میں ڈگری یافتہ مسلمان فضلا ء کی کمی نہیں ہے۔اور ملک کی آزادی کے بعد ہزاروں لوگوں نے اعلیٰ قسم کی ڈگریاں حاصل کیں،لیکن بد قسمتی سے اکثر فضلا ء اپنے دینی عقائد اور اعمال پر کاربند نہ رہ سکے۔ باقی چال ڈھال اور لباس کے معاملے میں اگر اسلامی میٹر لگا کر تجزیہ کیا جائے تو

پیشہ ور سربراہ بے لوث افسر

  اس حقیقت سے بیشتر لوگ واقف ہوں گے کہ اپنی اس وادیٔ کشمیر کے ایک نامور صحافی میر گوہر احمد حال ہی میں ہم سے بچھڑ گئے ۔گوہر صاحب3؍اپریل 2021کو اس دنیائے فانی سے کوچ کرکے ابدی سفر پر چل پڑے ہیں ۔بلا شبہ اس کائنات کے مالکِ حقیقی ربّ العالمین کے منشا ء کے مطابق اور اُسی کے اٹل قانون کے تحت ہر نفس (جاندار)  کو موت کا مزا چکھنا ہے ۔چنانچہ قانون ِ الٰہی کے مطابق ہی جس طرح ہر شئے کے وجود اور خاتمہ کا وقت طے ہے، اُسی طرح حضرتِ انسان کے اس دُنیا میں آنے اورپھر دنیا سے چلے جانے کا وقت بھی متعین ہے اور طے شدہ مقررہ وقت گذارنے کے بعد ہر کس و ناکس کو دنیا سے کوچ کرنا ہے ۔قانون ِ قدرت کا یہ سلسلہ ازل یعنی وجودِ کائنات سے چلا آرہا ہے اور تا قیامت آنے جانے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ حق بات تویہ بھی ہے کہ جس طرح آج ہمارے ایک محسن، میر گوہراحمد اپنی زندگی کی مقرر ہ مدت پوری کرکے اس دنیا

عرفان علی خان :ایک مایہ ناز فن کار

 غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی دیوانہ مرگیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری ! قد دراز ،رنگ کالا، اعضا موٹے، جلد سیاہ فام ،جسم گوشت سے بھر اہوا،آنکھیں موٹی موٹی اور ان کے پیوٹے ابھرے ہوئے، نظر تیز و پر اعتماد، اندا ز میں سنجیدگی اور خوداعتمادی، بال لمبے اور ٹیڑے، داڑھی منڈی ہوئی ،آواز میں نرمی اور ٹھہرائو، چہرے پر بشاشت اور ذہانت ، گفتگو حشو و زوائد سے مبرا،بالی وڈ کے سپر اسٹار اور فن اداکاری میں کمال کا درجہ رکھنے والے عرفان خان کی بے وقت موت کی خبر سے ادبی دنیا کے شائفین کی آنکھیں پرنم ہوئیں ۔کسی کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ وہ اتنی جلدی اس دارالفانی سے کوچ کرکے داغ مفارقت دیںگے۔انہوں نے مختصر سے وقت میں اپنے محنت کے بل پروہ کارنامے انجام دیے کہ ان کا شمار کنہیا لال، پریم ناتھ ملہوترا،راج کپور،مینا کماری اور شہنشاہ جذبات دلیپ کمار جیسے مایہ ناز فن کاروں میں ہونے لگا

آہ صد آہ! ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا

حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکرٹری اور بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت کی اچانک وفات کی خبر دل پر پہاڑ کی طرح ٹوٹ پڑا، دل یقین کرنے کو تیار نہیں، زبان پر گویا تالا لگا دیا گیا ہو، اتنی بے چینی، اتنی گھبراہٹ، اس خبر نے پورے جسم کو عجیب کیفیت میں مبتلا کردیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ ملت اسلامیہ پر چھا گیا غم کا سماں دارِ فانی سے ہوا رخصت امیرِ کارواں مرد حق، بے باک، جرأت مند وہ رب کا ولی سامنے باطل کے ملت کے لیے تھے پاسباں  مختصر تعارف : نام: ولی رحمانی والد کا نام: حضرت مولانا منت اللہ رحمانی بانی آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ دادا کا نام: حضرت مولانا محمد علی مونگیری بانی ندوۃ العلماء لکھنؤ پیدائش: ۵؍ جون ۱۹۴۳ء؁ بمقام خانقاہ رحمانی مونگیر حضرت امیر شریعت کی وف

حاجی محمد اسماعیل پرے

 چاہنے والوں کو اپنے عزیزوں کی یاد آنا فطری عمل ہے لیکن جب بستی یا شہر کے بیشتر لوگ کسی شخص کے جانے پر انہیں بار بار  یاد کرتے ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ جانے والے نے ضرور کو ئی ہر دل عزیز کام کیا ہے یا لوگوں کے دل اپنی محبت یا شفقت سے جیت لئے ہیں، اسی لئے ان کی یاد میں آنسو بہائے جاتے ہیں یا ان کے نام کی مالائیں پہنی جاتی ہیں یا پھر بات بات پر ان کا ذکر خیر چھیڑا جاتا ہے اور جیسے کہ صدقہ جاریہ فیض عام کی طرح مرنے والے نے رواں رکھا ہو۔جب لوگ اتنی تعریفیں کرتے ہیں اور مرحوم کے لئے جنت وصالی کی دعائیں دیتے رہتے ہیں یقینی طور پر ایسے افراد ملت کے مقدر کے روشن ستارے گردانے جاتے ہیں جو قوموں کی خاطر اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر ان کی بہتری کے لئے آگے آگے رہ کر عروج اور بدرجہ کمال اتم کی تاریخ رقم کرتے ہوئے ہمیشہ کیلئے امر ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہمت والے افراد اپنی جانیں بھی نچھاور کرنے م

پیر سلام الدین کاملی ۔بے لوث دینی شخصیت

 جموں وکشمیر عوامی مجلس عمل کے ایک بانی رکن رفتہ رفتہ سفر آخرت کو سدھار رہے ہیں۔ سرکردہ تنظیمی و تحریکی رہنما مرحوم الحاج غلام محمد میر المعروف ہوشیار صاحب کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ گزشتہ دنوں 5 مارچ2021 بروز جمعتہ المبارک تنظیم کے ایک اور بانی رکن اور میرواعظ خاندان کے قریبی محب اور انتہائی رفیق شفیق اور بہی خواہ بانی تنظیم ممیرواعظ مولوی محمد فاروق مرحوم کے سابق پی آر او پیر سلام الدین کاملی ایک طویل عمر گذار کر حیات مستعار پوری کرکے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔  مرحوم پیرزادہ سلام الدین کاملی کشمیر کے ایک نامور ، باوقار اور ذی عزت خاندان ،کاملی خانوادہ کے ایک ممتازفرد تھے جن کے گھرانے سے تدریس قرآن کریم کے فیوض و برکات شہر سرینگر میں عام ہوئے اور خود مرحوم کاملی صاحب سے اپنے علاقے اور محلے کے عام مسلمان بچوں اور بچیوں کے علاوہ خصوصیت سے ممتاز

شہبازؔ راجوروی سے آغازِ شناسائی

1961کی بات ہے کہ راقم جناب سروری کسانہ کے غریب خانہ ( غریب خانہ اسلئے لکھا کہ ان کے مکان سے ہر طرف عْسرت کے سائے لہرا رہے تھے) پر پہنچا، کمرے کے اندر قدم رکھتے ہی دیکھا کہ چند افراد گفتگو میں مصروف ہیں۔ میں نے سلام کیا انھوں نے بھی رسماً سلام کا جواب دیا۔ چند ہی منٹوں میں راقم ضروری کام کیلئے بازار گیا ،جب قریباً ایک گھنٹہ کے بعد واپس آیا تو یہ افراد جا چکے تھے۔ کسانہ سے پوچھا یہ مہمان لوگ کہا ںکے تھے اور کہاں گئے۔ انہوں نے کہا یہ راجوری کے شہباز صاحب اور اُن کے ساتھی تھے۔ شاید واپس چلے گئے۔ سروری کسانہ نے کہاکہ میں نے ان کو آپ کا غائبانہ تعارف کرایا تو وہ کف ِ افسوس ملتے رہے کہ ہم نے نہ مشتاق صاحب کو اپنا تعارف کرایا نہ ان سے تعارف پوچھا۔ہفتہ روزہ ’’ نوائے قوم‘‘ میں فکر و خیال کا مختص کالم تھا جس میں جناب منظر اعظمی اور راقم اکثر لکھا کرتے تھے ۔ایک بار سر

آہ!پروفیسر زبیدہ جان

ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے  پردہ مجبوری و بیچارگی تدبیر ہے  فطرت کا ایک اصول ہے کہ وہ دنیا کے مختلف خطوں اور قبیلوں میں رہنے والے لوگو ں پر اپنے قوانین یکساں طور پر لاگوکرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کرتی ۔گویا جہاں دھوپ ہے اُس جگہ پر انسان چھاؤں کا بھی نظارہ کرتا ہے ۔اسی طرح جہاں پستی ہوتی ہے وہیں پر بلندی بھی نظر آتی ہے ۔ انہی اصولوں کی طرح یہ فطرت اپنی سرشت کے مطابق ظلمت سے نور اور خزاں سے بہار کرتی ہے ۔ لیکن یہ نوراور بہار پھرایک جدلیاتی نظام کے ظلمت اور خزاں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ سامنے کی بات ہے کہ ہم سب نے چمنستان رنگ و بو کے تزک و احتشام اور چمک دمک کو بہ چشمِ خوددیکھا ہے لیکن چمن طراز کو کبھی ایک ثمر دار اور دلکش ڈالی کو بھی چمن سے جدا کرنا پڑتاہے ،پھر منسلک ٹہنیوں کا جو رنج و ملال ہوتا ہوگا وہ ماہرِ اشجار کے لیے دیدنی ہوتاہوگا۔ اس دلخراش جدائی کے پہلو میں مص

مرحوم غلام محمد میر المعروف ’ہوشیارؔ‘

دنیائے فانی میں اپنی حیات مستعار کے دن پورے کرکے بالآخر شہر خاص سرینگر کی ایک معروف سماجی، سیاسی شخصیت جنا ب غلام محمد میر المعروف’’ہوشیار‘‘ وطن سے دور سرزمین پاکستان کے بحریہ ٹائون اسلام آباد میں عالم آخرت کو سدھار گئے ۔  مرحوم میرصاحب مرنجاں مرنج ، خوش اخلاق، زندہ دل، اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ۔ شہر سرینگر کے بیشتر خاندانوں اور گھرانوں کی طر ح ان کا خاندان بھی کشمیر کے معرکتہ الآرا خاندان میرواعظ کے ساتھ صدیوں سے وابستہ چلا آرہا ہے ۔ اسی بنیاد پر مرحوم غلام محمد میر صاحب اور ان کے گھر والوں کو جو میرواعظین کشمیر کے ساتھ عقید ت و محبت رہی ہے وہ کسی بھی تبصرے اور وضاحت کا محتاج نہیں ۔ بنیادی طور پر مرحوم میرصاحب ایک تاجر پیشہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور معاشی مسائل اور ضروریات کی تکمیل کیلئے میر صاحب نے بھی تجارت جیسے مقدس پیشے کو اپنای

خضر مغربی ؔ

علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید دین اسلام میں جس بلیغ و دل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی۔ تعلیم و تربیت، درس و تدریس تو گویا اس دین برحق کا جزولاینفک ہے۔ کلام پاک کے تقریبا اٹھتّرہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم نے رحمت العالمین ؐ کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا، وہ اِقراء ہے یعنی پڑھ۔گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس بات کی طرف سرکار دوعالم ؐ کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔ حضورؐ کے اعلان نبوت کے وقت جزیرۂ عرب کی کیا حالت تھی… ؟ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون

مرحوم غلام محمد گنائی

علاقہ ترال کے جنوبی جانب کوہساروں کے دامن میں ہاری پاری گام نام کا ایک گاؤں مشہور و معروف سیاحتی مقام شکارگاہ روڑ پر واقع ہے و سرینگر جموں قومی شاہراہ سے تقریباً دو کلو میٹر کی دوری پر پڑتا ہے۔ یہاں ایک خدا دوست، ہمدرد، خیر خواہ، مخلص، عابد، محب انسانیت ، خوش مزاج، ذہین، دین اسلام کے داعی اور اللہ کے سپاہی رہتے تھے جو اپنے وقت کے بڑے ہی معزز شخصیات میں شمار ہوا کرتے تھے اور جن کا اسم گرامی دور دراز علاقوں تک ان کے نمایاں کردار، اوصاف و خصوصیات کی وجہ سے پہنچ چکا تھا۔اللہ کے اس نیک بندے، انسان دوست شخص، ہم درد، سماج کے گم گسار، عوام کے خیر خواہ، ضرورت مندوں کے دل دار کا اسم گرامی مرحوم غلام محمد گنائی تھا ۔گنائی صاحب سرکاری ریکارڈ کے مطابق 29 جون سنہ 1946 کو اپنے آبائی علاقے ہاری پاری گام میں عبدالاحد گنائی کے گھر میں پیدا ہوئے - آپ اپنے والدین کے تیسرے بچے تھے۔آپ کے دو برادر اکبر ا

غلام محی الدین میر شوپیانی، اللہ کے کلام کا ایک سچا عاشق

وادیٔ کشمیر ہمیشہ سے علمی ادبی، تہذیبی وثقافتی،معاشی ومعاشرتی اعتبار سے بڑی زرخیز رہی ہے۔ و ہاں آپ کو تاریخ کے ہر دور میں علماء، صلحاء، ادباء شعراء، اولیاء اتقیاء ، علم وفن اور تقوی وپرہیزگاری کے اساطین مل جائیں گے۔ گزشتہ دنوں میں کشمیر گیا تو میری ملاقات شوپیان کے غلام محی الدین میر(عمر تقریبا اسّی سال) سے ہوئی۔ میں ان سے ملا تو وہ قرآن کریم کی تلاوت کررہے تھے۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آپ جنوری ۲۰۲۰ء سے لے کر اب تک تقریبا چھہتر(۷۶) مرتبہ قرآن کریم ختم کرچکے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا آپ ہمیشہ سے قرآن کی تلاوت کو حرز جاں بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا میں پہلے بھی قرآن کی تلاوت پابندی سے کرتا تھا مگر جب سے لاک ڈاؤن ہوا تو میں نے اپنی ساری مصروفیت کو ختم کو کرکے اپنا سارا وقت قرآن کریم کو دے دیا۔روزانہ آٹھ دس پارے پڑھ لیتا ہوں۔مزید ان سے گفتگو ہوئی تو ان کی صالحیت اور ان کے تقوی وطہارت

آہ دینا ناتھ شرما …!!!

   ابتدائی دور میں راجوری پونچھ میں تعلیم کا چراغ روشن کرنے والے اساتذہ کی صف میں شامل ایک چراغ دینا ناتھ شرما کی صورت میں آج بجھ گیا ۔ 91سال کی عمر میں جناب ماسٹر دینا ناتھ شرما کو7اکتوبر2020کو اس دنیا سے الوداع کہا گیا لیکن انھوں نے علم کے نور سے جس طرح سے لوگوں کو روشن کیا ہے اس ی روشنی کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔   درہال ملکاں کے جناب گرن دت شرما کے گھر میں 19جنوری 1930کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ والد نے نام دینا ناتھ رکھ دیا۔ جناب دینا ناتھ شرما نے پرائمری سکول کا امتحان درہال سے پاس کیا اور مڈل کی پڑھائی کیلئے راجوری کا رخ کیا ۔ راجوری سے مڈل پاس کرنے کے بعد ان کو آگے کی پڑھائی جاری رکھنے کا شوق بڑھا تو گھر والوں نے کشمیر یونیورسٹی میں داخلہ کرایا جہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔  پہلی بار وہ1949میں  پرائمری سکول ڈوڈاج میں 30روپے کی ماہ

درویش صفت ،عمردرازمحافظ

 کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آسان ہے موت گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت کلبہ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موت دشت ودر میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موت واقعی کلبہ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موت تو آسان ہے لیکن زندگی مشکل ہے۔ علامہ اقبال کی ایک طویل نظم ہے،والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بے شک موت ابدی حقیقت ہے اور اٹل ہے کہ نغمہ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیر در اصل ہرشے میں زندہ ہوتا ہے لیکن اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیر ہے۔ حال ہی میں 25 اگست کو چرارشریف کے وانی خاندان کا ایک درویش صفت بزرگ حاجی عبدالرحیم وانی المعروف گوسو داعی اجل ہوئے۔ عبدالرحیم وانی محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔یوں تو جب پولیس کا نام آتا ہے تو انسان کانپ اٹھتا ہے اور دل ودماغ میں عجیب وغریب سوالات اْمنڈ آتے ہیں ، جیسے مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ، رشوت، گالی گلوچ، ایف آئی آر، جھو ٹے مقد مات وغیرہ و

مرحوم ٹاک زینہ گیری کشمیر کا ایدھی

آج کے جدید اور بے ہنگم دور میں ایسے فلاحی اداروں کا قیام جو خالصتاٌ رضاکارانہ طور اِنسانی خدمات کیلئے معرض ِ وجود میں آئے ہوں، در اصل انبیائی اصولوں کی پاسداری اور اتباع کی عملی شکل ہے۔اِس تناظر میں جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کا قیام بھی 1972ء میں مرحوم عبد الخالق ٹاک زینہ گیری کے مبارک ہاتھوں ہوا۔مرحوم ٹاک صاحب ایک عظیم ا لمرتبت اِنسان دوست اور سلیم ا لفطرت تھے۔ اعلیٰ سوچ کے حامل قلمکار اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک ایماندار اور قابل سرکاری آفیسر تھے۔غریب ، نادار ، اور مفلس عوام کے تئیں ایک ہمدردانہ دل اور محبت بھرا جذبہ رکھتے تھے۔مرحوم موصوف جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی بنیاد ڈالنے سے پہلے ہی انفرادی طور اور اپنے کچھ رضاکاران کے ساتھ مل کر خدمتِ خلق کے عظیم کام میں ہمہ تن مصروف ِ عمل ہو چکے تھے۔ چونکہ وہ محکمہ مال سے وابستہ تھے ، اور ایک بنیادی ممبر کی حیثیت سے اکثر دیہات اور دوسری

کچھ دور تو نا لے جائیں گے

ڈپلومہ ا نجینئرنگ طلباء کا مستقبل مخدوش کیوں؟  جموں وکشمیر میں حکومت کی جانب سے 1958 میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل کالج سرینگر کا قیام عمل میں لایاجس کے بعد 2012 تعلیمی سیشن میں سبھی اضلاع میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیااور ہر سال ان اداروں سے ہزاروں طلباء فارغ تحصیل ہو رہے ہیں لیکن آگے کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ان کے پاس کوئی راستہ موجود نہ ہونے کے سبب ایسے طلبہ سخت ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے ریاست بھر کے جامعات میں لیٹرل انٹری انجینئرنگ پروگرام کی نشستوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ اگرچہ یہ معاملہ حکومتی اداروں میں بہت بار اٹھایا تو گیا لیکن حکومت نے اس حساس مسلے کو نظرانداز کیا۔ ادھر آل انڈیا کونسل برائے تکنیکی تعلیم نئی دہلی کے عہدیداران کا کہناہے کہ لیٹرل انٹری انجینئرنگ سکیم کے لئے پہلے ہی کچھ اصول واضح کر رک

مخصوص گوشہ|کچھ دور تو نالے جائیں گے

 رہبر ِکھیل اساتذہ کی بھی سنیں! ہم تمام رہبر کھیل اساتذہ حکومت جموں کشمیر سے مودبانہ گزارش کرتے ہیںکہ ہماری جائز مانگوں کو بغیر کسی تاخیر کے پورا کیا جائے۔اس مہنگائی کے دور میں جو ماہانہ اجرت حکومت ہمیں ادا کرتی ہے،وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم اپنی جوانی کی قیمتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر خون پسینہ بہاکر حکومت کے خاکوں میں رنگ بھررہے ہیں اور اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔نہ جانے ہم نے کون سی ایسی خطائیں کی ہیں کہ ارباب اقدار ہماری گزاشات کو سنی ان سنی کرتے ہیں۔ تمام رہبر کھیل اساتذہ اعلی تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔کئی ایسے ہیںجنھوں نے پی جی،پی ایچ ڈی،ایم فل کی ڈکریاں حاصل کرکے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں میرٹ کی بنیادوں پر نوکریاں حاصل کی ہیں۔آج کل عام مزدور بھی روزانہ کے حساب سے چھ سات سو روپیہ کماتا ہے اور حکومت ہمیں روزانہ کے حساب سے صرف 100 روپیہ اجرت واگزار کرتی ہے جوہمارے

تازہ ترین