تازہ ترین

کاگا کاہے ستائے روز

یگوں کو بیتنا تھا۔بیت گئے۔۔۔۔۔۔۔۔میری روح کی طرح اداس اداس میں جب کبھی اپنی گذری ہوئی زندگی کی محرومیوںاور تلخیوں کا حساب کرتا ہوں تو مجھے اپنے اندر دور کہیں کسی کوے کی کائیں کائیں سنائی دیتی ہے ۔پہلے میں نے سوچا کہ یہ میرا وہم ہے، فریبِ نفس ہے ۔بھلا مجھ میں ایک آدمی میں کوّے کی کائیں کیا معنی۔۔۔لیکن بار بار اس کائیں سے میرا واسطہ پڑنے کے سبب مجھے یقین ہو چلاکہ کہیں نہ کہیں پرکوئی کوّا مجھ میں موجود ہے ضرور۔۔۔۔کسی کہانی کی صورت میں یا کوئی اور روپ دھارے۔۔۔۔۔! ایک دھند سی ہے کئی روز سے میرے اندر باہر چھائی ہوئی۔اِس دھند میں سے ایک چہرہ، قریب چھ سات سال پہلے دیکھا ہوا، تیکھے ناک نقوش والی۔۔۔۔۔ایک جوان  لڑکی کا چہرہ بار بارابھرنے کی کوشش کررہاہے۔لیکن پھر دُھند اُسے کھا جاتی ہے۔۔۔چہرہ ڈوب جاتا ہے۔پھر کچھ ہی وقفہ بعد یہی چہرہ دوبارہ ا بھرنے کی سعی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ میں

خالد افسانچوں کا خالد مجموعہ

افسانچہ نگاری میں بشیر احمد صاحب زمین پر جنت نظیر وادئ کشمیر کی ایک بلند اور باوقار آواز ہے۔ رخت بہ کاشمیر کُشا کوہ وتل ودمن نگر سبزہ جہان جہان ببین لالہ چمن نگر نگر  صفحۂ قرطاس پر آپ کا قلمی نام ’خالد بشیر تلگامی‘ نظر آتا ہے۔ آپ کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے ایک خوبصورت مقام تلگام سے ہے۔ ایم اے (پبلک ایڈمینسٹریشن) کے بعد آپ نے بی۔ ایڈ۔ کی تعلیم حاصل کی اور گورمنٹ پرائمری اسکول تلگام بالا میں درس وتدریس کے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ یوں تو آپ سال2000سے لکھ رہے ہیں لیکن 2005 سے آپ کے افسانچے اور نگارشات ہند و پاک کے تمام مؤقر اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں۔ آپ کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی اور کشمیری زبان پر بھی دسترس حاصل ہے اور ان زبانوں میں بھی خوب افسانچے تحریر کر رہے ہیں۔ کشمیری زبان میں آپ شاعری، افسانہ نگاری، ڈرامہ نگاری اور دیگر نثری اصن

دھت تیری کووڈ جی

کل رات بجلی رانی کی غیر حاضری میں"الہ ھچہ، مونگہ دال و زومبرہ ٹھول" (سُکھائے کدو، مونگ کی دال اور تلے ہوئے اُبلے انڈے)کے ساتھ کینڈل لنچ، میرا مطلب ہے ڈنر کرنے کے فورا بعد ہی مجھے نیند کی دیوی نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ بس پھر کیا تھا، اسکی آغوش میں آتے ہی میں خوابوں کی  طلسماتی دنیا میں پہنچ گیا۔ میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ کیا دیکھا کہ میری"حرفس گواہ تہ مینڈس شریک" (ہربات کی گواہ اور ہر لقمے کی شریک)یعنی کہ میری شریک حیات نے مجھے بازار سے چکن، گوشت، پنیر، دہی، پیاز وغیرہ لانیکا فوری حکم نامہ جاری کیا۔ اتنی ڈھیر سارے چیزوں کا نام سنتے ہی میرے دل میں خوشی کے مارے لڈو پھوٹنے لگے اور میں خوش ہوا‌کہ چلو آج پچھلی عید کے بعد پہلی بار اتنی ساری ضیافتیں کھانے کو مل جائیں گی لیکن میری خوشیوں پر اس وقت ’’سرہ دگ‘‘ مطلب اوس پڑگئی جب

خُود کُشی

’’ آپ کے مریض کو ہوش آگیا ہے اب یہ خطرے سے باہر ہے میں چلتا ہوں اگر ضرورت ہوگی تو آپ مجھے بلا لیجئے بیگ صاحب ‘‘! کہکر ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ ’’ میں کہاں ہوں؟ اور آپ کون ہیں‘‘؟ سمیر گھبرائے گھبرائے بیگ صاحب سے پوچھ رہا تھا۔ ’’تم میرے گھر میں ہو۔ اور اب تم بالکل ٹھیک ہو‘‘ ۔ کہتے ہوئے بیگ صاحب سمیر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ’’ تم دریا میں گر گئے تھے۔ تمہیں یاد نہیں‘‘؟ ’’ میں گرا نہیں تھا۔ میں مرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے مجھے کیوں بچایا؟ مجھے مر جانے دیا ہوتا‘‘! سمیر زور زور سے رونے لگا۔  ’’دیکھو! میں تم سے عمر میں بھی بڑا ہوں اور تجربے میں بھی۔ اوپر والے نے زندگی جینے کے لئے دی ہے‘‘۔ ’’ہاں! لیکن میں جینا

کَرم

انجلی نے باپ کے منہ میں اپنا دایاں پستان ڈال دیا اور باپ کو تکتی رہی جب تک وہ دودھ پینے سے فارغ ہوا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی مانند سارے علاقے پھیل گئی۔ سول سوسائٹی نے انجلی کو صدر دفتر پر طلب کیا۔انجلی سوسائٹی کے دفتر میں حاضر ہوئی۔ دفتر کے گرد و نواح میں لوگوں کی بھاری بھیڑ جمع ہوئی۔ کچھ لوگ انجلی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ ’’انجلی کو سزا دو‘‘۔  ’’تم ناستیک ہو۔ تم نے باپ کے منہ میں اپنا پستان ڈالا ہے۔ تم نے باپ کو اپنا دودھ پلایا ہے۔ تم پاپی ہو!‘‘۔ سول سوسائٹی کے صدر نے انجلی سے پوچھا۔ ’’نہیں۔۔۔ ہرگزر نہیں۔۔۔ جناب نہ میں ناستیک ہوں اور نہ ہی میں پاپی ہوں‘‘۔ انجلی نے جواب دیا۔ ’’پھر۔۔۔ کیوں تو نے ایسی غیر انسانی حرکت انجام دی؟‘‘ صدر نے بڑے انہماک سے پوچھا۔ ’’

حقِ شُفع

رات اپنے شباب پر تھی ۔ ۔تاریکی بڑھ رہی تھی آسمان پر تارے ٹمٹما رہے تھے ۔گلیاں ویران اور سنسان تھیں ۔سناٹا چھایا ہوا تھا‌۔ ۔محلے کی گلیوں کے نکڑ پر کہیں کہیں بلب روشن تھے ۔غفور چاچا کے گھر میں بھی سارے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں ۔تمام کمروں کے بلب گل تھے صرف آنگن کے دروازے پر ایک بلب روشن تھا ۔بات صاف تھی سب لوگ سوئے ہوئے تھے ۔چونکہ غفور چاچا کا چھوٹا بیٹا عرفان میرا دوست تھا اس لئے میں بھی اس رات ان کے گھر دعوت پر گیا تھا ۔غفور چاچا  ایک نیک سیرت اور عابد انسان تھا ۔۔۔اس کے اخلاق ظاہراً قابل تحسین اور داد دینے کے قابل تھے ۔۔۔۔۔وہ بڑا متقی اور پرہیزگار انسان تھا۔۔۔۔تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد جب وہ سوگئے ۔ تو سوتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔گھر کے سبھی افراد بھی سوچکے تھے۔۔ ۔ اسی اثنا میں  زور سے چلانے کی آواز آگئی ۔۔۔۔خدایا رحم ۔۔۔رحم ۔۔۔رحم ۔۔۔گھر کے سبھی افراد اس اچا

اَنُوکھاسفر

سیل فون بجنے کی آواز آئی تو ایمنؔ نے جلدی سے اٹھایا۔ بھائی سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہو کر بولی ’بھائی تمہاری بہت یاد آتی ہے۔کیسے ہو ؟ دل لگتا ہے کہ نہیں ؟ شہر کیسا ہے  لوگ کیسے ہیں ‘۔ اتنے سارے سوالات ایک ساتھ پوچھے کہ امانؔ ہنس پڑا اور کہا ’بس کرو میں ابھی ویڈیو کال کروں گا سب بتادوں گا، امی کو بھی بلا ‘۔ ’ٹھیک ہے‘ایمن بہت خوش ہوکر بولی۔ ایمن نے لیپ ٹاپ آن کیا اور شروع ہوگئی۔ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے، امان نے  پوچھا امی کدھر ہے۔  وہ زور کا قہقہہ لگا کر بولی’ آپ بھول گئے وہ نماز پڑھ رہی ہے ۔ جتنی دیر وہ نماز مکمل کرتی ہے میں اتنے وقت میں ذرا گھوم کے آئوں گی۔ امان کو ویڈیو میں پیچھے امی نظر آئیں اور بولا ’امی آرہی ہے ابھی تیری خبر لےگی‘۔ امی (افشان ؔ) جلدی نماز مکمل کر کے آئی اسکو ایمن کی باتوں سے اندازہ ہو گی

ابھی انسانیت باقی ہے

’’ ماں ۔۔۔ ماں کہاں گئی ۔‘‘  میں بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پہلے لگا کہ شاید نماز  پڑھنے اپنے کمرے میں گئی ہوگی لیکن ابھی نماز کا وقت نہیں ہوا تھا۔  جب وہ کافی دیر تک نہیں آئی تو  بے چینی اوربڑھ گئی ۔ اس کا کمرہ چیک کیا۔ وہاں نہیں تھی۔ لابی دیکھی تو وہاں بھی نہیں تھی۔ بڑی بیٹھک میں دیکھا۔ لیکن ماں کہیں نہیں تھی۔ دراصل ہمارے پڑوسی  رحمان  بٹ کا سارا گھر کرونا کا شکار ہوچکا تھا۔وہ سبھی لوگ کمروں میں قید ہوچکے تھے۔ ہم ان کے پڑوسی ان سے زیادہ تشویش میں تھے۔ یہ تشویش ان کے مرنے یا زندہ بچ جانے کے لئے نہیں تھی بلکہ ہم سبھی پڑوسی یہ سوچ کر پریشان تھے کہ کہیں ان کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں نہ پھنس جائیں ۔ کچھ پڑوسی تو محلہ چھوڑ کر بھاگ بھی چکے تھے۔ لیکن ہمارے پاس ایسی کوئی دوسری جگہ نہیں تھی جہاں ہم اس وبائی  محلے ے بھاگ کر

بے ادب

 ولی محمد اور زرینہ خانم نے شام کا کھانا کھایا اور ٹی وی روم میں چلے گئے ۔ولی محمد نے ریموٹ کنٹرول سے دُور بیٹھے بیٹھے ٹی وی آن کردیا تو اسکرین پہ ایک ایکٹرس کی کافی عریاں تصویر حیاسوز اداکاری کے ساتھ نظر آنے لگی۔ زرینہ خانم نے لمحہ بھر کے لیے تیکھی نظروں سے اپنے شوہر محتر م کی طرف دیکھا تو ولی محمد نے فوراً چینل بدل دیا۔ دوسرے چینل پہ دو ماڈرن قسم کی عورتیں اور دو مرد حالات حاضر ہ پر اپنے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اینکر کے سوالوں کاانتظار کررہے تھے ۔یہ چاروں عورتیں اور مرد الگ الگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے ۔اینکر نے سب سے پہلے بڑے کرخت لہجے میں ایک سفید ریش مرد سے سوال پوچھا ۔وہ سوال کا جواب دینے لگا ۔ابھی وہ دو ہی جملے بول پایا تھا کہ کہ سامنے دوسری طرف بیٹھی ایک خاتون چیختی ہوئی اُس کے بیان کی تردید کرنے لگی ۔اینکر نے بڑی مشکل سے اُسے چُپ کرایا اور اس طرح سفید ریش مرد نے بڑ

نیلام منڈی

’’راکیش‘‘ پچھلے ایک ماہ سے بستر علالت پر تھا۔گھٹنوں ،جوڑوں کے درد جیسی عمومی Age related بیماریوں میں تو پہلے سے ہی مبتلا تھا ۔اب کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری نے بھی اس کے بوڑھے اور نحیف جسم میں اپنی جگہ بنالی تھی۔جب گھر پر اپنے طریقے سے علاج کرنے سے کچھ افاقہ نہ ہوا تو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ،مسلسل دوائی اور علاج سے طبیعت کچھ سنبھلی تو ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر آگیا ۔حالت ذرا سدھری تو اپنے کام اور گھریلو حالت کی فکر ستانے لگی ۔اسی سوچ میں غلطاں و پیچاں تھا کہ کمرے میں بیوی ادرک کا کاڑھا اور کچھ دوا ئیاں لے کر داخل ہوئی ۔  ’’لگتا ہے آپ پھر سے سوئے نہیں ہیں ؟آپ کو آرام کی ضرورت ہے ۔کن سوچوں میں گم رہتے ہو ؟‘‘  راکیش کی بیوی نے پوچھا ’’میں سوچ رہا ہوں کہ کل سے کام پہ چلاجاؤں ‘‘ راکیش نے بیوی

آشیانہ

ہش ۔۔ ہش ۔۔ آو ۔ آو ۔  وہ آج بھی روز کی طرح تھیلی سے چاول کے دانے بکھیر کر جنگل کے سب سے بڑے اور پرانے دیودار پیڑ کے نیچے پرندوں کا خالی پیٹ بھر رہا تھا۔ یہ عمل وہ روز کرتا ۔ اب تو پرندے اسے پہچاننے بھی لگے تھے ۔ اس کے آتے ہی شور مچایا کرتے اور وہ ان کا شور سن کر بھاگا بھاگا آتا اور کبھی کبھی تو ان سے باتیں بھی کیا کرتا ۔ گاوں والے اس کی یہ حرکت دیکھ کر اسے پاگل سمجھنے لگے تھے اور اسے دیکھتے ہی کہتے " ارے وہ دیکھو ! عبداللہ چاچا نکلا ہے  پرندوں سے باتیں کرنے "  اور ایک شور قہقہوں کا فضا میں گونجنے لگتا۔ مگر وہ بنا کسی کی پرواہ کئے پرندوں کی بھوک مٹاتا رہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جنگل تو ان ہی پرندوں سے آباد ہے ۔  ایک روز وہ دانہ ڈالنے میں مصروف تھا کہ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس چند جوان جنگل کا معائنہ کرنے آئے ۔ ان میں سے ایک نے اس بڑے دیو

بہن

وہ ایک دوسرے کے ساتھ بے انتہا سچا پیار کرتے تھے۔ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد ہی وہ ایک دوسرے کو جاننے لگے اور انہوں نے بہت بار وعدہ کیا تھا کہ ہم دونوں چاہے کچھ بھی ہوجائے شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے ۔ دونوں ایک ساتھ پڑھتے بھی تھے اور انہوں نے دسویں کے بعد بارہویں اور گریجویشن بھی ایک ساتھ مکمل کر لی تھی۔۔۔ گریجویشن اور بی ایڈ کرنے کے بعد جب دونوں کو محکمہ تعلیم میں نوکری بھی ملی تو شادی کی راہ ان کےلئے ہموار ہوگئی کیونکہ اس سے پہلے لڑکے کے گھر والے بے روزگاری کا بہانہ بناکر اسکی شادی نہ کرنے کی باتیں دہراتے تھے ۔ اب جب لڑکی بھی ملازم ہے تو گھر والے زیادہ ہی خوش اور مطمئن تھے ۔ بلاآخر لڑکے نے اپنے گھروالوں کو بتایا کہ کہاں اسکی مرضی ہے ۔ اسکو پورا بھروسہ تھا کہ انکی شادی کسی بھی صورت میں ہو ہی جائے گی کیونکہ اسکی محبوبہ ہر گزرتے دن اسکو شادی جلدی کرنے پر زور دیتی تھی کیونکہ ان

مکافاتِ عمل

’’آج موسم بڑا خراب نظر آتا ہے ۔ہر طرف کالے بادل منڈلا رہے ہیں، چلو چل کو اندر بیٹھیں ‘‘،آنگن میں بیٹھی شاہدہ کی نانی نے شاہدہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ،لیکن شاہدہ پر جیسے اس کی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہوا ۔وہ پھر بھی چُپ چاپ کھڑی اُن کالے بادلوں کو تکتی رہی ۔کچھ دیر بعد نانی پھر باہر آئی اور شاہدہ کو پھر ایک بار اندر چلنے کو کہا ،لیکن اس بار بھی شاہدہ چُپ چاپ ہی کھڑی رہی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اُسے کسی کی بھی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔گُم سم مدہوش وہ کہیں اور ہی مگن تھی ۔یہ منظر دیکھ کر میں بہت حیران رہ گیا ۔من ہی من میں مایوس بھی ہوگیا لیکن اچانک امی کے بُلانے پر میں کھڑکی کے تھڑے نیچے اُتر کر اندر چلا گیا ۔اگلے دن میں اپنے کمرے کی صفائی کررہا تھا کہ اچانک میری نظر شاہدہ کے آنگن میں پڑی ۔حیران و پریشان کھڑی شاہدہ کو پھر میں نے آسمان پر نظریں جمائ

تَرنُم ریاض (مرحومہ ) کی ایک نادر تحریر

بچپن میں کہانیاں سنی تھیں۔ پڑھی بھی تھیں۔ مگر کہانی سے میرا باقاعدہ تعارف اُس وقت ہواتھاجب میری آپا میٹرک میں پڑھتی تھیں۔ اُن کی ایک دوست کی کتاب میں ، میں نے منشی پریم چند کی دوکہانیاں پڑھی تھیں۔(میں سائنس کی طالبہ تھی) انہی دنوں میں نے اپنی پہلی کہانی ’’مصور‘‘ لکھی تھی۔ اُس وقت میں ریڈیو کشمیر سری نگر میں بچوں کے پروگرام کی باقاعدہ آرٹسٹ تھی لیکن یہ کہانی مجھ سے نوجوانوں کے پروگرام میں پڑھوائی گئی تھی۔ جس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ کہانی کے ذریعے بہت سی باتیں کی جاسکتی ہیں، سمجھائی جاسکتی ہیں۔ میرے والد اردو،عربی،فارسی اور انگریزی کے جیّد عالم تھے۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور میری افسانہ نگاری کا سلسلہ چل نکلا، مگر کبھی بے قاعدگی اورکبھی باقاعدگی کے ساتھ۔ میرے خیال سے کہانی فنونِ لطیفہ کی ایسی مضبوط صنف ہے جو اپنی توانائی اور پہنچ سے ذہن و دل پر

میکا

میرے خاندان کے سبھی بڑے بزرگ اور باقی لوگ بڑے پارسا تھے اسی لئے ہمارے خاندان میں حق مہر کم سے کم لکھنے کا رواج اور شادیوں میں جہیزکی بدعت کی نمائش کے بجائے بیٹیوں کو وارثت میں اپنا برابر حصہ دینے کی روایت آج تک زندہ تھی کیو نکہ وہ معاشرے کی کھوکھلے رسموں اور رواجوں وروایتوں کو جڑوں سے کاٹنے والوں میں سے تھے۔ میرے دل میں اپنے میکےکی محبت اور ہمدردی کا احساس خاندان کی دوسری بیٹیوں سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ کیوں نہ ہوتا ؟اس بھری دنیا میں ہم صرف دو ہی سگے بھائی بہن تھے۔ ارسلان امی ابو کے علاوہ میرا بھی راج دھلارا بھائی تھا۔ میری شادی کے کچھ سال بعد ہی وہ ایک اچھے عہدے پر فائز ہوا۔ پھر اسکا نکاح میری ہی پسند کی ایک لڑکی یعنی میری ایک سہیلی کی چھوٹی بہن فرحت کے ساتھ ہوا۔ ارسلان فرمانبردار بیٹا اور اچھا بھائی پہلے سے تھا۔ گھریلو مزاج اور عزت سے پیش آنے والی بھابی ملی تو میں بھی سسرال میں میٹھی ن

اوکٹوپس

کام کا  بوجھ کچھ ہلکا کرنے کے لئے اس نے ایک مشین خرید لی تھی اور اس کا یہ فیصلہ بہت مفیدثابت ہوا۔اب نہ صرف اس کا وقت بچ رہا تھا اورمشقت کم ہو گئی تھی بلکہ فصل کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔ اپنی سال بھر  کی  ضرورتوں کا حساب لگانے کے بعد اُس سال کچھ اناج اس نے  مارکیٹ  میں  فروخت بھی  کردیا تھا۔ پھر بھی نئی فصل کے تیار  ہوجانےتک اس کے پاس پرانا   غلہ  پڑاتھا جو خراب ہونے لگا تو اس نے کچھ ناداروں کو بلا کر دان کردیا۔اگلے سال  انہی لوگوں کو لگا کر اس نے کھیت سے متصل بے کار پڑی زمین  سے خود رو پیڑ پودے کٹوا ئے اور   اس میں  بوائی کردی۔ اپنے خالی وقت کو  اس نے دوسری مشغولیات میں بانٹ لیا ۔سماجی اور ثقافتی  سرگرمیوں میں حصہ لینا  اب اس کے لئے آسان تھا۔جلد ہی اس کا شم

مسیحائی

 ’’ رانا ۔۔۔ یہ کیا ہے ۔۔۔دکھا ۔۔۔ دکھا جلدی ۔۔۔ کیا چھپا رہی ہو تم ‘‘ ’’کچھ نہیں ۔۔۔ میں نہیں دوں گی ۔۔ ابو کے بالوںکی قسم ۔ نہیں دونگی۔  ‘‘ ’’ رانا ۔۔۔ دکھا دو ۔ کیا چھپا رہی ہو تم ۔ ابو  ابو  ۔ دیکھو رانا کو‘‘ رانا کی بڑی بہن شازی باپ کو بلانے لگی۔   ’’ رانا بیٹی کیا چھپا رہی ہو ۔‘‘ ’’ ابو یہ میری انگوٹھی ہے ۔ آپ کیلئے ۔‘‘ محمد اقبال کو انگوٹھی دکھا تے ہوئے۔ ’’اووو میرے لئے ۔۔۔ میرا پیارا بیٹا‘‘ محمد اقبال چھوٹی رانا کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا اور رانا اس کے گنگھریالے بالوں، جو اسے بہت  پسند ہیں، سے کھیلنے لگی۔ وہ بات بات پر ابو کے بالوں کی قسمیں کھاتی۔ ’’ ہاہاہا ۔۔۔ یہ

دل کا درد اور دلوں کا مِلاپ

ڈاکٹر نوشاد جہازمیں داخل ہوکر اپنی سیٹ نمبر ائیر ہوسٹس سے معلوم کررہا تھاکہ ایک نوجوان نے اپنی سیٹ سے کھڑے ہوکر انہیں سلام کیا۔ دوسرا نوجوان اسی مقصد کیلئے کھڑے ہوکر نمستے کرنے لگا ۔ پچھلی قطارکی سیٹ سے ایک لڑکا اور لڑکی ان حضرت کو عزت دینے کے لئے آگے کی طرف آئے ۔  سارے مسافر حیران ہوئے کہ آخر یہ کون شخص ہے ؟ جس کواتنی عزت دی جارہی ہے۔  ان حضرت نے ان سبھوں کا کو ہاتھ کے شارے سے شکریہ کیا۔ یہ سب دیکھ کر ائیر ہوسٹس نفیسہ بھی حیران ہوئی۔ آخر یہ کون شخص ہے جس کی اتنی عزت کی جارہی ہے؟  نفیسہ نے دل ہی دل میں کہا جہاز روانہ ہونے کے قریباً ایک آدھ گھنٹہ بعد مسافروں میں سے ایک نے، جس کا بعد میں پتہ چلاکہ وہ ڈاکٹر الیاس ہے، نے بیل بجاکر کافی کاآرڈر دیا۔ جب نفیسہ نے کافی کا کپ ڈاکٹر الیاس کوپیش کیا تو اس نے یہ کپ ڈاکٹر نوشاد کو دیا۔ یہ دیکھ کر

میرا پتہ

آج میں نے شہر میں اپنے گھر کے دروازے کا نمبر مٹا دیاہے۔ اب لوگ اپنے سوچ کے کینواس پر سے میری شیبہ کو مٹا دیں گے، پر میرے نقوشِ پا لوگوں کو میرے ہونے کا احساس تو ضرور دیں گے۔ ’’پھر تم کہاں ملو گے!؟‘‘ میرے دوست پروفیسر رمضان نے مُجھ سے تعجب کے ساتھ پوچھا۔ ’’مجھے پاکر تمہیںکیا ملے گا؟‘‘ ’’میرے من کا بوجھ ہلکا ہوگا‘‘ پروفیسر نے جواب دیا۔ ’’بھائی !کیسے؟‘‘ ’’اس لئے کہ جب میرا من کبھی غم سے بوجھل ہوجاتا تھا تو میں اپنے معمولات کو آپ کے ساتھ شیئر کرتا تھا۔ تب تم مجھے غم کو بُھلانے کا نسخہ بتاتے تھے اور میرا بوجھ خود بخود ہلکا ہوجاتا تھا! لیکن اب جب تم نے اپنے گھر کا نمبر ہی مٹا دیا ہے اور راہِ فرار اختیار کی ہے تو میرا غم مجھے اندر ہی اندر کالے سانپ کی طرح ڈس لے

بدلتے رنگ

چاچا جان نے رضیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کرلڑکھڑاتی آواز میں کہا ۔۔۔۔ ب۔۔بہ۔۔۔بٹیا  : آج سے اس گھر کی دیکھ بال تمہارے ذمے ہے ۔۔۔۔  رو مت ۔۔دیکھو کیا حالت بنائی ہے اپنی ۔۔۔اوپر والا سب کچھ ٹھیک کردے گا۔۔۔۔ صبر کرو ۔۔۔۔۔۔نہ جانے اس گھر کو کس کی  نظر لگ گئی ۔۔۔۔۔نہیں تو کیا  !  اللہ میرے جوان بھائی کو یوں ہی ہم سے چھین لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رو مت بٹیا  ۔۔۔۔۔۔خالق کی جو مرضی تھی وہی ہوا ۔۔۔۔آخر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔۔۔۔اور آگے بھی وہی ہونا ہے  جو اس کو منظور ہوگا۔۔۔۔ ہمارے بس میں تو کچھ بھی نہیں  ۔۔۔موت تو اٹل ہے ۔۔۔۔اس لقمئہ اجل کا مزہ تو ہر جان کو چکھنا ہے۔ دنیا کی روایت یہی ہے کہ جو یہاں آیا اس کو ایک نہ ایک دن جانا ہی پڑتا ہے ۔۔۔۔   ہمارے رونے دھونے سے  وہ  واپس  تو نہیں آئیں گے۔۔ ۔۔زندگی کا تو یہی دستور ہے ۔۔