تازہ ترین

اللہ! اللہ! اللہ!

  اتوار کا دن تھااور نومبر کا مہینہ۔سورج بادلوں کے لحاف میں مُنہ چھپائے بیٹھا تھا۔بیچ بیچ میں ٹھنڈی دُھوپ اور چھاؤ ں آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ عظمت اُللہ کو فوج سے کیپٹن کی پوسٹ سے رٹائرڈ ہوکر گھر پینشن آئے کُل پندرہ دن ہوگئے تھے ۔ایک دن چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنی بیوی ساجدہ بیگم کو کہا ’’ساجدہ ! میں اپنے پرانے دوست اور محلے دار بُدھی سنگھ سے ملنے جارہا ہوں ‘‘ ساجدہ بیگم بولی ’’وہاں سے جلدی آجایئے گا ،بازار میں گرم کپڑوں کی سیل لگی ہے ۔میں اپنے اور بچّوں کے لیے سوئٹر اور جیکٹیں خریدنا چاہتی ہوں‘‘ ’’ہاں میں کوئی ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آجاؤں گا‘‘ اُنھوں نے ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح اُٹھائی اور اللہ کا ذکرکرتے ہوئے بُدھی سنگھ کے گھر کی طرف چل دیئے۔تھوڑے وقت کے بعد وہ

پگھلا ہوا سیسہ

’’تھوڑی لیں گے؟‘‘ نہیں، جس چیز کو میں نے ایک بار ترک کردیا وہ میرے لئے حرام ہوگئی۔۔۔ ہاں! اگر کوئی میرے سامنے پیے گا تو مجھے اعتراض نہیں۔۔۔‘‘ بے نیاز صاحب نے سلاد سے بھری ہوئی پلیٹ سے گاجر کا ٹکڑا اُٹھاتے ہوئے لاپرواہی سے آتش صاحب کے سوال کا جواب دیا۔ آتش صاحب کے حلق سے اُن کا یہ جواب نہ اُترا۔ اُس نے اِنکی بات کو کاٹنے کی بجائے اپنی ہی مثال دیکر کہا؛ ’’جناب میرے باطن اور ظاہر میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ میں کوئی نقاب نہیں پہنتا۔۔۔۔‘‘ ڈاکٹر بے نیاز صاحب کو آتش صاحب کی یہ بات ناگوار گزری لیکن چہرے پہ ملال کا کوئی نشان ظاہر نہ ہونے دیا اور مسکراتے ہوئے گوش گذار کردیا؛ ’’اِس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بہروپیا ہوں؟ میں نے ہی نقاب پہنی ہوئی ہے؟۔۔۔۔‘‘ ’’نہیں یار، میں نے آپ کے لئے ن

غربت

بچپن میں آصفہ سے یوں تو ہر خوشی نے جیسے ناطہ ہی توڑ دیا تھا اور اب اس کی طبیعت بھی ایسی ہی بن گئی تھی کہ وہ روتے روتے کبھی ہنس دیا کرتی اور ہنستے وقت اُس کی آنکھیں اشک بار ہو اکرتیں ۔قدرت کی تقسیم کاری سے یوں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی آصفہ کبھی کبھار اپنے رب سے اپنی بے بسی اور اپنی غربت پر سوال کیا کرتیں ۔رب کی تقسیم کاری سے یوں تو حاسدوں کو ہی اختلاف رہتا ہے لیکن میرے خیال میں اتنا نیک اس دنیا میں کوئی نہیں جو اپنے دل میں کبھی نہ کبھی اس طرح کا وسوسہ نہ پالے ۔آج آصفہ کی سہیلی نے حسب ِ معمول نہایت خوبصورت پوشاک پہنی تھی اور آصفہ وہی پرانے کپڑے جو وہ کئی عیدوں پر پہن چکی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنی ماں سے کہہ چکی  تھی ’’ماں نجمہ ہر عید پر نئے کپڑے پہنتی ہے ،کیا اس کے والدین اتنے اچھے ہیں جو اُسے ہر تہوار پر نئے کپڑے پہننے کو دیتے ہیں یا نجمہ ا

سکون

علی بابا ایک متقی اور پرہیزگار  انسان تھے۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں تسبیح لئے عبادت خداوند میں مشغول رہتے تھے۔گاؤں بھر میں اس کی عبادت گزاری اور دیانتداری کا خوب چرچا تھا۔لوگ اسے امین اور صادق کے ناموں سے پکارتے تھے۔بستی میں جب کھبی بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، تو لوگ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے علی بابا کے پاس دوڑے چلے آتے اور وہ اس مسلے کا حل معقول طریقے سے نکال لیتے۔وہ ہمیشہ پرسکون رہتے، یاد خدا اور خدمت خلق اُن کا پسند دیدہ مشغلہ تھا۔انہوں  نے اپنی زندگی میں سکھ ہی نہیں بلکہ دکھ بھی بہت دیکھے تھے مگر کبھی اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑے۔۔غم کو وہ اپنے آس پاس بھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے۔وہ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے۔ ایک دن اچانک ان کی جوان بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پوری بستی پر ماتم کی فضا چھاگئی۔بستی کی سبھی عورتیں ماتم کرنے لگیں۔ جوان،بوڑھے سب تشویش میں مبتلا تھے کہ بیوی کا غم آخر سب غموں س

افسانچے

بیٹی بیٹے  بھگوان داس کو ایمرجنسی تھیٹر میں داخل کیا گیا تھا اسے کوئی سرجکل پرابلم تھی۔ تھیٹر کے باہر کوریڈور میں اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی انتظار کر رہے تھے جب اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تھی تو اس نے دس روز بھوک ہڑتال کی تھی کیونکہ وہ بیٹی کو ایک نحوست سمجھتا تھا۔ سرجن آیا تو بھگوان داس کے بیٹوں نے اس سے کہا ڈاکٹر اگر  ہمارے پتا شری کو کچھ ہوا تو ہم اس اسپتال کو آگ لگا دیں گے۔ وہ ہمارا بھگوان ہے خیال رکھنا ۔سرجن گھبرایا ہوا تھیٹر میں داخل ہوا ۔۔ مریض کا پیٹ چاک کیا گیا تو اس کی سانس رک گئی اور وہ مرگیا ۔سرجن گھبرا گیا ۔۔اب کیا ہوگا، وہ سوچنے لگا، اس نے اسپتال کے ڈائریکٹر کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا ۔۔۔اس نےمسکراتے  ہوے جواب میں کہا میرے پی اے سے بات کرو ۔۔۔پی اے نے سرجن کو سمجھایا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔سرجن نے سب سے سینئر نرس سلطانہ کو باہر بھیجا ۔ سلطانہ نے بھ

’’شب ‘‘

ماں اپنی بیٹیوں کو یہ سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ’’آج کی شب بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔آج کی شب میں زندگی اور موت کے فیصلے لکھے جاتے ہیں اس لئے اللہ کی بارگاہ میںگڑگڑاتے ہوئے اپنی لمبی عمر کے لئے دعا مانگو۔۔اور گناہوں سے مغفرت۔۔‘‘ اتنے میں گھر کا اکلوتابیٹا عابدیہ کہتے ہوئے کچن میں داخل ہوا۔ ’’مما۔۔۔۔۔مما مجھے بہت زیادہ بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا پروسو۔‘‘ ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔’’تو میں کہہ رہی تھی کہ آج تم شب بھر بیدار رہوگی۔‘‘ یہ سُن کر بیٹے نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔’’مما۔۔۔۔۔مما  میں بھی شب بیداری کروں گا۔‘‘ بیٹے کے تئیں محبت نے ماںکو یہ کہنے کے لئے آمادہ کردیا۔’’بیٹے تم ابھی چھوٹے ہو۔تم کھانا کھا کے سو جائو۔‘‘ بیٹے نے طا

ویڈیو کال

میں اُس کے ماتھے پر چپکی غم کی تصویر کو پڑھ سکتا تھا۔ وہ کسی فلسفی کی طرح بیڈ پر لیٹا نہ کُچھ کہتاتھا نہ سُنتا تھا۔ اُس کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی سوال تھا۔ ’’کیا میں آخری بار اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں؟‘‘ ’’پھر ۔۔۔ پھر کیا ہوا!‘‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ اندھیرا دھیرے دھیرے اُس کی چھاتی میں اُترتا جارہا تھا۔ آس کے پل اُس سے دور بھاگنے کی تَگ دو میں تھے! درد بھری دھیمی آواز میں اُس جوان نے مجھ سے رو رو کر کہا۔ ’’ڈاکٹر صاحب! اب مجھ سے بدن کا جنجال برداشت نہیں ہوپاتا۔ میری سوچ گھبرا جارہی ہے!‘‘ ’’کیوں۔۔۔ کیا بات ہے؟‘‘ میں نے اُس مریض سے پوچھاجو زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ ’’ڈاکٹر صاحب! میں جانتا ہوں کہ میں زندگی کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سائن ب

منزل کہاں ہے تیری

’’اپنی بکھری ہوئی کتابیں سمیٹو ساتھیو۔۔۔۔۔اور بڑھتے جاو ۔ آگے ہی آگے۔ہمیں بہت دور جاناہے۔چلو۔۔۔۔۔‘‘ــــ ماہان اُن سب کے بیچ اپنی ست رنگی جھنڈی لہراتا ہوا چیخ رہا تھااور قبیلے کے جوان  بوڑھے،مرد عورتیںبچے۔۔۔۔سبھی ہمہ تن گوش تھے۔اُنکے چہروں پر بڑا جوش وخروش تھا۔لیکن کوئی کوئی تو اداس بھی تھا۔اندر ہی اندر بجھا ہوا سا۔۔۔۔۔جیسے یہ لمحہ ہی عذاب ہو۔۔۔۔یہ ساری کہانی ہی فضول اور بے معنی ہو۔جیسے جو کچھ نظر آتا ہے۔وہ ہے ہی نہیں۔۔۔بس آنکھوں کا دھوکہ ہے  ۔ایک فریب ۔۔۔ ’’ہٹاو۔۔۔ہٹاویہ دُھند آنکھوں پر سے۔۔۔‘‘ماہان نے اونچی آواز میںاچانک چلا کر کہا۔کوئی جان نہ سکاکہ وہ کس سے مخاطب ہوا تھا۔اپنے آپ سے یا ہوا کی سرگوشیوں سے۔۔۔۔ یکبارگی ایسا ہوا۔سیاہ گھنے بادلوں میں سے تیز چمکتا ہواسورج باہر نکل آیا۔ دوسرے ہی لمحے  دور دور تک ز

بچپن

وہ ایک معمول کا دن تھاہر روز کی طرح میں اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھاکہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یہاںکسی چیز کی کمی ہے۔کچھ دیر سوچتے سوچتے مجھے یاد آیا کہ نازیہ اور خالدہ کے بچے، جو ہر روز میری کھڑکی کے ٹھیک سامنے کھیلا کرتے تھے ،آج وہاں نہیں تھے ۔ دراصل یہ اُنھیں کے شوروغُل کی کمی تھی جو مجھے تھوڑی دیر پہلے محسوس ہوئی تھی ۔نازیہ اور خالدہ اصل میں جٹھانی تھیں دونوں کے بچے اکثر ہمارے آنگن میں کھیلا کرتے تھے ،حالانکہ دونوں بچوں کے گھر میں بھی ایک سندر سا باغیچہ تھا وہ چاہتے تو وہاں بھی کھیل سکتے تھے۔مگر یہ بچے ان سب چیزوں کو کہاں دیکھتے ہیں ،ان کے کھیل کود اور اُتھل پتھل کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی چیز رُکاوٹ بن جاتی ہے ۔بچے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور شائد اسی آزادانہ زندگی کا نام ’’بچپن ‘‘ہے۔خیر !میں اپنے کمرے سے باہر نکل کر

آخری جام

’’آج میں نے اپنی عمر کی ننانوے بہاریں مکمل کرکے ہمیشہ زندہ رہنے کا پہلا پڑائو سر کر لیا۔اب موت کو اپنے سے دور رکھنا بہت حد تک آسان ہو جائے گا ۔خوشی کے اس موقعہ پر مجھے اپنی کمائی کا ایک اور حصہ کسی خیراتی ادارے کو دان کرنا چاھیے تاکہ موت کے فرشتے کو اپنے سے ہمیشہ دور رکھ سکوں‘‘ ۔ نکولن چارلس نے اپنی نناوے ویںسالگرہ کے موقعے پر اطمینان کا سانس لیا اوردل ہی دل میں اوپر والے کا شکر بجا لاتے ہوئے اپنے منیجر کوایک خطیر رقم اُس لائیف کمپنی کو خیرات میں دینے کا حکم صادر فرمایا جو موت کو انسانوں سے دور رکھنے کے مشن پر کام کر رہی ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مستقبل میں موت کو انسانوں سے دور رکھنے کے (نا ممکن )کام یا کم سے کم انسانوں کی عمروں میں سینکڑوں برس کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگی ۔مشہور سائینس دان نکولن چارلس نے اپنی ساری زندگی انسانی صحت اور مختلف بیماریوں

مسیحائی

’’ رانا ۔۔۔ یہ کیا ہے ۔۔۔دکھا ۔۔۔ دکھا جلدی ۔۔۔ کیا چھپا رہی ہو تم ‘‘ ’’کچھ نہیں ۔۔۔ میں نہیں دوں گی ۔۔ ابو کے بالوںکی قسم ۔ نہیں دونگی۔  ‘‘ ’’ رانا ۔۔۔ دکھا دو ۔ کیا چھپا رہی ہو تم ۔ ابو  ابو  ۔ دیکھو رانا کو‘‘ رانا کی بڑی بہن شازی باپ کو بلانے لگی۔   ’’ رانا بیٹی کیا چھپا رہی ہو ۔‘‘ ’’ ابو یہ میری انگوٹھی ہے ۔ آپ کیلئے ۔‘‘ محمد اقبال کو انگوٹھی دکھا تے ہوئے۔ ’’اووو میرے لئے ۔۔۔ میرا پیارا بیٹا‘‘ محمد اقبال چھوٹی رانا کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا اور رانا اس کے گنگھریالے بالوں، جو اسے بہت  پسند ہیں، سے کھیلنے لگی۔ وہ بات بات پر ابو کے بالوں کی قسمیں کھاتی۔ ’’ ہاہاہا ۔۔۔ یہ امی ک

فیصلہ قُدرت کا

مشتاق اور رابعہ دونوں نے اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت بھی تقریباً اکٹھے ہی کی۔ چونکہ انھوں نے اتنے سالوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لیا، پہچان لیا۔ اس لیے ان دونوں نے اب شادی کے بندھن میں بندھ جانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔  اس مقصد کے لیے انھوں نے بہت جتن کیے کہ یہ کارِ خیر والدین کی باہمی رضا مندی سے انجام پذیر ہو جائے۔  مگر ایسا نہ ہوا۔ کوئی نہ کوئی رُکاوٹ آڑے آ جاتی ۔ مایوس ہو کر دونوں نے مل کر مشورہ کیا کہ آخر کیا کیا جانا چاہیے۔ قرعہ رابعہ کی تجویز پر پڑا۔  چنانچہ اس نے مشتاق کے نام سے گمنام خط لکھا اور پھر اس خط کو اپنے والد صاحب ابراہیم کے باہر جانے والے راستے میں ڈال دیا۔ جب ابراہیم روز مررہ کی طرح اپنے کام کے لیے نکلا تو انھوں نے راستہ میںپڑا وہ خط اُٹھایا۔ خط چونکہ ہندی میں تھا، اس لئے واپس مڑ کر وہ خط رابعہ کو دینے کے ل

یہ کیا ہوا۔؟

وہ چِت پڑا ہوا تھا اور پیہم اپنی نیم وا آنکھوں سے اسپتال میں اپنے وارڈ کی چھت کے اْوپر ٹنگے ہوئے پنکھے کو گھور رہا تھا۔ پنکھا شوں  شوں شوں کی نحوست بھری آواز کے ساتھ دھیمی رفتار سے چل رہا تھا، دھیرے دھیرے اور اٹک اٹک کر۔  وہ جیسے اْس کی زندگی میں جھانک کر دیکھ رہا ہو اور اْسے اطمینان دلانے کی کوشش کررہا ہو کہ زندگی دھیرے دھیرے ہی سہی، مگر ابھی تک چل رہی ہے۔ رات اْس نے پھر کانٹوں پر گْزار دی تھی۔ درد تھا کہ بڑھتا ہی چلا گیا تھا۔ شب بھر وہ شدید درد سہتا رہا تھا۔ وہ جیسے انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔پورا جسم بْخار سے تپ رہا تھا، گلا سْلگ رہا تھا اور چھاتی کے اندر جیسے لاوا اْبل رہا تھا۔ شب بھر اپنی چھاتی کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مسلنے اور سہلانے کی مشق میں جْٹا رہا تھا مگر درد تھا کہ لگاتار بڑھتا ہی چلا گیا تھا۔ روم ( اٹلی) کے " گرینڈ سٹی ہاسپٹل  " کے کرونا وائرس مریضو

افسانچے

خبر  اس کی بیوی نے  اپنی دونوں بانہیں اس کی گردن میں حمایل کردیں اورکہا ۔آج میں آپ کو ایک ایسی خبر سنائوں گی کہ آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے۔  جلدی سنائو۔ شوہر  نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔ میں ماں بننے والی ہوں۔ بیوی نے مسکراتے اور شرماتے ہوئے جواب دیا۔ شوہر کو ایسا لگا جیسے کوئی دھماکہ ہوا۔  اچانک اسے فیملی ڈاکٹر کے کہے ہوئے الفاظ یاد آئے۔  آپ کے سارے ٹیسٹ دیکھے، بُری خبر یہ ہے کہ آپ کبھی باپ نہیں بن سکتے ہیں ۔۔۔ اس نے بیوی کے گال پر ایک زناٹے دار تھپڑ مارا ۔۔۔بے شرم ۔۔تو کیسے  ماں بن سکتی ہے؟ بول کس کا بچہ ہے یہ بےوفا ذلیل عورت۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا۔ اس نے کار اسٹارٹ کی اور تیزی سے گیٹ سے باہر نکلا کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا میں ڈاکٹر حامد بول رہا ہوں سوری آپ کے ٹیسٹ ر پورٹ کسی اور کے ساتھ بدل گئے تھے۔ خوش

’’خوشی غم اور آنسو‘‘

ائرپورٹ پر بڑی گہما گہمی تھی۔جہاز کی سیڑھیاں اُترتے ہوئے نویدؔ کی نظریں اپنی چھو ٹی بہن منی ؔپر پڑیں جو تھوڑے فاصلے پر کھڑی فیملی کے ساتھ اپنے بھائی کا بے صبری سے انتظار کرتھی۔نویدؔ کے نیچے آتے ہی منیؔ نے مٹھیاںبند کرکے پکارتے ہوئے دوڑ لگائی۔ ’’بھیا آگئے۔۔۔بھیا آگئے۔‘‘ انتظامی معاملات سے بے خبر منیؔ پولیس اہلکاروں کے بیچ  میںسے نکل کر اپنے بھیا کے پاس پہنچ گئی۔پولیس والے بھی اس ننھی سی چھوٹی بچی کو دیکھتے رہے اور اس کو جانے دیا۔یونیورسٹی میں چھٹیاں ہونے کے سبب نویدؔٹھیک ایک برس بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ خوشی ومسرت اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی اور وہ فیملی سے ملنے کے لئے بیتاب ہورہا تھا۔ منّی کوسامنے دیکھ کر وہ خوشیوں سے پھولے نہ سمایا۔وہ اُس کے گال تھپتھپاتا‘ماتھا چومتا توکبھی گلے لگاتا رہا۔منیؔ کو کئی بار ہوا میں اچھال کراپنی محبت اور خوشی کا اظہ

اسیرِ نمائش

وہ اپنے گھر سے باہر محلے کی گلی میں نکلا تو اس کی نظر اچانک اس شخص پر پڑی، تو اُس کی انکھوں میں آنسوؤں امڈ آئے۔ تب اس نے آنسو بھری آنکھوں سے بڑی معصومیت سے سوال کرتے ہوئے کہا:  ”انکل آپ وہی ہیں نہ جو رمضان المبارک میں ہمارے گھر آئے تھے، یہ جان کر کہ ہم یتیم ہیں اور ہماری ماں کن مشکل حالات میں ہماری دیکھ بھال کرتی ہے، آپ نے بہت دکھ کا اظہار کیا تھا۔ ہمدری میں میرے اور میری بہنوں کے سر پر دست شفقت رکھ کر کہا تھا کہ بچو گھبرانا نہیں میں آپ کے محلہ میں رہتا ہوں، آپ کو کوئی بھی پریشانی ہو تو میں حاضر ہوں۔ پھرپانچ سو کا نوٹ میری ماں کے ہاتھوں میں تھما دیا تھا اور پھر عید الفطر کے کچھ روز قبل آپ چند آدمیوں کے ساتھ ہمارے گھر میں تشریف لائے اور چار پانچ کلو دال چاول اور میرے اور میری بہنوں کے لئے عید کے جوڑے دے دیئے۔وہ سب دیتے ہوئے آپ نے تصاویر بھی لی تھیں۔ جب عید کے دن

فاصلے

میں زندگی میں اتنا کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہوتی جتنا میں اپنوں کے خفا ہونے سے ہوتی ہوں ، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان جس چیز سے جتنا ڈرتا ہے وہ چیز زندگی میں بار بار اس سے ڈراتی ہے۔میں بیٹھے بیٹھے کچھ سوچ رہی تھی کہ اتنے میں عالیہ آنمود ہوئی ۔میں نے دھیمی آواز میں پوچھا، کہاں تھی عالیہ اتنے دنوں سے ؟میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ بھڑک کر بولی،تمہیں کیا ؟۔مجھے عالیہ کا یہ لہجہ ناشائستہ لگا ۔جیسے اس کی آواز میں ایک خنجر تھا جو سیدھا میرے قلب میں اُترا۔میں نے حق دوستی ادا کرنے کے لیے اپنا سوال پھر سے دہرایا اوراس  بار عالیہ زارو قطار رونے لگی ،اور میرے گلے لگ کر مجھ سے فون نہ کرنے کی شکایت کرنے لگی ،مجھے اس کے رونے سے اپنی غلطی کا احساس تو ہوا لیکن مجبوریوں میں جکڑا انسان آخر کرے بھی تو کیا کرے ۔میں عالیہ کو کیا بتاتی کہ ہمارے گھر میں کئی دنوں سے کھانا نہیں بنا، اور تو اور جو

بے بسی

آپریشن تھیٹر کے قریب باہر منیر اور اسکی ماں سروہ اضطراب اور بے چینی کی حالت میں دروازے پر چکر لگاتے ہوئے ،ہاتھ ملتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کر تے ہو ئے ۔۔منیراپنی ماں سے مخاطب ہوتے ہوئے ۔۔۔۔ ــ’’امی اگر آج بیٹا نہیں ہوا تو میں خودکشی کر لوں گا ‘‘  ’’ بیٹے دیوانے ہوئے ہو کیا۔ جان تو تمہاری جورو سائمہ کو دینی ہے، تم کیوں بھلا اپنے آپ کو کوسنے پر تلے ہوئے ہو ۔۔۔‘‘ ’’وہی تو ہے جس کی باعث میرا پھول جیسا بیٹا مُرجھا گیا ہے ۔۔ناجانے اُس وقت تجھے کیا ہواتھا جو تو نے اس کلنک کو اپنے ماتھے تھو پا۔میں نہ کہتی تھی اس وقت، پھر بعد میں پچھتاو گے ۔۔‘‘ ’’امی اب بس بھی کرو اس وقت یہ باتیں ٹھیک نہیں، بس دعا کرو کہ بیٹا ہو ۔‘‘     سامنے بینچ پر بیٹھی دو معصوم بچیاں یہ

کہیں یہ وہ تو نہیں۔۔۔؟

 غیر متوقع طور پر گاڑی کھچا کھچ بھری نہیں تھی۔کچھ بیس پچیس سواریاں ہی محو سفر تھیں۔ میں خود بھی اکیلے دو مسافروں والی ایک سیٹ پر  بیٹھا باہر کا نظارہ تک رہا تھا۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی تھی اور گاڑی میں بھی کافی کم شور تھا، اکثر مسافر اونگھ رہے تھے۔ ڈرائیور بھی سست رفتار سے ہی گاڈی آگے بڑھا رہا تھا۔میرا دھیان کبھی سڑک کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف جاتا تو کبھی سڑک کے کنارے کھڑے درختوں کی طرف ، جن میں سے اکثر بوسیدہ تھے اور اپنی و اپنے جیسے باقی شہریوں اور غیر سنجیدہ منصبی عہدیداروں کی ناقص حکمت عملی پر من ہی من میں ہنستے ہوئے اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ میں تو سالہاسال سے لگ بھگ یہی سارے درخت دیکھتا آرہا ہوں جو اب بوسیدگی میں اپنے ہی آقاؤں کو موت کی آغوش میں دھکیل رہے ہیں۔ کتنی ساری معصوم جانیں ان درختوں کے اچانک گرنے سے داعیٔ اجل کو لبّیک کہہ گئیں۔ سوچتا ر

جنگ ُیگوں کی

دریا میں بے شمار قسم کی مچھلیاں ہیں اوراُنکے بیچ ایک جنگ مدتوں سے جاری ہے۔ سیاہ مچھلی سفید کی گھات میں۔۔۔زرد مچھلی سبز کو پیٹ میں اتارنے کی کوشش میں مصروف۔۔۔اور لال مچھلی کچھ تلاشتی ِ،اچھلتی تیز۔۔۔۔ دریا اپنے سفر میںرواں ہے۔ دوسرے علاقوں سے بھی دریا آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک موڑ پر  دو  دریا آپس میںملتے ہیں ۔ایک سے ہوجاتے ہیںمگر کنارے کنارے ۔۔اپنی کہانی روانی جاری رہتی ہے ۔ د ریانے ایک موڑ کاٹ لیاہےسفید مچھلی سطح آب پہ آکے دور کا ایک منظر چُراتی ہے ۔اسے پانی کی رنگین لہروں پر سنہری  مچھلیوں کے چمکتے لہراتے ہوئے بدن  اچھے لگتے ہیں۔للچاتے ہیں ۔اپنی جانب بلاتے ہیں  یکبارگی اس میں کچھ ترنگ سی آجاتی ہے۔ جسم و جاں میںایک حرارت سی بھرجاتی ہے۔ تھوڑا سااچھل کے وہ  آگے بڑھتی ہے اور اُسی پل سیاہ مچھلی اپنا بھاری منہ کھولے نمودار ہوتی ہے۔ س