تازہ ترین

عکس

ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے مجھے کبھی کبھی منافقت کا لبادہ اوڑھنا پڑتا ہے۔کبھی کبھارکوئی غم اندر سے نڈھال کردیتا ہے لیکن اپنے کیبن میں بیٹھتے ہوئے اکثر ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ سجاتا ہوں تاکہ پیشے کے ساتھ انصاف ہو سکے۔اپنی ننھی سی بچی کی بیماری نے مجھے اندر سے نچوڑ کر رکھا تھا مگر آج مجھے ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ سجانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ میں کیبن میں اکیلا بیٹھاتھا۔     موسمِ خزاں دستک دے چکا تھا اور میں اپنی کرسی پر دراز ہوکر کیبن کی داہنی طرف کی کھڑکی سے خزاں رسیدہ چنار کا مشاہدہ کررہا تھا،جو میرے کیبن سے چند سو میٹروں کے فاصلے پر ہی واقع تھا۔اُس کے زرد پتے یکے بعد دیگرے ہچکولے کھا کھا کر زمین پر گررہے تھے۔آج ہوا کے معمولی جھونکوں کے سامنے دیو قامت چنار بے بس نظر آرہا تھا۔فرش پر زرد پتوں کے انبار نے ایک قالین کی شکل اختیار کی تھی،ایک ایسا قالین جس سے نظرٹکراتے ہی د

بہروپئے

 بازار میں بڑی گہما گہمی تھی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ بھیڑ بھی بڑھتی ہی جارہی تھی اس بھیڑ میں وہ جگہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہے تھے مگر کہیںپائوں ٹکا نہ پا رہے تھے وہ جہاں کہیں ٹھہرنے کی سعی کرتے تو لوگوں سے طرح طرح کی نازیبا باتیں سننی پڑتیں۔ ’’دور دفع ہوجائو۔ہٹ جائو  یہاں سے  ۔پاگل کہیں کے ‘‘ اس بھیڑ میں سب گاہکوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے کیونکہ کئی دنوں کے سخت لاک ڈائون کے بعددکانیں کھولنے کی اجازت ملی تھی۔ سبھوں کی مالی حا لت ناموافق حالات کی وجہ سے خراب ہو چکی تھی لوگ حواس باختہ پھر رہے تھے۔ جس سے بات کرو آگ اُگل رہاتھاکہیں لات مکے پڑتے تو کہیںگالی گلوچ سنتے۔صمد خان ؔ دس بارہ برس کی معصوم بچی کوویل چیئر پر بٹھائے ایک بڑی بلڈنگ کے سامنے جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔بچی کی ٹانگوں پر پٹیاں لگی ہوئیں تھیں، ایک ہاتھ بھی بند

زور کا جھٹکا

زلیل، کتا، کمینہ پتہ نہیں کس سور کی اولاد ہے۔ روحی اپنے آپ سے ہی بڑبڑا رہی تھی۔ غصے سے اسکے خوبصورت چہرے کا‌رنگ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ اپنی نئی نویلی سہیلی رومانہ کی کار کی ساتھ والی سیٹ پر ایک شہزادی کی طرح براجمان‌تھی۔ وہ خوبصورت تھی، نہیں! خوبصورت تر‌بھی نہیں تھی بلکہ وہ خوبصورت ترین تھی۔‌  روحی اور رومانہ کی دوستی حال ہی میں ایک رشتے دار کی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی اور رومانہ نے ہی روحی کی خوبصورتی سے کافی  متاثر ہوکر اسکی طرف دوستی کا‌ہاتھ بڑھایا تھا۔‌ہاے  میں رومانہ ہوں اور اسی شہر میں رہتی ہوں۔اس نے اپنا تعارف کرتے ہوے روحی سے کہا۔  اوہ گلیڈ ٹومیٹ یو۔ میں روحی ہوں اور میں بھی  ڈاؤن ٹاؤن میں رہتی ہوں، روحی نے جواباً اپنے بارے میں کہا۔ میں پی جی کر رہی ہوں۔ روحی نے جواب دیا۔ اوہ یعنی آپ مجھ سے ایک قدم‌ آگے ہیں،

وجود

 آج پورا گاوں  وحشت سے لرز اٹھا تھا۔ لرزتا بھی کیوں نہیں واقعہ ہی ایسا پیش آیا تھا ۔حالانکہ ایسے واقعات تو بہت ہی سُنے تھے، بڑے بڑے شہروں میں۔ مگر ہمارے یہاں تو ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ سب لوگ دوکانوں پر،کھیتوں میں، دفاتر میں، گھروں میں،غرض  ہر جگہ اسی بات کا چرچا كر رہے تھے۔ پڑوس کی دادی کو میں نے یہ کہتے سنا "يا اِلٰہی رحم! کیا اب ہمارے گائوں میں یہی ہونا باقی تھا؟"۔ہر جگہ کانا پھوسی، لوگ کسی گمنام عورت کو گالیاں دے رہے تھے۔ "خدا لعنت بھیجےایسے لوگوں پر۔ وہ برباد ہو جائے۔ روز محشر میں کیا منہ لّے کر جائینگے۔ ان ہی حرکتوں سے ہماری یہ حالت ہے ۔ بجلیاں نہ گریں، سیلاب نہ آئے تو اور کیا ہو گا؟" بھیڑ میں سے ایک ادھیڑ عمر کے مرد نے کرخت لہجے میں کہا۔ آخر واقعہ بھی تو اتنا بڑا تھا۔ سنسان کھیتوں میں کسی نوزائید بچے کوایک  ڈبے میں رکھ کر کوئی چلا گ