تازہ ترین

پھر بھی میں مرد ہوں

فریحا ؔ نظریں جھکائے گنگ سی بیٹھی تھی وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی وہ منوں بوجھ تلے خود کو دبی دبی محسوس کر رہی تھی۔آنکھوں سے آنسوں بہنے لگتے تو انھیں اندر ہی اندر پی جاتی اور ان آنسوئوں میں اپنے ان گنت غم چھپانے کی کوشش کرتی۔ابرارؔ کے بار بار چھونے پر بھی وہ کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتی۔اُس سے شادی کرنے کا فیصلہ اس نے خود ہی لیا تھاکچھ دیر کی چپی کے بعدبلآخر ابرارؔ ؔبول اُٹھا۔ ’’مجھے دیر ہورہی ہے۔میرے دوست میرا انتظار کر رہے ہونگے۔‘‘ فریحا نے نظریں اُٹھا کر کہا۔ ’’اتنی جلدی تم بدل جائو گے یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔اب تم حد سے گزر رہے ہو۔تمہاری ہر فرمایش پوری کرناممکن نہیں ہے۔‘‘ ابرارؔ عجلت بھرے لہجے میں مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی تم لوگوں نے دیا ہی کیا ہے۔‘‘ فریحا معصومیت سے بول

میرا سب کچھ لٹ گیا‎

جون کا مہینہ چل رہا تھا اورگرمیاں اپنے شباب پر تھیں اور یونیورسٹی میں کافی گہما گہمی تھی۔ شعبۂ اردو کی ٹھیک دائیں جانب جو چھوٹی سی پارک تھی نوید نہ جانے کون سی کتاب ہاتھ میں لیے بڑے آرام سے مطالعے میں مشغول تھا۔ اسی اثناء میں سفینہ کا گزر وہاں سے ہوا۔ کلاس ختم ہونے کے بعد سفینہ پھر  اسی راستے سے واپس آئی لیکن نوید اس سب سے بے خبر کسی من پسند تصنیف کا مطالعہ کر رہا تھا۔ سفینہ روز وہاں سے گزرتی تھی اور روز نوید کو مطالعے میں مشغول پاتی تھی وہ اکثر سوچتی تھی کہ یہ لڑکا اتنا گم سم اور تنہا سا کیوں رہتا ہے؟ لیکن اسے کیا خبر کہ وہ سوچوں کے کس سمندر میں ڈوبا رہتا تھا۔ شام کو نوید گھر پہنچا تو بوڑھی ماں نے پھر وہی جملہ دہرایا ۔بیٹا! میری بات مانو اور اسلم چاچا کی بیٹی سے شادی کر لو اور نوید نے وہی پرانا جواب دہرایا۔ماں چھوڑو ان باتوں کو بہت بھوک لگ چکی ہے۔کچھ کھانے کو ملے گا ۔دن گزرتے

اولاد اپنی

امجد اپنی ماں کی فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی تو نہیں برت رہا تھا لیکن پھر بھی گلشن کا معمول تھا کہ وہ اپنے بیٹے امجد کی شکایت ہر کسی کے سامنے کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔ فاطمہ کو امجد سے زیادہ رشتے داروں کے بچے پیارے تھے ۔ جب بھی اسکے بھتیجے ، بھانجے اور نندوں کے بچے گلشن کے گھر آتے تھے وہ بڑے پیار سے انکا استقبال کرتی تھی اور ان سے ہمدردی کے ساتھ پیش آتی تھی ۔۔۔۔ امجد شرمیلی طبیعت کا لڑکا تھا اور زیادہ باتیں کرنے کا عادی بھی نہ تھا ۔ ماں باپ سے کبھی کبھار ہی بڑی گفتگو کرتا تھا اور بات کرتے وقت اکثر شرم محسوس کرتا تھا ۔ اس کے برعکس گلشن کے بھتیجے ، بھانجے اور باقی رشتہ داروں کے بچے گلشن اور اسکے خاوند سے بلاجھجک کے بات کرتے تھے ۔ وہ گلشن اور اسکے خاوند سے ہر دن فون پر بات چیت کرتے تھے اور ان سے خیریت دریافت کرتے تھے ۔ اسی لئے دونوں میاں بیوی کو امجد سے زیادہ رشتے داروں کے بچے پیارے تھ

تازہ ترین