تازہ ترین

قربانی

ورکس منسٹر مسٹر شمیم احمد پر جلسے میں حملے کی خبر چاروں طرف پھیل گئی۔دیر رات مسٹر شمیم صاحب اپنی بیوی کے ساتھ ٹیلی ویژن پر آج کے جلسے کا ٹیلی کاسٹ دیکھ رہے تھے۔خبر آئی کہ آج ورکس منسٹر عزت مآب شمیم صاحب کو جلسے میں ایک نا معلوم شخص نے دن دھاڑے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مستعدی   سے حملہ آور کو بر وقت دبوچ لیا۔جامہ تلاشی لینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بھیس بدل کر آیا تھا۔اُس کی جیب سے ایک تیز دھار والا چاقو برآمد ہوا۔ہاتھوں میں ایک عجیب قسم کی خوشبو والا پھولوں کا ہار تھا۔۔پولیس کو مذید تحقیقات کے بعد پتہ چلاکہ حملہ آور مغل پورہ تحصیل چاند گڈھ کا رہنے والا ہے۔نام عبداللہ آہنگر ولد سبحان آہنگر ہے۔گھر میں بالکل اکیلا ہے۔پولیس اُسکے دیگر ساتھیوں کی تلاش میںہے۔ خبر سُنکر شمیم صاحب اور اُسکی بیوی شبنم احسان سکتے میںآگئے۔دونوں کے ہوش اُڑ گئے۔شبنم صاحب کی حالت غیر

عزیزہ

 موسم جو بھی رہا ہو ۔ جاڑا ، برسات ، ہوا ، طوفان یا پھر لاوا اُگلتی ہوئی گرمیاں ، ہم اُس بزرگ خاتون کو اکثر  دیکھتے تھے ، بلکہ بلاناغہ دیکھتے تھے ، کیونکہ ہمارے اسکول کا راستہ ان کے گھر کی بغل سے گُزر کرجاتا تھا ۔  سو اس گزُر گاہ سے  گُزرنا ہی پڑتا تھا ۔ مستقل آوا جاہی تھی اور روز کا آناجانا بھی ۔ طِفلِ مکتب ہی سہی ، توجہ اِس بُزرگ خاتون کی طرف مرکوز ہو ہی جاتی تھی ۔ کیونکر نہ ہوتی؟ وہ توجہ طلب تھی اور خاصی غور طلب بھی ۔ کوئی بھی اس کی حرکات و سکنات کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔ پھر ہم تو بچے تھے ۔ کم سن اور نافہم ۔ کچھ زیادہ سمجھ نہیں پا رہے تھے ،  مگر چند لمحے اسے دُور سے دیکھنے کا من تو کرتا ہی تھا ، حالانکہ ڈرتے بھی تھے کہ کہیں یہ خاتون پتھر وغیرہ پھینک نہ دے ، مگر چھوٹے من اور دماغ سے اسے ایک نظر دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کی سوچ ہی لیتے تھے ۔ تھ

چلتی پھرتی لاشیں

توبہ توبہ! لاشیں سڑک پر چل رہی ہیں۔پہلے تو کھبی ایسا نہیں دیکھا میں نے۔کسی نے ایک دن مجھ سے کہا تھا کہ ایک بار لوگوں نے ایک لاش کو سڑک پر چلتے دیکھا تو سارا گاؤں ایک مہینے تک گھر سے باہر نہیں نکلا تھا۔ میں کیوں اتنا پریشان ہو گیا ہوں ان لاشوں کو دیکھ کر ۔خوف وہراس کی تو نہیں لیکن حیرت کی بات ضرور ہے۔بھلا لاشیں کہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اچھا تو کسی سے دریافت کر لیتا ہوں،مگر کس سے دریافت کروں ۔کیا لاشیں میرا کہا سن سکتی ہیں۔چلو ایک بار کہہ کر دیکھ لیتا ہوں ۔جب وہ چل پھر سکتی ہیں تو جواب بھی دے سکتی ہیں۔سوال کرنے میں کیا ہرج ہے۔ "ارے سنو!" "بولو!" افوہ!.....لاش نے تو میری بات سن لی۔۔۔۔انتہائی حیرت کی بات ہے۔ "بھائی،میں جو دیکھ رہا ہوں،کہیں یہ فریبِ نظر تو نہیں ہے۔!" "کیا دیکھ رہے ہو؟" "چلتی پھرتی لاشیں!" &qu

احساس

انسپکٹر رحمان کا بس نام ہی رحمان تھا وراس میں رحم نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں ۔باتیں بڑی میٹھی کرتا تھا لیکن اندر سے سانپ تھا سانپ ۔بھلا ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ کوئی کیس اس کے پاس آتا اور وہ اس سے چائے، مٹھائی اور نہ جانے کن کن ناموں سے پیسے نہ وصولتا ۔ سامنے والا کتنا مجبور اور بے بس کیوں نہ ہو۔دو چار جگہوں پر کوٹھیاں بنا رکھیں تھیں ۔اور بیوی کی مانگیں بھی روز بہ روز بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔آج بھی انسپکٹر رحمان ڈیوٹی پر جانے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اسے فون آیا۔ دائیں ہاتھ سے ٹائی کا ہُک ٹھیک کرنے لگا اور بائیں ہاتھ سے فون رسیو کیا۔ہیلو ۔۔سامنے والے نے اپنا تعارف دیا، مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ انسپکٹر برس پڑا۔۔۔نہیں نہیں تب تک یہ نہیں ہو گا جب تک مجھے میرا حصہ نہیں ملے گا مجھے بیوی کے لیے نئے جھمکے لانے ہیں اس مہینے اور جھٹ سے فون رکھ دیا۔ جھمکے سنتے ہی بیوی کچن سے دوڑی دوڑی چلی ا

صورت

مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ہے۔ مجھے روز روز بازار جانا بالکل بھی پسند نہیں ہے۔آج آخری بار آؤ پھر کبھی نہیں بولونگی۔آپ تو ہمیشہ یہی کہتی ہیں۔ ثریا اور آپی دو بہنیں ہیں۔آپی ثریا کی بڑی بہن ہے لیکن دونوں کا مزاج بہت مختلف ہے۔آپی کا دل گھر کے کام کاج میں بالکل بھی نہیں لگتا ہے۔ اکثر وہ اپنی چھوٹی بہن کو اپنے ساتھ بازارچلنے پر مجبور کرتی ہے۔اس کی ماں بھی آپی کی طرح ہو بہوہے۔جب کبھی ثریا بازار جانے سے انکار کرتی تو اس کی ماں بہت ساری باتیں سناتی۔ثریا کا رنگ کالا تھا اور اکثر آپی اسے کہتی کہ تو کتنی کالی اور میں کتنی سفید ہوں،تم تو بالکل بھی اچھی نہیں ہو۔ان سب باتوں سے وہ بہت دکھی ہوتی ۔ ایک روز وہ دونوں بازار جا رہی تھیں کہ اچانک سے آپی کی ملاقات کچھ سہیلیوں سے ہوئی۔ آپی کیسی ہو اور یہ کون ہے  ؟ یہ یہ ۔۔۔یہ میری کرزن سسٹر ( (cousin sisterہے۔ ثریا کا رنگ ہ

دعوت

لال دین کی شادی کچھ روز بعد ہی طے پا چکی تھی۔ تقریب کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ اب دوستوں، ہمسایوں اور رشتے داروں کو دعوت پر بھلانے کا مسئلہ تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی نجم دین ایک بڑی تقریب منانے کے حق میں نہیں تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کچھ خاص لوگوں کو ہی شادی پر دعوت نامہ بھیج دیا جائے کیونکہ گزشتہ دو سالوں سے نہ میوہ باغات سے کچھ خاص آمدنی حاصل ہوئی تھی اور نہ ہی ماہوار گھریلو آمدنی سے کچھ خاص بچت ہوئی تھی کیونکہ ان کی عمر رسیدہ بیوہ ماں بہت سالوں سے بستر مرگ پر ہے ۔ وہ معدے کے کینسر کے مرض میں مبتلا ہے ۔ اب دونوں بھائی سوچ وبچار کر رہے ہیں کہ کس طرح اور کن لوگوں کو دعوت دی جائے۔ شادی کے روز انہوں نے ایک بھیڑ اور ایک بکرے کو زبح کرکے وازوان تیار کیا ۔ نجم دین نے اپنے بڑے بھائی کیساتھ مشورہ کرکے شادی کے روز ہی مہمانوں کو بُلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لال دین شش وپنج

نیلا جزیرہ

ڈیوڈ جان کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو لکڑیوں اور گھاس پھونس سے بنے ایک چھوٹے کمرے میں پایا ۔ایک توانا شخص، جس کے بدن پر برائے نام لباس تھا، تیر کمان لئے بڑی مستعدی سے اس کے پاس کھڑا تھا ۔اس نے اُٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ سکا کیوں کہ اس کے جسم کا انگ انگ درد سے چور تھا اور شدید پیاس بھی لگی تھی۔اس کے پاس موجود شخص نے جب دیکھا کہ اسے ہوش آگیا تو اس نے کسی کو آواز دی جس کے ساتھ ہی اُسی جیسے دو اور اشخاص کمرے میں داخل ہو گئے اور وہ تینوں آپس میں کچھ گفتگو کرنے لگے ۔  ’’پانی ۔۔۔۔۔۔ پانی ۔۔۔۔۔‘‘۔ ڈیوڈ کے مُنہ سے دھیرے سے نکلا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ایک شخص دوڑ کے گیا اور مٹی کے ایک برتن میں پانی لے آیا جب کہ دوسرے نے اُسے سہارا دیکر اٹھایا اور پانی پلایا ۔کچھ دیر بعد اس کے سامنے گرم گرم چائے اورسادہ روٹی رکھی گئی جس کے ساتھ ہی دو اشخاص چلے گ

آخری سَزا

میں نے زندگی کو کئی پہلوؤں سے دیکھاہے مگر آج زندگی مجھے جس پہلو کی اور لے آئی وہ واقع میرے لیے نیا تھا ۔میں اکثر آج بھی اُس واقعہ کو سوچ کر حواس باختہ ہو جاتا کہ لوگ کیسے بدل جاتے ہیں ‘ زندگیاں کیسے بدل جاتی ہیں، وقت بدل جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ وقت ہمیں اس موڑ پر لے آتا ہے کہ ہم بے بس ہوجاتے ہیں اور پھر خود بہ خود سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ ہر روز کی طرح آج بھی میں آفس جانے کی تیاری میں تھا کہ اچانک میری گلی میں ایک فقیر نے صدا دی کہ اللہ کے نام پر کچھ دے دیجیے مگر کوئی اُسے کچھ نہیں دے رہا تھا ۔اُس نے بہت دیر انتظار کیا مگر اُس کی آہ وزاری ناکام ہی رہی۔۔۔۔۔۔میں یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا مگر میری زبان سے کچھ نہ نکلا ۔اتنی ساری بھیڑ میں بھی اُ سکا دامن خالی ہی تھا ۔وہ حسرت بھری نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھامگر اُس کا دامن پھر بھی خالی کا خالی ہی رہا۔نہ جانے کیا با

چارہ گر آئے گا!

نظام پور کی بستی میں آج خوشی کی لہر ہے۔ کیوں نہ ہو!اس بستی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے آج ایک نئی تاریخ جو رقم کی ہے۔ نوبل انعام ملنا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے، وہ بھی فزکس کے شعبے میں۔۔۔ پورے ملک سے شائع ہونے والے اخبارات اور سائل میں رضوان کی کامیابی کی تفصیل مع تصویر صفحۂ اوّل پر شائع ہوئی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ غرض ہر جگہ رضوان ہی رضوان ہے۔ رضوان آجکل ہارورڈ یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل اُس نے اسی یونیورسٹی کے (Astrophysics) کے شعبہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔  رضوان ایک ہونہار طالب علم ہونے کے ساتھ ہی سنجیدہ مزاج بھی ہے۔ ہر وقت گُم سُم اور نِت نئے خیالات میں ڈوبا رہنے والا۔ دن کو فرصت نہ رات کو آرام۔ ہمہ وقت فزکس کی کسی نہ کسی گتھی کو سمجھنے اور سمجھانے میں ڈوبا رہتا ہے۔  ایک دفعہ اس کے دوست 'اظہر نے

احساس کی موت

تم نے مجھے زہر پلا کر مارا تھا۔۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ تم نے مجھے پھانسی دے کر مار ڈالا تھا۔۔۔ مگر نہیں ۔۔۔ میں دراصل دَم گُٹھنے سے مرا تھا! اُسی دن ہاں۔۔۔ ہاں بالکل اُسی دن جب میرے سائیز کا پیرہن تم کو برابر ہوا تھا ! اور اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے تُم نے میرے ارمانوں کا خون کیا تھا! میں نے آخری لمحات میں اپنا کلمہ خود پڑھا تھا۔ میں نے تمہیں حسرت کی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ تم سے بچھڑنے کا غم مجھے سانپ کی طرح ڈس رہا تھا۔ ہر باپ اپنی اولاد کی خاطر اسی طرح فکر مند رہتا ہے۔ اِب برآمدے پر کون تمہارا انتظار کرے گا؟ کون تمہارے آنے کے لئے بے قرار ہوگا! کون اب تمہاری راہیں تکتا رہے گا؟ تم کس کے ساتھ اب اپنا دُکھ بانٹو گے؟ تمہارے آنسو کون پونچھے گا؟ اب تم کس سے رُوٹھو گے؟ کون تمہیں منائے گا؟ یہ سارا غم مجھے پریشان کرتا تھا! میرے لخط جگر! مجھے دیکھ کر تم اَن دیکھی کا کھیل کھیلتے تھے۔ تمہاری نادا

لطافتوں کا پر کیف نغمہ

سر مد نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اس کی نگاہوں کے سامنے امی کا آنکھوں سے لبریز چہرہ آگیا،جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہوجایا کر تی تھیں ۔ امی اس کے لیے ایک دوست سے کم نہ تھیں ۔ سب بھائی بہنوں سے زیادہ سر مدہی کو اپنی ماں کی قربت حاصل تھی ۔سر مد کے والد ایک اعلی تعلیمی ادارہ میں استاد تھے اور اس کی امی محض ایک گھریلوخاتون تھیں ، جو اپنے بچوں سے بے حد محبت کر تی تھیں ۔ سرمدکو جب یہ بات پتہ چلی کہ اس کی امی ذہنی طور پر بہت پریشان رہتی ہیں تو اس نے اس بات کی وجہ جاننی چاہی ۔ کافی کریدنے کے بعد جب اس پر حقیقت عیاں ہوئی تو اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ۔ حقیقت کو ماننا اس کے لیے بے حد مشکل تھا لیکن اس کے غلط ہونے کی بھی گنجائش نہیں تھی ۔ وہ اس بات سے واقف تھا کہ والد صاحب اپنی طالبات میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ لیکن یہ حقیقت اس پر عیاں نہ تھی کہ وہ اس عمر میں بھی ایسی حرکتیں کر تے ہوں گے وہ یہ

آٹو رِکھشا 786

  زندگی اب ایک آٹو رکھشے کے اردگرد ہی گھوم رہی تھی ۔  صُبح گھر سے نکلنا ، دن بھر شہر کی سڑکیں ناپنا اور پھر شام یا دیر رات گئے گھر پہنچنا ۔ دائرے کا سفر تھا جو صُبح گھر سے نکلتے ہی شروع ہوتا تھا ، دن بھر شہر کی کچی پکی ، ٹیڑھی میڑھی ، پیچدار اور بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر سے بھاگم دوڑ کرنے کے بعد سے گزُرتا ہوا شام کو پھر گھر پہنچ کر ختم ہوتا تھا ۔ کبھی کبھار یہ سفر رات دیر گئے تک جاری رہتا تھا اور بھُگتنا بھی پڑتا تھا ۔  میں رات دیر گئے گھر پہنچتا تھا ، تبھی گھر میں میری خُوبصورت بیوی عرشی ہزار وسوسوں کے بیچ دروازہ کھولتی اور غُصہ کرتی ہوئی مجھے اپنی تیز نظروں سے گُھورنے لگتی تھی اور ٹکٹکی باندھے مجھ سے مخاطب ہوکر کہتی تھی ۔ " کیوں جی مسٹر سات سو چھیاسی ؟ کہاں رہے اتنی دیر۔؟" وہ بڑی پریشان نظر آتی تھی ۔ " اری پگلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟  میں کچھ کہنے کی

اُلجھی نظر

اٹھوبیٹا کالج نہیں جانا ہے بہت دیر ہو جائے گی، بیٹا اٹھو۔ ماں آج میرا دل نہیں کر رہا ہے کالج نے کا۔آج میں گھر میں ہی رہوں گی ،پلیز ماں ۔۔۔ شیما اور اس کی ماں انجم ابھی باتیں ہی کر رہی تھیں کہ اچانک سے شیما کا چھوٹابھائی یونس روتے ہوئے کمرے میں آیا۔ یونسـ:۔ماں مجھے ساحل نے مارا ۔وہ سبھی بچوں سے کہہ رہا تھا کہ میری ماں اچھی عورت نہیں ہے اور سبھی بچے اب میرے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے۔یہ سن کر انجم کی آنکھوں میں آنسوں آئے اور اُس نے یونس کو اپنے سینے سے لگالیا ہے۔شیما کو یہ سب سن کر حیرانگی نہیں ہوئی کیوںکہ اس کو اس بات کا سامنا روز کرنا پڑتا تھا ۔اسی لیے وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانا ڈھونڈتی رہتی تاکہ وہ گھر میں ہی رہے۔ کچھ دیر بعد ہی اُن کے گھر میں وہ آدمی آیا جس کی وجہ سے گاؤ ں کے سبھی لوگ اس کی ماں کو غلط سمجھتے ہیں۔شیما اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی دیکھ رہی ہے۔

افسانچے

زندگی ایسی بھی امجد کے بھائی نے واٹس ایپ پہ گروپ کھولا تھااور اس میں سبھی رشتہ داروں کو ایڈ کیا تھا۔اس کو بھی کیا تھا۔اس کے کچھ رشتہ دار سرکاری ملازم تھے اور کچھ اچھے تاجر۔لاک ڈائون میں سبھی رشتہ داروں کے بچے کبھی شام کے وقت اور کبھی دن میں بھی اپنے اپنے گھروں میں تیار کی فئی ڈشز کی تصاویر گروپ میں ڈالتے تھے ۔۔کبھی سموسے۔۔کبھی پھل۔۔کبھی مٹھائیاں ۔۔کبھی مصالحہ مرغ۔۔۔ وغیرہ۔۔۔۔ امجد کے دونوں بچے دس سال کی کوثر اور آٹھ برس کا ندیم۔۔انُ سبھی نعمتوں کو دیر تک تکتے رہتے تھےکیونکہ ان کے گھر میں صرف دال چاول پکتا تھا اور کچھ نہیں۔۔باپ ان کا مزدور تھا۔دن کو کماتا تھا اور رات کو بیوی بچوں کا پیٹ بھرتا تھا۔اس نے ایک بار دونوں بچوں کو دیکھا جو للچائی نظروں سے مختلف قسم کے پکوانوں کو تکے جارہے تھے۔۔آنکھوں میں سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔۔جی میں آیا کہ دونوں بچوں کو گلے سے لگا کر خوب رولے۔ ۔۔مگر

افسانچے

ڈل جھیل برسوں بعد آج میں ڈل جھیل کے کنارے آ بیٹھا۔مجھے بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب میں پاپا کے ساتھ یہاں آتا تھا۔ میں پاپا سے پوچھتا تھا۔ "کیا یہ جنت کی نہر ہے؟" اس معصوم سوال پر وہ کہتے تھے۔"ہاں، یہ جھیل خدا نے جنت سے بھیجی ہے۔" بہت دیر تک میں کتاب ماضی کی اوراق گردانی کرتا رہا۔اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی جو مجھ سے تھوڑی دور ی پر مچھلیوں کے شکار کے لئے جھیل کے کنارے خاموش بیٹھا تھا۔ میں کچھ سوچ کر اس کے پاس پہنچا اور تھوڑی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔پھر پوچھ بیٹھا۔ "بھائی صاحب، بہت دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ بڑے سکون کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن آپ کے وجود میں کوئی ہلچل نہیں،کوئی بے چینی نہیں،کوئی ولولہ نہیں۔۔۔۔ بس خاموش بیٹھے ہیں،جبکہ دوسرے۔۔۔" میری بات مکمل ہونے سے قبل ہی وہ بول پڑا۔ "صاحب ، آپ کو سکو

خط کا اِنتظار ۔۔۔

’’آج پھر اُس کاخط آیا ہوگا‘‘زور زور سے چِلاتاہوا ایک نوجوان لڑکا اپنے گھر کی Door Bell(کے دروازے کی گھنٹی ) کی اور بھاگا۔ اُس نے نہایت جوش و مستی میں جو ںہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک شخص کے ہاتھ میں بہت سارے اخبارات پا کر اُ سکا چہرہ اُتر سا گیا، جیسے اچانک اُس کی خوشیوں پر کسی نے پانی پھیر دیا ہو ۔وہ غمگین نگاہوں سے اس آدمی کی اور دیکھے جا رہا تھا اور پھر جیسے اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔اُس نے غمگین انداز میں اس آدمی سے پوچھا آپ ڈاکیہ ہیں نا؟لایئے میرا خط مجھے دیجیے۔ یہ کہہ کر وہ مذکورہ شخص کا بستہ ٹٹولنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔اس آدمی نے جھٹ پٹ اُس کے ہاتھ اپنے بستے سے چھڑاتے ہوئے کہا !’’ارے ارے بھائی صاحب کیا کر رہے ہیں آپ ؟میں کوئی ڈاکیہ نہیں بلکہ اخبار بیچنے والا ہوں‘‘۔تمہیں میرے ہاتھ میں اخبار دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا کہ میںکون ہوں

افسانچے

گُڑیا کی شادی شاہجہان پور کی ہاوسنگ سوسائٹی میں تین پڑوسیوں کی بچیاں حور، شیریں اور چھایا ، ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں ،کبھی ایک سہیلی کے گھر تو کبھی دوسری کے گھر اپنے کھلونے  لے کے روز جاتیں۔حور کبھی کبھار ہی نظر آتی کیونکہ وہ اکثر  بابا کی ڈیوٹی کی وجہ سے شہر سے باہر رہتی تھی۔ شیریں اور چھایا  کے پاس جب بھی نئے کھلونے آتے وہ اپنے گڑا  اور گڑیا کی شادی رچاتے۔ اس بار شیریں کے پاس پیاری سی گڑیا تھی، جو سمندر پار سے ماموں  جان نے خاص شیریں کے لئے لائی تھی۔ جس کے لمبے سنہرے بال اور گہری نیلی آنکھیں تھیں ۔ مانو جیتی جاگتی اپسرا تھی۔ جو بٹن دبانے سے پلکیں جھکا کر مسکراتی تھی  اور مٹک مٹک کے چلتی تھی۔ شیریں کو گڑیا کیا مل گئی یوں سمجھو ساری کائنات کے اسکے ہاتھ میں آگئی ہو ، من ہی من اِتراتی کبھی گڑیا کے بال سنوارتی کبھی گود میں اٹھاتی، ہر دم گڑیا

بہو

جمال خان کے تین بیٹے تھے ۔ دو کی شادی ہوئی تھی اور تیسرا جو سب سے چھوٹا تھا ابھی کنوارا ہی تھا ۔ دونوں بیٹوں نے شادی کے کچھ سال بعد ہی اپنے الگ گھر بسائے ہیں ۔ جب بھی جمال خان کو اپنا کوئی دوست یا رشتہ دار اسکی وجہ پوچھتا تھا تو اس کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے ۔ " بڑی بہو کو اکثر اپنی بہنیں اور ماں الگ گھر بسانے کے لئے اکساتی تھیں ۔ زیادہ دیر تک وہ سسرال میں نہیں ٹکتی تھی اور اکثر چھوٹی موٹی باتوں کا بہانہ بنا کر میکے کا رخ اختیار کرتی تھی ۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی جب وہ نہیں سدھر ی تو شوہر نے اسکے لئے الگ گھر بسانے کا انتظام کیا۔ دوسری بہو دو تین سال تک ایک اچھی عورت کی طرح گھر کا ہر کام کرتی تھی اور تمام ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتی تھی لیکن کچھ سال بعد ہی اس کو بھی بڑی بہو کی طرح اپنی بہنوں نے الگ گھر بسانے کے لئے مجبور کیا " جمال خان نے ا

عجب درویش لڑکی تھی

عجب درویش لڑکی تھی  سارا شہر پریشاں تھا  یہ کوئی افواہ نہیں،سچی خبر تھی جو آگ کی طرح پھیل گئی ۔ کچھ دن پہلے  وہ ٹھٹھک گیا  جب بھرے بازار میں اسکا بازو کسی نے تھام لیا اور اسکی انگلیوں میں جلتی سگریٹ سے کسی نے لمبا کش لیا ۔وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پایا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا  یہ دیکھ کر اسکی گگھی بندھ گئی کہ کش لگانے والا کوئی جانا  پہچانا شخص نہیں، ایک انجان بے حد حسین  لڑکی ہے ۔ نیلی آنکھوں والی  بے حد خوبصورت لڑکی۔۔۔۔۔۔ بلیک رنگ کی  ترچھی ٹوپی  پہنے، سنہرے بال جو اس کے شانوں پر بکھر کر غضب ڈھا رہےتھے ، بلیک کلر کا اوور کوٹ ، جس کے بٹن کھلے تھےجس وجہ سے اندر پہنی ہوئی بھورے رنگ کی سوئیٹر نظر آرہی تھی اور گلے میں چمکتی کچھ مالائیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ ان مالاؤں  میں ایک سبز رنگ کی

ہم ایک تھے

میرے بس میں ہوتا تو میں دل کے دہکتے ہوئے انگاروں کو تمہارے سامنے رکھتا، سارے شکستہ خوردہ اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے تمہیں آشنا کرتا اور چیختا، چلاتا ہوا کہتا کہ میں تمہیں نہیں بھول پا رہا ہوں، بلکہ تمہیں بھولنا شاید میرے بس میں نہیں ہے، لیکن میں مجبور اور بےبس ہوں۔ حدود، وقت اور حالات کے شکنجوں نے اس قدر چکڑا ہوا ہے کہ آزاد ہونے کی سبھی تدبیریں پھیکی پڑ رہی ہیں۔ میرے ہونے کے احساس سے میں خود محروم ہوں، ایسا لگ رہا ہے میری زندگی نے موت کا لبادہ اُوڑھ لیا ہے،دن بدن میرا دم گھٹتا ہی جا رہا ہے، ہر ایک گزرتا ہوا لمحہ میرے لئے کسی روزِ محشر سے کم نہیں۔ میں اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہوں۔ بلکہ ٹوٹ کے بکھر چکا ہوں اور کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوں جن کو سمیٹنا ناممکن سا معلوم ہوتا ہے۔ تمہاری یاد کا خنجر بھی دن بہ دن میرے دل کو چیرتا ہوا چھلنی ہی کئے جا رہا ہے۔میرے ذہن میں متواتر افسردہ خیالات کی گردش