تازہ ترین

رات کا فسانہ

وہ ایک لمبے عرصہ سے اپنے اپنے غاروں میںسوئے پڑے تھے۔رات سیاہیوں میں لپٹی خاموش تھی۔نہ معلوم کونسا پہر تھاکہ اچانک دور کہیں سے نقاروں کی آوازآئی۔پھر نقارچیوں کی آوازگونجی۔۔۔ اے لوگو ۔۔اٹھوبیدار ہو جاو۔سحرکا استقبال کرو۔۔۔صبح قریب ہے۔ غاروں اور گپھاوُں میںخفتہ پڑے لوگوں نے جو یہ نقارے اور نقارچیوں کی آوازیں سنیں تو انہیںاپنے کانوںپر یقین نہیں آیا۔پہلے سوچا ۔۔۔یہ ایک خواب ہے انکے تھکے ماندے ذہنوں کا کوئی فریب ہے۔لیکن آوازیں جوں جوں قریب آگئیں۔۔۔انہیں یقین کرنا پڑا کہ کچھ ضرور ہونے والا ہے۔ وہ جلدی سے اپنی اپنی گپھائیںاور غار چھوڑکر باہر نکل آئے۔دوسرے اطراف سے بھی کافی لوگ نکل آئے تھے۔وہ سب بڑے جوش وخروش سے ایک میدان میں جمع ہونے لگے۔یہاں پر انہیں دور کچھ ہیولے اچھلتے کودتے نظر آئے جو یقینا نقارچی ہی تھے۔ آسمان تاریکیوں میں ڈوباہوا تھا۔کہ چاندنی گہرے بادلوں کی آ

گُلاب کوٹھی

گورکّن ہونا باعثِ افتخار نہ سہی اور گورکن نچلے طبقے میں ہی شُمار سہی، اُسے اس بات کی پرواہ نہیں تھی ۔ وہ ایک گورکّن تھا ۔ نام سرتاب علی بیگ ، عُمر لگ بھگ پچاس برس کی ، توانا ، لحیم شحیم ، محنت کش اور صاحبِ صلواۃ ۔ بڑا نیک تھا اور پیشے سے ظاہر ہے، گورکّن ہی تھا ۔ پیشہ باپ دادا سے وراثت میں ملا تھا ۔  ثواب کا کام تھا۔ سو آگے بھی اپنایا ۔ پھرحلال کی کمائی تھی، بڑی برکت تھی اور اسی پیشے سے گھر کا چولہ چوکھا بھی جلتا تھا ۔ شہر کے سب سے بڑے قبرستان کا ایک نامور گورکّن تھا ۔  سو کافی جان پہچان بھی تھی۔ صُبح شام ، گرمی سردی ، جاڑا یا برسات،  وہ اپنا پسینہ بہاتا رہتا تھا اور اپنے معاونین کے ساتھ ہمہ وقت کام میں جُٹا رہتا تھا ۔ جاڑوں کا موسم اور خُنک ہواوں کا راج تھا۔ ٹھنڈ بڑھ گئی تھی ۔ قبرستان کے گردونواح میں ایستادہ پیڑ پودے اور مختلف اقسام کی جھاڑ جھاڑیاں جیسے ٹھنڈ سے نبرد

"میں نے شیر دیکھا"

پچھلے کئی سالوں سے ہمارےگاؤں اور مضافات میں مختلف لوگوں نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ انہوں نے گاوں کے اطراف میں شیر دیکھا- حالانکہ شیر کی اصل رہایش گاہ یہاں سے اوپر جنگلوں میں ہوا کرتی ہے۔ مگر جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے ان کو مجبور ہوکر بستیوں میں اترنا پڑتا ہے۔ بہرحال میں نے ایسے بہت سے قصے سنے ضرور ہیں مگر اپنی آ نکھوں سے  کبھی کسی شیر کا دیدار نہ کیا۔ اگر دیکھا بھی  تو وہ بھی سوشل میڈیا پر جب گزشتہ دنوں ہمسایہ گاؤں میں لوگوں نے شیر دیکھتے ہی وائڈلائف والوں کو خبر کی جو اسے پکڑنے میں کامیاب ہوئے- اسی طرح جب ایک سال پہلے میرے والد صاحب نے اپنے باغ میں شیر دیکھا اور شام کو آکے ہمیں یہ قصہ سنایا تو مجھے یقین ہو گیا کہ واقعی  اس علاقے میں  شیروں نے اپنا ڈھیرا جما ہی لیا  ہے- اس سے پہلے بھی میں نے لوگوں کو یہ دعوا کرتے ہوئے سنا مگر یقین کی کوئی صورت ہاتھ نہ