تازہ ترین

دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر 30 برس پیچھے چلا گیا: غلام نبی آزاد

جموں//سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر تیس برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بہانے کرکے جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ یونین ٹریٹری بن جانے سے پہلے صوبہ جموں میں 13ہزار صنعتی کارخانے تھے جن میں سے قریب ساڑھے سات ہزار یونین ٹریٹری بن جانے کے بعد بند ہوگئے ہیں جو ابھی بھی ہند ہی ہیں۔موصوف سینئر لیڈر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز راجوری میں پارٹی ورکروں کو خطاب کرنے کے دوران کیا۔ وہ صوبہ جموں کے سرحدی علاقوں کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘یونین ٹریٹری بن جانے سے پہلے جموں صوبے میں قریب13 ہزار صنعتی کارخانے تھے جن میں سے ساڑھے سات ہزار کارخانے یونین ٹریٹری بن جانے کے بعد ہی بند ہوگئے جو ابھی بھی بند ہی ہیں اور کشمیر میں تمام کارخانے بند پڑے ہیں’۔ ان کا

کورونا کی امریکران قسم نے جموں میں محکمہ صحت کو الرٹ کیا | بین الاقوامی مسافروں کی جانچ ہوگی ،DRDOہسپتال میں علاج اور قرنطینہ ہوگا

جموں//محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے بین الاقوامی مسافروں کے لیے  ٹیسٹ کو لازمی بنا کر جنگی بنیادوں پر جموں میں کورونا کے  قسم سے نمٹنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ صحت کی طرف سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ سلسلہ وار میٹنگیں کی گئی ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ بین الاقوامی مسافروں کو ہوائی اڈہ، لکھن پور، کٹرا اور جموں ریلوے اسٹیشن جموں میں RT-PCR ٹیسٹ کا استعمال کرتے ہوئے کوویڈ 19 کے نئے ورژن کے لیے ٹیسٹ کیا جائے گا۔  ہوائی اڈے کے ایک اہلکار نے کہا"ہم جموں ہوائی اڈے پر مسافروں کی یہاں آمد پر روزانہ کی بنیاد پر 170 سے 200 RAT ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ اگرچہ جموں کا ایک گھریلو ہوائی اڈہ ہے لیکن ہم معمول کے مطابق تمام مسافروں کی نگرانی کر رہے ہیں"۔انہوں نے کہا کہ اگر مسافر 72 گھنٹوں کے اندر ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ یا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنے میں ن

کٹھوعہ میں کسانوں کا سرکاری زمین کی بازیابی کے خلاف احتجاج

جموں//کسانوں نے کٹھوعہ میں انتظامیہ کے خلاف ضلع میں سرکاری اراضی کو واپس لینے کے لیے مبینہ طور پر نوٹس جاری کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ کی طرف مارچ کیا اور پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سرکاری اراضی کو واپس نہ لیا جائے۔ایک بزرگ احتجاجی کا کہنا تھا کہ وہ وہاں 1947 سے پہلے رہ رہے تھے اور ان کے خاندان کا انحصار زمین پر ہے۔مظاہرین نے کہا، "انتظامیہ نے نوٹس جاری کیے ہیں اور کچھ دیہاتوں میں، انہوں نے بورڈ لگا کر زمین واپس لی ہے۔"انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس زمین کو واپس نہ لے جس پر غریب خاندان انحصار کرتے ہیں اور اپنی بقا کے لیے اس پر کاشت کررہے ہیں۔ بعد ازاں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔