عارضی ملازمین کانئے بھرتی قوانین کی مخالفت کا اعلان

جموں //مختلف محکموں میں پچھلے کافی عرصہ سے خدمات انجا م دے رہے 60ہزار سے زائد عارضی ملازمین نے درجہ چہارم کیلئے نئے بھرتی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے پورے جموں وکشمیر میں خدمات کی معطلی کا انتباہ جاری کیاہے ۔نئے بھرتی قوانین کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے مختلف محکمہ جات کے عارضی ملازمین نے متحدہوکر احتجاج کا منصوبہ بنایاہے اور ان کاکہناہے کہ اگر ان کی خدمات کو مستقل ملازمت میں تبدیل نہیں کیاگیاتو وہ احتجاج کریں گے۔جموں وکشمیر کیجول لیبررز یونائیٹڈفرنٹ کے کشمیر صوبہ کے صدر عمران پرے نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ڈیلی ویجروں، کیجول لیبرروں، سیزنل لیبرروں، آئی ٹی آئی ورکروں، لینڈ ڈونرز،آئی ٹی آئی ورکروں اور نیڈ بیسڈ ورکروں و سی پی ورکروں کو نئے بھرتی قوانین کے نافذ ہونے پر خدشہ ہے کہ وہ روزگار سے محروم ہوجائیںگے اور ان کے گھروں کے 6لاکھ افراد کی روزی روٹی چھن جائے گی اس لئے 60ہزار

'آر ایس ایس لداخ' ایک جعلی ٹویٹر ہینڈل

جموں//یو این آئی// جموں وکشمیر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے آر ایس ایس لداخ کے نام سے بنائے گئے ٹویٹر ہینڈل کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سائبر پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کی ہے۔جموں وکشمیر میں آر ایس ایس کے پرچار پرمکھ  راجن جوشی نے اس معاملے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ آر آر ایس لداخ کے نام سے ملک دشمن عناصر کی طرف سے بنایا گیا یہ ٹویٹر ہینڈل جعلی ہے اور اس کا مقصد آر ایس ایس کی ساکھ کو زک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس لداخ کے نام سے یہ جعلی ٹویٹر ہینڈل 2 جون کو بنایا گیا ہے اور پھر3  جون کو اس پر پہلا ٹویٹ کیا گیا ہے۔ جوشی نے بتایا کہ آر ایس ایس کا ایک ہی ٹویٹر ہینڈل @RSSOrg ہے جو آرگنائزیشن کا آفیشل ٹویٹر ہینڈل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی نے اس جعلی ٹویٹر ہینڈل کو بنا کر آر ایس ایس کو بد نام کرنے کی کوشش کی ہے۔موصوف پرچار

جموں میں روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودگی

جموں// راشٹریہ بجرنگ دل جموں وکشمیر یونٹ کے صدر راکیش بجرنگی نے مرکزی ویونین ٹریٹری حکومتوں سے جموں میں مقیم روہنگیا اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو فوری طور نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار نے عدالت عظمیٰ میں ایک حلف نامہ دائر کیا ہے جس میں مانا گیا ہے کہ یہ لوگ ملک کی سیکورٹی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان لوگوں کو جلد از جلد یہاں سے نہیں نکالا گیا تو جموں کے لوگ ایک بار پھر احتجاج پر اتر آئیں گے۔ہفتہ کے روز یہاں احتجاج درج کرنے کے بعد میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے راکیش بجرنگی نے کہا: 'ہمارا احتجاج یوٹی اور مرکزی حکومت کے خلاف ہے، ہم لگاتار احتجاج کررہے ہیں کہ جموں کے الگ الگ علاقوں میں مقیم روہنگیا اوربنگلہ دیشی لوگ بسے ہیں انہیں یہاں سے جلد از جلد نکالا جائے'۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار نے عدالت عظمیٰ میں ایک حلف نامہ دائر کیا ہے جس می

دبئی میں در ماندہ کشمیریوں کا از خود پروازوں کا انتظام

 جموں// دبئی میںدرماندہ 800 کشمیریوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ انہوں نے از خود 2چارٹرڈ پرازوں کیلئے رقوم کا انتظام کیا ہے ، انہیں سرینگر میں لینڈ کرنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ 11جون کو وندے بھارت مشن کے تحت ایک پرواز کا انتطٓم کیا گیا تھا جس میں 150کشمیری سوار تھے۔انکا کہنا ہے کہ دبئی میں مقیم کشمیریوں نے از خود رقوم کا انتظام کیا اور دو پرازوں کیلئے پیسہ اکٹھا کیا لیکن سرینگر جانے کیلئے اب حکومت ہند کی اجازت کا انتظار ہے۔ادھرجموں اور سرینگر ہوائی اڈوں پر سنیچر کو 2,097 مسافروں کو لیکر 19 گھریلو پروازیں اتریں ۔گھریلوپروازوں کی دوبارہ آمدورفت شروع ہونے کاکل 13 واں دن تھا ۔ جموں ہوائی اڈے پر516 مسافروں کو لیکر 7  جبکہ سرینگر ہوائی اڈے پر 1,581 مسافروں کے ساتھ 12 پروازوں اتریں۔ ہوائی اڈوں پر ہی تمام مسافروں کا کووڈ 19 ٹیسٹ کیا گیا اور انہیں اپنے منازل کی طرف تمام

تازہ ترین