تازہ ترین

اَدھوراخواب

کھانا کھاتے ہوئے ندیم کی نگاہیں مسلسل ان کیبنوں کی جانب تھیں جن کے داخلے پردبیز اور رنگین پردے لگے ہوئے تھے۔اس کے دوست نے بتایا تھا کہ یہ فیملی کیبن ہیں۔ ان میں لوگ اپنی بیوی یا محبوبہ کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ ندیم کی تشنگی بڑھنے لگی تھی۔ اس نے کبھی اس طرح کے ہوٹل میں قدم نہیں رکھا تھا اور نہ ایسے کیبنوں کے بارے میں جانتا تھا۔ اچانک ایک کیبن کا پردہ تھوڑا سا سرکا اور نوجوان لڑکے نے سر نکال کر بیرے کو آواز دی۔ندیم کی نگاہ اس نوجوان پر پڑی تو وہ چونک پڑا ۔’’ارے ، یہ تو وہی لڑکا ہے جو ابھی دو گھنٹے قبل بس میں میرے ساتھ تھا۔پردہ ہٹنے سے نوجوان کے ساتھ بیٹھی لڑکی کی صورت بھی نظر آگئی۔ اس جوڑے کو دیکھ کر ندیم کے دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی۔ ندیم یہاں شہر میں اپنی شادی کے سلسلے میں خریداری کرنے آیا تھا۔شادی میں محض ہفتہ دن رہ گئے تھے اور ابھی تک بہت سی چیزیں نہیں مل

بے اعتنائی

’’ زبیر ۔۔۔۔۔۔ تم پڑھائی پربالکل دھیان نہیں دے رہے ہو ،اگر تم نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو ہم تمہیں امتحان میںہر گز بیٹھنے نہیں دیں گے‘‘ ۔  پرنسپل نے کلاس کے معائینے کے دوران تحقیر آمیز لہجے میں زبیر کو ٹوکتے ہوئے کہا ۔کلاس میں طلباء و طالبات کے سامنے پرنسپل کے اس تذلیل آمیزرویئے سے زبیر کے چہرے کے جغرافیہ میں ہل چل مچ گئی اور آنکھوں کے تالاب بھر گئے ۔پرنسپل کے جانے کے بعد استاد نے بھی اسے ڈانٹا اور بچوں کو پڑھانے لگا لیکن زبیر،جس کے حساس دل میں کانٹے سے چبھنے لگے، کیا پڑھتا، سخت اُداسی کی حالت میں سوچوں میں غلطاں و پیچاں ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ ’’ زببیر بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔تیرا چہرہ کیوں اُترا ہوا ہے؟‘‘ زبیر جب اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے سکول سے واپس گھر پہنچا تواس کے چہرے کی کتاب پڑھ کر اس کی دادی نے پوچھا ۔ ’’دادی ۔۔۔ ٹیچر

پرانا بستہ

کاش میرا بھی نیا بستہ ہوتا۔آج صبح منی ٖپھر سے اپنی اماں رضیہ سے پوچھ رہی تھیں۔ اماں میرا بستہ آپ لوگ کیوں نہیں لاتے؟ رضیہ:ـــبیٹاگزارا کر لو میں تمہارے بابا سے کہہ کر جلد ہی نیا بستہ لانے کی کوشش کروں گی۔ منی:میں کسی کو جواب بھی نہیں دے سکتی کہ میرے گھر والے مجھے نیا بستہ کیوں نہیں دلا رہے ہیں۔ رضیہ: مجھے معلوم ہے بیٹا،اسی لیے تو مجھے تم سب سے زیادہ عزیز ہو۔ منی:اماں مجھے اسکول کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ رضیہ: ٹھیک ہے بیٹا، چلو میں باہر تک ساتھ آئونگی۔ ہاہاہا۔۔۔ہاہاہا  دیکھو دیکھو اس کا بستہ ،آج پھر پرانا بستہ لے کر آئی ہے۔سبھی بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن اس کو اپنی اماں کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ جلد ہی نیا بستہ دلا دیں گی۔ وہ اپنی کلاس میں اول آتی تھیں جسکی وجہ سے ہر ایک استاد اس کی بہت عزت کرتا تھا۔وہ بہت ذہین تھی لیکن ایک بستے کے لیے وہ اندر

بے وفاء

گھر میں داخل ہونے سے پہلے اُس نے اپنا حلیہ ٹھیک کرلیا تھا ،ظاہری طور پر تو اُسے کوئی زخم نہیں آیا تھا مگر اُسکے دل کے اتنے ٹکڑے ہوئے تھے کہ کرچیاں سنبھالے نہیں سنبھل رہیں تھیں ۔اپنی بھیگی آنکھیں صاف کر ،کے لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے وہ گھر میں داخل ہوئی ۔ "بیٹا آگئی تم واپس "؟ "جی دادی "مختصر سا جواب دے کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ،کچھ گھنٹے کمرے میں بند رہ کر بےتحاشہ آنسو بہاتی رہی پھر جب دادی نے بلایا تو مصنوعی مسکراہٹ سجائے کمرے سے باہر نکل آئی مگر آنکھیں رونے کی صاف چغلی کھا رہی تھیں ۔ "یہ تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ،کیا تم رو رہی تھی؟ "دادی پریشانی سے بولی۔ "ن ن ن ن۔۔۔ نہیں تو دادی "وہ اپنے آنسوؤں کو اندر کھینچتے ہوئے بولی مکر آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگنے کی کوشش کررہے تھے اور گلا رندھ سا گیا تھا ۔ "اچھا !اب

آخری دن

ایک محلے کے چار مکانوں میں چار بلب روشن ہیں۔یکایک ہی ایک مکان کا بلب خاموش ہو جاتا ہے۔مکان تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے۔دوسرے مکانوں کے مکین جمع ہوجاتے ہیں۔بلب کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔بلب تو دیکھنے میں ویسا ہی ہے جیسا کہ پہلے تھاتو پھر اسے کیا ہوگیا۔ یہ اب پہلے کی طرح روشن کیوں نہیں۔وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ایک دوسرے کا منہ تکنے لگتے ہیں۔اتنے میں دور سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آتا ہے۔خاموش بلب کے آس پاس جمع لوگوں کو حیراندیکھ کراپنی پہچان دیتا ہے۔کہ۔۔۔  ’’ میں پاور سٹیشن سے آیا ہوں۔کہو کیا بات ہے ؟ ‘‘ ’’ یہ بلب تو کچھ دیر پہلے ہی روشن تھا ۔‘‘ ’’ اب یہ روشن نہیں ہوگا۔کبھی روشن نہ ہوگا۔۔۔‘‘ ’’ وہ کیوں جناب۔۔۔‘‘ایک آدمی پوچھتا ہے پاور سٹیشن سے آیا ہوا شخص جواب دیتا

سمندر حسینہ اور مصّور

سمندر غُرّایا۔۔۔ لہروں نے ہلچل مچائی۔ میری کشتی ڈگمگانے لگی۔ بیتے لمحوں نے گھبرا کے سمندر میں چھلانگ لگادی۔ میری کوشش  اب بیکار تھی۔ ایک طرف مجھے سمندر کی بے وفا لہروں کا ڈر تھا اور دوسری طرف حسینہ کے بچھڑ جانے کا غم۔! میں نے حسینہ کو اپنے کنوارے خوابوں کی خوبصورت مالا پہنا رکھی تھی۔ میں نے اس سے عہد کیا تھا کہ جونہی ہم ساحل پر اُتریں گے ، میں اُس کے ہونٹوں پر سے سوالیہ آکار مِٹا دوں گا اور اس کے بدلے ’اقرار‘ لکھ دونگا۔ حسینہ مجھے اپنے تیز دھار والے الفاظ سے گھائو دیتی رہی۔ ’’تم تو پتھر ہو پتھر۔۔۔ پتھروں کے نگر میں کوئی بھی آگ کی پرورش نہیں کرتا ہے۔ ہونٹوں کی انگیٹھی پر آگ کوئی نہیں تاپتا۔ اگر تم مجھے محسوس کرنا چاہتے ہو تو پہلے اس آگ کو اسی سمندر میں بہا دو۔۔۔‘‘ تنائو بھرے حالات میں میرے پاس اُس کو جواب دینے کے لئے الفاظ نہیں تھ

روبرو

" دیکھ امجد ، تمہاری بیوی کے یہ روز کے ڈرامے نہیں چلنے والے ہیں۔۔۔ اسے کہہ دے کہ آکر رسوئی گھر کی صفائی کرے ۔۔۔۔ ایک تو میکے سے خالی ہاتھ آئی اور اوپر سے مہرانی کا ناٹک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔ " شبانہ بیگم نے  رعب جماتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا۔۔۔ " جی ماں ۔۔۔۔ کہہ دوں گا ۔۔۔" " تو یہاں کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے۔ جا اور جاکر اسے نیچے بلا کے لا اور اگر نہ مانےتو اسے گھسیٹ کر لے آ۔۔۔۔" امجد، جو ہر وقت اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتا تھا، کے صبر نے آج جواب دے دیا اور وہ بےساختہ بول پڑا ،"ماں آخر تم اس معصوم پر اتنے ظلم کیوں نہ ڈھاتی ہو۔۔۔۔ تمہارے دل میں ذرا برابر بھی رحم نہیں ہے۔۔۔ آخر تم بھی تو ایک عورت ہو، ایک ماں ہو، کسی کی بیٹی ہو۔۔۔۔ تمہیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ جہیز نہ صرف قانونی جرم ہے بلکہ دین اسلام

زیادہ بوجھ

کیا یہ سبھی کام مجھے ہی کرنے ہیں ۔ بچوں کی پرائر کے وقت قطاریں بنانا، فون پر انکو اطلاع دینا ، ایکسکرشن جانا ہو تو گاڑیوں وغیرہ کا بندوبست بھی میری ہی ڈیوٹی ہوتی ہے اور اب اسکول کے ٹائم ٹیبل میں بھی مجھے ہی زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے۔ میں اس محکمے میں پچھلے بیس سالوں سے کام کررہا ہوں ۔ میں یہ تمام کام نہیں کروں گا ۔۔۔ میٹنگ میں محمد اسحاق نامی ایک استاد  دیگر اساتذہ سے مخاطب ہوکر کہتا ہے۔۔۔ دو ہفتے بعد صوبے کے ناظم تعلیم کو علاقے کا دورہ کرنا ہے ۔ اس کے لئے کھانے پینے کا انتظام اسی اسکول میں رکھا گیا ہے ۔ اب اسکول انتظامیہ کو ہی اپنے آفیسر کی خاطر انتظامات کرنے ہیں ۔۔۔۔ بریک کے وقت ہیڈماسٹر صاحب نے میٹنگ کا انعقاد کیا ہے جس میں انتظامات کو حتمی شکل دینی تھی ۔ سبھی اساتذہ اپنی اپنی رائے کے مطابق انتظامات کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور درکار اشیاء کی فہرست بھی بتارہے ہیں ۔ مح

سونے کے کنگن

میں کوئی مولوی، مبلغ یا معلم نہ تھا البتہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح سمجھنے والا انسان ضرور تھا۔ سوچنا اور سمجھنا آسان ہوتا ہے سوچ کر اپنے خیالات کو لفظوں میں اپنی زبان سے بیان کرنا یا لکھنا بھی آسان ہوتا ہے لیکن سامنے والے کو قائل کر کے اسکی سوچ کو بدلنا بڑا مشکل امر ہوتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ کسی کو سمجھانے اور اسکی سوچ بدلنے میں تو پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ میں بچپن سے لیکر آج تک ٹی وی سرئیلوں اور فلموں میں دیکھتا آیا ہوں کہ جب بھی کوئی لڑکی سسرال میں پہلی بار قدم رکھتی ہے تو اسکی ساسو ماں اپنی کلائیوں سے اپنے سونے کے کنگن اتار کر اسکی کلائیوں میں پہناتے ہوئے کہتی ہے کہ بہو یہ کنگن میری ساسو ماں نے مجھے پہنائے تھے۔ یہ کنگن ہمارے خاندان کی نشانی ہی نہیں بلکہ عزت اور مان بھی ہے۔ آج میں یہ تمہیں پہنا کر اس رسم کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپتی ہوں۔ مگر ہماری وادی یمبرزل میں اسکا اُ

اعجاز اسد ’’برف زار‘‘ کے تناظر میں‎‎

زیر تبصرہ تصنیف خطۂ جموں کشمیر کے پونچھ ضلع سے تعلق رکھنے والے اعجاز اسد کا شعری مجموعہ ہے ۔جناب اعجاز اسد نے اپنی خدا داد صلاحیت اور محنت کے بل بوتے پر 2012 میں ملک کے سب سے بڑے مقابلہ جاتی امتحان (آئی اے ایس)  میں کامیابی حاصل کر کے اپنی منفرد پہچان بنائی ہے ۔جناب اعجاز اسد فی الوقت بطور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔جہاں انتظامی امور سے وابستہ لوگ پلک جھپکنے کی فرصت نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں وہاں اعجاز اسد اتنے اہم اور اعلیٰ انتظامی منصب پر فائز ہونے کے باوجود اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو بحسن خوبی پروان چڑھا رہے ہیں۔ جس کا جیتا جاگتا ثبوت "برف زار " کی صورت میں اس وقت ہم سب کے سامنے ہے۔اعجاز اسد نے اپنے شعری مجموعے میں مختلف موضوعات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ان کے اس شعری مجموعے کو پڑھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اعجاز اسد زمین سے جڑا ہوا شخص ہے۔ا

وہ تصویریں

ہم جنت بے نظیر کشمیرکے اس عظیم پارک ،جس کی شہرت سن کراسے دیکھنے آئے تھے، میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں ہمارے جیسے سینکڑوں افراد سیر وتفریح میں مگن تھے۔ محکمہ سیاحت نے ناظرین کی تفریح کی خاطرکئی انتظامات کررکھے تھے۔ ہم بھی پارک کی خوبصورتی اور قدرتی مناظر کے حسن سے لطف اندوز ہونے لگے کہ اچانک ایک بزرگ شخص ہمارے سامنے آکر مخاطب ہوئے۔ ’’لگتا ہے آپ لوگ پہلی باراس پارک میں آئے ہیں؟‘‘ ’’جی ہاں، میں اپنے ان دوستوں کو یہ پارک دکھانے لایا ہوں۔۔۔یہ تینوں دوست ممبئی سے آئے ہیں۔۔۔۔ان کی خواہش تھی کہ کشمیر کے کسی تفریحی مقام کو دیکھا جائے۔‘‘ ’’بہت خوب!۔۔۔۔۔لیکن آپ تو یہیں کشمیر کے لگتے ہیں۔‘‘ ’’جی ہاں۔۔۔۔تلگام سے ہوں۔‘‘ ’’آپ بھی پہلی بار آئے ہیں؟‘‘ &rs

ڈیجیٹل وائف

خبردار، ہوشیار، اس بار جو بات آپ کے گوش گذار کرنے جارہاہوں اس پر میں نے پہلے بار بار، لگاتار اور شام وسحار سوچ بچار کیا کہ کروں یا نہ کروں۔ بھی مجھے ایک پرانی فلم کا ایک یادگار گانا یاد آیا۔ ارے یہ کیا ہوا،کیوں ہوا اور کیسے ہوا کہ میں وہ گانا ہی بھول گیا، حالانکہ یہ جھوٹ ہے۔‌خیر جانے دیجیے میں جانتا ہوں وہ گانا آپکو پسند نہیں آئیگا کیونکہ آج کل ہر شہر ہر گاؤں میں ڈجٹل دور چل رہا ہے۔ چلئے جانے دیجیے۔ در اصل جس موضوع پر میں تیز رفتار و تیزطرار انداز میں آپ سے گفتار کے لئے بیقرار ہوں  پلیز، مہربانی کرکے اس بات پر مجھ سے کوئی تکرار مت کرنا ورنہ میں خوامخواہ زندگی کے ایک خصوصی، بلکہ یوں کہیے کہ ہر دوار سے ،نرم و نازک صنف کی بیجا تلوار کی تیز دھار کا شکار ہوجاونگا۔ حالانکہ اس بڑے سنسار کا‌عظیم سپہ سالار یعنی پروردگار میرے دل کی حالت زار بخوبی جانتا ہے کہ خاکسار

کلوال

مسجد کے صحن کی ایک سرسبز پارک میں  گاؤں کے دانشور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے سامنے اکرم نامی ایک کمہار میلے کچیلے کپڑوں میں مایوس بیٹھا ہوا ہے ۔ مولوی صاحب اوقاف کمیٹی کے ممبران سے مخاطب ہیں۔  مولوی صاحب: اکرم کہہ رہا ہے کہ اگر اوقاف کمیٹی اس کے نان نفقے اور دوسرے لوازمات کی زمہ داری لے تو وہ اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد مسجد کے نام لکھ دے گا۔ آپ سب کی کیا رائے ہے ؟  دانشور : لیکن مولوی صاحب یہ تو بھتیجے کے ساتھ رہتا ہے اور اس کے بھانجے بھی ہیں ۔ اکرم : نہیں ،میرا بھتیجا میری طرف خلوص سے دھیان نہیں دیتا ہے ۔اس کی بیوی مجھے طعنے دیتی ہے ۔میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اپنی جائیداد اس کے نام کرسکتا ہوں۔ دانشور : پھر بھانجوں کے ساتھ بیٹھو ۔ اکرم‌: لیکن میرا بھتیجا ان کو میرے پاس آنے ہی نہیں دیتا ہے اور وہ بھی دل سے میری طرف توجہ نہی

آثار قیامت

وہ تینوں بڑے شہر کے بڑے ریئس زادے تھے۔اپنے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل کالج میں ایم ڈی کررہے تھے۔ان کی طبعیتوں میں ہم آہنگی اور مزاج  میں چاشنی نے انھیں ایک دوسرے کے قریب کردیا تھا۔تینوں گہرے دوست بن گئے تھے۔حیرت کی بات تو یہ تھی کہ تینوں اپنے عقیدے کے پابند تھے۔لیکن اس کے باوجود جب وہ آپس میں ملتے تو یوں معلوم ہوتا کہ جیسے وہ آپس میں سگے بھائی ہوں۔ایک کا نام دل محمد ،دوسرے کانام چمن لعل اور تیسرے کانام رنگیل سنگھ تھا۔دل محمد،دماغ کا،چمن لعل دل کا اور رنگیل سنگھ معدے کا اسپیشلسٹ بننے کی تربیت حاصل کررہاتھا۔ایک ہی ہوسٹل میں الگ الگ کمر وں میں رہتے تھے۔دن بھر وہ کلاس لیکچر اور لیبارٹریوں میں مصروف رہتے لیکن شام ہونے سے پہلے وہ تینوں ہوسٹل سے نکل کے دور تک ٹہلنے چلے جاتے۔وجودیت کے نظریے  سے لے کر عالمی منظر نامے تک ان کی گفتگو ، ان کی دلچسپی ،معلومات اور ذہانت کو آشکار کرتی۔چہل

نیلوفر

نیلوفر کی شادی تین سال پہلے معظم سے ہوئی تھی۔معظم اچھا انسان نہیں۔ہر روزوہ اپنی بیوی کو مارتا اور طعنے دیتا رہتا ۔نیلوفر ماں بننے والی تھی لیکن اس کے باوجود بھی معظم اس پر زیادتی رہتا تھا اور ایک دن وہ گھر میں دوسری عورت کو لے آیا اور نیلوفر کو گھر سے نکال دیا۔نیلوفر کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنا بڑا دکھ لے کر وہ اپنی ماں کے پاس کیسے جائے۔اس کی بوڈھی ماں بہت بیمار رہتی تھی لیکن اب اس کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا اور آخر کار وہ اپنی ماں کے پاس چلی جاتی گئی۔ نیلوفر بیٹا تو اچانک، کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے۔ ماں نے کہا۔ ماں میں ہمیشہ کے لیے آئی ہوں،اب میں وہاں کبھی نہیں جاؤں گی۔وہ گھر میں دوسری عورت کو لے آئے ہیں۔ اس بچے کی ذمہ داری بھی اب مجھے خود نبھانی پڑے گی۔ میں اپنے بچے کو ماں باپ دونوں کا پیار دوں گی۔نیلوفر رونے لگی ہے لیکن ماں نے اُسے دلاسا دیتے ہوئے کہا کہ سب ٹھیک

سُلگتے ارمان

صبح کی فضا سورج کی کنواری کرنوں میں نہا رہی تھی،خوش لہن پرندوں کی سریلی آوازیں ماحول میں ترنم پیدا کر رہی تھیں۔ رشید بستر پر لیٹے اس پر کیف منظر سے محظوظ ہوتے ہوئے نہ جانے کن سوچوں میں گُم تھا کہ سرہانے رکھااس کا موبائیل فون بج اٹھا۔اس نے آنکھیں ملتے ہوئے فون اٹھا یا۔ ’’ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔دل افروزبات کرو۔۔۔کل پرسوں تک میں آجائوںگا۔۔۔ہیلو ۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔‘‘۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور فون منقطع ہوگیا۔اس نے کئی بار واپس فون کیا، لیکن جواب ندار۔ پہلے سے ہی پریشان رشید کواب گھر کی یادوں نے بری طرح گھیر کر بے چین کردیا۔اپنی گھروالی دل افروز کا شکوہ بھرا چہرہ آنکھوں کے سامنے آگیااور بچوں کی میٹھی توتلی آوازیں کانوں سے ٹکرانے لگیں۔ ’’ہائے میرے ارمان ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ کہتے ہوئے وہ بستر سے اٹھ کر دیوار پر آویزان کلینڈر کو دیکھنے لگ

گر ہن

کووڈ کی وجہ سے لاک ڈائون میں ، میں واپس اپنے گھر بارہمولہ آگیا۔ ہر روز کی طرح صبح اٹھ کر گھر کے آنگن میں گیا تو ساتھ والے پڑوسی کے گھر سے بچوں کا بہت شور آ رہا تھا۔ حالانکہ یہ گھر بہت وقت سے خالی تھا۔ممی نے مجھے بتایا تھا کہ گھر والے کہیں باہر رہتے ہیں۔ پڑوسی کے گھر کا ایک دروازہ ہمارے آنگن میں بھی کھلتا تھا۔ میں نے اسی دروازے سے گھر کے اندر جھانکا تو دیکھا دو بچے گھر کے آنگن میں کھیل رہے تھے۔ کھیلتے کھیلتے جب ان کی نظر مجھ پر پڑی تو انھوں نے کھیلنا بند کر دیا اور دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر سہمے ہوئے،انداز میں گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہوکر مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے انھوں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ دونوں بچوں میں ایک لڑکی تھی جو تقریبا دس گیارہ سال کی ہوگی اور اس کا چھوٹا بھائی تقریبا آٹھ نو سال کا ہوگا۔ ان کی شکل و صورت اور کپڑوں سے و ہ بالکل کشمیری نہیں لگتے تھے۔

یتیم کی پکار

غزلی سکول سے واپس آئی تو ماں کو کام کرتے دیکھ بولی اَمی میرا انتظار کیا کرو میں خود سارے کام نپٹالونگی۔ پروین کو غزلی کی طرف پیار سے دیکھ کر بولی ‘تم اپنی کتابوں پر دھیان دو یہ کام ہو جائیگا، ہم غریبوں کے چھوٹے سے گھروں میں کام ہی کتناہوتا ہے۔ امی کام ہر گھر میں ہوتا ہے۔ غزلی جھٹ سے بولی۔ پھر ماں نے کہا ‘بس باتیں بنائے بغیر جلدی کھانا کھائو اور تھوڑے چاول بھائی کے لئے بھی رکھنا۔ٹھیک ہے امی، غزلی بولی ۔وہ تھی تو دس سال کی لیکن وقت اور حالات نے اسکو سیانا بنادیا تھا۔ ۔۔۔! اسکا باپ، جس کا نام الیاس تھا ،حالات کا مارا اپنے دادا کے دوران حیات ہی یتیم ہوگیا تھا اور گھر والوں نے اسکی ماں اور الیاس کو زمین جایداد سے بے دخل کر کے گھر سے باہر نکالا تھا۔تب سے اسکی ماں نے اسکو سنبھالا تھا۔ میٹرک پاس کرکے کام ڈھونڈنا شروع کیالیکن کام کہیں نہ ملا۔پھر ایک روز نیم فوجی دستے میں عارضی

عکس

ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے مجھے کبھی کبھی منافقت کا لبادہ اوڑھنا پڑتا ہے۔کبھی کبھارکوئی غم اندر سے نڈھال کردیتا ہے لیکن اپنے کیبن میں بیٹھتے ہوئے اکثر ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ سجاتا ہوں تاکہ پیشے کے ساتھ انصاف ہو سکے۔اپنی ننھی سی بچی کی بیماری نے مجھے اندر سے نچوڑ کر رکھا تھا مگر آج مجھے ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ سجانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ میں کیبن میں اکیلا بیٹھاتھا۔     موسمِ خزاں دستک دے چکا تھا اور میں اپنی کرسی پر دراز ہوکر کیبن کی داہنی طرف کی کھڑکی سے خزاں رسیدہ چنار کا مشاہدہ کررہا تھا،جو میرے کیبن سے چند سو میٹروں کے فاصلے پر ہی واقع تھا۔اُس کے زرد پتے یکے بعد دیگرے ہچکولے کھا کھا کر زمین پر گررہے تھے۔آج ہوا کے معمولی جھونکوں کے سامنے دیو قامت چنار بے بس نظر آرہا تھا۔فرش پر زرد پتوں کے انبار نے ایک قالین کی شکل اختیار کی تھی،ایک ایسا قالین جس سے نظرٹکراتے ہی د

بہروپئے

 بازار میں بڑی گہما گہمی تھی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ بھیڑ بھی بڑھتی ہی جارہی تھی اس بھیڑ میں وہ جگہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہے تھے مگر کہیںپائوں ٹکا نہ پا رہے تھے وہ جہاں کہیں ٹھہرنے کی سعی کرتے تو لوگوں سے طرح طرح کی نازیبا باتیں سننی پڑتیں۔ ’’دور دفع ہوجائو۔ہٹ جائو  یہاں سے  ۔پاگل کہیں کے ‘‘ اس بھیڑ میں سب گاہکوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے کیونکہ کئی دنوں کے سخت لاک ڈائون کے بعددکانیں کھولنے کی اجازت ملی تھی۔ سبھوں کی مالی حا لت ناموافق حالات کی وجہ سے خراب ہو چکی تھی لوگ حواس باختہ پھر رہے تھے۔ جس سے بات کرو آگ اُگل رہاتھاکہیں لات مکے پڑتے تو کہیںگالی گلوچ سنتے۔صمد خان ؔ دس بارہ برس کی معصوم بچی کوویل چیئر پر بٹھائے ایک بڑی بلڈنگ کے سامنے جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔بچی کی ٹانگوں پر پٹیاں لگی ہوئیں تھیں، ایک ہاتھ بھی بند

تازہ ترین