تازہ ترین

لمحہ ٔ گُریزاں

بھیانک کالی رات اور اسپتال کے خوف زدہ کرنے والے ماحول میں فکر و اضطراب میںڈوبی خدیجہ ایمر جنسی واڑ میںچار پائی پر بے ہوش پڑے اپنے شوہر کے سرہانے بیٹھی حالت ندامت میںاللہ سے بخشش طلب کرتے ہوئے اس کی صحت یابی کے لئے دُعا کر رہی تھی۔ شوہر کی اچانک اس طرح حالت بگڑنے پر وہ انگشت بدندان تھی جب کہ گھر میں موجود بیٹی ،جس کا پائوں بھاری تھا،کی فکر بھی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ اس کا شوہر حفیظ دن بھر کی کٹھن دوڑ دھوپ سے فارغ ہو کر شام کو جب گھر پہنچا تو اس کا انگ انگ دردکی شدت میں ڈوبا ہوا تھا ،رنج و الم کی بے شمار لکیریں اس کے ماتھے پر رقص کر رہی تھیں۔وہ بغیر کچھ کھائے پئے گُم سم کمرے میں دبک کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ رات دیر گئے اس کے سر میں درد کی شدید لہریں اٹھنے لگیں اور وہ سخت بے قراری کی حالت میں اپنا سر پیٹنے لگا ۔کچھ دیر بعد ہی اس کے نتھنوں سے خون ٹپکنے لگا۔خدیجہ نے اس سر پر ٹھنڈا

دیوانگی

ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعدجب رفیق گھر پہنچا تو ماں نے دستر خوان پرکھانا لگایا۔۔۔ رفیق نے بسم اللہ کہتے ہوئے کھانا شروع کیا..... ابھی دو یا تین نوالے ہی حلق کے نیچے اتارے تھے کہ فون کی رِنگ بج اٹھی..... السلام علیکم واجد بھائی ٹھیک ہو...... رفیق نے اپنے دوست واجد کی کال ریسیو کرتے ہوئے کہا۔ جی رفیق بھائی شکر اللہ کا...... حال چال پوچھنے کے بعد واجد نے ایک بُری خبر رفیق کو سنائی..... رفیق نے کھانا دستر خوان پر ہی چھوڑا اور واجد کے ساتھ ہسپتال کی اور روانہ ہوا....... جہاں ان کا ایک دوست سجاد ایمرجنسی وارڑ میں زیر علاج تھا..... دو گھنٹے پہلے ہی سجاد کی موٹر بائیک ایک آلٹو گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اور وہ بُری طرح سے زخمی ہوا تھا...... تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ سجاد80کلومیٹر کی رفتار میں بائیک چلا رہا تھا جو اس کے ایکسیڈنٹ کی  اہم وجہ  تھی.... عیادت&nb

طلاق

   پری آج تم پھر دیر سے آئیں… مجھے تمہارا دیر سے آنا بالکل اچھا نہیں لگتا…جانتی ہو میں ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔…شہاب نے غصے سے کہا۔ اچھا بابا سوری… دیکھو میں کان پکڑتی ہوں… اب آئندہ دیر سے نہیں آؤں گی۔  لیکن سنو! تمہارا یہ غصہ کرنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے… ذرا ذرا سی بات پر تم اتنا غصہ کرتے ہو… غصہ تو جیسے تمہاری ناک پر رکھا ہو … پری نے شہاب کی ناک پر شرارت سے انگلی کرتے ہوئے کہا۔ اور دونوں ہنس دیئے۔ دیکھو پری مجھے غصہ ذرا زیادہ ہی آتا ہے۔ کیا تم میرا ہر حال میں ساتھ دوگی۔ شہاب نے ذرا مایوسی سے پوچھا؟ کیوں نہیں! میں زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دوں گی ۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ شہاب نے پری کو گلے سے لگا لیا۔ اور ہاں کیا تم نے اپنے گھر والوں سے بات کی؟ پری نے پوچھا؟ کون سی بات؟

پہچان

اُجلے اُجلے پہاڑوں کے دامن میں آباد گوجر بستی یوں تو سبزہ زاروں میں ہنستی مسکراتی تھی لیکن چھوٹے چھوٹے کچے پکے مکانوں کے درمیان چودھری منور علی کا حویلی نما مکان ایک قلعہ کی مانند لگتا تھا۔ چودھری صاحب کو انتقال کئے اب کافی عرصہ گذر چکا تھا لیکن نہ صرف یہ حویلی بلکہ پوری بستی اُن کے نام اور کام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔ بہت بڑا گھرانہ اس حویلی نما مکان میں آباد تھا۔ اَن گنت افراد خانہ اس کی زیبائش بڑھتاتے تھے۔ اِس گھرانے کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ افراد خانہ کے چہرے الگ الگ ہونے کے باوجود ایک سے لگتے تھے۔ باتیں کرنے کے انداز مختلف ہونے کے باوجود یکساں لگتے تھے۔ آوازیں الگ الگ نہیں ایک سی محسوس ہوتی تھیں۔ جو معاشرہ چودھری منور علی کے حویلی نما مکان میں نظر آتا تھا۔ وہ بستی میں کہیں اور دکھائی نہیں دے رہا تھا، اپنے پن کا یہ احساس چودھری صاحب کی زندگی میں موجود تھا اور اُن کے انتقال کے

افسانچے

شہرت وزیر نے وہسکی کا  چوتھا پیگ چڑھایا اور بائیں ہاتھ کی پشت سے منہ صاف کرکے اطراف میں کھڑے اپنے چاہنے والوں سے کہا۔کوئی ساغر دل کو بہلا تا نہیں۔۔۔میں تو اب ایک فراموش شدہ آدمی ہوں۔۔۔ جب سے کرونا وائرس نے اس ملک میں اپنا کام شروع کیا ہے، تب سے سب لوگ اسی کے نام کی مالا جپتے ہیں، کوئی ہمارا نام بھی نہیں لیتا ہے۔میڈیا بھی ہم کو یوں بھول گیا ہے جیسے ہمارا وجود ہی نہ ہو۔ اگراسی طرح گمنامی کے غار میں پڑا رہا تو میرا کیا ہوگا۔۔؟ اس نے‌سوالیہ نگاہوں سے سب کی طرف دیکھا۔ اس کے سب سے بڑے ‌چمچے نے ‌اس کے گھٹنوں میں جھک کر کہا۔۔۔ سر آپ گھبرا یئے مت سب ٹھیک ہوگا۔ سر بھی پازیٹو۔ بھی پازیٹو  پازیٹیو۔ پ ا ز ی ٹ۔ یو اچانک وزیر اچھل پڑا۔۔۔پازیٹیو ! ہاں! پازیٹو۔۔ تین دن بعد اسے اطلاع ملی کہ پورے ملک میں ہر ایک کی زبان پر اسی کا نام ہے اورمیڈیا میں اسی ک

افسانچے

خصوصی پوزیشن ’’تمہاری درخواست تو نامنظور ہوجائیگی کیونکہ تم نے درخواست میں یہ نہیں لکھا ہے کہ تم جموں و کشمیر ریاست کے مستقل باشندے ہو اور نا ہی تم نے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ نتھی کی ہے۔ تم تو جانتے ہو کہ یہاں صرف ریاست کا مستقبل باشندہ ہی کسی بھی نوکری کے لئے درخواست دے سکتا ہے‘‘۔ ڈائریکٹر کے پی اے نے درخواست لوٹاتے ہوئے حارث کو سمجھایا۔  ’’مگر میں تو یہاں کا پُشتینی باشندہ ہوں۔ میری میٹرک کی سرٹیفکیٹ میں میری ولدیت اور پتہ صاف درج ہیں۔‘‘ حارث نے جواب دیا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے مگر لکھنا اور سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔‘‘ خیر ابھی درخواست کیلئے آخری تاریخ میں سات دن باقی ہیں اس لئے تم یہ درخواست واپس لے جائو اور مطلوبہ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی جوڑ کے واپس

انتظار

حلیمہ آج بھی ٹیلی ویژن پر گمشدہ لوگوں کے بارے میں اطلاعاتی ٹیلی کاسٹ دیکھ رہی تھی ۔ ٹیلی کاسٹ کے فوراََ بعد حلیمہ آہ بھرتے ہوئے اپنے داہنے ہاتھ کو  رخسار کا سہارا بنا تے ہوئے بیتے لمحوں کے سمندر میں تیرنے لگی۔ باہر سے پرندوں کے شور و غُل نے اُس کے خیالوں کو اور تقویت بخشی۔ اپنے شوہر عزیز کے ساتھ گزارے  ہوئے ہر پل کی یادیں اُس کی روح کو کریدتی رہیں۔آج وہ سارا منظر پھر سے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہو بہ ہو ایسا  ہی ہے ،جیسے کہ یہ سب ماضی میں نہیں بلکہ حال میں ہو رہا ہو۔ اپنے شوہر عزیز سے روٹھنا ۔۔۔روٹھ کے منانا ۔۔۔۔ جس کے ساتھ وہ اپنے دکھ سکھ بانٹ رہی تھی ۔وہ خوشیوں کے پل۔۔۔۔محبت کے رنگ ۔۔۔۔غرض کہ ہر وہ لمحہ جو اُس نے اپنے شوہر کے ساتھ گزاراتھا۔ ان حالات میں وہ دیوانوں کی طرح تنِ تنہا کبھی ہنستی ہے تو کبھی خوشیوں کے اُجڑنے پہ من ہی من سسکیاں بھرتی رہتی ہے۔خیالوں ہی خی

کھیل

گرمیوں کے دن تھے ۔سہ پہرکی دھوپ  جھلسادینے والی تھی۔سڑک پر زیادہ بھیڑ نہ تھی۔تینوںدوست ساتھ ساتھ چل رہے تھیــــ۔ایک دُکان کے سامنے گزرتے ہوئے سرخ ٹائی پہنے نوجوان نے ساتھی سے کہا۔’’ اٹھاو  اِسے ۔۔۔‘‘ ساتھی نے تعمیل کی۔اُن کا تیسرا  ہم عمر دوست  لا تعلق سا سگریٹ سلگانے میں محو تھا ۔ ’’ چلو ‘‘سرخ ٹائی لگائے نوجوان نے کہا۔ تینوں نکل پڑے۔کچھ دیربعد وہ شہر کے ایک کم آباد علاقے میں پہنچے۔ پھر ایک مکان کے وسیع مُنَّقَش کمرے میں داخل ہوگئے۔سرخ ٹائی لگائے خوش پوش نوجوا ن نے صوفہ سیٹ پربیٹھ کر ایک اطمینان بھری سانس لی۔ دوسرے نے سامنے پڑی میز پر  رنگ دارگول خوبصورت مرتبان رکھ دیا ۔ سگریٹ کی راکھ جھاڑ تے ہوئے تیسرے نے زرا  چونکتے ہوئے کہا ۔ ’’ ارے واہ ۔سنہری ہے  ‘‘ 

بختاوری

 بہلول پابانی اب ستھر کی دہائی میں تھا اور عُمر کے باسٹھویں زینے پر ایستادہ تھا ۔ اب پا بہ دامن تھا اور شاذونادر ہی کہیں دُور جانے کےلئے پا بہ رکاب رہتا تھا ۔ حالانکہ صحت اتنی بہتر اور مُستحکم تھی کہ اُس کی صحیح عُمر کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا تھا ۔لوگ اکثر اُس کی عُمر کا صحیح  اندازہ لگانے میں دھوکہ کھا جاتے تھے اور اُسے پنتالیس پچاس کی عُمر سے زیادہ کا نہیں بتاتے تھے ۔ بہلول پابانی خوب رو، جاذب نظر اور پُرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ سنجیدہ اور پُر وقار ۔ چہرہ اب بھی جُھریوں سے بے نیاز تھا ۔ کلین شیوڈ رہتا تھا اور اپنے کنگھے سے اپنے گھنے اور خوبصورت بالوں کے ساتھ ہمہ وقت چھیڑ خانیاں کرتا رہتا تھا ۔ پابان کے اپنے آبائی علاقے سے ، جسے وہ چالیس سال قبل چھوڑ چکا تھا ، ایک دعوت نامہ موصول ہوتے ہی اُس کے رگ وپے میں مّسرتوں کی ایک لہر  سی دوڑ گئی ۔ وہ خوشی سے جُھوم اُٹھا اور

بندھن

سجنا سنورنا! یہ سب شوق کس لڑکی میں نہیں ہوتا لیکن میں ان چیزوں سے پچپن سے ہی بے نیا ز تھی۔ایسا بھی نہیں تھا کہ میں اپنے آپ کی طرف توجہ نہ دیتی تھی لیکن اپنے آپ پر حد سے زیادہ توجہ دینا میں تضیع اوقات سمجھتی تھی ۔میں کبھی کبھی نہ جانے کن باتوں کو لے کر اپنا ذہن منتشر کرتی ہوں ،دراصل میں ہی نہیں بلکہ شاید ہر شخص بیٹھے بیٹھے نہ جانے خیالوں میں کہاں کی سیر کرتا رہتا ہے ۔کبھی پہاڑوں کی،کبھی سبزہ زاروں کی،تو کبھی کسی اور جگہ یہ سوچ کے دھارے ہمارے وجود کو لے جاتے ہیں ۔سوچ کے میدانوں سے واپس آکر میں نے آج اپنے کمرے کی حالت کا جائزہ لیا ۔آج نہ جانے کیوں مجھے یہ کمرہ بالکل ویران سا لگ رہا تھا ۔بکھرا ہوا بسترہ ،غرض ہر شئے نہ جانے کیوں آج مجھے بے رونق لگ رہی تھی۔آج کئی دنوں کے بعد مجھے اپنے کمرے کو سجانے کا خیال آیااور میں نے اپنے کمرے کو آج پھر سے خوش اندام بنایا۔کام ختم کرنے کے بعد میں&

’’ یہ ماجرا کیا ہے ‘‘

راشد، آ کھانا کھا لے بیٹا ، ایک بج گیا ہے ، میں نے کھانا لگا دیا ، یہ پھر ٹھنڈا ہوجائے گا۔ راشد کہاں گیا تو ؟ ابھی یہاں آنگن میں ہی بیٹھا تھا۔ شاید محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلنے گیا ہوگا۔ چلو پانچ دس منٹ انتظار کروں گی تب تک آئے گا۔  " کلثوم آپا کا شوہر کسی حادثے کا شکار ہوگیا تھا اور اسی میں اپنی جان کھو بیٹھا تھا۔ ایک بیٹی تھی اس کا بیاہ ہوگیا تھا۔ اب اس کا صرف یہی ایک بیٹا تھا ، اسی  کو دیکھ کر وہ جی رہی تھی " جب راشد نہیں آیا تو کلثوم آپا بے چین ہوکر اس کی تلاش میں نکلی۔ صغریٰ بی بی سے پوچھا " بہن ، راشد کو کہیں دیکھا ہے ؟  نہیں " صغریٰ بی بی نے جواب دیا۔ بیٹی ، کہیں میرے لعل کو مت دیکھا ؟ سولہ سالہ فاطمہ سے پوچھا۔ نہیں اماں میں نے نہیں دیکھا " فاطمہ نے جواب دیا۔ اسی طرح چند اور لوگوں سے پوچھا لیکن سب نے نف

’’حُکم کی تعمیل ہو‘‘

صاحب اُدھیڑ عمر میں قدم رکھ چکے تھے مگرتیور۔۔۔۔ہاں تیور۔ایک بیس بائیس برس کے نوجوان کے جیسے۔مکھی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ کسی کی بات خلاف توقع گزرتی تو شیر کی طرح غُرا اُٹھتے یا یوں سمجھئے کہ جیسے شیر شکار پر جھپٹ پڑا ہو۔اُس کی طرف ہاتھ لپکاتے ہوئے کہتے۔ ’’بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔enough۔۔۔!!! ‘‘ پھر ایسے گھورتے کہ مخاطَب کی روح لرز اُٹھتی۔بے چارا دبک کر بیٹھ جاتاکچھ توقف کے بعد صاحب کہتے۔ ’’دوبارہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا ۔‘‘  وہ آنکھ نیچی کر کے جب حامی بھرتاتو صاحب منہ کو ایسے موڈدیتے جیسے پھر کی گھومنے لگی ہو۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعداُس کے کندھوںپرتھپکی دیتے ہوئے زور زور سے ہنس دیتے۔ایسا لگتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مخاطب صاحب کے کھلکھلا کر ہنسنے پرپسینے پسینے ہوجاتا اور چپ چاپ بیٹھے رہتا ۔ پھرجب صاحب کے ہاتھ تھپکی د

افسانچے

سبق  اچانک احمد کی بچی کی طبیت خراب ہو گئی اور وہ اسے لے کر فوراً ہسپتال پہنچا۔ ہسپتال میں وہ سیدھے بچوں کے ڈاکٹر کے کیبن میں گیا۔ کیبن خالی تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اِدھر اُدھر معلوم کرنے پر جب ڈاکٹر کے بارے میں کسی سے کچھ پتہ نہیں چلا تو وہ سیدھا میڈیکل آفیسر کے پاس پہنچا ۔  " سر بچوں کا ڈاکٹر کہاں ہے میری بچی کی طبیت  بہت خراب ہے؟ "  ڈاکٹر ابھی ابھی گھر گیا ہے آپ کو ایک گھنٹہ پہلے آجانا چاہیے تھا" "سر میری بچی کی طبیت ابھی خراب ہوئی ہے اور ویسے بھی  ابھی  بارہ ہی بجے ہے "  "مطلب کیا ہے تمہارا وہ آپ کے لئے یہاں بیٹھتا  رہتا" میڈکل آفسیر کے چہرے پر غصے کی لہر دوڈ گئ۔ "سر کیا ان کی ڈیوٹی  بارہ بجے تک ہی تھی۔؟ اب میری بچی کا علاج کون کرے گا ‘&lsquo

حساس

بہت زیادہ حساس ہونا بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔ اس بے حس دنیا میں حساس ہونا ایک ذہنی بیماری ہے ،جبکہ مذہب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حساس ہونا انسانی ہمدردی کے جذبات کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ،لیکن اس عہد میں جہاں ہر طرف افرا تفری کا عالم ہو ، دہشت گردی کے گہرے سائے ہر طرف منڈلا رہے ہوں، انسانی خون پانی کی طرح بہہ رہا ہو،ایسے میں کسی شخص کا بہت زیادہ حساس ہونا اسے پاگل بنا سکتا ہے یا لوگ اسے پاگل بنا دئیں،لیکن یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ ہر شاعر،ادیب یا کوئی فنکار جتنا حساس ہوگا اتنا ہی اس کے فن میں جان پیدا ہوگی ۔                             جاوید تو ویسے بھی ایک اچھا شاعر اور ادیب تھا ۔ کسی بھی فنکار کا حساس ہونا ایک فطری عمل ہوتا ہے ۔ جاوید کا دل ہمدردی اور انسانیت کے جذبات سے سرشار تھا۔ اسے ذرا ذرا سی ب

’مہنگا علاج‘‘

کلینک پر مریضوں کا بڑا رش تھا.ڈاکٹر پانڈے اپنے کمرے میں مریضوں کا ملاحظہ کرنے میں مصروف تھے۔شدید گرمی سے لوگوں کا برا حال ہو رہا تھا۔  ڈاکٹر پانڈے عینک کو سر پہ رکھ کر اپنی جیب سے رومال نکالتے اور ماتھے  سے پسینہ پونچھتے رہتے . اتنے میں کلینک کا ایک ملازم’’ وکاس‘‘ اندر آیا اور بولا "ڈاکٹر صاحب ابھی بہت سارے مریض ہیں۔ "  ڈاکٹر نے’ ہوں‘ کرتے ہوئے پوچھا: "  کیا ہمارا ٹارگٹ چار بجے تک پورا ہوگا؟"  " ضرورڈاکٹر صاحب' بس یہ آپ کی ماہرانہ پھرتی پر مدار رکھتا ہے۔ " "ارے وکاس۔۔۔!رفتار تو تیز ہی ہے 'دیکھتے نہیں ہو دوائیوں کی قیمت کتنی زیادہ ہے۔ میرے خیال میں تو چار بجے سے پہلے ہی ہمارا ٹارگیٹ پورا ہونا چاہے۔!!!" "ڈاکٹر صاحب کیا فرق پڑتا ہے اگر چند اور مریضوں

نمک

"جی یہ آپ کی امانت " اس نے ڈائیری ہاتھ میں لی اور پہلا صفحہ پلٹا  "ہیلو باواری میں پال تمہارا ڑاں پال، کیسی ہو ؟" یاد ہے جب میں نے اپنے ہونٹ تمہارے گرم نازک اور پتلے ہونٹوں پر رکھنے چاہے تو تم نے اپنا بایاں  ہاتھ درمیان میں حائل کرکے میرے منہ پر رکھا اور مجھے روک دیا . کیا تمہیں یاد ہے  ؟ اورتم نے اچانک سے کہا  "کیا تم مجھ پر کوئی کہانی لکھو گے ؟" "کیا مطلب ؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا  "اچھا چلو کہانی نہ لکھو ،  کم سے کم مجھے کسی کردار میں ڈھال تو سکتے ہو۔" "یہ کیا سوجھی آج تمہیں؟"  میں نے حیرت سے پوچھا تھا "کہو کرو گے نا ایسا؟"  تم نے ضد کی۔ "اچھا ٹھیک ہے۔ ایسا ہی کروں گا اب خوش!"  "او پال تم کتنے

آئندہ فون مت کرنا

ثانیہ نے آصف سے ایک گھنٹے طویل گفتگو کرنے کے بعد موبائل میز پر رکھا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی پھر بجنے لگی. اس نے منھ بسورتے ہوئے موبائل اٹھایا دوسری طرف ارسلان بول رہا تھا۔ وہی ارسلان جس کے فون کا انتظار یہ کبھی بڑی شدت سے کیا کرتی تھی اور پھر سلسلہ گفتگو اسوقت تک چلتا جب تک موبائل کی جان نہ نکل جاتی، پھر بھی باتیں ادھوری رہ جاتیں، جس کی تکمیل کبھی کلاس روم، کبھی پارک تو کبھی ریسٹورنٹ میں ہوا کرتی. کئی بار دونوں نے ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں بھی کھائی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے ثانیہ کے رویے میں تبدیلی آگئی تھی جس کی وجہ آصف تھا جو ارسلان سے زیادہ وجیہہ تھا اور دولت مند بھی۔ اب بھی ثانیہ کی سہانی شامیں پارکوں میں اور شب کا اکثر حصہ محبت بھری باتوں میں گزرتا لیکن آصف کے ساتھ۔ بہت کوشش کرنے کے بعد آج ارسلان کا فون ملا تھا۔ ہیلو۔۔۔۔ثانیہ کیسی ہو؟ اچھی ہوں. دوسری جانب سے ثانی

زخمِ تَر

ہونٹوں کی بھی اپنی ایک مجبوری ہوتی ہے اکثر لگتا ہے کہ سب کچھ تو کہہ دیا لیکن بات پھر بھی ادھوری رہ گئی۔ آنکھوں کا بھی یہی حال ہے، بند ہوں تو خواب سجنے لگتے ہیں ، کھلی ہوں تو خواب بکھر جاتے ہیں، سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی لگتا ہے کہ اب بھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔ اس صورتحال میں غیر یقینیت کا ایک عجیب سا ماحول کروٹیں لینے لگتا ہے اور زندگی کی ساری تلخیاں اُبھر اُبھر کر زندگی کی ساری خوشیوں کو بے مزہ کر دیتی ہیں! مقبول صاحب اور خدیجہ کی زندگیوں میں نہ تو کوئی تلخی تھی اور نہ ہی غیر یقینیت کا اھساس۔ہاں! انہیں اپنے بیٹے کو خوش خوش دیکھنے کے لئے زندگی جینے کی تمنا ضرور تھی۔ اب سے قریب قریب پینتالیس برس قبل جب اُن کی شادی ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ اُن دونوں کی عمروں میں تین ماہ کا فرق ہے۔ خدیجہ اپنے خاوند مقبول صاحب سے عمر میں تین ماہ بڑی تھی اور اِس ناطے اُس کا ماننا تھا کہ اسکے ہونٹوں پر ا

پردہگر گیا

آنکھیں چار ہوئیں اور جُھک گئیں۔۔۔۔ اب کی بار اُس نے عورت کی آنکھوں میں سے کچھ نہیں پایا۔ کوئی خواب نہ، کوئی خیال۔ خالی خالی تھیں اُس کی آنکھیں۔ کیا وقت کے ساتھ سب کچھ بہہ گیا تھا؟ ۔۔۔ ’’نہیں نہیں‘‘ وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔ دروازے کا پردہ ہوا کے جھونکے سے ہٹ جاتا تو اُس کی نظریں سامنے ٹیلے پر جا پڑتیں اور وہ ماضی کے حسین لمحوں میں کھو جاتا۔ دیکھتا سب کچھ جوں کا توں ہی تو ہے۔ ٹیلے کے سرے پر میدان، میدان میں گائوں، گائوں کے اِرد گر پیڑ پودے، بہتے ندی نالے اور بہت کچھ۔ نیل گوں آسمان میں چمکتا سورج بھی تو وہی ہے لیکن سٹول پُر سکڑ کر بیٹھی عورت؟۔۔۔۔۔ اب بہار جوبن پہ تھی۔ چٹیل پڑے میدان بھی ہری مخملی گھاس سے لدے ہوئے تھے۔ ’’بید مُشک‘‘ اور ’’ہمبرزل‘‘ کے پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ

افسانچے

سپنا ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ میرا بھائی علیم خان اپنی بیٹی کی بات ماننے سے صاف انکار کر رہا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ بھی سنا ہے کہ خوشبو نے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی خواہش پوری نہ کی گئی تو وہ خود کشی کرے گی ۔ عابد خان نے سگریٹ ایشٹرے میں مسلتے ہوئے بیوی سے کہا،اور علیم خان نے کہا ہے کہ وہ خود گولیوں سے بھرا  پستول بیٹی کو دے گا یا خود اس کے لیے زہر خرید کر لایے گا یا پھر خود اس کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کرے گا۔ پتہ نہیں ایسا کیوں۔۔۔ذرا آپ ‌اپنے بھائی سے پوچھ لیں کہ وہ اپنی بیٹی پر ظلم کیوں کر رہا ہے۔ سکینہ بیگم نے شوہر سے کہا۔ دوسرے دن عابد خان نے اپنے بھائی سے پوچھ لیا۔ بھائی صاحب آپ  خوشبو کی شادی میں دیوار بن کر ‌کیوں کھڑے ہیں۔ بات کیا ہے۔ اونچ نیچ، امیری، غریبی،ذات پات مسلکی اختلاف یا  لڑکے میں کوئی نقص۔۔یا

تازہ ترین