تازہ ترین

آہ تنویر بھائی!

 10 دسمبر 2021 کی شبِ جمعہ تنویر احمد قریشی ایک سڑک حادثے میںانتقال کر گئے۔ یہ المناک حادثہ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر رات کے ایک بجے اس وقت پیش آیا جب وہ تبلیغی جماعت کے ریاستی مشورہ میں شرکت کے لیے جموں جا رہے تھے ۔ان کے ہمراہ تین تبلیغی ساتھی اوربھی تھے جو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کئے گئے۔ان میں سے امتیاز احمد دس روز بعد ہسپتال میں وفات پا گئے۔ تنویر احمد قریشی اپنے والدین کی پہلی اولاد تھے، اس لیے انہیں سب بھائی جان کہہ کر پکارتے تھے۔وہ مجھ سے عمر میں سات برس چھوٹے تھے۔میری اہلیہ کے چچا زاد اور دودھ شریک بھائی تھے۔ ان کے والد محترم فضل الرحمن قریشی ہیں جو نہایت ہی شریف، منکسر المزاج اور صابر و شاکر ہیں۔تنویر بھائی کے آباء و اجداد علماء و فضلاء تھے ،جن کاآبائی وطن ایبٹ آباد ہے۔تقسیم ریاست سے قبل علاقہ کرناہ میں اس خاندان نے مذہبی پیشوائی کی۔اپنی دینی خدمات کے پیش نظرا