تازہ ترین

درماندہ 2,83,833شہریوں کو یوٹی واپس لایاگیا

 جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے  2,83,833شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا رہ کر یوٹی واپس لایا۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے904مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اب تک 104کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اَب تک بیرون یوٹی درماندہ 2,83,833شہریو ں کو کووڈِ۔19 وَبا سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے واپس لایا۔تفصیلات کے مطابق 03اگست سے 04 اگست 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے1753  درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے جبکہ729مسافر آج 83ویں دلّی کووِڈ خصوصی ریل گاڑی سے جموں پہنچے ۔اَب تک 83ریل گاڑیاں یوٹی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے71,076درماندہ مسافر وں کو

گھریلو پروازو ں کا 72واںدِن | 2350مسافر17پروازوں میں سرینگرپہنچے

جموں//جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں گھریلو پروازوں کے دوبار ہ چالوہونے کے72ویں دِن  3,183مسافروں کو لے کر آج26پروازیں جموں اور سری نگر ہوائی اڈوں پر اُتریں ۔ 833مسافروں سمیت09کمرشل پروازیں جموں ہوائی اڈے اور 2350مسافروں کو لے کر17 پروازیں آج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتریں۔واضح رہے کہ25 مئی سے اب تک جموں ایئر پورٹ پر 562گھریلو پروازیں اتری ہیں جن میں   42725مسافروں نے سفر کیا ۔ اسی طرح سری نگر ائیر پورٹ پر901گھریلو پروازیںاتریں ہیں جن میں  1,14,329مسافروں نے سفر کیا ہے۔نیز جموں وکشمیر حکومت نے عالمی وَبا کے پیش نظر اَب تک متعدد ممالک سے تقریباً3,676 مسافروں کو خصوصی انخلأ پروازوں کے ذریعے جموںوکشمیر یوٹی میں واپس لایا ہے۔ہوائی اڈے پر اُترتے ہی تمام مسافروں کا کووِڈ۔19ٹیسٹ کیا گیا اوردونوں ہوائی اڈوں سے  اپنے منازل کی طرف تما م احتیاطی تدابیر پر عمل پیر ا رہ کر

بی ڈی سی چیئرمین کو 25 لاکھ روپے خرچ کرنیکا اختیار

جموں//لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو نے جموں و کشمیر میں حلقہ ترقیاتی فنڈز کی طرز پر بلاک ڈیولپمنٹ فنڈز تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔حکومتی ترجمان روہت کنسل کے مطابق ’’حلقہ ترقیاتی فنڈ کی طرز پر ایل جی نے بلاک ڈیولپمنٹ فنڈز کی تشکیل کی منظوری دی، بلاک میںترقیاتی کاموں کے لئے ہر ایک بی ڈی سی چیئرمین کے اختیار میں 25لاکھ روپے رکھے جائیں گے۔کاموں کی نشاندہی مقامی ترجیحات کے مطابق بی ڈی سی کے چیئر مینوں کے ذریعہ کی جائے گی‘‘۔اس سلسلے میں سکریٹری محکمہ دیہی ترقی ، شیتل نندا نے کہا ’’ا?پریشنل رہنما اصول حلقہ ترقیاتی فنڈز (سی ڈی ایف) کی طرح ہوں گے‘‘۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہی حکومت نے جموں و کشمیر کی پنچایتوں کو فنڈز کے ساتھ با اختیار بنایا ہے۔ سکریٹری نے مزید کہا کہ اب بی ڈی سیزکومالی اختیارات بھی دے دیئے گئے ہیں۔شیتل نندا نے کہا’’ہم بی ڈی