’’حُکم کی تعمیل ہو‘‘

صاحب اُدھیڑ عمر میں قدم رکھ چکے تھے مگرتیور۔۔۔۔ہاں تیور۔ایک بیس بائیس برس کے نوجوان کے جیسے۔مکھی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ کسی کی بات خلاف توقع گزرتی تو شیر کی طرح غُرا اُٹھتے یا یوں سمجھئے کہ جیسے شیر شکار پر جھپٹ پڑا ہو۔اُس کی طرف ہاتھ لپکاتے ہوئے کہتے۔ ’’بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔enough۔۔۔!!! ‘‘ پھر ایسے گھورتے کہ مخاطَب کی روح لرز اُٹھتی۔بے چارا دبک کر بیٹھ جاتاکچھ توقف کے بعد صاحب کہتے۔ ’’دوبارہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا ۔‘‘  وہ آنکھ نیچی کر کے جب حامی بھرتاتو صاحب منہ کو ایسے موڈدیتے جیسے پھر کی گھومنے لگی ہو۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعداُس کے کندھوںپرتھپکی دیتے ہوئے زور زور سے ہنس دیتے۔ایسا لگتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مخاطب صاحب کے کھلکھلا کر ہنسنے پرپسینے پسینے ہوجاتا اور چپ چاپ بیٹھے رہتا ۔ پھرجب صاحب کے ہاتھ تھپکی د

افسانچے

سبق  اچانک احمد کی بچی کی طبیت خراب ہو گئی اور وہ اسے لے کر فوراً ہسپتال پہنچا۔ ہسپتال میں وہ سیدھے بچوں کے ڈاکٹر کے کیبن میں گیا۔ کیبن خالی تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اِدھر اُدھر معلوم کرنے پر جب ڈاکٹر کے بارے میں کسی سے کچھ پتہ نہیں چلا تو وہ سیدھا میڈیکل آفیسر کے پاس پہنچا ۔  " سر بچوں کا ڈاکٹر کہاں ہے میری بچی کی طبیت  بہت خراب ہے؟ "  ڈاکٹر ابھی ابھی گھر گیا ہے آپ کو ایک گھنٹہ پہلے آجانا چاہیے تھا" "سر میری بچی کی طبیت ابھی خراب ہوئی ہے اور ویسے بھی  ابھی  بارہ ہی بجے ہے "  "مطلب کیا ہے تمہارا وہ آپ کے لئے یہاں بیٹھتا  رہتا" میڈکل آفسیر کے چہرے پر غصے کی لہر دوڈ گئ۔ "سر کیا ان کی ڈیوٹی  بارہ بجے تک ہی تھی۔؟ اب میری بچی کا علاج کون کرے گا ‘&lsquo

حساس

بہت زیادہ حساس ہونا بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔ اس بے حس دنیا میں حساس ہونا ایک ذہنی بیماری ہے ،جبکہ مذہب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حساس ہونا انسانی ہمدردی کے جذبات کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ،لیکن اس عہد میں جہاں ہر طرف افرا تفری کا عالم ہو ، دہشت گردی کے گہرے سائے ہر طرف منڈلا رہے ہوں، انسانی خون پانی کی طرح بہہ رہا ہو،ایسے میں کسی شخص کا بہت زیادہ حساس ہونا اسے پاگل بنا سکتا ہے یا لوگ اسے پاگل بنا دئیں،لیکن یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ ہر شاعر،ادیب یا کوئی فنکار جتنا حساس ہوگا اتنا ہی اس کے فن میں جان پیدا ہوگی ۔                             جاوید تو ویسے بھی ایک اچھا شاعر اور ادیب تھا ۔ کسی بھی فنکار کا حساس ہونا ایک فطری عمل ہوتا ہے ۔ جاوید کا دل ہمدردی اور انسانیت کے جذبات سے سرشار تھا۔ اسے ذرا ذرا سی ب

’مہنگا علاج‘‘

کلینک پر مریضوں کا بڑا رش تھا.ڈاکٹر پانڈے اپنے کمرے میں مریضوں کا ملاحظہ کرنے میں مصروف تھے۔شدید گرمی سے لوگوں کا برا حال ہو رہا تھا۔  ڈاکٹر پانڈے عینک کو سر پہ رکھ کر اپنی جیب سے رومال نکالتے اور ماتھے  سے پسینہ پونچھتے رہتے . اتنے میں کلینک کا ایک ملازم’’ وکاس‘‘ اندر آیا اور بولا "ڈاکٹر صاحب ابھی بہت سارے مریض ہیں۔ "  ڈاکٹر نے’ ہوں‘ کرتے ہوئے پوچھا: "  کیا ہمارا ٹارگٹ چار بجے تک پورا ہوگا؟"  " ضرورڈاکٹر صاحب' بس یہ آپ کی ماہرانہ پھرتی پر مدار رکھتا ہے۔ " "ارے وکاس۔۔۔!رفتار تو تیز ہی ہے 'دیکھتے نہیں ہو دوائیوں کی قیمت کتنی زیادہ ہے۔ میرے خیال میں تو چار بجے سے پہلے ہی ہمارا ٹارگیٹ پورا ہونا چاہے۔!!!" "ڈاکٹر صاحب کیا فرق پڑتا ہے اگر چند اور مریضوں

نمک

"جی یہ آپ کی امانت " اس نے ڈائیری ہاتھ میں لی اور پہلا صفحہ پلٹا  "ہیلو باواری میں پال تمہارا ڑاں پال، کیسی ہو ؟" یاد ہے جب میں نے اپنے ہونٹ تمہارے گرم نازک اور پتلے ہونٹوں پر رکھنے چاہے تو تم نے اپنا بایاں  ہاتھ درمیان میں حائل کرکے میرے منہ پر رکھا اور مجھے روک دیا . کیا تمہیں یاد ہے  ؟ اورتم نے اچانک سے کہا  "کیا تم مجھ پر کوئی کہانی لکھو گے ؟" "کیا مطلب ؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا  "اچھا چلو کہانی نہ لکھو ،  کم سے کم مجھے کسی کردار میں ڈھال تو سکتے ہو۔" "یہ کیا سوجھی آج تمہیں؟"  میں نے حیرت سے پوچھا تھا "کہو کرو گے نا ایسا؟"  تم نے ضد کی۔ "اچھا ٹھیک ہے۔ ایسا ہی کروں گا اب خوش!"  "او پال تم کتنے

آئندہ فون مت کرنا

ثانیہ نے آصف سے ایک گھنٹے طویل گفتگو کرنے کے بعد موبائل میز پر رکھا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی پھر بجنے لگی. اس نے منھ بسورتے ہوئے موبائل اٹھایا دوسری طرف ارسلان بول رہا تھا۔ وہی ارسلان جس کے فون کا انتظار یہ کبھی بڑی شدت سے کیا کرتی تھی اور پھر سلسلہ گفتگو اسوقت تک چلتا جب تک موبائل کی جان نہ نکل جاتی، پھر بھی باتیں ادھوری رہ جاتیں، جس کی تکمیل کبھی کلاس روم، کبھی پارک تو کبھی ریسٹورنٹ میں ہوا کرتی. کئی بار دونوں نے ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں بھی کھائی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے ثانیہ کے رویے میں تبدیلی آگئی تھی جس کی وجہ آصف تھا جو ارسلان سے زیادہ وجیہہ تھا اور دولت مند بھی۔ اب بھی ثانیہ کی سہانی شامیں پارکوں میں اور شب کا اکثر حصہ محبت بھری باتوں میں گزرتا لیکن آصف کے ساتھ۔ بہت کوشش کرنے کے بعد آج ارسلان کا فون ملا تھا۔ ہیلو۔۔۔۔ثانیہ کیسی ہو؟ اچھی ہوں. دوسری جانب سے ثانی

تازہ ترین