تازہ ترین

نیلا جزیرہ

ڈیوڈ جان کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو لکڑیوں اور گھاس پھونس سے بنے ایک چھوٹے کمرے میں پایا ۔ایک توانا شخص، جس کے بدن پر برائے نام لباس تھا، تیر کمان لئے بڑی مستعدی سے اس کے پاس کھڑا تھا ۔اس نے اُٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ سکا کیوں کہ اس کے جسم کا انگ انگ درد سے چور تھا اور شدید پیاس بھی لگی تھی۔اس کے پاس موجود شخص نے جب دیکھا کہ اسے ہوش آگیا تو اس نے کسی کو آواز دی جس کے ساتھ ہی اُسی جیسے دو اور اشخاص کمرے میں داخل ہو گئے اور وہ تینوں آپس میں کچھ گفتگو کرنے لگے ۔  ’’پانی ۔۔۔۔۔۔ پانی ۔۔۔۔۔‘‘۔ ڈیوڈ کے مُنہ سے دھیرے سے نکلا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ایک شخص دوڑ کے گیا اور مٹی کے ایک برتن میں پانی لے آیا جب کہ دوسرے نے اُسے سہارا دیکر اٹھایا اور پانی پلایا ۔کچھ دیر بعد اس کے سامنے گرم گرم چائے اورسادہ روٹی رکھی گئی جس کے ساتھ ہی دو اشخاص چلے گ

آخری سَزا

میں نے زندگی کو کئی پہلوؤں سے دیکھاہے مگر آج زندگی مجھے جس پہلو کی اور لے آئی وہ واقع میرے لیے نیا تھا ۔میں اکثر آج بھی اُس واقعہ کو سوچ کر حواس باختہ ہو جاتا کہ لوگ کیسے بدل جاتے ہیں ‘ زندگیاں کیسے بدل جاتی ہیں، وقت بدل جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ وقت ہمیں اس موڑ پر لے آتا ہے کہ ہم بے بس ہوجاتے ہیں اور پھر خود بہ خود سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ ہر روز کی طرح آج بھی میں آفس جانے کی تیاری میں تھا کہ اچانک میری گلی میں ایک فقیر نے صدا دی کہ اللہ کے نام پر کچھ دے دیجیے مگر کوئی اُسے کچھ نہیں دے رہا تھا ۔اُس نے بہت دیر انتظار کیا مگر اُس کی آہ وزاری ناکام ہی رہی۔۔۔۔۔۔میں یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا مگر میری زبان سے کچھ نہ نکلا ۔اتنی ساری بھیڑ میں بھی اُ سکا دامن خالی ہی تھا ۔وہ حسرت بھری نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھامگر اُس کا دامن پھر بھی خالی کا خالی ہی رہا۔نہ جانے کیا با

چارہ گر آئے گا!

نظام پور کی بستی میں آج خوشی کی لہر ہے۔ کیوں نہ ہو!اس بستی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے آج ایک نئی تاریخ جو رقم کی ہے۔ نوبل انعام ملنا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے، وہ بھی فزکس کے شعبے میں۔۔۔ پورے ملک سے شائع ہونے والے اخبارات اور سائل میں رضوان کی کامیابی کی تفصیل مع تصویر صفحۂ اوّل پر شائع ہوئی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ غرض ہر جگہ رضوان ہی رضوان ہے۔ رضوان آجکل ہارورڈ یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل اُس نے اسی یونیورسٹی کے (Astrophysics) کے شعبہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔  رضوان ایک ہونہار طالب علم ہونے کے ساتھ ہی سنجیدہ مزاج بھی ہے۔ ہر وقت گُم سُم اور نِت نئے خیالات میں ڈوبا رہنے والا۔ دن کو فرصت نہ رات کو آرام۔ ہمہ وقت فزکس کی کسی نہ کسی گتھی کو سمجھنے اور سمجھانے میں ڈوبا رہتا ہے۔  ایک دفعہ اس کے دوست 'اظہر نے

احساس کی موت

تم نے مجھے زہر پلا کر مارا تھا۔۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ تم نے مجھے پھانسی دے کر مار ڈالا تھا۔۔۔ مگر نہیں ۔۔۔ میں دراصل دَم گُٹھنے سے مرا تھا! اُسی دن ہاں۔۔۔ ہاں بالکل اُسی دن جب میرے سائیز کا پیرہن تم کو برابر ہوا تھا ! اور اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے تُم نے میرے ارمانوں کا خون کیا تھا! میں نے آخری لمحات میں اپنا کلمہ خود پڑھا تھا۔ میں نے تمہیں حسرت کی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ تم سے بچھڑنے کا غم مجھے سانپ کی طرح ڈس رہا تھا۔ ہر باپ اپنی اولاد کی خاطر اسی طرح فکر مند رہتا ہے۔ اِب برآمدے پر کون تمہارا انتظار کرے گا؟ کون تمہارے آنے کے لئے بے قرار ہوگا! کون اب تمہاری راہیں تکتا رہے گا؟ تم کس کے ساتھ اب اپنا دُکھ بانٹو گے؟ تمہارے آنسو کون پونچھے گا؟ اب تم کس سے رُوٹھو گے؟ کون تمہیں منائے گا؟ یہ سارا غم مجھے پریشان کرتا تھا! میرے لخط جگر! مجھے دیکھ کر تم اَن دیکھی کا کھیل کھیلتے تھے۔ تمہاری نادا

لطافتوں کا پر کیف نغمہ

سر مد نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اس کی نگاہوں کے سامنے امی کا آنکھوں سے لبریز چہرہ آگیا،جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہوجایا کر تی تھیں ۔ امی اس کے لیے ایک دوست سے کم نہ تھیں ۔ سب بھائی بہنوں سے زیادہ سر مدہی کو اپنی ماں کی قربت حاصل تھی ۔سر مد کے والد ایک اعلی تعلیمی ادارہ میں استاد تھے اور اس کی امی محض ایک گھریلوخاتون تھیں ، جو اپنے بچوں سے بے حد محبت کر تی تھیں ۔ سرمدکو جب یہ بات پتہ چلی کہ اس کی امی ذہنی طور پر بہت پریشان رہتی ہیں تو اس نے اس بات کی وجہ جاننی چاہی ۔ کافی کریدنے کے بعد جب اس پر حقیقت عیاں ہوئی تو اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ۔ حقیقت کو ماننا اس کے لیے بے حد مشکل تھا لیکن اس کے غلط ہونے کی بھی گنجائش نہیں تھی ۔ وہ اس بات سے واقف تھا کہ والد صاحب اپنی طالبات میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ لیکن یہ حقیقت اس پر عیاں نہ تھی کہ وہ اس عمر میں بھی ایسی حرکتیں کر تے ہوں گے وہ یہ

آٹو رِکھشا 786

  زندگی اب ایک آٹو رکھشے کے اردگرد ہی گھوم رہی تھی ۔  صُبح گھر سے نکلنا ، دن بھر شہر کی سڑکیں ناپنا اور پھر شام یا دیر رات گئے گھر پہنچنا ۔ دائرے کا سفر تھا جو صُبح گھر سے نکلتے ہی شروع ہوتا تھا ، دن بھر شہر کی کچی پکی ، ٹیڑھی میڑھی ، پیچدار اور بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر سے بھاگم دوڑ کرنے کے بعد سے گزُرتا ہوا شام کو پھر گھر پہنچ کر ختم ہوتا تھا ۔ کبھی کبھار یہ سفر رات دیر گئے تک جاری رہتا تھا اور بھُگتنا بھی پڑتا تھا ۔  میں رات دیر گئے گھر پہنچتا تھا ، تبھی گھر میں میری خُوبصورت بیوی عرشی ہزار وسوسوں کے بیچ دروازہ کھولتی اور غُصہ کرتی ہوئی مجھے اپنی تیز نظروں سے گُھورنے لگتی تھی اور ٹکٹکی باندھے مجھ سے مخاطب ہوکر کہتی تھی ۔ " کیوں جی مسٹر سات سو چھیاسی ؟ کہاں رہے اتنی دیر۔؟" وہ بڑی پریشان نظر آتی تھی ۔ " اری پگلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟  میں کچھ کہنے کی

اُلجھی نظر

اٹھوبیٹا کالج نہیں جانا ہے بہت دیر ہو جائے گی، بیٹا اٹھو۔ ماں آج میرا دل نہیں کر رہا ہے کالج نے کا۔آج میں گھر میں ہی رہوں گی ،پلیز ماں ۔۔۔ شیما اور اس کی ماں انجم ابھی باتیں ہی کر رہی تھیں کہ اچانک سے شیما کا چھوٹابھائی یونس روتے ہوئے کمرے میں آیا۔ یونسـ:۔ماں مجھے ساحل نے مارا ۔وہ سبھی بچوں سے کہہ رہا تھا کہ میری ماں اچھی عورت نہیں ہے اور سبھی بچے اب میرے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے۔یہ سن کر انجم کی آنکھوں میں آنسوں آئے اور اُس نے یونس کو اپنے سینے سے لگالیا ہے۔شیما کو یہ سب سن کر حیرانگی نہیں ہوئی کیوںکہ اس کو اس بات کا سامنا روز کرنا پڑتا تھا ۔اسی لیے وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانا ڈھونڈتی رہتی تاکہ وہ گھر میں ہی رہے۔ کچھ دیر بعد ہی اُن کے گھر میں وہ آدمی آیا جس کی وجہ سے گاؤ ں کے سبھی لوگ اس کی ماں کو غلط سمجھتے ہیں۔شیما اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی دیکھ رہی ہے۔

افسانچے

زندگی ایسی بھی امجد کے بھائی نے واٹس ایپ پہ گروپ کھولا تھااور اس میں سبھی رشتہ داروں کو ایڈ کیا تھا۔اس کو بھی کیا تھا۔اس کے کچھ رشتہ دار سرکاری ملازم تھے اور کچھ اچھے تاجر۔لاک ڈائون میں سبھی رشتہ داروں کے بچے کبھی شام کے وقت اور کبھی دن میں بھی اپنے اپنے گھروں میں تیار کی فئی ڈشز کی تصاویر گروپ میں ڈالتے تھے ۔۔کبھی سموسے۔۔کبھی پھل۔۔کبھی مٹھائیاں ۔۔کبھی مصالحہ مرغ۔۔۔ وغیرہ۔۔۔۔ امجد کے دونوں بچے دس سال کی کوثر اور آٹھ برس کا ندیم۔۔انُ سبھی نعمتوں کو دیر تک تکتے رہتے تھےکیونکہ ان کے گھر میں صرف دال چاول پکتا تھا اور کچھ نہیں۔۔باپ ان کا مزدور تھا۔دن کو کماتا تھا اور رات کو بیوی بچوں کا پیٹ بھرتا تھا۔اس نے ایک بار دونوں بچوں کو دیکھا جو للچائی نظروں سے مختلف قسم کے پکوانوں کو تکے جارہے تھے۔۔آنکھوں میں سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔۔جی میں آیا کہ دونوں بچوں کو گلے سے لگا کر خوب رولے۔ ۔۔مگر

افسانچے

ڈل جھیل برسوں بعد آج میں ڈل جھیل کے کنارے آ بیٹھا۔مجھے بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب میں پاپا کے ساتھ یہاں آتا تھا۔ میں پاپا سے پوچھتا تھا۔ "کیا یہ جنت کی نہر ہے؟" اس معصوم سوال پر وہ کہتے تھے۔"ہاں، یہ جھیل خدا نے جنت سے بھیجی ہے۔" بہت دیر تک میں کتاب ماضی کی اوراق گردانی کرتا رہا۔اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی جو مجھ سے تھوڑی دور ی پر مچھلیوں کے شکار کے لئے جھیل کے کنارے خاموش بیٹھا تھا۔ میں کچھ سوچ کر اس کے پاس پہنچا اور تھوڑی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔پھر پوچھ بیٹھا۔ "بھائی صاحب، بہت دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ بڑے سکون کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن آپ کے وجود میں کوئی ہلچل نہیں،کوئی بے چینی نہیں،کوئی ولولہ نہیں۔۔۔۔ بس خاموش بیٹھے ہیں،جبکہ دوسرے۔۔۔" میری بات مکمل ہونے سے قبل ہی وہ بول پڑا۔ "صاحب ، آپ کو سکو

خط کا اِنتظار ۔۔۔

’’آج پھر اُس کاخط آیا ہوگا‘‘زور زور سے چِلاتاہوا ایک نوجوان لڑکا اپنے گھر کی Door Bell(کے دروازے کی گھنٹی ) کی اور بھاگا۔ اُس نے نہایت جوش و مستی میں جو ںہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک شخص کے ہاتھ میں بہت سارے اخبارات پا کر اُ سکا چہرہ اُتر سا گیا، جیسے اچانک اُس کی خوشیوں پر کسی نے پانی پھیر دیا ہو ۔وہ غمگین نگاہوں سے اس آدمی کی اور دیکھے جا رہا تھا اور پھر جیسے اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔اُس نے غمگین انداز میں اس آدمی سے پوچھا آپ ڈاکیہ ہیں نا؟لایئے میرا خط مجھے دیجیے۔ یہ کہہ کر وہ مذکورہ شخص کا بستہ ٹٹولنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔اس آدمی نے جھٹ پٹ اُس کے ہاتھ اپنے بستے سے چھڑاتے ہوئے کہا !’’ارے ارے بھائی صاحب کیا کر رہے ہیں آپ ؟میں کوئی ڈاکیہ نہیں بلکہ اخبار بیچنے والا ہوں‘‘۔تمہیں میرے ہاتھ میں اخبار دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا کہ میںکون ہوں

افسانچے

گُڑیا کی شادی شاہجہان پور کی ہاوسنگ سوسائٹی میں تین پڑوسیوں کی بچیاں حور، شیریں اور چھایا ، ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں ،کبھی ایک سہیلی کے گھر تو کبھی دوسری کے گھر اپنے کھلونے  لے کے روز جاتیں۔حور کبھی کبھار ہی نظر آتی کیونکہ وہ اکثر  بابا کی ڈیوٹی کی وجہ سے شہر سے باہر رہتی تھی۔ شیریں اور چھایا  کے پاس جب بھی نئے کھلونے آتے وہ اپنے گڑا  اور گڑیا کی شادی رچاتے۔ اس بار شیریں کے پاس پیاری سی گڑیا تھی، جو سمندر پار سے ماموں  جان نے خاص شیریں کے لئے لائی تھی۔ جس کے لمبے سنہرے بال اور گہری نیلی آنکھیں تھیں ۔ مانو جیتی جاگتی اپسرا تھی۔ جو بٹن دبانے سے پلکیں جھکا کر مسکراتی تھی  اور مٹک مٹک کے چلتی تھی۔ شیریں کو گڑیا کیا مل گئی یوں سمجھو ساری کائنات کے اسکے ہاتھ میں آگئی ہو ، من ہی من اِتراتی کبھی گڑیا کے بال سنوارتی کبھی گود میں اٹھاتی، ہر دم گڑیا

بہو

جمال خان کے تین بیٹے تھے ۔ دو کی شادی ہوئی تھی اور تیسرا جو سب سے چھوٹا تھا ابھی کنوارا ہی تھا ۔ دونوں بیٹوں نے شادی کے کچھ سال بعد ہی اپنے الگ گھر بسائے ہیں ۔ جب بھی جمال خان کو اپنا کوئی دوست یا رشتہ دار اسکی وجہ پوچھتا تھا تو اس کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے ۔ " بڑی بہو کو اکثر اپنی بہنیں اور ماں الگ گھر بسانے کے لئے اکساتی تھیں ۔ زیادہ دیر تک وہ سسرال میں نہیں ٹکتی تھی اور اکثر چھوٹی موٹی باتوں کا بہانہ بنا کر میکے کا رخ اختیار کرتی تھی ۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی جب وہ نہیں سدھر ی تو شوہر نے اسکے لئے الگ گھر بسانے کا انتظام کیا۔ دوسری بہو دو تین سال تک ایک اچھی عورت کی طرح گھر کا ہر کام کرتی تھی اور تمام ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتی تھی لیکن کچھ سال بعد ہی اس کو بھی بڑی بہو کی طرح اپنی بہنوں نے الگ گھر بسانے کے لئے مجبور کیا " جمال خان نے ا

عجب درویش لڑکی تھی

عجب درویش لڑکی تھی  سارا شہر پریشاں تھا  یہ کوئی افواہ نہیں،سچی خبر تھی جو آگ کی طرح پھیل گئی ۔ کچھ دن پہلے  وہ ٹھٹھک گیا  جب بھرے بازار میں اسکا بازو کسی نے تھام لیا اور اسکی انگلیوں میں جلتی سگریٹ سے کسی نے لمبا کش لیا ۔وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پایا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا  یہ دیکھ کر اسکی گگھی بندھ گئی کہ کش لگانے والا کوئی جانا  پہچانا شخص نہیں، ایک انجان بے حد حسین  لڑکی ہے ۔ نیلی آنکھوں والی  بے حد خوبصورت لڑکی۔۔۔۔۔۔ بلیک رنگ کی  ترچھی ٹوپی  پہنے، سنہرے بال جو اس کے شانوں پر بکھر کر غضب ڈھا رہےتھے ، بلیک کلر کا اوور کوٹ ، جس کے بٹن کھلے تھےجس وجہ سے اندر پہنی ہوئی بھورے رنگ کی سوئیٹر نظر آرہی تھی اور گلے میں چمکتی کچھ مالائیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ ان مالاؤں  میں ایک سبز رنگ کی

ہم ایک تھے

میرے بس میں ہوتا تو میں دل کے دہکتے ہوئے انگاروں کو تمہارے سامنے رکھتا، سارے شکستہ خوردہ اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے تمہیں آشنا کرتا اور چیختا، چلاتا ہوا کہتا کہ میں تمہیں نہیں بھول پا رہا ہوں، بلکہ تمہیں بھولنا شاید میرے بس میں نہیں ہے، لیکن میں مجبور اور بےبس ہوں۔ حدود، وقت اور حالات کے شکنجوں نے اس قدر چکڑا ہوا ہے کہ آزاد ہونے کی سبھی تدبیریں پھیکی پڑ رہی ہیں۔ میرے ہونے کے احساس سے میں خود محروم ہوں، ایسا لگ رہا ہے میری زندگی نے موت کا لبادہ اُوڑھ لیا ہے،دن بدن میرا دم گھٹتا ہی جا رہا ہے، ہر ایک گزرتا ہوا لمحہ میرے لئے کسی روزِ محشر سے کم نہیں۔ میں اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہوں۔ بلکہ ٹوٹ کے بکھر چکا ہوں اور کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوں جن کو سمیٹنا ناممکن سا معلوم ہوتا ہے۔ تمہاری یاد کا خنجر بھی دن بہ دن میرے دل کو چیرتا ہوا چھلنی ہی کئے جا رہا ہے۔میرے ذہن میں متواتر افسردہ خیالات کی گردش

میرا محسن

 ڈاکٹر ہارون محکمہ صحت میں بطور بلاک میڈیکل آفیسر (BMO)کام کر رہے ہیں۔ روز آفس جانا اور پھر FIELD VISIT کر کے اپنے بلاک کے مختلف دیہات میں جاکر وہاں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ان کا معمول ہے-چونکہ وہ خود بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اسی لیے یہاں ہر جگہ لوگ اُنہیں پہچانتے ہیں اور اُن کی عزت افزائی کرتے ہیں- ملازمین کے ساتھ نرم رویہ ان کی ایک اچھی خوبی ہے مگر کام کے معاملے میں وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ وہ ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک درمیانہ زندگی گزارتے ہیں۔ نہ ٹھاٹھ نہ بھاٹھ اورنہ افسری بلکہ ایک سرکاری نوکر کی طرح اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور اپنے سب ماتحت ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کو بھی اس بات کی تلقین کرتے رہتے ہیں- ان کے دفتر میں عام لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے- کسی کو صحت کارڈ بنانا ہو یا کسی کو ڈس ایبلٹی سرٹیفکیٹ کے لیے ان کی مہر لگ

پھندا

بڑا کم ظرف تھا ، خاصا کمینہ بھی ۔ بدمزاج اور تخریب کار ، ذہن تھا کہ تخریب کاری کا کارخانہ ، ہمہ وقت تخریب کی سوچتا تھا اور نِت نئی تخریب انجام دیتا تھا ۔ گاؤں والوں کو طرح طرح سے تنگ کرتا تھا اور کم ظرفی کا ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ نام گجن گڑیال ، عمر لگ بھگ چالیس پینتالیس سال، چوڑے چکلے شانے ، قد میانہ ، چہرہ بدصورت اور  وضع قطع خاصی بدہئیت اور خوفناک تھی ۔ شاطر تھا اور اڑوس پڑوس میں خاصا بدنام بھی ۔ بٹھوال گاوں کا ساکن تھا اور بٹھوال بستی کےلئے دردِ سر اور سوہانِ روح بنا ہوا تھا۔ گجن گڑیال یوں تو ایک پھندے باز تھا ۔ پھندے لگاتا تھا ، مگر وہ ایک مشاق شکاری اور بندوق باز بھی تھا۔ پھندے بازی میں ایسا ماہر تھا کہ جنگلی جانوروں کا بچنا محال ہوتا  تھا اور کوئی بھی جانور آج تک گجن گھڑیال کے پھندے اور عتاب سے بچنے میں کامیاب نہیں رہا تھا ۔ خرگوش سے لے کر ہاتھی

جہیز

رانی اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے بارش کا نظارہ کر رہی تھی۔وہ انیس سال کی ایک ذہین لڑکی ہے۔ اس کی مثال گاؤںکی ہر عورت اپنی بیٹی کودیتی ہے۔ کسے پتا تھا کہ بظاہر خوش آنے والی یہ لڑکی اندر سے بکھرے اور مرجھائے ہوئے پھول کی طرح ہے۔کھڑکی کے پاس اس کی نظر ایک چھو ٹی سی لڑکی پر پڑی ہے، جو اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے ہوئے بارش کا مزہ لے رہی تھی۔یہ سب دیکھ کر رانی ماضی کی دریچوں میں کہیں کھو سی گئی۔ بابا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ہے۔ نعیمہ یہ نہیںبولتے۔۔۔ہم تمہیں جو دے نہیں پائے وہ سب تمہیں اُسی گھر میں ملے گا اور وہ بہت امیر بھی ہیں ۔تم وہاں خوش رہو گی بیٹااور ایک نہ ایک دن شادی تو ہونی ہی ہوتی ہے ۔ گھر والوں کی خوشی کے لیے میں نے ہاں کر دی اورفیض سے میری شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی ۔وہ مجھ سے آٹھ برس بڑے تھے۔وہ پہلے پہل بہت اچھے تھے اور میرے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کرتے تھے لیکن ان کی ماں کا ب

ناشاد کر چلے ہو

ایک وقت تھا جب ہم یونیورسٹی میں نئے نئے تھے۔حال ہی میں ہمارا داخلہ پی۔جی کے لئے ہو گیا تھا۔پھر وہاں لاتعداد اساتذہ کرام دیکھے جن میں ایک استاد کلاس میں داخل ہو کر بولا کہ میں یہاں کا ایک ریسرچ اسکالر ہوں اور میں جے۔آر۔ایف کے ساتھ ساتھ کئی بار نیٹ میں بھی کامیاب ہو گیا ہوں اور میں آپ لوگوں کا استاد ہوں۔حالاںکہ بہت سارے اساتذہ کے ساتھ ہماری ہمجولی ہو گئی تھی لیکن دل تھا اسی استاد پے آ کے تھم سا گیا۔استاد کے ساتھ ہماری اچھی بنتی تھی۔خود سے زیادہ استادِ محترم پہ بھروسہ کرنے لگے۔مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا۔پھر ایک دن ایسا وقت آیا جب میری توجہ اپنے کیرئر کی اور گامزن ہو گئی۔میں نیٹ کے امتحان کے لئے تیاری کرنا چاہتا تھا لیکن لاعِلم تھا۔مدد کی ضرورت آن پڑی۔دل میں یاد تازہ ہو گئی جیسے دل میں کوئی راہ کئے جا رہا ہوکہ میرا استادِ محترم ابھی حالِ حیات ہے تو مجھے کیا غم۔ساحل پہ کھڑے

لو میں تم کو طلاق دیتا ہو!

تمہاری یا دمجھے ہر لمحے ستاتی رہتی ہے ۔تمہیں اس طرح مجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہے تھا۔ارمان کی آنکھوںسے آنسوں کے دو قطرے اسکی بیوی کی تصویر پر جا گرے۔ ارمان کی بیوی چند ماہ تک ایک موزی مرض میں مبتلا رہنے کے بعد فوت ہو چکی تھی۔اسی لمحہ فاطمہ اس کے پاس دوڑتے ہوئے آئی اور آتے ہی بابا جان باباجان کہہ کر ارمان کے گلے سے لپٹ گئی۔فاطمہ کل چھ سال کی ہونے والی ہے۔ارمان کے دماغ میں فاطمہ کے تحفے کو لے کر ہل چل مچ گئی ۔ہاں فاطمہ! تمہیں سالگرہ پرکیا تحفہ چاہئے۔بابا مجھے بہت سارے کھلونے اور چاکلیٹ چائیں۔اچھا اچھا بابا میں دلائوںگا۔ٹھیک ہے بابا جان ۔دوسری طرف سے قدموں کی آہٹ اس طرح سے سنائی دے رہی تھی گویا کوئی کمرے کی طرف آرہا ہے ۔ اسی لمحے میں ارمان کی دوسری بیوی کی آواز سنائی دی۔ زویابیٹا کہا ہو تم، آجائو جلدی سے، بابا جان سے اجازت لو۔ ہاںامی آرہی ہوں۔زویا کی آواز مدہم سی سنائی دے رہی تھی

اجنبی حسینہ

ہوٹل آکاش  کمرہ   نمبر110ایک سو دس اُس رات میں یہاں ہی ٹھہرا تھا۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میںکہانی کے لئے فریم بنا رہا تھا۔ وہ ناک (Knock)کئے بغیر ہی میرے کمرےمیں گُھس آئی۔ وہ ایک حسینہ تھی۔ دراز قد، پتلی کمر، غزال جیسی آنکھیں، ہلال جیسے آبرو، اُس کے داہنے گال پر موتی جیسا تل چمک رہا تھا۔ وہ پچیس سال کی ہوگی۔ کمرےمیں داخل ہوتے ہی اُس نے اندر سے دروازے کی کُنڈی بند کردی اور زبردستی میرے ہاتھ سے قلم چھین لیا۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ مجھ سے لپٹ گئی۔ میں نے کافی مشقت کے بعد خود کو اُس سے چُھڑایا۔ ’’کون ہو تم؟ یہ کیا احمقانہ حرکتیں کررہی ہو؟ تمہیں شرم نہیں آتی۔ تم کیسے اجازت کے بغیر میرے کمرے میں داخل ہوئی، How do you dare?میرے کمرے سے دفع ہوجائو۔۔۔ چلی جائو بے شرم لڑکی!‘‘ ’’ اس بڑے شہر میں تمہیں کیا

تازہ ترین