تازہ ترین

مرد

شب و روز کے ہنگاموں سے بے خبر وہ روز ہائے وے کے متصل پیٹرول پمپ پر بھیک مانگنے آتے تھے۔ وہ بچے کون تھے؟ کہاں رہتے تھے؟ یہ بعد میں پتہ چلے گا۔ ان خوبصورت بچوں کو دیکھ کر اکثر میرے دل میں طرح طرح کے خیالات اور سوالات اُبھرتے تھے۔ ’’کتنے پھول اسی طرح مرجھا جاتے ہیں! بہار دیکھے بغیر وہ خزاں کا شکار ہوجاتے ہیں! ان معصوم ہاتھوں میں قلم ہونا چاہئے تھا! اِن معصوم بچوں کی یہ سکول جانے کی عمر تھی! شائد اسی لئے اُن کے چہروں پر ’کل‘ اُداس ہے! ایک طرف سرکار بچوں کی بہبودی کے بڑے بڑے دعوے کررہی ہے۔ دوسری طرف مشقت اطفال Child Labourاور بچوں پر ہورہے تشدد کا گراف روز بہ روز بڑھتا ہی جارہا ہے اور سرکاری دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں۔ حسرت میرے ہونٹوں پر دُعا بن کے آئی۔۔۔ ’’یا اللہ! ان معصوم بچوں پر رحم فرما۔۔۔ یہ بکھر جائیں گے، پھر ان کوسمیٹنا مشکل ہوگا۔‘&l

محبت کے رنگ

’’ اب میں اور نہیں چل سکتا ،بھوک سے میرا برا حال ہو رہا ہے‘‘ ۔ شہزاد نے چلتے چلتے اچانک ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ ’’ سر ۔۔۔۔۔۔ ہم اپنی منزل پر پہنچنے ہی والے ہیں ،وہ بڑا میدان جو دکھ رہا ہے وہیں ہمیں ٹھہرنا ہے‘‘ ۔ گائیڈ نے تھوڑی دوری پر دکھ رہے میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو شہزاد کی ہمت بندھ گئی اور وہ اٹھ کر دھیرے دھیرے چلنے لگا ۔شہزاد سیر سپاٹے کا کافی شوقین تھا اور آج اپنے دوست کے ہمراہ دور دراز جنگلی علاقے کی سیر کے لئے نکلا تھا ،ان کے ساتھ ایک مقامی گائیڈ اور دو نوکر بھی تھے ۔قریب آٹھ گھنٹے سے وہ لگاتا ر پا پیادہ محو سفر تھے ،جو بھی پکا ہوا کھانا وغیرہ ساتھ تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور وہ سب بھوک سے نڈھال تھے ۔کچھ دیر بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے اور ایک جگہ جہاں،صاف و شفاف پانی کی ندی بہہ رہی تھی ،پر پڑائو ڈال د

من کا بوجھ

جون کا مہینہ تھا دن کے بارہ بجنے کو تھے سورج اپنے شباب پر تھا ۔مریض کلنک پر ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے ۔سب لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ میں بھی بخار سے جل رہا تھا ۔میری باری آنے ہی والی تھی کہ ایک بزرگ خاتون ہاتھ میں عصا لیے کھڑی ہوئی اور سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگی بیٹا اپنی باری مجھے دو گے ؟۔اس کی کمزور آنکھوں سے دو موتی نیچے گرنے ہی والے تھے کہ میں نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا کیا بات ہے ماں کیوں رو رہی ہو؟ بوڑھی عورت آنسوئوں پونچھتے ہوئے۔۔۔ بیٹا کچھ نہیں ۔ ماں تمہیں میری قسم کیا بات ہے تم اتنی غمگین کیوں ہو۔؟اور تمہارے ساتھ کون آیا ہے یہاں ؟ میں نے یکے بعد دیگرے یہ سوالات پوچھے۔ اس ضعیف عورت نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا ،کیا کرو گے میری کہانی جان کر ؟میں نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے کہا۔ بس میں سننا چاہتا ہوں ۔مجھے تم میں اپنی مرحوم ماں نظر آتی ہے۔

پُتلا

آج بیوی بچوں کے ہمراہ  میوزیم سے لوٹتے وقت امجد صاحب کی نگاہ مسلسل زوبیہ پر مرکوز تھی انھوں نے نوٹ کیاکہ زوبیہ خاموش سی ہے ۔اس کا ذہن اپنے ٹھکانے پر نہیں ،جبکہ نہ صرف وہ گھر سے نکلتے وقت خوش باش تھی بلکہ میوزیم میں بھی چہکتی پھر رہی تھی! پھر کب؟ کیا ہوا کہ یہ گم صم سی  ہوگئی  ؟ امجد صاحب کی گہری نظر صرف زوبیہ پر قائم رہی- کہ  دریں اثنا وہ  شیشے کے گلاس میں پانی لے کر  ان کے پاس آئی ، تو امجدصاحب نے بیٹی کو غور سے دیکھتے ہوئے دریافت کیا 'بیٹا !تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا؟ ' زوبیہ کےلبوں پر  پھیکی مسکراہٹ پھیل گئی " میں ٹھیک ہوں پاپا ! میں سوچ رہی ہوں کہ اپنے وقت کے یہ بادشاہ جن کے نام سے ساری دنیا  سہم جایا کرتی تھی،  ہٹلر، مسولینی،  وغیرہ وغیرہ ۔۔آج پتلے بن کر میوزیم میں کھڑے  ہیں ، ہم میں سے کوئی 

سرکاری نوکری

سہ پہر کا وقت تھا- سلمیٰ برآمدے پر بیٹھی بہار کی تازہ فضائوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ مدہم ہوائوں سے کبھی کلیاں کھلتی تو کبھی پتّے ہلنے لگتے۔ کبھی سلمیٰ کے گھر کے آنگن میں لگے مکئی کے پودے جھوم اٹھتے۔ وہ اِس سماء میں گُم تھی کہ اس کے بغل میں پڑے موبائل فون  پر کوئی مسیج آیا۔ جب سلمیٰ نے فون اٹھا کر دیکھا تو اسے پتا چلا کہ اگلے روز اس کے جاب یعنی نوکری کے لئے دئے گئے امتحان کا سلیکشن لسٹ آنے والا ہے۔ سلمیٰ نے بی۔ ایس۔ سی، ایم۔ ایس۔ سی اور پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری اعلٰی گریڑز سے مکمل کی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے کمپیوٹر کے شعبے میں بھی ڈپلومہ کیا تھا۔آج اس نے سرکاری نوکری کے لئے یہ امتحان دیا تھا، جس کا رِٹن ٹیسٹ اس نے کوالیفائی کیا تھا اور انٹرویو کے لئے منتخب ہوئی تھی۔ وہ کچھ روز پہلے  انٹرویو کے لئے گئی تھی۔ اس نے وہاں بھی قابلِ تعریف کارکردگی دکھائی تھی اور وہ سلیکشن لسٹ میں ا

قاتل ہوا

   یہ کہاں آگئے ہم ۔۔یہاں کے چاند جیسے چہروں پر تو گرہن لگا ہے ۔۔۔سب مایوس اور پریشان ۔۔کوئی خوش نہیں ہے ۔۔۔میں اس بزرگ آدمی سے دریافت کرتا ہوں جو اس پارک میں چٹائی پر بیٹھا ہوا ہے کہ ماجرا کیا ہے ؟ ۔۔پہلے گاڑی کو پارک کرتا ہوں ۔۔۔اب ٹھیک ہے ۔۔۔حامد نے اپنی شریک حیات اور بچوں سے کہا ۔۔۔وہ بھی حیران کن نظروں سے اُداس چہروں کو تک رہے تھے۔۔۔ حامد گاڑی سے اترا اور سڑک کے نزدیک پارک میں بیٹھے اُس بزرگ کے پاس چلا گیا اور سلام عرض کی ۔۔۔چاچا جان ۔۔۔السلام علیکم ۔۔۔ بزرگ نے جواب دیا ۔۔۔۔وعلیکم السلام بیٹا۔ حامد نے پوچھا ۔۔۔چاچا جان ۔۔۔اس شہر کے لوگوں کو کیا ہوا ہے ۔کسی کے  چہرے پر مسکان نہیں ہے ۔۔۔ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاں ماتم کدہ ہیں ۔۔ بزرگ نے نرم لہجے میں کہا: بیٹا ، ہمارے زمانے میں یہاں خوشحالی راج کرتی تھی  لیکن اب بدحالی کا راج ہے۔ پہلے یہاں محبت اور

مسکن

خواجہ کریم جُو کے کارندے رسی اور آرا لے کر ایک بڑےچنار کے  درخت کو کاٹنے کی تیاری میں تھے اور خواجہ صاحب دُور کرسی پر براجمان یہ کاروائی دیکھ رہے تھے۔ اُنہوں  نے کھڑے ہوکر سگریٹ کا ایک لمبا کش لگا کر پیڑ کے سراپا کا جائزہ لیا۔ تنے سے ہوتے ہوئے ان کی نظر اوپر جاکر دفعتاً رُک گئی اور اُن کے مُنہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔،، ٹھہروووووووووو۔۔۔۔! درخت کے تنے پر چلتا ہوا آرا یکدم تھم گیا۔ پھر ان کی نگاہیں تنے کے کھوکھلے حصے پر جم گئيں۔ اُنہیں محسوس ہوا کہ ضرور یہ کسی کی پناہ گا ہے  وہ ٹکٹکی باندھے اُسے دیکھتے ہوئے ماضی میں  پہنچ گئی ۔۔۔،،   اُس دن صُبح کے ساڑھے دس بجے جب خواجہ صاحب کی آنکھ کھلی تو اُنہوں نے حسبِ معمول کھڑکی سے باہر کا نظارہ کیا، اُنہوں نے  اپنی آنکھیں مل کر دوبارہ باہر جھانکا تو وہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ مکان کا پورا لان چنار کے ذرد پتوں سے بھر

جیسی کرنی ویسی بھر نی

کشور اور ممتا کی اکلوتی بیٹی سیما ہے، جو اپنے ماں باپ کی چہیتی ہے ۔عمر اس کی 19سال کی ہے اورماں باپ اس سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اس کے گھر میں اس کے چا چا چاچی اور ایک چچیری بہن بھی ہے جس کا نام سونا ہے، دونوں ہم عمر ہیں۔ان دونوں کو آپس میں اتنی محبت ہے کہ جیسے سگھی بہنیں ہوں۔  سونا نے سیما سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ آج اسکول کا آخری دن ہے، اب تم لوگوں کا کہاں سیر پر جانے کا پروگرام ہے۔ ہم اس بار ایسی جگہ جائینگے جہاں اچھی ٹھنڈ ہو۔ سیما نے جواب دیا۔ اگلے روزسیما اور اس کے ماں باپ پہلگام کیلئے نکلے۔ تم بھی چلو ہمارے ساتھ سونا،سیما نے کہا۔  نہیں نہیں آپ لوگ جائیں، سونا نے جواب دیا۔ کچھ دن بعد سونا اسی سوچ میں تھی کہ کب سیما واپس آئے گی کہ اتنے میں گھر کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔سونا دوڑ کر ٹیلی فون کی طرف گئی کہ شاید سیما کا فون ہے لیکن ٹیلی فون پر کوئی آ

فیک فرینڈ

بھائی ! انٹرنیٹ کا زمانہ ہے ۔ ساری دنیا بچوں سے لیکر بڑوں تک جیسے باولی ہو رہی ہیں۔ ہر ایک کی زبان پر فیس بک اور وٹس اَپ وغیرہ کا نام ہے۔ ہر کوئی دجالی  انٹرنیٹ کے کارنامے ایسے سنا رہا ہے جیسے برج خلیفہ فتح کیا ہو۔ ایک میں ہوں جو اکیسویں صدی میں بھی گِھسی پِٹی کتابوں سے ہی کام چلا رہا ہوں۔ میرے ہم عصر مجھے کتابوں کا کیڑا سمجھ کر روز طعنے دیتے ہیں۔ یہاں دودھ پیتے بچوں کو بھی انٹرنیٹ کی لت لگ گئی ہے۔ ایک میں ہوں جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اسی صدی کا انسان ہوں یا آثار قدیمہ کا۔  اپنے ہم عصردوستوں کے ہاتھوں میں مہنگے مہنگے سمارٹ فون دیکھ کر آخر میری بھی غیرت جاگ اٹھی۔ میں نے بھی تھوڑی سی ہمت جٹا کر والد صاحب کو صاف صاف لفظوں میں کہہ ہی ڈالا۔ ” ابو مجھے بھی سمارٹ فون چاہیے۔  ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!“ والد صاحب :۔ ” ورنہ ک

کنجوس تاجر

بہت پرانی بات ہے کہ ایک تاجر اتنا كنجوس تھا کہ اپنے مال بردار گدھے کے لئے چارہ بھی نہیں خریدتا تھا، اس نے اپنے اس انتہائی خدمت گزار گدھے کے کھانے کا بندوست یوں کیا کہ اس کے سر میں شیر کی کھال پہنادی تاکہ وہ لوگوں کے کھیتوں میں جاکر چرتا پھرے اور لوگ اسے شیر سمجھ کر اس کے پاس آنے کی ہمت نہ کریں، یوں اس گدھے نے شیر کی شکل اختیار کرلی اور کھیتیاں چرتا رہا۔ ایک دن کسانوں نے لاٹھیاں لے کر اس شیر کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، اور جب بظاہر اس طاقت ور گدھے نے اس کے مقابلے میں آنے والے اتنے سارے لوگوں کو دیکھا تو وہ گھبرا گیا اور اس پر شدید خوف طاری ہوا، یہ دیکھ کر  ایک کسان نے تاڑ لیا کہ یہ شیر نہیں ہے جیسا کہ وہ سمجھتے تھے ، اس نے فوراً چلا کر کہا : "یہ شیر نہیں ہے یہ تو گدھا ہے" ، اس کے بعد سارے کسانوں نے بیک زبان کہا : ہمیں دھوکہ دینے کا گناہ اس کے مالک کے سر ہے ، آؤ

خوشی

اپنا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں دیکھ کر وسیم نہایت ہی خوش تھا ۔ اب اسکو سرکاری نوکری بھی ملی ، اچھے عہدے پر بھی فائض ہو رہا ہے اور جس دفتر میں اسکو کام کرنا ہے وہاں ملازمین کو ہر قسم کی سہولیات ہمیشہ میسر رہتی ہیں ۔ قسمت والوں کو ہی ایسے عہدے اور دفاتر نصیب ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ وسیم اپنی تنگدستی اور مفلسی کی پرانی داستان اب یکدم بھول رہا ہے کیونکہ اسکے جسم میں اب نئی جان آگئی ۔۔۔۔ اپنے دوستوں اور دیگر لڑکوں ،جو پڑھائی کے دوران اسکے ہم جماعتی تھے، کو وسیم نے شہر کے سب سے بڑے ہوٹل میں دعوت پر مدعو کیا ہے ۔ وسیم کے سب دوست اور دیگر لڑکے دعوت میں شرکت کرتے ہوئے خوشیاں منارہے ہیں ۔ سب دوست اسکو نئی گاڑی ، شہر میں ہی ایک خوبصورت مکان خریدنے اور کسی بڑے آدمی کی بیٹی سے شادی رچانے کی صلاح دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔ پاس ہی دو اور آدمی ہوٹل کے اسی کمرے میں کھانا کھاتے ہوئے کچھ باتیں کررہے

شاہین

میرا گھر اور میرے گھر کے افراد اپنی شرافت، ایمانداری، سادگی اور اپنی ذہانت کی بدولت جانے اور مانے جاتے تھے مگر ان باتوں سے تو زندگی کی بات نہیں بنتی۔ میرے خیال میں ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ انسان کے مقدر کا اچھا ہونا بہت ضروری ہے۔ میرے ابا نے میری پیدائش کے وقت میرا نام شاہین رکھا تھا۔ شاید ابا کو میری ذات کو لے کر یہ امید بندھ گئی تھی کہ میرا نام شاہین رکھنے سے شاید میں وہ اڑان بھر سکوں  جس اڑان کی تمنا انکے دل کے اندر مرتے دم تک رہی کیونکہ ابا اور میرے چاچو اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عام سی پوسٹوں پر فائز تھے۔ وہ دونوں زندگی بھر اپنے سے کم تعلیم یافتہ لوگوں کے ماتحت کام کرتے رہے۔ میں بھی پڑھ لکھ کر پچھلے کئی سالوں سے اخباروں میں نوکریوں کے اشتہار ڈھونڈ ڈھونڈ کر فارم بھرتے بھرتے مایوس تو نہیں ہوا تھا البتہ ابا سے میری بے روزگاری اور تڑپ دیکھی نہ گئ۔ ایک دن انہوں نے مجھے بتا

تنکے

بقول ڈاکٹر عامر سہیلؔ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ افسانچے کو سمجھنے کے لئے ہمیں فن افسانہ نگاری سے مدد لینی پڑے گی ۔اس لئے دونوں اصناف افسانچہ اور افسانہ میں چند فنی چیزیں مشترک اہمیت کی حامل ہیں۔مثلا افسانویت،اسلوب وعنوان وغیرہ۔ کہانی ہو یا افسانہ،دونوں میں اول  سے آخر تک یہ تجسس رہتا ہے کہ بالآخرکون سا نتیجہ بر آمد ہوگا۔اس بنیاد پر افسانچہ میں بھی پہلے لفظ سے آخری لفظ تک تجسس بر قرار رہتا ہے کہ ا ٓخر میں کیا ہوگا  یا کیا نتیجہ نکلے گا اور یہ تجسس رہنا بھی چاہیے،لیکن یاد رہے افسانہ میں گرہ اس طرح نہیں چھپائی جاتی  جس طرح افسانچے میں حھپائی جاتی ہے۔‘‘(ماہنامہ۔۔فن زاد سر گودھا۔۔اپریل ،2019۔ص۔۔96۔افسانچہ نگاری حدود و امتیازات)۔ ادب کی اس خوبصورت نثری صنف کو نکھارنے میں دبستان کشمیر کے فکشن نگار سر فہرست نظر آتے ہیں ۔یہاں کے فکشن  نگاروں نے اس صنف کو ا

’’خواب ریزہ ریزہ‘‘

وہ دور سے ایک بڑے پتھر کی بانہوں میں اپنی بانہیں ڈالے غور سے مشاہدہ کر رہی تھی۔ اُس کے بائیں ہاتھ میں دوپٹے کا کنارہ  تھا، جسے وہ ہلکے ہلکے اپنے موتی نما معصوم دانتوں سے  ایسے چبا رہی تھی جیسے کہ لالی پاپ کا مزہ چکھ رہی ہو!!! ! میں نے اپنے قدموں کو اُس کی اور موڑا ہی تھاکہ وہ ایک غزال کی رفتار سے ایک گھنے سر سبز دیودار کی طرف بھاگی ،جس پرکچھ مدہوش کرنے والی آوازیںاُسے اپنی اور بُلا رہی تھیں۔وہ چھُپنے کی کوشش کرتی رہی لیکن چھُپ نہ سکی۔ اس کا دل بھی  اُسے مجھ سے دور رہنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اُس کے دل میں لاکھوں ان کہی کہانیاں چھُپی تھیں۔ وہ کہانیاں جن کو اُس نے پچھلے سات سال سے اپنے من میں پال کے رکھا تھا۔  اُس کی آنکھیں سپنوںکا ایک سمندر تھیں۔ ہرنی جیسی آنکھوں کوقدرت نے فطری سُرمے سے مالا مال کیا تھا۔ اُس کے ہونٹوں پہ گلابوں کی لالی رچی تھی۔ یخ بستہ ہوائوں ن

ہجرت

زندگی کے سفر میں وہ مسافر اپنی روداد رقم کرتا تھا۔ کبھی کہانی، افسانہ اور کبھی ڈرامہ تخلیق کرتا تھا۔ کبھی وہ اپنے ذاتی کتب خانہ میں اپنے دردِ جگر کا علاج تلاشتا تھا۔ لوگ اُس کو تخلیق کار کہتے تھے، اُس نے اپنے نام عزیز کے ساتھ اُداسؔ  تخلص جوڑا تھا۔ اسی قلمی نام سے وہ مشہوربھی ہوا۔  اُداس کی عادات نرالی تھیں۔ تنہایاں اس کو بھاتی تھیں اور خموشیوں کے ساتھ اُسے گہرا لگائو تھا۔ چائے ،کافی اور سگریٹ کا متوالا تھا۔ اپنے بیوی بچوں پر بھی خوب دولت اُڑاتا تھا۔ لیکن وہ بیوی کا کبھی نہ بن سکا! جب بھی کوئی اُن کی بیوی سے اُن کے بارے میں کچھ پوچھتا تو بیوی جی بات کو ٹالتی تھیں!  لوگ اُداس صاحب کی تخلیقیت سے بے حد متاثر تھے اور اُسے بحیثیت تخلیق کار ملک کے اندر اور باہر جانا پہچانا جاتا تھا۔ سمیناروں، ورکشاپوں اور ادبی محفلوں میں شرکت کے لئے انہیں ملک کے کونے کونے سے مدعو کیا ج

دشتِ تنہائی میں

وہ غار سے باہر آیا تو تیز روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں لیکن تازہ ہوا نے اس کے جسم وجاں کو فرحت اور راحت کا  سکون بخشا۔   اس نے کئی لمبی سانسیں لیں جیسے برسوں بعد اسے تازہ ہوا نصیب ہوئی ہو۔  پھر ایک لمبی سانس چھوڑ کر اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا۔لیکن ذہن و دل میں منزل پانے کی جو برسوں کی کسک  اسے بے چین کئے ہوئے تھی وہ اب بھی تشنہ تھی۔  پھراس نے  مڑ کر  نہیں دیکھا۔  جنگلوں اور بیابانوں میں دوڑتا بھاگتا رہا۔   منزلیں اس کے تیز گام پیروں تلے رندھتی چلی گئیں ۔ لیکن ہر منزل پر پہنچ کر اسے لگا کہ ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔   اُس نے اپنی زبان کُھردرے ہونٹوں پر پھیر لی اور یاس بھری نگاہوں سے صحرائے لق و دق کو دیکھنے لگا۔۔۔لیکن آنکھ کے فوکس میں ریت اور رتیلے ٹیلوں کے سوا کچھ اور نہ آیا۔ وہ پھر آگے بڑھتا گیا۔ گرتے پڑتے بچ

اپنا مقام

سورج ڈوب چُکا تھا اور شام دُھندلی ہورہی تھی۔ ایک آدمی فورلین سڑک پر اپنی ہی چال سے آگے ہی آگے چلاجارہا تھا۔ جب پیچھے سے کوئی گاڑی آتی تو وہ رُک جاتا اور گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کرتا تھا کیونکہ وہ اب تھک گیا تھا اور جلد ہی گھر پہنچنا چاہتا تھا لیکن کوئی گاڑی رُکتی نہیں تھی، تیزی سے گزر جاتی تھی۔ وہ پھر آگے کی طرف مُنہ کرکے چلنے لگتا۔ جب تھک گیا تو ایک جگہ بیٹھ کر سستانے لگا۔ آخر کار اُس نے ایک سکوٹی اُسی طرف آتے ہوئے دیکھی۔ سکوٹی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ سکوٹی چلانے والی لڑکی نے سکوٹی روک دی اور پیچھے بیٹھنے کیلئے کہا۔ آدمی سکوٹی پر بیٹھ گیا۔ لڑکی جوان اور خوبصورت بھی تھی۔ اُس نے جین کی پینٹ اور لینن کی نسواری رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ ریشم جیسے نرم و ملائم بال کھلے تھے۔ بال اُڑ اُڑ کر اُس کے چہرے پر گر رہے تھے اور آدمی کو بھی سہلارہے تھے۔  آدمی اندر ہی اندر سوچ رہا تھا

پـنجرہ

نام فاطمہ تھا…مگر سب اُسے زہرہ پُکارتے تھے…خوبصورت روح اُورجسم کی مالکہ زہرہ، خوش لباس بھی تھی… زہرہ اب عمر کے بیسویں برس میں آچکی تھی البتہ اُس کے حلیہ پرایک گہرے دُکھ کی پر چھائی تھی… اسلئے کہ اس کی زندگی میں آتی خوشیوں کواچانک موت کے اٹل فرشتے نے نگل لیا۔۔۔۔۔۔ جس شحص کے ساتھ ٹھیک دودن بعد اس کی شادی ہونی طے پائی تھی وہ ایک واردات میں ہلاک ہو گیا۔ ماں کے ساتھ زہرہ کو بڑا لگائو تھا، وہ اکثر اسکے پاس بیٹھاکرتی، مگر کچھ راحت محسوس نہ کرتی…اسکی آرزو تھی کہ کوئی ہوتا جو اس کی تنہائی کو دور کرتا۔۔۔۔۔۔۔مگر نہیں۔۔۔۔۔۔  اکثر وہ اکیلے میں روتی ،سسکیاں لیتی،آہیں بھرتی،اور فریاد کرتی رہتی… وہ خود کو منحوس سمجھنے لگی تھی۔ اسکے اس رویے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آنکھ کھولتے ہی اسکی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی… باپ نے دوسری شادی کیا ک

سزا

صبح کی فضا سورج کی کنواری کرنوں میں نہا رہی تھی ،خوب صور ت پھولوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے اور رنگ برنگے پرندے اپنے آشیانوں سے نکل کر مسحور کن آوازوں میں چہکتے ہوئے ماحول میں رس گھول رہے تھے ۔اس دلفریب منظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے پروفیسر عاشق حسین مہمان خانے سے نکل کر یونیورسٹی کے وسیع عریض صحن میں ٹہلنے لگااور دانشگاہ کے مختلف شعبوں اور ہوسٹل عمارتوں کے گرد گھومتا رہا۔ قریب ایک گھنٹے تک چہل قدمی کرنے کے بعد عاشق حسین ،جو تنہا ئی پسند تھا ، آکر مہمان خانے کے سامنے بنے خوب صورت باغیچے میں لگی ایک کرسی پر دراز ہوگیا اوراپنے لئے ناشتہ وہیں منگوا کر اخبارات کا مطالعہ کرنے لگا ۔عاشق حسین ایک قابل پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نامور ادیب اور شاعر بھی تھا جو اپنے شہر سے دور دوسرے شہر کی یونیورسٹی میں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لئے آیا تھا ۔وہ رنگ بہ رنگے پھولوں سے سجے ب

افسانچے

نار سردی سے کانپتے ہوئے ہاتھوں نے جب ماچس کی ڈبیا اٹھائی تو شبنم کی طرح گیلی بہتی ہوئی ناک نے اُس کے لیے آگ جلانے کا کام یک دم بگاڑدیا۔بہتی ہوئی ناک کو پونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو ناک کی طرف بڑھانے کے چکر میں ماچس کی ڈبیا اس کے ہاتھ سے گر کر نیچے کسی اور کے پیروں تلے دبن کر چکنا چور ہوگئی۔ سردی سے بچنے کے لئے جو کام اُس کے لئے آگ کی جلتی ہوئی لپٹیں کرتیں وہ کام اب اُس کے  اندر بھڑکتے ہوئے شعلوں نے کر دیا  اور یک دم سے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ اور بہتی ہوئی ناک اپنے ہوش میں واپس آگئے۔     چاند زمانے کی بدلتی کروٹوں کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی بھی نہ جانے کتنی تلاطم بھرے کروٹوں سے گزرتی ہے لیکن پھر بھی وہ جانتی تھی کہ ہر رات کے بعد سویرا  ضرورہوتا ہے اورہر مشکل کے بعد آسانی ضرور ہوتی ہے۔شایدکہ اتنی سمجھ ہونے کے باوجود بھی وہ کبھی کبھی اپنے ب