تازہ ترین

اَدھوراخواب

کھانا کھاتے ہوئے ندیم کی نگاہیں مسلسل ان کیبنوں کی جانب تھیں جن کے داخلے پردبیز اور رنگین پردے لگے ہوئے تھے۔اس کے دوست نے بتایا تھا کہ یہ فیملی کیبن ہیں۔ ان میں لوگ اپنی بیوی یا محبوبہ کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ ندیم کی تشنگی بڑھنے لگی تھی۔ اس نے کبھی اس طرح کے ہوٹل میں قدم نہیں رکھا تھا اور نہ ایسے کیبنوں کے بارے میں جانتا تھا۔ اچانک ایک کیبن کا پردہ تھوڑا سا سرکا اور نوجوان لڑکے نے سر نکال کر بیرے کو آواز دی۔ندیم کی نگاہ اس نوجوان پر پڑی تو وہ چونک پڑا ۔’’ارے ، یہ تو وہی لڑکا ہے جو ابھی دو گھنٹے قبل بس میں میرے ساتھ تھا۔پردہ ہٹنے سے نوجوان کے ساتھ بیٹھی لڑکی کی صورت بھی نظر آگئی۔ اس جوڑے کو دیکھ کر ندیم کے دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی۔ ندیم یہاں شہر میں اپنی شادی کے سلسلے میں خریداری کرنے آیا تھا۔شادی میں محض ہفتہ دن رہ گئے تھے اور ابھی تک بہت سی چیزیں نہیں مل

بے اعتنائی

’’ زبیر ۔۔۔۔۔۔ تم پڑھائی پربالکل دھیان نہیں دے رہے ہو ،اگر تم نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو ہم تمہیں امتحان میںہر گز بیٹھنے نہیں دیں گے‘‘ ۔  پرنسپل نے کلاس کے معائینے کے دوران تحقیر آمیز لہجے میں زبیر کو ٹوکتے ہوئے کہا ۔کلاس میں طلباء و طالبات کے سامنے پرنسپل کے اس تذلیل آمیزرویئے سے زبیر کے چہرے کے جغرافیہ میں ہل چل مچ گئی اور آنکھوں کے تالاب بھر گئے ۔پرنسپل کے جانے کے بعد استاد نے بھی اسے ڈانٹا اور بچوں کو پڑھانے لگا لیکن زبیر،جس کے حساس دل میں کانٹے سے چبھنے لگے، کیا پڑھتا، سخت اُداسی کی حالت میں سوچوں میں غلطاں و پیچاں ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ ’’ زببیر بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔تیرا چہرہ کیوں اُترا ہوا ہے؟‘‘ زبیر جب اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے سکول سے واپس گھر پہنچا تواس کے چہرے کی کتاب پڑھ کر اس کی دادی نے پوچھا ۔ ’’دادی ۔۔۔ ٹیچر

پرانا بستہ

کاش میرا بھی نیا بستہ ہوتا۔آج صبح منی ٖپھر سے اپنی اماں رضیہ سے پوچھ رہی تھیں۔ اماں میرا بستہ آپ لوگ کیوں نہیں لاتے؟ رضیہ:ـــبیٹاگزارا کر لو میں تمہارے بابا سے کہہ کر جلد ہی نیا بستہ لانے کی کوشش کروں گی۔ منی:میں کسی کو جواب بھی نہیں دے سکتی کہ میرے گھر والے مجھے نیا بستہ کیوں نہیں دلا رہے ہیں۔ رضیہ: مجھے معلوم ہے بیٹا،اسی لیے تو مجھے تم سب سے زیادہ عزیز ہو۔ منی:اماں مجھے اسکول کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ رضیہ: ٹھیک ہے بیٹا، چلو میں باہر تک ساتھ آئونگی۔ ہاہاہا۔۔۔ہاہاہا  دیکھو دیکھو اس کا بستہ ،آج پھر پرانا بستہ لے کر آئی ہے۔سبھی بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن اس کو اپنی اماں کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ جلد ہی نیا بستہ دلا دیں گی۔ وہ اپنی کلاس میں اول آتی تھیں جسکی وجہ سے ہر ایک استاد اس کی بہت عزت کرتا تھا۔وہ بہت ذہین تھی لیکن ایک بستے کے لیے وہ اندر

بے وفاء

گھر میں داخل ہونے سے پہلے اُس نے اپنا حلیہ ٹھیک کرلیا تھا ،ظاہری طور پر تو اُسے کوئی زخم نہیں آیا تھا مگر اُسکے دل کے اتنے ٹکڑے ہوئے تھے کہ کرچیاں سنبھالے نہیں سنبھل رہیں تھیں ۔اپنی بھیگی آنکھیں صاف کر ،کے لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے وہ گھر میں داخل ہوئی ۔ "بیٹا آگئی تم واپس "؟ "جی دادی "مختصر سا جواب دے کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ،کچھ گھنٹے کمرے میں بند رہ کر بےتحاشہ آنسو بہاتی رہی پھر جب دادی نے بلایا تو مصنوعی مسکراہٹ سجائے کمرے سے باہر نکل آئی مگر آنکھیں رونے کی صاف چغلی کھا رہی تھیں ۔ "یہ تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ،کیا تم رو رہی تھی؟ "دادی پریشانی سے بولی۔ "ن ن ن ن۔۔۔ نہیں تو دادی "وہ اپنے آنسوؤں کو اندر کھینچتے ہوئے بولی مکر آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگنے کی کوشش کررہے تھے اور گلا رندھ سا گیا تھا ۔ "اچھا !اب