تازہ ترین

ہر علاقے میں مانٹیرنگ ٹیمیوں کی تشکیل کی ہدایت

جموں// جموں وکشمیر یونین ٹیریٹریری میں کوویڈ کو قابو کرنے کی کوششوں کو مستحکم کرنے کیلئے ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو ڈی سی ، ایس پی ، سی ایم او ، متعلقہ سرکاری میڈیکل کالجوں کے پرنسپل سمیت دیگر اعلی افسران پر مشتمل کوویڈ مینجمنٹ ٹیموں کی تشکیل کی ہدایت کی۔ موثر کوویڈ مینجمنٹ کے لئے بلاک سطح ، تحصیل سطح اور پنچایت سطح پر مقامی مانیٹرنگ ٹیموں کے علاوہ ضلعی سطح پر جہاں بھی دستیاب ہو۔لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر میں کوویڈ منظرنامے کا جائزہ لینے کے لئے ورچوئل موڈ کے ذریعے ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس کے دوران ، لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی مانیٹرنگ ٹیموں کے قیام کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر افسران کے تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔کوویڈ کنٹرول اقدامات کی ضلعی وار صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ، لیفٹیننٹ گورنر نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ویکسینیشن ڈرائیو کو تیز کریں ، اس کے علاوہ وہ مر

دو ماہ کی طویل خاموشی کے بعد

جموں//دو ماہ کی طویل خاموشی کے بعد بین الاقوامی سرحد پر سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں پاکستان کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بی ایس ایف حکام نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد پر جمو ں کے سانبہ ضلع میںسوموار کی صبح سواچھ بجے پاکستانی فوج نے  ٹیپو اور حسین چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے بعد بی ایس ایف نے بھی پاکستانی فائرنگ کاجواب دیا ، جس کے بعد اُ س پا ر سے فائرنگ بند ہوئی ۔ ادھر دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی چوکیوںکو نشانہ بنا یا۔  

جموں میڈیکل کالج میں کورونا سے ایک دن میں26اموات

 یہ تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے،ہم سب کو سنجیدہ ہونا چاہئے :پرنسپل جی ایم سی جموں جموں//گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں کی پرنسپل ڈاکٹر ششی سودن نے کہا کہ جی ایم سی اور اس سے منسلک ہسپتالوں میں پیر کو 26 کووڈ مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں بچی ہے کیونکہ جس وائرس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں وہ تیزی سے پھیلتا ہے ۔ڈاکٹر ششی سودن نے بتایا: 'تشویشناک بات یہ ہے کہ جی ایم سی جموں اور منسلک ہسپتالوں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 26 لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا نمبر ہے ۔ ان میں سے 30 سے 40 فیصد مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے '۔انہوں نے کہا: 'یہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہم سب کو سنجیدہ ہونا چاہیے ۔ اب لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں بچی ہے ۔ یہ تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے ۔ خاندان کے سبھی اراکین