تازہ ترین

زخمِ تَر

ہونٹوں کی بھی اپنی ایک مجبوری ہوتی ہے اکثر لگتا ہے کہ سب کچھ تو کہہ دیا لیکن بات پھر بھی ادھوری رہ گئی۔ آنکھوں کا بھی یہی حال ہے، بند ہوں تو خواب سجنے لگتے ہیں ، کھلی ہوں تو خواب بکھر جاتے ہیں، سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی لگتا ہے کہ اب بھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔ اس صورتحال میں غیر یقینیت کا ایک عجیب سا ماحول کروٹیں لینے لگتا ہے اور زندگی کی ساری تلخیاں اُبھر اُبھر کر زندگی کی ساری خوشیوں کو بے مزہ کر دیتی ہیں! مقبول صاحب اور خدیجہ کی زندگیوں میں نہ تو کوئی تلخی تھی اور نہ ہی غیر یقینیت کا اھساس۔ہاں! انہیں اپنے بیٹے کو خوش خوش دیکھنے کے لئے زندگی جینے کی تمنا ضرور تھی۔ اب سے قریب قریب پینتالیس برس قبل جب اُن کی شادی ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ اُن دونوں کی عمروں میں تین ماہ کا فرق ہے۔ خدیجہ اپنے خاوند مقبول صاحب سے عمر میں تین ماہ بڑی تھی اور اِس ناطے اُس کا ماننا تھا کہ اسکے ہونٹوں پر ا

پردہگر گیا

آنکھیں چار ہوئیں اور جُھک گئیں۔۔۔۔ اب کی بار اُس نے عورت کی آنکھوں میں سے کچھ نہیں پایا۔ کوئی خواب نہ، کوئی خیال۔ خالی خالی تھیں اُس کی آنکھیں۔ کیا وقت کے ساتھ سب کچھ بہہ گیا تھا؟ ۔۔۔ ’’نہیں نہیں‘‘ وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔ دروازے کا پردہ ہوا کے جھونکے سے ہٹ جاتا تو اُس کی نظریں سامنے ٹیلے پر جا پڑتیں اور وہ ماضی کے حسین لمحوں میں کھو جاتا۔ دیکھتا سب کچھ جوں کا توں ہی تو ہے۔ ٹیلے کے سرے پر میدان، میدان میں گائوں، گائوں کے اِرد گر پیڑ پودے، بہتے ندی نالے اور بہت کچھ۔ نیل گوں آسمان میں چمکتا سورج بھی تو وہی ہے لیکن سٹول پُر سکڑ کر بیٹھی عورت؟۔۔۔۔۔ اب بہار جوبن پہ تھی۔ چٹیل پڑے میدان بھی ہری مخملی گھاس سے لدے ہوئے تھے۔ ’’بید مُشک‘‘ اور ’’ہمبرزل‘‘ کے پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ

افسانچے

سپنا ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ میرا بھائی علیم خان اپنی بیٹی کی بات ماننے سے صاف انکار کر رہا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ بھی سنا ہے کہ خوشبو نے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی خواہش پوری نہ کی گئی تو وہ خود کشی کرے گی ۔ عابد خان نے سگریٹ ایشٹرے میں مسلتے ہوئے بیوی سے کہا،اور علیم خان نے کہا ہے کہ وہ خود گولیوں سے بھرا  پستول بیٹی کو دے گا یا خود اس کے لیے زہر خرید کر لایے گا یا پھر خود اس کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کرے گا۔ پتہ نہیں ایسا کیوں۔۔۔ذرا آپ ‌اپنے بھائی سے پوچھ لیں کہ وہ اپنی بیٹی پر ظلم کیوں کر رہا ہے۔ سکینہ بیگم نے شوہر سے کہا۔ دوسرے دن عابد خان نے اپنے بھائی سے پوچھ لیا۔ بھائی صاحب آپ  خوشبو کی شادی میں دیوار بن کر ‌کیوں کھڑے ہیں۔ بات کیا ہے۔ اونچ نیچ، امیری، غریبی،ذات پات مسلکی اختلاف یا  لڑکے میں کوئی نقص۔۔یا

قصوروار کون۔۔۔؟

سمندر کی لہریں لحظہ بہ لحظہ ساحل سے ٹکرا کر جو حباب پیدا کر رہی تھیں وہ رفتہ رفتہ از خود معدوم ہوتیا جا رہا تھا۔ مگر کنارے پر بیٹھے فیض کے ذہن میں جو عجیب بُلبُلے بن  رہے تھے وہ اس بار زائل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ در حقیقت اس پریشانی کا پتا فیض کے آبائی گا ئو ں کے محلے کی ایک پیچیدہ گلی سے ہوکر سیدھے  سلمان کے ژولیدہ گھروندے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ سلمان جو پیشے سے کچھ سال قبل سرکاری ملازمت سے وابستہ تھا، آج افلاس کی بھیڑیوں میں اسیر ہو کر مرگِ  مفاجات کی دہلیز پر بے ہوش پڑا ملتا ہے۔ سلمان کی اس بد حالی کی وجہ اس بحث و تکرار میں پنہاہ ہے جو سبکدوشی سے قبل گائوں کے ایک نامدار آدمی اور اس کے  مابین ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی دفتری دستاویزات پر دستخط کرنا بھول جانے کی غلطی اس پر بھاری پڑگئی اور ملازمت سے اسے تا عمر ہاتھ دھونا پڑا۔ سلمان یہ صدمہ  سہہ ن

پشیمانی

آج پھر میں نے یادوں کے جُھلستے صحرا میں کئی پہر گزارنے کے بعد موبائل میں نادرہ کے نمبر پر مسیج ٹائپ کرنا شروع کی ۔۔ "نادرہ ۔۔ کیسی ہو ؟ میں مانتا ہوں کہ محبت کے حسین ایام میں غلط فہمی اور دھوکے کی آلودہ ہوا بکھیرنے والا میں ہی تھا ۔۔ لیکن شاید تم نہیں جانتی کہ اس آلودگی نے میرے اندر بے چینی اور پشیمانی کی کئی بیماریوں کو جنم دیا ہے ۔۔۔ میری سوچیں تمہارے تصور کے گرد ہر وقت طواف کرتی رہتی ہیں ۔۔ اگر چاہو تو لوٹ آؤ۔ " کئی بار میسیج کی تصحیح کرنے کے بعد میں نے میسیج ڈلیٹ کردی اور موبائل رکھ کر پھر پشیمانی کے دورے کا سامنے لگا ۔۔  رابطہ؛ ہندوارہ کشمیر ،موبائل نمبر؛7780912382  

نالائق

سعیدہ نے حیدر کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اس سے کہا،" حیدر بیٹا ادھر آؤ تھوڑا کام ہے"۔ حیدر جھٹ سے اٹھا اور ماں کے بازو پکڑ کر اسے ڈیوڑھی تک لے آیا اور کہا، " ماں کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہیں کہ جب کوئی بات کر رہا ہوتو پہلے دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے ۔۔۔۔! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا!!" " بیٹا میں تو۔۔۔۔!" " بس ماں بہت ہوگیا ! اب تم اندر مت آنا ، میرے دوست تمہیں دیکھ کر میرا مذاق اُڑائیں گے"، حیدر کے منہ سے ایسے دل دہلانے والے الفاظ کانوں میں دھیرے دھیرے اتار کر سعیدہ کو جیسے جھٹکا لگ گیا۔۔۔۔دیوار کا سہارا لے کر اور پھیرن کی آستین سے آنسو پونچھ کر حیدر سے کہا،" بیٹا کیا میں اتنی غیر ہو گئی کہ اب تم مجھے حقیر شے کے  سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔۔۔ ٹھیک ہے میں باہر ہی رہتی ہوں مگر بیٹا میری ایک بات یاد ر