جموں کی یونیورسٹیوں میں تدریسی سرگرمیوں کی بحالی

 جموں//لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مرمو نے لاک ڈاؤن کے بعد جموں یونیورسٹی اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے نقشہ راہ کا بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں لیفٹنٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری موجود تھے جبکہ جموں یونیورسٹی اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دونوں یونیورسٹیوں کے رجسٹراروں نے میٹنگ میں بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ شرکت کی ۔ لیفٹنٹ گورنر نے لاک ڈاؤن کے بعد یونیورسٹیوں میں کی جا رہی تیاریوں سے متعلق دونوں وائس چانسلروں سے مفصل رپورٹ طلب کرتے ہوئے تدریسی سرگرمیوں اور خالی اسامیوں کی بھرتی کی بحالی کیلئے جامع منصوبہ بندی پر زور دیا ۔ انہوں نے امتحانات کے انعقاد کیلئے ایک فعال لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا ۔ انہوں نے ای لرننگ کیلئے بنیادی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی زور دیا تا کہ دونوں یونیورسٹیوں میں آن لائی

بجلی چوری کیخلاف سخت اقدام کئے جائیں:یشامدگل

جموں//منیجنگ ڈائریکٹر جموں پاور ڈسٹریبیوشن کارپوریشن لمٹیڈ یشا مدگل نے بجلی فیس کی وصولیابی ، مرکزی سکیموں کے تحت جاری پروجیکٹوں کی پیش رفت اور کارپوریشن سے متعلق دیگر معاملات کا جائیزہ لینے کیلئے میٹنگ منعقد کی ۔ جس کے دوران بجلی فیس کی وصولیابی ، پروجیکٹوں پر دوبارہ کام شروع کرنے اور التوا میں پڑے پروجیکٹوں کی تکمیل کیلئے ہدف مقرر کرنے پر غور و خوض ہوا ۔ ترسیلی و تقسیم کاری نظام کو مستحکم بنانے کیلئے مرکزی معاونت والی سکیموں پر جاری کام میں سرعت لانے کیلئے لایحہ عمل پر مفصل غور و خوض ہوا ۔ ٹرانسفارمروں کی مرمت کی ورکشاپوں کو مستحکم بنانے اور بجلی کی تقسیم میں باقاعدگی لانے کے علاوہ دیگر معاملات بھی میٹنگ میں زیر غور لائے گئے ۔ چیف انجینئر جے پی ڈی سی ایل نے بجلی فیس کی وصولیابی کیلئے صوبہ وار اہداف کے بارے میں بھی میٹنگ میں تفصیل دی ۔ ایم ڈی نے محکمہ کے سینئر اہلکاروں کو بجلی فیس کی

کورونا وائرس کا خوف

جموں //ایک حیران واقعہ میں جموں میں کورونا وائرس کاشکا ربن کر وفات پانے والے معمر شہری کی آخری رسومات کی مخالفت کی گئی جس کی وجہ سے اسے دوسری جگہ لیجاکرسپرد آتش کیاگیا۔ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے72معمر شہری کی گزشتہ روز گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں کورونا سے وفات ہوگئی جس کے بعد انتظامیہ نے اس کی نعش دومانہ کے ناگبنی علاقے میں سپرد آتش کرنے کافیصلہ لیا ۔متوفی کے ایک رشتہ دار امت کٹوچ نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایاکہ وہ جب نعش لیکر ناگبنی پہنچے تو وہاں مقامی لوگ امڈ آئے اور انہوں نے آخری رسومات کی ادائیگی کی مخالفت کی ۔امت کے مطابق مخالفت کرنے والوں نے پتھر برسائے اوربندوقوں سے ڈرایاجس کے بعد انہیں جلی ہوئی نصف نعش کو وہاں سے اٹھاکر واپس گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال منتقل کرناپڑا۔انہوں نے بتایاکہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے مانگ کی کہ انہیں اپنے آبائی علاقے ڈوڈہ جانے کی اجاز ت دی

تازہ ترین