کھیر بھوانی میلہ | فاروق خان نے ایل ای ڈی گلو جاری کیا

 جموں//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے جیشٹ اشٹمی کے موقعہ پر جموں میں ماتاکھیر بھوانی کا خصوصی طور تیار کیا گیا ایل ای ڈی گلو جاری کیا جسے کھیر بھوانی ویلفیئر سوسائٹی نے تیا ر کیا ہے ۔اس میں راگنی بھوانی کی آڈیو کتھا اور 35 مقبول کشمیری بھجن ہیں ۔ یہ ریموٹ کنٹرول ہائی ٹیک تولہ مولہ میںکھیر بھوانی استھاپن پر نصب کیا جانا تھا لیکن کووِڈ۔19 کے سبب یہ پروگرام منسوخ کیا گیا تاہم سوسائٹی نے یہ آلہ جموں میں جاری کرنے کا فیصلہ لیا اور حالات میں سدھار آنے کے بعد یہ آلہ استھاپن پر نصب کیا جائے گا۔اِس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فاروق خان نے جیشٹ اشٹمی کے موقع پر کشمیر ی پنڈتوں کو مبارکباد پیش کی اور اُمید ظاہر کی کہ یہ موقع صدیوں پرانے سماجی یگانگت اور بھائی چارے کی روایات کو مستحکم بنائے گا۔اِس موقعہ پر کنوینئر ایم کے بی جے وائی ڈبلیو ایس نے بھی اَپنے خیالات کا اِظہار ک

’مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا سال تباہ کن | جموں کشمیرکادرجہ گھٹاناسنگین غلطی،ملک کی معاشی حالت کمزور | مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ:کانگریس

جموں // پردیش کانگریس نے مودی سرکار کی دوسری مدت کو بطور ’مس گورننس‘ قرار دیا ۔ ایک بیان میں پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا کہ مودی سرکارکی دوسری مدت نے ملک میں اقتصادی بحران لایا اور جموں وکشمیر کے نوجوانوں کیلئے پریشانیاں پیدا کیں ۔ انہوںنے کہا کہ جب ملک میں اقتصادیات کش مکش کے دور میں تھی ،تو مودی سرکار نے سماج  اور سیکولر ڈھانچہ کو خراب کر دیا۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے جان بوجھ کر ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو کمزور کرکے جمہوریت اور آئین کی بنیادوں پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کی دوسری مدت کا ایک سال تباہ کن ثابت ہوا ہے کیونکہ اس نے ملک کی اقتصادی حالت کو تہس نہس کردیا،جسکی وجہ سے بیروزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ گئی۔شرما نے کہا کہ اب جب کہ 2020میں دنیا کو کورونا وائرس نے ہلا کر رکھ دیا  لیکن مودی سرکار نے پہلی مدت  میںبھی غلط فیصلے جی

جموں صوبہ میں 35ہزار گاڑیاں ایک ہی جگہ کھڑی

جموں //حکومت کی طرف سے 50فیصد پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے جموں صوبہ کے ٹرانسپورٹروں نے لیفٹنٹ گورنر جی سی مرمو سے اپیل کی ہے کہ بینک قرضوں پر سود،فیس اورگاڑیوں کے انشورنس کو اگلے چھ ماہ تک مستثنیٰ رکھاجائے ۔چیئرمین جموں وکشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن ٹی ایس وزیر نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم صرف پچاس فیصد پبلک ٹرانسپورٹ کو نہیں چلاسکتے،ہم اپنے ڈرائیوروں کو اُجرت دینے کے قابل نہیں اور نہ ہی ٹول پلازہ کی ادائیگی کرسکتے ہیں اس لئے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے ‘‘۔وزیر نے بتایاکہ پورے صوبہ میں 35ہزار کے قریب پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں پچھلے 2ماہ سے ایک ہی جگہ کھڑی ہیں جن میں ٹرک ،بسیں ،منی بسیں اور تین پہیہ گاڑیاں شامل ہیں ‘‘۔ایس آر ٹی سی بسوں اور ہوائی جہازوںکو چلنے کی اجازت دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر نے کہا’&rsq

تازہ ترین