تازہ ترین

مرد

شب و روز کے ہنگاموں سے بے خبر وہ روز ہائے وے کے متصل پیٹرول پمپ پر بھیک مانگنے آتے تھے۔ وہ بچے کون تھے؟ کہاں رہتے تھے؟ یہ بعد میں پتہ چلے گا۔ ان خوبصورت بچوں کو دیکھ کر اکثر میرے دل میں طرح طرح کے خیالات اور سوالات اُبھرتے تھے۔ ’’کتنے پھول اسی طرح مرجھا جاتے ہیں! بہار دیکھے بغیر وہ خزاں کا شکار ہوجاتے ہیں! ان معصوم ہاتھوں میں قلم ہونا چاہئے تھا! اِن معصوم بچوں کی یہ سکول جانے کی عمر تھی! شائد اسی لئے اُن کے چہروں پر ’کل‘ اُداس ہے! ایک طرف سرکار بچوں کی بہبودی کے بڑے بڑے دعوے کررہی ہے۔ دوسری طرف مشقت اطفال Child Labourاور بچوں پر ہورہے تشدد کا گراف روز بہ روز بڑھتا ہی جارہا ہے اور سرکاری دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں۔ حسرت میرے ہونٹوں پر دُعا بن کے آئی۔۔۔ ’’یا اللہ! ان معصوم بچوں پر رحم فرما۔۔۔ یہ بکھر جائیں گے، پھر ان کوسمیٹنا مشکل ہوگا۔‘&l

محبت کے رنگ

’’ اب میں اور نہیں چل سکتا ،بھوک سے میرا برا حال ہو رہا ہے‘‘ ۔ شہزاد نے چلتے چلتے اچانک ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ ’’ سر ۔۔۔۔۔۔ ہم اپنی منزل پر پہنچنے ہی والے ہیں ،وہ بڑا میدان جو دکھ رہا ہے وہیں ہمیں ٹھہرنا ہے‘‘ ۔ گائیڈ نے تھوڑی دوری پر دکھ رہے میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو شہزاد کی ہمت بندھ گئی اور وہ اٹھ کر دھیرے دھیرے چلنے لگا ۔شہزاد سیر سپاٹے کا کافی شوقین تھا اور آج اپنے دوست کے ہمراہ دور دراز جنگلی علاقے کی سیر کے لئے نکلا تھا ،ان کے ساتھ ایک مقامی گائیڈ اور دو نوکر بھی تھے ۔قریب آٹھ گھنٹے سے وہ لگاتا ر پا پیادہ محو سفر تھے ،جو بھی پکا ہوا کھانا وغیرہ ساتھ تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور وہ سب بھوک سے نڈھال تھے ۔کچھ دیر بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے اور ایک جگہ جہاں،صاف و شفاف پانی کی ندی بہہ رہی تھی ،پر پڑائو ڈال د

من کا بوجھ

جون کا مہینہ تھا دن کے بارہ بجنے کو تھے سورج اپنے شباب پر تھا ۔مریض کلنک پر ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے ۔سب لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ میں بھی بخار سے جل رہا تھا ۔میری باری آنے ہی والی تھی کہ ایک بزرگ خاتون ہاتھ میں عصا لیے کھڑی ہوئی اور سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگی بیٹا اپنی باری مجھے دو گے ؟۔اس کی کمزور آنکھوں سے دو موتی نیچے گرنے ہی والے تھے کہ میں نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا کیا بات ہے ماں کیوں رو رہی ہو؟ بوڑھی عورت آنسوئوں پونچھتے ہوئے۔۔۔ بیٹا کچھ نہیں ۔ ماں تمہیں میری قسم کیا بات ہے تم اتنی غمگین کیوں ہو۔؟اور تمہارے ساتھ کون آیا ہے یہاں ؟ میں نے یکے بعد دیگرے یہ سوالات پوچھے۔ اس ضعیف عورت نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا ،کیا کرو گے میری کہانی جان کر ؟میں نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے کہا۔ بس میں سننا چاہتا ہوں ۔مجھے تم میں اپنی مرحوم ماں نظر آتی ہے۔

پُتلا

آج بیوی بچوں کے ہمراہ  میوزیم سے لوٹتے وقت امجد صاحب کی نگاہ مسلسل زوبیہ پر مرکوز تھی انھوں نے نوٹ کیاکہ زوبیہ خاموش سی ہے ۔اس کا ذہن اپنے ٹھکانے پر نہیں ،جبکہ نہ صرف وہ گھر سے نکلتے وقت خوش باش تھی بلکہ میوزیم میں بھی چہکتی پھر رہی تھی! پھر کب؟ کیا ہوا کہ یہ گم صم سی  ہوگئی  ؟ امجد صاحب کی گہری نظر صرف زوبیہ پر قائم رہی- کہ  دریں اثنا وہ  شیشے کے گلاس میں پانی لے کر  ان کے پاس آئی ، تو امجدصاحب نے بیٹی کو غور سے دیکھتے ہوئے دریافت کیا 'بیٹا !تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا؟ ' زوبیہ کےلبوں پر  پھیکی مسکراہٹ پھیل گئی " میں ٹھیک ہوں پاپا ! میں سوچ رہی ہوں کہ اپنے وقت کے یہ بادشاہ جن کے نام سے ساری دنیا  سہم جایا کرتی تھی،  ہٹلر، مسولینی،  وغیرہ وغیرہ ۔۔آج پتلے بن کر میوزیم میں کھڑے  ہیں ، ہم میں سے کوئی 

سرکاری نوکری

سہ پہر کا وقت تھا- سلمیٰ برآمدے پر بیٹھی بہار کی تازہ فضائوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ مدہم ہوائوں سے کبھی کلیاں کھلتی تو کبھی پتّے ہلنے لگتے۔ کبھی سلمیٰ کے گھر کے آنگن میں لگے مکئی کے پودے جھوم اٹھتے۔ وہ اِس سماء میں گُم تھی کہ اس کے بغل میں پڑے موبائل فون  پر کوئی مسیج آیا۔ جب سلمیٰ نے فون اٹھا کر دیکھا تو اسے پتا چلا کہ اگلے روز اس کے جاب یعنی نوکری کے لئے دئے گئے امتحان کا سلیکشن لسٹ آنے والا ہے۔ سلمیٰ نے بی۔ ایس۔ سی، ایم۔ ایس۔ سی اور پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری اعلٰی گریڑز سے مکمل کی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے کمپیوٹر کے شعبے میں بھی ڈپلومہ کیا تھا۔آج اس نے سرکاری نوکری کے لئے یہ امتحان دیا تھا، جس کا رِٹن ٹیسٹ اس نے کوالیفائی کیا تھا اور انٹرویو کے لئے منتخب ہوئی تھی۔ وہ کچھ روز پہلے  انٹرویو کے لئے گئی تھی۔ اس نے وہاں بھی قابلِ تعریف کارکردگی دکھائی تھی اور وہ سلیکشن لسٹ میں ا

تازہ ترین