’’یہ کیسی شرم ‘‘

گاڑی سے نیچے اُتر کر عالیہؔ کچھ ہی دور چلی تھی کہ اُس کی سینڈل کی نس کٹ گئی وہ ایک ہی جگہ پر بُت کی طرح ساکت ہوگئی اِدھر اُدھر دیکھامگر موچی کی دُکان کہیں نظر نہیں آئی۔مجبوراََایک راہ گیر سے پوچھنا پڑا۔’’بھائی صاحب یہاں نزدیک میں کسی موچی کی دُکان ہے ۔‘‘ ’’ہاں ہاں۔۔۔۔۔وہ گلی ہے نا۔اس کے نکڑ پر ہے۔‘‘ عالیہؔآہستہ آہستہ سینڈل گھسیٹتے ہوئے دُکان تک پہنچی ۔وہاں ایک ہٹے کٹے خوبصورت نوجوان کو دیکھ کر اسے بالکل یقین نہیں ہوا کہ یہ جوتے چپل ٹھیک والا ہوگا۔اُس نے سینڈل آگے کر کے کہا۔ ’’میری سینڈل کٹ گئی ہے اس سے ذرا ٹھیک کر دو ‘‘ ایک گوری چٹی فربہ اندام لڑکی کودیکھ کر موچی بولا۔’’لائو میں ٹھیک کر دیتا ہوں۔ تم بیٹھ جائو  ‘‘ عالیہ چاروناچار سامنے رکھے ایک اسٹول پربیٹھ گئی مو

سو شل ڈسٹنس

’’شکر ہے تیرا میرے مولیٰ کہ تو نے مجھ پر رحم فرمایا،واقعی میں نے بہت بڑی غلطی کی تھی ۔۔۔۔۔‘‘ راحیلہ ،جو کئی دنوں بعد آج کسی حد تک سکون محسوس کررہی تھی ،خود سے بڑ بڑاتے ہوئے اپنے آنگن میں کرسی پر بیٹھی اور موبائیل فون پر سوشل میڈیا کا نظارہ کرنے میں محو ہو گئی ۔راحیلہ کو جس واقعہ نے پریشان کر رکھا تھا قریب پندرہ دن گزرنے کے بعد وہ آج اس پریشانی سے نکلی تھی ۔ہوا یوں تھا کہ راحیلہ نے اپنی سہیلی قرعت کے گھر دودھ پیا تھا جس کے چند دن بعد قُرۃکی بیٹی بخار میں مبتلا ہوئی تھی اور وہ اس شک میں مبتلا ہوگئی تھی کہ کہیں وہ اس وبائی بیماری کرونا وائیرس میں مبتلا نہ ہو، جس سے بہت سے لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں اور اس دودھ کے ذریعے یہ وائیرس مجھ میں بھی منتقل نہ ہوا ہو ۔اسے اس بات نے اور زیادہ پریشان کر رکھا تھا کہ اگر راحیلہ کی بیٹی اس بیماری میں مبتلا پائی گئی تو ان کے گھ

گھر

اکثر یہ بات میرے ذہن میں آکر بیٹھ جاتی ہے کہ گھر اور مکان میں کیا فرق ہے ۔یوں تو عام لوگوں کے لیے واقعی ا ن دونوں میں کوئی تفاوت نہیں ۔ لیکن میرے نزدیک ان دونوں میں ویسا ہی فرق ہے جیسا زندہ انسان اور مردہ انسان میں ۔اپنے اس قول کو سچ ثابت کرنے کے لیے میں نے آج ابو سے بھی یہی سوال کیا ’’ابو مجھے گھر اور مکان کے بیچ کا فرق سمجھائیے ‘‘۔ابو نے بھی مجھے تسلی بخش جواب دیاکہ بیٹا ’’ہر گھر مکان تو ہوسکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر مکان کو گھر گردانا جائے ۔مکان کو گھر اس میں رہنے والے لوگ بناتے ہیں یا اگر ہم یوں بھی کہیں کہ مکان کو گھر اس گھر کی عورت بناتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔‘‘یہ تسلی بخش جواب سن کر میں ابو کے کمرے سے رخصت ہوئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔میں ابھی بیٹھی بھی نہ تھی کہ پڑوسیوں کے گھر سے رونے کی آوازیں آئیں ۔لڑائیاں ،جھگڑے ،ناراضگیاں

اُمید کی کرن

ہلکی ہلکی بوندا باندی اب رفتہ رفتہ تیز بارش میں بدل چکی تھی۔ کوئی بارش سے بچنے کے لئے چھتری کا سہارا لے رہاتھا تو کوئی دکان کی چھت کے نیچے کھڑا ہو کر بارش کی تیز بوندوں سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔سڑک کی نچلی طرف لگے چنار کے درخت کے زرد پتے تیز بارش کی مار برداش نہیں کر پا رہے تھے اور تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ایک کر کے سڑک پر گر رہے تھے۔ ان کا گرنا یوں تو ایک عام سی بات تھی لیکن اصل میں وہ پتے انسان کو وقت کے بدلتے مزاج اور انسان پر آنے والے مختلف حالات کی عکاسی کر رہے تھے وہ چیخ چیخ کر انسان کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ یہی بارش کچھ ماہ پہلے جب وہ پتے بالکل سرسبز تھے انکا بال بھی بیکا نہیں کر پائی تھی لیکن آج۔۔۔۔۔! آج وہ پتے بارش کی ان ہی بوندوں کے سامنے بے بس نظر آ رہے تھے۔ان سرسبز پتوں کو زرد بنا کر درخت کی اونچائی سے زمین کی پستی پر لانے میں سب سے بڑا کمال "

تیرگی

  ہر شے پر سے شبنمِ بے نور روز کی طرح اوجھل ہونے کو تھی۔ پرندے آمدِصبح کے گیت اونچے ، بکھرے ، اور سہمے سروں میں کو بہ کو گنگنا رہے تھے۔ سورج کی کرنیں کمرے کی کھڑکی سے جوں ہی احمد کی آنکھوں  سے جا ٹکرائیں، اسکا نیند سے طویل ربط چشمِ زدن میں ٹوٹ گیا۔ احمد بستر سے اٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک اسکی نظر میز پر رکھے ہوے اخبار پر پڑی۔ جب غور سے مطالعہ کیا تو اسکے لب تھر تھرانے لگے ،  اسکے  پاؤں تلے  جیسے زمیں ہی کھسک گئی۔ تحریر شدہ ہر اِک لفظ خنجر کی طرح اسکے جگر پر پے در پے وار کرنے لگا۔ اخبار کے صفحۂ اول پر شائع خبر کا طلسم اس پر طاری ہونے لگا۔ احمد کے ہوش و خرد پر جیسے اسرافیل  نے صور پھونک دیا۔ رفتہ رفتہ تیرگی چار سو‘ چھانے لگی۔احمد زور زور سے رونے لگا، ہاتھ مَل کر چیخنے لگا۔۔۔ ’’ ممی! ممی میں ابھی زندہ ہوں! ابو میں مرا نہیں۔۔۔ میں ہیں ہوں

ممبئی تجھے سلام۔۔۔

سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڑے سے دن کے تین بجے ہوائی جہاز نے اُڑان بھردی۔ دھیرے دھیرے ہم دھرتی ماں سے رخصت ہورہے تھے۔ چند ہی منٹوں کے بعد ہمارا جہاز آکاش کی بلندیوں کو چُھو رہا تھا۔ جہاز میں میری نگاہیں اُونچی اُونچی برف پوش چوٹیوں سے ٹکرائیں تو مجھے یوں لگا گویا کہ میں کسی پرستان کے اوپر سے پرواز کررہا ہوں اور سفید لباس میں ملبوس پریاں میرے استقبال میں بانہیں پھیلا کر اِستادہ ہیں! کچھ ہی لمحات میں یہ دلفریب منظر میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ ہوائی جہاز اب بادلوں سے پرے ہوائوں کے دوش پرتیزی سے منزل طے کررہا تھا۔ شام ساڑھے پانچ بجے جہاز نے ممبئی کے چھترا پتی شیواجی ہوائی اڑے کے رَن وے کو چُھوا۔ آہستہ آہستہ جہاز نے رَن وے پر اپنی رفتار کم کردی اور رفتہ رفتہ ساکن ہوا۔ جہاز سے اُترتے ہی معتدل گرم ہوائوں نے میرے رخساروں کو چُوما۔ ہوائی اڑے سے فارغ ہوکر میں نے ٹیکسی اسٹینڈ میں سے ٹیکس

بے وفا

 ’’ دیکھو میں تمہیں کہہ چکا ہوں ۔ میں تمہارے ساتھ شادی نہیں کر سکتا ۔نہیں کر سکتا۔‘‘  ’’ کس نے کہا آپ میرے ساتھ شادی کرو ۔۔۔ شادی تو میں آپ کے ساتھ کر رہی ہوں۔‘‘  ’’ دیکھو یہ پاگل پن ہے جو تم کر رہی ہو۔ اس سے باہر آجائو ۔ پچھتائو گی۔‘‘  ’’ میں تو پچھتانے کے لئے ہی آپ کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ پچھتانے دو نا مجھے  پلیزززز۔‘‘   ’’ سمجھا کرو لڑکی ۔ تم ابھی جوان ہو ۔ خوبصورت ہو ۔ کوئی بھی نوجوان تمہارے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔ تم خوشحال زندگی گزار سکتی ہو۔ میرے تو صرف دو سال نوکری کے بچے ہیں۔ پھر میں رٹائیر ہوجائوں گا۔ ‘‘   ’’ سنئے سنئے ۔۔۔ سنئے نا۔۔۔ آپ کی یہ باتیں تو میں کئی بار سن چکی ہوں ۔ جانے کیو

دردبھری سحر

جولائی کے 15دن گزر چکے تھے ۔ہر طرف ہریالی تھی۔لوگ کھیتوں میں اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔کھیتوں میں عجیب رونق تھی۔موسم بھی خوش گوار تھا۔۔شام کو لوٹتے ہی لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو کہانياں سنایا کرتے تھے۔صبح ہوتے ہی لوگ پھر سے اپنے گھروں سے نکل کر کھیتوں میں اپنے کام کے ساتھ مصروف ہوتے تھے۔۔ شام کے چار بجے کا وقت تھا اور لوگ اپنے گھرں کی اور کوچ کررہے تھے۔۔ان لوگوں میں گھر جانے کی سب سے زیادہ جلدی شریفہ کوتھی۔کیوں کہ اس کو چھوٹا بچہ تھا ،جو صرف تین ماہ کا تھا۔شریفہ گھر پہنچی تو دیکھا کہ بچہ زور زور سے رو رہا ہے۔ اس نے جلدی جلدی ہاتھ دھوئے اور بچے کو دودھ پلانا شروع کردیا۔بچہ پھر بھی روتا رہا۔ شریفہ نے بچے سے کہا کہ غالب چپ ہوجا ورنہ ابو جان آجائینگے۔بہر حال غالب چپ ہو اور دودھ پینے لگا  اور اپنی ماں کی گود میں سوگیا۔ 6چھ بجے کا وقت تھا اور شریفہ اب شام کے کھ

تلاش

سہ پہرکا وقت ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہواوں کے دل ربا جھونکوں بسترے میں میرا دماغ تازہ اور ہوشیار سا لگ رہا تھاکہ اچانک باہر کے دروازے کی کُنڈی کھٹکی ۔میں کھڑکی سے جھانکااور ایک معصوم لڑکی کو صحن کے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بال بکھرے،دانت زرد اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے ۔اندر آتے ہی وہ دوڑ کے میرے کمرے میں چلی آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر عجیب لہجے میں مجھ سے محسن نامی کسی لڑکے کا پتہ پوچھنے لگی ۔اس کی آواز میں ایک عجیب سا درد تھا۔جس درد کو وہ اپنے الفاظ میں شائد پوری طرح سے اداکرنے کے اہل نہ تھی ۔میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کر کہا ۔تم کسے ڈھونڈ رہی ہو،یہاں کوئی محسن نہیں رہتا۔میرا یہ کہنا تھا کہ وہ ایک دم سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہنے لگی ،بھائی صاحب! انکار نہ کیجیے۔آپ نہیں جانتے میرا محسن سے ملنا کتنا ضروری ہے۔آپ کسی بھی طرح مجھے محسن سے ملوا دیجئے۔میں نے اسے ہاتھوں سے تھام ل

درد کی دہلیز

میرے ابا  اور چاچا کے درمیان نہ کوئی  مشترکہ بزنس تھا اور نہ ہی وراثت میں ملی کوئی اور دولت۔ فقط ایک گھر اور اس گھر کی دہلیز مشترکہ تھی۔مجھے اس دہلیز سے بڑی عقیدت تھی۔ میں اس دہلیز کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتا تھا کیونکہ اس دہلیز سے ہی تو میری محبت کی شروعات ہوئی تھی۔ اسکو پار کرتے کرتے میں اور میرے ساتھ ساتھ میری محبت بھی  جواں ہوگئی تھی اسلیے میں اس دہلیز کو محبت کی دہلیز مانتا تھا۔ محبت کہنے، سننے، اور لکھنے میں  جتنا چھوٹا، سادہ ، خوبصورت اور میٹھا لفظ ہے اتنا ہی وزن دار اور سنجیدہ احساس کا حامل۔ محبت کی لاج رکھ کر انسان واقعی محبت کوپاتا ہے لیکن محبت کی پہلی شرط وفا ہے۔  میں اپنے ابا کا اکلوتا بیٹا امروز ہوں جبکہ رب کائنات نے چاچا کو تین تین بیٹیوں سے نوازا  تھا۔ دو بڑی بیٹیاں خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ چاچا کی سب سے چھوٹی بیٹی وفا

افسانچے

کمائی  سیٹھ جی خوش تھے کہ اس نے صرف پانچ سو روپے میں زمیں کا اتنا بڑا ٹکڑا قابل کاشت بنوایا اور مزدور لسہ بابا حد سے زیادہ خوش تھا کہ اس نے آج اتنے روپے  کمائے کہ وہ  بیوی کی ساری فرمائشیں پوری کر سکتا ہے ۔سیٹھ  نے پانچ سو کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا تو لسہ بابا نے نوٹ ایسے لیا  جیسے کسی بہت بڑے پیر  صاحب کا تعویز لیا ہو ۔۔نوٹ کو ایسے چوما جیسے کوئی محبوب اپنی محبوبہ کو چومتا ہے۔ نوٹ کو بڑی احتیاط سے جیب میں رکھا اور کوئی گیت گنگناتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا ۔ آج میں چاول ،پیاز، آلو، تیل اور نمک ہی نہیں بلکہ نبہ قصائی کے گھر سے پائو بھر گوشت بھی لے سکوں گا۔ بیچاروں نے کئی مہینوں سے گوشت نہیں دیکھا ہے۔ دو دن سے بھوکے ہیں، آج پیٹ بھر کر کھانا کھائیں گے ۔اس نے تصور میں دیکھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گوشت اور چاول کھا رہاہے اور اس کی بیوی بہت خوش ہے۔

یہ کشمیر ہے

سری نگر کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے باہر آتے ہی یہاں کی خْنک اور یخ بستہ ہواوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا ۔  وہ ٹھٹھر سے گئے اور خْنک ہواوں کا مزا لینے لگے۔ بھوک سے نڈھال دونوں جرمن جوڑے اب کھانے پینے کی چاہ میں ایک اچھے سے ریستوران کی تلاش میں سرگرداں معروف سیاحتی  علاقے  بلیوارڈ روڈ پہنچ گئے۔  نیلے ساکت و جامد شفاف پانی سے لبالب شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کنارے موجود ایک معروف ریستوران میں داخل ہوئے اور اپنا آرڈر پلیس کیا۔  راستے میں سْنسان، شہرِ خموشاں کا نظارہ کرنے کے بعد ، اب وہ کشمیر کے پْر آشوب حالات کے بارے میں گفتگو کرنے ہی لگے تھے کہ ایک ویٹر ان کے قریب آیا اور بِنا کچھ کہے انہیں ایک پلے کارڈ دکھایا۔ " یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے " پلے کارڈ پر لکھا تھا۔ " اوکے او کے " ایک گول اور کْشادہ میز کے ارد گرد بیٹھے دو جرمن جوڑوں نے باری باری کہ

پریشانی

ایک بڑے اجتماع میں لوگ بے صبری سے مولانا صاحب کا انتظارکررہے تھے لوگ ادب سے بیٹھے تھے اور بڑے شائستہ انداز میںایک دوسرے سے بات چیت کررہے تھے۔بچے جوان بزرگ ہر عمر کے لوگ تشریف رکھے ہوئے تھے۔ ایک بزرگ اپنے قریب بیٹھے بزرگ سے بول پڑے۔ ’’میاں آپ نے مولانا صاحب کے کبھی دیدار کیے ہیں۔‘‘ دوسرے بزرگ بولے۔’’آج تک روبرو تو کبھی دیدا رنہیں ہوئے ہیںلیکن سنا ہے بڑے ذہین اور پہنچے ہوئے مولانا ہیں۔ ہر بیان میں بڑے بڑے مسائل بیان کرتے ہیں ۔‘‘ ’’میاں آپ نے ٹھیک سنا ہے یہ عصر حاضرکے ایک بڑے مولانا مانے جاتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہیںمگر فہم وفراست‘ دانائی اور عمل صالح میں یکتا ہیں۔بچے ان کی قسمیں کھاتے ہیں۔اللہ ہر ماں باپ کو ایسی اولاد عطا کرے۔‘‘ ’’آمین۔ایسے ہی صالح بندوں کے سبب دنیا قائم ہے۔

آئینہ فروش

’’کیا میرے سارے آئینے ناکارہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔؟‘‘   آئینہ فروش مایوس ہوکر اپنے آئینوںکو سامنے رکھ کر بڑ بڑایا ،اس کے دماغ میں راجا کے کہے ہوئے الفاظ اذیت بن کر گونج رہے تھے۔ ’’پیارے دیش واسیو ۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذہین و فطین سائنس دانوں نے دن رات ایک کرکے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوا میں اڑنے والا آگ کا ایک ایسا طاقت ور گولہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ نگری میں سب سے زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ بننے کا ہمارا دیرینہ خواب پورا ہو گیا ۔اب کوئی بھی دیش ہمارے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔ نہ ہی ہمارے ترقی کے منصوبوں میں روڑے اٹکانے کی ہمت جٹا سکتا ہے‘‘۔   آدم نگری کے ایک جزیرے کے راجا نے اپنی رعایا کے نام پیغام کی آڑمیںدل وذہن میں تکبر کے بلند و بالا پہاڑ لئے سینہ ُپھلا کر دھمکی آمیز لہجہ میں نگری کے دوسرے

اُجڑتے سپنے

لگاتار دو دن سے برف باری جاری ۔۔۔۔ رکنے کا کوئی نام ہی نہیں ۔۔۔۔۔حماد  اندر کمرے میں اتنا بے چین جیسے کہ جنت کے دروازے پر اسے کوئی زبردستی داخل ہونے سے روک رہا ہو اور وہ بے بس ہوکر مدد کی پکار میں اپنے بابا سے ۔۔ ۔ ’’بابا۔۔۔۔ بابا۔۔۔ کب رُکے گی برف باری ۔۔۔۔۔ کب رکے گی ۔۔۔۔۔بولو  ۔۔ نا۔بولو۔۔  ‘‘ ’’ مجھے باہر جاکے برف کا کا پُتلا اور برف کی سرنگ بنانی ہے ۔۔۔اور تو اور مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ برفانی گولے پھینکنے کی لڑائی بھی کرنی ہے‘‘ ’’ہاں یاد آیا ۔۔  میں نے راجو سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ ہم آنگن میںبرف پر پھسلنے (snow sliding) کا کھیل بھی کھیلیں گے ‘‘ حماد کی یہ تڑپ دیکھ کر اس کے بابا اظہر  مسکراتے ہوئے۔۔ ’’ہاں ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔سب کچھ کرو ۔۔۔۔برف کے ساتھ خوب ک

اللہ! اللہ! اللہ!

  اتوار کا دن تھااور نومبر کا مہینہ۔سورج بادلوں کے لحاف میں مُنہ چھپائے بیٹھا تھا۔بیچ بیچ میں ٹھنڈی دُھوپ اور چھاؤ ں آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ عظمت اُللہ کو فوج سے کیپٹن کی پوسٹ سے رٹائرڈ ہوکر گھر پینشن آئے کُل پندرہ دن ہوگئے تھے ۔ایک دن چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنی بیوی ساجدہ بیگم کو کہا ’’ساجدہ ! میں اپنے پرانے دوست اور محلے دار بُدھی سنگھ سے ملنے جارہا ہوں ‘‘ ساجدہ بیگم بولی ’’وہاں سے جلدی آجایئے گا ،بازار میں گرم کپڑوں کی سیل لگی ہے ۔میں اپنے اور بچّوں کے لیے سوئٹر اور جیکٹیں خریدنا چاہتی ہوں‘‘ ’’ہاں میں کوئی ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آجاؤں گا‘‘ اُنھوں نے ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح اُٹھائی اور اللہ کا ذکرکرتے ہوئے بُدھی سنگھ کے گھر کی طرف چل دیئے۔تھوڑے وقت کے بعد وہ

پگھلا ہوا سیسہ

’’تھوڑی لیں گے؟‘‘ نہیں، جس چیز کو میں نے ایک بار ترک کردیا وہ میرے لئے حرام ہوگئی۔۔۔ ہاں! اگر کوئی میرے سامنے پیے گا تو مجھے اعتراض نہیں۔۔۔‘‘ بے نیاز صاحب نے سلاد سے بھری ہوئی پلیٹ سے گاجر کا ٹکڑا اُٹھاتے ہوئے لاپرواہی سے آتش صاحب کے سوال کا جواب دیا۔ آتش صاحب کے حلق سے اُن کا یہ جواب نہ اُترا۔ اُس نے اِنکی بات کو کاٹنے کی بجائے اپنی ہی مثال دیکر کہا؛ ’’جناب میرے باطن اور ظاہر میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ میں کوئی نقاب نہیں پہنتا۔۔۔۔‘‘ ڈاکٹر بے نیاز صاحب کو آتش صاحب کی یہ بات ناگوار گزری لیکن چہرے پہ ملال کا کوئی نشان ظاہر نہ ہونے دیا اور مسکراتے ہوئے گوش گذار کردیا؛ ’’اِس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بہروپیا ہوں؟ میں نے ہی نقاب پہنی ہوئی ہے؟۔۔۔۔‘‘ ’’نہیں یار، میں نے آپ کے لئے ن

غربت

بچپن میں آصفہ سے یوں تو ہر خوشی نے جیسے ناطہ ہی توڑ دیا تھا اور اب اس کی طبیعت بھی ایسی ہی بن گئی تھی کہ وہ روتے روتے کبھی ہنس دیا کرتی اور ہنستے وقت اُس کی آنکھیں اشک بار ہو اکرتیں ۔قدرت کی تقسیم کاری سے یوں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی آصفہ کبھی کبھار اپنے رب سے اپنی بے بسی اور اپنی غربت پر سوال کیا کرتیں ۔رب کی تقسیم کاری سے یوں تو حاسدوں کو ہی اختلاف رہتا ہے لیکن میرے خیال میں اتنا نیک اس دنیا میں کوئی نہیں جو اپنے دل میں کبھی نہ کبھی اس طرح کا وسوسہ نہ پالے ۔آج آصفہ کی سہیلی نے حسب ِ معمول نہایت خوبصورت پوشاک پہنی تھی اور آصفہ وہی پرانے کپڑے جو وہ کئی عیدوں پر پہن چکی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنی ماں سے کہہ چکی  تھی ’’ماں نجمہ ہر عید پر نئے کپڑے پہنتی ہے ،کیا اس کے والدین اتنے اچھے ہیں جو اُسے ہر تہوار پر نئے کپڑے پہننے کو دیتے ہیں یا نجمہ ا

سکون

علی بابا ایک متقی اور پرہیزگار  انسان تھے۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں تسبیح لئے عبادت خداوند میں مشغول رہتے تھے۔گاؤں بھر میں اس کی عبادت گزاری اور دیانتداری کا خوب چرچا تھا۔لوگ اسے امین اور صادق کے ناموں سے پکارتے تھے۔بستی میں جب کھبی بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، تو لوگ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے علی بابا کے پاس دوڑے چلے آتے اور وہ اس مسلے کا حل معقول طریقے سے نکال لیتے۔وہ ہمیشہ پرسکون رہتے، یاد خدا اور خدمت خلق اُن کا پسند دیدہ مشغلہ تھا۔انہوں  نے اپنی زندگی میں سکھ ہی نہیں بلکہ دکھ بھی بہت دیکھے تھے مگر کبھی اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑے۔۔غم کو وہ اپنے آس پاس بھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے۔وہ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے۔ ایک دن اچانک ان کی جوان بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پوری بستی پر ماتم کی فضا چھاگئی۔بستی کی سبھی عورتیں ماتم کرنے لگیں۔ جوان،بوڑھے سب تشویش میں مبتلا تھے کہ بیوی کا غم آخر سب غموں س

افسانچے

بیٹی بیٹے  بھگوان داس کو ایمرجنسی تھیٹر میں داخل کیا گیا تھا اسے کوئی سرجکل پرابلم تھی۔ تھیٹر کے باہر کوریڈور میں اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی انتظار کر رہے تھے جب اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تھی تو اس نے دس روز بھوک ہڑتال کی تھی کیونکہ وہ بیٹی کو ایک نحوست سمجھتا تھا۔ سرجن آیا تو بھگوان داس کے بیٹوں نے اس سے کہا ڈاکٹر اگر  ہمارے پتا شری کو کچھ ہوا تو ہم اس اسپتال کو آگ لگا دیں گے۔ وہ ہمارا بھگوان ہے خیال رکھنا ۔سرجن گھبرایا ہوا تھیٹر میں داخل ہوا ۔۔ مریض کا پیٹ چاک کیا گیا تو اس کی سانس رک گئی اور وہ مرگیا ۔سرجن گھبرا گیا ۔۔اب کیا ہوگا، وہ سوچنے لگا، اس نے اسپتال کے ڈائریکٹر کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا ۔۔۔اس نےمسکراتے  ہوے جواب میں کہا میرے پی اے سے بات کرو ۔۔۔پی اے نے سرجن کو سمجھایا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔سرجن نے سب سے سینئر نرس سلطانہ کو باہر بھیجا ۔ سلطانہ نے بھ

تازہ ترین