تازہ ترین

چوکیدار

۔۔۔۔۔ تب سے میں ایک زندہ لاش ہوں اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے آس پاس ہورہا ہے۔ میرے جانے کے بعد ہی میرا قلم نیلام ہوا۔ شہر کے ایک پبلشر نے مجھے نوے فیصد ڈسکونٹ پر فروخت کیا۔  بیڈ روم، ڈرسنگ روم اور ڈرائنگ روم کی آرائش کے دوران میرے البم، جسمیں میرے یادگار فوٹو لگے تھے، کومکان کے اُس سٹور میں رکھا گیا جہاں ہم غیر ضروری اشیا کو رکھتے تھے۔ چوہوں نے وہاں میرا ستیاناس کردیا۔ میری شریک حیات کے لئے اُس البم کو دیکھنا جرم سے کم نہیں تھا۔ وہ کربناک منظر ہنوز میرے تصور کے عالم میں ہلچل مچارہا ہے۔ جب میرے اپنوں نے میرے افسانوں اور ڈراموں کے سکرپٹ ردی کاغذ خریدنے والے کوپلاسٹک جگ کے عوض فروخت کئے۔ وہ پلاسٹک جگ آج ہمارے واش روم میں استعمال ہورہا ہے۔! تماشہ بین بچوں نے میری تصویروں کو آپس میں بانٹ دیا۔ اُن بچوں میں زینب کا تین سالہ بچہ آفریدی بھی تھا۔ آفریدی نے م

سُلگتے ارمان

صبح کی فضا سورج کی کنواری کرنوں میں نہا رہی تھی،خوش لہن پرندوں کی سریلی آوازیں ماحول میں ترنم پیدا کر رہی تھیں۔ رشید بستر پر لیٹے اس پر کیف منظر سے محظوظ ہوتے ہوئے نہ جانے کن سوچوں میں گُم تھا کہ سرہانے رکھااس کا موبائیل فون بج اٹھا ۔اس نے آنکھیں ملتے ہوئے فون اٹھا یا۔ ’’ہیلو۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔دل افروزبات کرو۔۔۔۔ کل پرسوں تک میں آجائوںگا۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔‘‘۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور فون منقطع ہوگیا۔اس نے کئی بار واپس فون کیا لیکن جواب ندار۔ پہلے سے ہی پریشان رشید کواب گھر کی یادوں نے بری طرح گھیر کر بے چین کردیا۔اپنی گھروالی دل افروز کا شکوہ بھرا چہرہ آنکھوں کے سامنے آگیااور بچوں کی میٹھی توتلی آوازیں کانوں سے ٹکرانے لگیں۔ ’’ہائے میرے ارمان ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ کہتے ہوئے وہ بستر سے اٹھ کر دیوار پر آویزان کلینڈر ک

’’فلک بھی برس پڑا‘‘

ساون کا مہینہ تھا ۔آسمان پر تھوڑے تھوڑے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج بادلوں کے پیچھے اپنی منزل کی جانب گویا لڑھکتا ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی تھی ۔ میں اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی تھی ۔میرے ہاتھ میں ایک کتاب اور میں اسکا مطالعہ کر رہی تھی۔میں نے بائیں جانب دیکھا ۔اپنے پڑودسی کے لڑکے عد نان کو پایا۔اس کی عمر یہی کوئی دس،گیارہ سال کی ہوگی۔وہ خندہ پیشانی سے میرے روبروہوا اور مجھ سے پوچھا ، ’’دیدی آپ کیا پڑ ھ رہی ہو‘؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔’’سائنس پڑ رہی ہوں ‘‘۔’’ ’’اوہ!۔آپ بھی ڈاکٹر بنو گی؟‘‘اس نے حیرت سے پوچھا ۔ ’’نہیں میں ٹیچر بننا چاہتی ہوں َ‘‘۔ میں نے سر سری نظر سے سے اسکی جانب دیکھ کر کہا ۔میں بدستور اپنی کتاب کا مطالعہ کرنے لگی۔عد نان مجھ سے سوال پہ