تازہ ترین

پھر بھی میں مرد ہوں

فریحا ؔ نظریں جھکائے گنگ سی بیٹھی تھی وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی وہ منوں بوجھ تلے خود کو دبی دبی محسوس کر رہی تھی۔آنکھوں سے آنسوں بہنے لگتے تو انھیں اندر ہی اندر پی جاتی اور ان آنسوئوں میں اپنے ان گنت غم چھپانے کی کوشش کرتی۔ابرارؔ کے بار بار چھونے پر بھی وہ کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتی۔اُس سے شادی کرنے کا فیصلہ اس نے خود ہی لیا تھاکچھ دیر کی چپی کے بعدبلآخر ابرارؔ ؔبول اُٹھا۔ ’’مجھے دیر ہورہی ہے۔میرے دوست میرا انتظار کر رہے ہونگے۔‘‘ فریحا نے نظریں اُٹھا کر کہا۔ ’’اتنی جلدی تم بدل جائو گے یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔اب تم حد سے گزر رہے ہو۔تمہاری ہر فرمایش پوری کرناممکن نہیں ہے۔‘‘ ابرارؔ عجلت بھرے لہجے میں مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی تم لوگوں نے دیا ہی کیا ہے۔‘‘ فریحا معصومیت سے بول

میرا سب کچھ لٹ گیا‎

جون کا مہینہ چل رہا تھا اورگرمیاں اپنے شباب پر تھیں اور یونیورسٹی میں کافی گہما گہمی تھی۔ شعبۂ اردو کی ٹھیک دائیں جانب جو چھوٹی سی پارک تھی نوید نہ جانے کون سی کتاب ہاتھ میں لیے بڑے آرام سے مطالعے میں مشغول تھا۔ اسی اثناء میں سفینہ کا گزر وہاں سے ہوا۔ کلاس ختم ہونے کے بعد سفینہ پھر  اسی راستے سے واپس آئی لیکن نوید اس سب سے بے خبر کسی من پسند تصنیف کا مطالعہ کر رہا تھا۔ سفینہ روز وہاں سے گزرتی تھی اور روز نوید کو مطالعے میں مشغول پاتی تھی وہ اکثر سوچتی تھی کہ یہ لڑکا اتنا گم سم اور تنہا سا کیوں رہتا ہے؟ لیکن اسے کیا خبر کہ وہ سوچوں کے کس سمندر میں ڈوبا رہتا تھا۔ شام کو نوید گھر پہنچا تو بوڑھی ماں نے پھر وہی جملہ دہرایا ۔بیٹا! میری بات مانو اور اسلم چاچا کی بیٹی سے شادی کر لو اور نوید نے وہی پرانا جواب دہرایا۔ماں چھوڑو ان باتوں کو بہت بھوک لگ چکی ہے۔کچھ کھانے کو ملے گا ۔دن گزرتے

اولاد اپنی

امجد اپنی ماں کی فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی تو نہیں برت رہا تھا لیکن پھر بھی گلشن کا معمول تھا کہ وہ اپنے بیٹے امجد کی شکایت ہر کسی کے سامنے کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔ فاطمہ کو امجد سے زیادہ رشتے داروں کے بچے پیارے تھے ۔ جب بھی اسکے بھتیجے ، بھانجے اور نندوں کے بچے گلشن کے گھر آتے تھے وہ بڑے پیار سے انکا استقبال کرتی تھی اور ان سے ہمدردی کے ساتھ پیش آتی تھی ۔۔۔۔ امجد شرمیلی طبیعت کا لڑکا تھا اور زیادہ باتیں کرنے کا عادی بھی نہ تھا ۔ ماں باپ سے کبھی کبھار ہی بڑی گفتگو کرتا تھا اور بات کرتے وقت اکثر شرم محسوس کرتا تھا ۔ اس کے برعکس گلشن کے بھتیجے ، بھانجے اور باقی رشتہ داروں کے بچے گلشن اور اسکے خاوند سے بلاجھجک کے بات کرتے تھے ۔ وہ گلشن اور اسکے خاوند سے ہر دن فون پر بات چیت کرتے تھے اور ان سے خیریت دریافت کرتے تھے ۔ اسی لئے دونوں میاں بیوی کو امجد سے زیادہ رشتے داروں کے بچے پیارے تھ

واپسی

آج بھی آفس کی اور سویرے ہی نکلنا پڑا ۔روز کی طرح آج بھی مرحوم خواجہ صاحب کی کوٹھی سے میراگُذر ہوا۔ویران پڑی اس کوٹھی کو دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں ۔میں نے قدم تیزی سے آگے بڑھائے اور اپنے کام کی اور روانہ ہوگیا ۔ خواجہ صاحب کا شمار بستی کے سب سے امیر ترین اشخاص میں ہوتا تھا ۔شان و شوکت میں کوئی بھی ان کے پا سنگ نہ تھا۔اس بات کا خواجہ صاحب کو بڑا ہی غرور تھا ۔کسی کو اپنے برابر نہ سمجھتے ۔اُن کی باتوں میں اُن کی اکڑ صاف جھلکتی تھی۔ میں بھی راستے سے گذر کراکثر انہیں سلام کر تا تو وہ بڑے ہی مغرور انہ انداز میں دھیمے لہجے میں ہی سلام کا جواب دیا کرتے ۔اُن کی اکڑا ور غرور کی وجہ سے بستی میں بھی انہیں پسند نہیں کیا جاتا تھا ۔ہر کوئی اُن سے اندر ہی اندر سے نفرت کرتا تھا۔مگر سماج کے بناوٹی اصولوں کے آگے سبھی مجبور تھے۔خواجہ صاحب کے پاس یوں تو دولت کی کوئی کمی نہ تھی مگر پھر بھی وہ ا

یتیمی ایک درد

  یتیمی۔۔۔ کیا چیزہے؟ ـــیہ کوئی بات ہے یا کچھ اور ہے۔ سمجھ میںنہیں آتا کیا ہے؟ میں انہی باتوں میں محو تھی کہ اچانک سعدیہ میرے کمرے میں ہڑ بڑ اتے ہوئے داخل ہوئی۔میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو مجھے لگا کہ وہ من ہی من میں باتیں کررہی ہے یا شاید اس کے ذہن میں کچھ اور چل رہا ہے۔   فاطمہ جلدی آئو، دیکھو تو کون آیا ہے ؟اس روز سعدیہ کے کچھ رشتہ دار آئے تھے۔ان سب کو دیکھ کر میں حیران ہوگئی۔یہ سب لوگ آج یہاں کیا کر رہے ہیں؟خدا جانے کیا بات ہے۔ اسی دوران احباب وعقارب میں سے کسی نے مجھے بلایا،آؤبیٹا یہاں بیٹھو۔اس مجمع میں سب لوگ اُداس تھے۔میںیہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئی کہ آخرماجراکیاہے؟  میںنے اپنے اباّ کی طرف دیکھا تو میری آنکھوں میں آنسوؤں کی دھار لگ گئی ۔یہ ماحول دیکھ کر سعدیہ کا دل بھی بے چین ہو گیا۔کیا ہوا اباّ ؟آپ کیوںرو رہے ہیں؟بیمار ہوں۔میں نے تم لوگوں کے

گُـونج

دریائے رُددّ پہاڑی سلسلوں سے نکل کرشہری علاقوں کوچھُوتاہواندیڑریلوے سٹیشن سے کوئی دوکلومیٹرجاکرشمال کی جانب مُڑجاتاتھا ۔یہاں سے دریاشمال کی جانب مُڑتا ہے اور عین وہیں سے مغرب کی جانب چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کاایک طویل سلسلہ شُروع ہوجاتاتھا۔ان  پہاڑیوں کے دامن میں یہاں ایک طرف گہرے جنگلات ،ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے تودوسری طرف صحرائی علاقے بھی تھے جن میں چھ سات کلومیٹر چل کرپینے کاپانی بمشکل نصیب  ہوتاتھا۔ان پہاڑی سلسلوں کے درمیان بہت ساری چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں۔ان بستیوں میں خیرپورکی بستی کومرکزی مقام حاصل تھا۔خیرپورمیں میاں رحمت بڑانام تھا۔خیرپورسے اُنکی تواُن سے خیرپورکی شناخت تھی۔مال ومتاع کے ساتھ ساتھ قُدرت نے اُنہیں فصاحت وبلاغت کی خوبیوں سے بھی بڑی فیاضی سے نوازاتھا۔ان پڑھ سہی مگرتھے بلاکے صاحب ِ زبان ۔ عام سی بات بھی اسطرح کرتے کہ اچھے خاصے عالم لگتے تھے۔ اپنی اِس ظاہری بر

ابن مریم ہوا کرے کوئی!

"ارے یار تم کہاں ہو!؟" " کورونا میں ۔۔۔۔" "لو یہاں بھی کورونا،  یعنی کہ ہر جگہ کورونا ۔ ہر کسی کی زباں پر ہی نہیں  بلکہ  دل ودماغ میں کورونا۔فی الوقت سب سے زیادہ بولے جانے والا لفظ ہی نہیں بلکہ سوچنے سمجھنے والا لفظ بھی کورونا ہے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ کھانا کورونا پینا کورو نا اٹھنا کورونا جاگنا کورونا خواب کورونا  خیال کورونا  بیوی کورونا محبوبہ کورونا  غزل کورونا نظم کورونا افسانے کہانیاں لطائف کورونا انشائیہ کورونا حتیٰ کہ شادی کورونا جنازہ کورونا یہ کورونا آخر اتنے دنوں تک پردئہ غیب میں کیونکر رہا ؟ میری سمجھ سے ہی بعید نہیں بلکہ عالم انسانیت کی سمجھ سے بھی پرے ہے-    عذاب الہی اچانک ہی ظہور میں آتا ہے-" "عذاب الہی نہیں آپ لوگ خواہ مخواہ خدا پر الزام لگارہے ہیں -" تمہارادل ایما

لاش کا بھوگ

اپنے غلیظ انگ دھونے کے بعد اُس کو وہ قتل یاد آگیا جو کچھ دیر قبل اُس کے ہاتھوں ہوا تھا۔ وہ بُلند آواز میں چلانے لگا۔ ’’مجھے کس کو قتل کرنا تھا! اور کسے قتل کر بیٹھا! لیکن میں نے اِس کو قتل کرنا ہی تھا،۔۔۔ میں مجرم ہوں۔۔۔۔میں قاتل ہوں۔۔۔ مجھے ہتھکڑی پہنائی جائے گی۔۔۔ مگر ۔۔۔ مگر نہیں، مجھے پھولوں کا ہار پہنایا جائے گا۔۔۔ کیونکہ میں نے وہی کیا جومجھے کرنا تھا ۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہاں۔۔۔! میں اخبار کی شہ سرخی بن جائوں گا۔ اخبار والے مجھے کیش کرلیںگے۔۔۔ میں اُونچے دام بِک جائوں گا۔ لوگ مجھے پڑھیں گے۔۔۔۔ خبر پڑھ کر مجھے میونسپلٹی کے بڑے ڈسٹ بِن میں ڈالا جائے گا‘‘۔  وہ اور بھی بہت کچھ بُک رہا تھا۔ پھر وہ زور سے ہنسا اور چلانے لگا۔ ’’پُرانے کاغذ‘‘ ’’پرانے اخبار‘‘ اُس نے اپنے خون آلودہ ہاتھوں کو چوما اور

زندہ ماتم

سجاول شیدا نے پہلی بار خندہ جبیں کو اپنے دوست کی برات میں اُس وقت دیکھا تھا جب وہ اپنی سہیلیوںاور دُلہے کی ساس کے ساتھ شادی کے منڈپ میں دلہے کو دیکھنے آئی تھی ۔وہ اور اُس کی سہیلیاں دُلہے اور براتیوں کے سامنے ایک قوس کی صورت میں آکے بیٹھ گئی تھیں ۔سجاول شیدا کے دوست کی ساس نے دُلہے کے دائیں ہاتھ کی اُنگلی میں سونے کی انگوٹھی اور گلے میں سونے کی چین پہنائی تھی ۔اُس کے بعد ہاتھ سے گھی میں شکر ملاکر اُس کے مُنہ میں لقمہ رکھا تھا ۔پھر کچھ ہنسی مذاق کی باتیں ہوئی تھیں ۔خندہ جبیں نے ململ کا ست رنگی سُوٹ زیب تن کیا ہوا تھا ۔سہیلیوں کے جھرمٹ میں وہ انتہائی خوب صورت نظر آرہی تھی ۔ اُس کاگول چہرہ،بھرے بھرے رُخسار ،گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ،سیاہ آنکھوں میں کاجل،کانوں میں کرن پُھول،میانہ قد،صراحی دار گردن،سڈول جسم،لمبے گھنیرے سیاہ سر کے بال،مخروطی انگلیاں،موتیوں کی طرح چمکیلے دانت ،دل کو موہ

ذمہ داری

ماجد ہائی اسکول میں بحیثیت ایک استاد کام کرتا تھا ۔ وہ ہمیشہ ڈیوٹی دیر سے آتا تھا ۔ ڈیوٹی سے غفلت برتنا اس نے اپنا معمول بنایا تھا ۔ بہت بار اسکول کے ہیڈماسٹر صاحب اور دوسرے آفیسروں نے ماجد کو متنبہ کیا کہ ڈیوٹی میں غفلت برتنے کے بجائے اپنے آپ میں سدھار لائے مگر ماجد کبھی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔ جمعہ کے دن وہ نماز کا بہانہ بناکر اکثر دن کے بارہ بجے ہی اسکول سے واپس گھر لوٹتا تھا ۔۔۔۔۔ اسکول کے سبھی اساتذہ اور ہیڈماسٹر صاحب ماجد کے رویئے اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے کی بری عادت سے تنگ آئے تھے ۔ ساتھیوں کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی ماجد کے وطیرے میں کوئی بھی مثبت تبدیلی نہ آئی ۔۔۔۔ بریک کے وقت سبھی اساتذہ اسٹاف روم میں چاے پی رہے تھے تو ایک استاد کے موبائل فون کی گھنٹی بج گئی ۔ واٹس ایپ پہ نظر ڈالتے ہوئے معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم کے اعلی حکام کی طرف سے نیا حکمنامہ جاری ہوا ہے ۔ ماجد کو

طلاق

روز کی طرح شائستہ سر پر چار مٹکے اور بازئوں میں برتنوں کی ایک بڑی سی ٹوکری  لے کے ندی پر آئی اور  آج معمول سے کچھ زیادہ ہی سہمی اور ڈری ہوئی تھی۔بیچاری کے دونوں ہاتھ برتن دھوتے دھوتے گھس گئے تھے۔ہاتھوں کی تھرتھراہت کی وجہ سے بار بار  ہاتھوں  سے برتن پھسل رہے تھے،ہونٹ بھی کانپ رہے تھے اور بار بارز لفوں کی لٹیں گلابی رخسار پر آرہی تھیں،جن کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے پانی کی بوندیں اس کے چہرے پر شبنم کی طرح چمک رہی تھیں۔آہیں اور سسکیاں دور بیٹھی سہلیاں بھی سن رہی تھیں مجال کوئی  ہونٹوں کو حرکت میں لائے اوراس سے حال پوچھے۔دیکھنے میں تو شائستہ برتن دھو رہی تھی مگر نہ جانے کن خیالوں  میں غرق تھی وہ تو اس کشتی کی طرح تھی جو بیچ سمندر میں پے در پے لہروں اور موجوں کی تھپیڑوں کی باعث  اپنے ساحل سے نا آشنا ہوچکی تھی۔جلدی جلدی برتنوں کو سمیٹا اور پانی بھر کے گھر ک

لاگ

"سر ۔۔۔۔مشرقی ممالک ہم لوگوں کی تہذیب کو طعنہ دے رہے ہیں اور مذاق اُڑا رہے ہیں کہ ہمارے سماج میں شادی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے ۔۔۔" "اچھا ۔۔۔ایسا ہے کیا "؟ "جی ہاں سر ۔۔" تم لوگ ایسا کرو ۔۔ان کے سماج پر ہر طرف سے حملہ کرو ۔اپنی چیزیں ان کو فروخت کرو ۔۔ان میں ان جانوروں کی چربی شامل کرو جس وہ حرام سمجھتے ہیں اور ہم حلال ۔ان کو کیا پتا وہ سب کھانے سے بہتری آتی ہے ۔بزدلی ختم ہوتی ہے ۔۔وہ کہتے ہیں کہ وہ چربی کھانے سے انسان ظالم بن جاتا ہے ۔اور غصے والا ۔۔یہی صحیح۔۔۔"۔ ان کو انٹرنیٹ سے یہ باور کرانے کی کوشش کرو کہ ہماری لڑکیاں پڑھ لکھ کر آزادانہ زندگی گزارتی ہیں ۔۔وہ پھر شوہر کی تاناشاہی زیادہ دیر برداشت نہیں کرتیں ۔۔خود کما کے کسی کی محتاج نہیں رہتیں ۔۔ اور ایسا کرو ان کے ماحول میں شور شرابہ پیدا کرنے کے لیے موسیقی کو فروغ دو ۔اور پارٹی

انتظار

کچھ یادیں انسان  کے ساتھ اس طرح وابستہ ہوتی ہیںکہ وقت گزر نے کے باوجود بھی ان میں کوئی کمی نہیں آتی۔وہ ہمیشہ انسان کے دل و دماغ کے ساتھ لگی رہتی ہیں۔محلہ گنج کی سڑک کے کنارے،جہاں ہر تہوار کے موقع پر بہت بھیڑ رہتی تھی،کے کنارےپر سلیم نے دوپہر کو ایک گردسے آلود تصویر اٹھائی۔وہ اس تصویر کوصاف کر کے غور سے دیکھنے لگا  اوراسے سینے سے لگا کر زور زور سے رونے لگا۔ اس کی حالت دیکھ کر سڑک پر چلنے والوں کی آمدورفت ایک دم رک گئی۔اسکی آنکھوں سے گرتے آنسوں تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔لوگوں کی نظروں میں سلیم ایک پاگل اور بے دماغ لڑکا ہے لیکن آج اس کے آنسوں سے یہ صدا نکلتی ہے کہ اس کے دل میں کسی کی یادیں موجود ہیں۔رو رو کر اس نے اپنی حالت نڈھال کر دی۔ بھیڑ موجود ہی تھی لیکن حلیمہ اس سے بالکل بے خبر تھی کیونکہ وہ ابھی کھیت سے گھر واپس آرہی تھی۔جوں ہی حلیمہ کی سماعت سے یہ خبر ٹکرائی

زندگی کا مقصد

سہ پہر کے چار بج چکے تھے۔ فضا تھکی ہاری، اپنے ننھے کاندھوں پر  بھاری بستے کا بوجھ اٹھائے اسکول سے واپس آ گئی۔ اندر داخل ہو کر بستہ نیچےرکھا ۔ منہ ہاتھ دھو کر چائے نوش کی اور باہر کھیلنے چلی گئی۔باہر فضا کبھی پھولوں اور ٹہنیوں کو جمع کر کے سبزی کی دکان سجاتی تو کبھی کھلونوں کی بازار۔ کبھی سر پر ڈوپٹہ اوڑھے اور ہاتھ میں چھڑی لئے بچپن کا مشہور ٹیچر۔ ٹیچر والا کھیل کھیلتی۔ غروب ہوتے سورج کی سنہری شعاعیں فضا کے سجے بازار کی زینت دوبالا کر رہی تھیں کہ شام کی تاریکی نمودار ہونے لگی۔ فضا اپنے بچپن کے حسین لمحات سے لطف اندوز ہو کرواپس گھرکے اندر چلی گئی۔ کچھ وقت کے بعد اس نے اپنا بستہ کھولا اور "ہوم ورک "شروع کیا۔ آج اردو کی استانی نے انہیں " میری زندگی کا مقصد" عنوان پر کچھ جملے لکھنے کو کہا تھا۔ یہ عنوان دیکھ کر فضاکے دل و دماغ میں الجھن سی پیدا ہوئی۔ اس کے دماغ میں

آتما

ایک عرصہ بعد میرے دل میں مچھلی پکڑ نے کے شوق نے انگڑائی لی اور پوری تیاری کر کے میں صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی خوشی میں جھومتے ہوئے دریا کنارے اپنی پسندیدہ جگہ پر پہنچ گیا۔صبح کی صاف وشفاف ہوائیں ،پرندوں کے سریلے نغمے اور دور دور تک تنہائی ہی تنہائی،ہر چیز میں اللہ کے وجود کا ظہور نمایاں دکھائی دیتا تھا ۔کچھ دیر تک ادھر اُدھر کا جائیزہ لینے اور اس دل موہ لینے والے پر سوز ماحول سے لطف اندوز ہونے کے بعدمیں نے کانٹا دریا میںڈال دیا اورمچھلی پھنسنے کے انتظار میں سرور کی کیفیت میںخاموشی سے ایک چنار کے قد آور درخت کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھ گیا ۔کچھ دیر بعد ہی دریا کے پانیوں پر تیرتی ہوئی ایک کشتی آگئی ،جس میں ایک اکیلی خاتون، جو چہرے بشر ے باوقا رلگ رہی تھی، سوارتھی ،میرے نزدیک پہنچ کر اس نے کشتی روکی اور کشتی سے اُتر تے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔۔ ’’ ارے کیوں اپنا وقت ضایع کر رہے ہو ؟

بہت دور

کیسے کیسے لوگ اس دہر میں بستے ہیں۔ کوئی کسی کے لیے اپنی جان دیتا ہے تو کوئی کسی کی جان لینے کے فراق میں رہتا ہے۔کوئی ہاتھ سے کسی کو مارتا ہے تو کوئی باتوں سے یا جذبات سے کسی کو روندھ ڈالتا ہے ۔عافیہ یہ الفاظ روز کی طرح اپنے من ہی من میں بڑبڑا رہی تھی۔ ’’ کیوں کیا ہوا کسے طعنے دے رہی ہو؟‘‘ ’’کچھ نہیں کچھ نہیں ڈاکٹر صاحب وہ میں یوں ہی کچھ یاد کر رہی تھی۔‘‘ عافیہ اور ڈاکٹر صاحب کے خاندان میں یوں تو ظاہری اعتبار سے کسی بھی چیز کی کمی نہ تھی لیکن ان کے گھر میں جس چیز کا فقدان تھا وہ ان افرادِ خانہ کے سوا شاید کسی کو بھی معلوم نہ تھا۔ڈاکٹر صاحب کی دوڑ گھر سے لیکر اسپتا ل اور اسپتال سے لے کر گھر تک ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ اپنی بیوی سے جیسے ناراض رہتے لیکن اللہ جانے اب ان کا چہرہ ہی ایسا بن گیا تھا یا یہ سچ میں عافیہ سے خفا رہتے۔عا

افسانچے

امانت  شدت کی گرمی تھی ۔ مخمور مہدی کی ذاتی لائبریری میں اُس کی پڑھنے لکھنے کی میز کے ٹھیک اوپر انگریزوں زمانے کا ایک شکست ریخت پنکھا گوں گوں کی آواز کے ساتھ محوِ پرواز تھا ۔ مہدی بڑے انہماک سے اپنی تازہ تصنیف " اپنے پرائے " کے مسودے کی ورق گردانی میں مصروف تھا کہ " اسلام وعلیکم " کی ایک جانی پہچانی آواز نے اسے چونکا دیا ۔اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا ۔ " اووو ۔۔۔۔۔۔ واجد وجدانی صاحب ۔ وعلیکم السلام ۔" وہ نو وارِد واجد وجدانی کو فورا" پہچان گئے۔  " آیئے ۔۔۔ آیئے ۔۔۔۔۔ مہر و محراب ۔۔۔۔ تشریف رکھئے ۔" مخمور مہدی بڑی گرم جوشی دکھانے لگے ۔ " نہیں نہیں،  مہدی صاحب ۔ زرا  جلدی میں ہوں ۔ بس ایک کام سے آیا ہوں۔" وجدانی عجز و انکساری سے گویا ہوا ۔ " ہاں ہاں ، بتائیے ۔۔۔۔  میں آپ کی کیا خدمت

وائرس

مّطلع ابر آلود تھا ۔ بُونداباندی کے نمایاں آثار ترشح تھے مگر گرمیاں تھیں ، سو اچھا لگا ۔ میں حسب معمول نمازِ ظہر ادا کرنے اپنی مقامی مسجد گیا ۔ پہلی صف میں ایک صاحب کو دیکھا تو شکل کچھ جانی پہچانی سی لگی ۔ اس شخص کی لمبی داڑھی اور ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ ذہن پر زور ڈالا تو یاد آیا کہ رُخ  سے اس شخص کی داڑھی اور ہاتھ سے تصبیح ہٹائی جائے تو یہ ایک معروف افسر شاہ ہیں جو حال ہی میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے ہیں اور جنہوں نے اپنے زمانے میں بڑی لوٹ کھسوٹ کی ہے ۔  زندگی میں کبھی نماز بھی پڑھی ہو ، اس قسم کی کوئی شہادت بھی دستیاب نہیں ہے اور طرہ یہ کہ کوئی کارِ نیک بھی نہیں کئے ہیں ۔ میں محوِ حیرت اس افسر شاہ کو دیکھ ہی رہا تھا کہ نماز کا وقت یہ گیا اور لوگ نماز کےلئے کھڑے ہوگئے ۔ جبھی معلوم ہوا کہ امام صاحب کسی وجہ سے غیر حاضر ہیں اور فی الوقت حاضر نہیں ہوسکتے ۔

نویدِ سحر

’’ جگمیت‘‘  اپنے دوست اور روم میٹ ’’ٹاشی‘‘ کے ساتھ کمرے میں کافی دیر سے خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ گویاکہ لب سلے ہوئے ہوں۔جب سے آخری پیپر دیکرآیا تھا تب سے ایسے ہی خاموش اور گم سُم بیٹھا ہوا تھا ۔ناکسی سے کچھ کہا نا سنا ۔ اور تو اور اپنا فون بھی سرکا کر پرے رکھ دیا تھا ۔ ’’یا ر !پریشان نہ ہو۔سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔تجھے کنجوق (خدا ) پر اور اپنی محنت پر بھروسہ تو ہے نا ‘‘ ٹاشی نے کہا ۔ لیکن جگمیت تو خیالوں کی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔مراقبے کی حالت میں بیٹھا اپنی زندگی کے خاردار راستوں اور اس کی پُر خطراور تنگ پگڈنڈیوں میں الجھا ہوا اپنے ماضی کی یادوں کے ساتھ گھریلو مشکلات اور والدین کی پریشانیوں کا سوچ رہا تھا ۔اسے بار بار’’ چانگ تھانگ‘‘ کے اپنے بے آب و گیاہ علاقہ میں رہ رہے اپنے والد

عشقِ صحرانوردی

میرے بس میں ہوتا تو میں اس کا خون کردیتا۔ کافی دیر سے میرا بیجا کھارہا ہے پر کیا کروں مجبوری انسان سے کیا کچھ نہیں کرواتی ۔ مجھے بھی جینے کی خواہش نے اس کی بکواس سننے پر مجبور کر دیا ۔اس کے سوا کوئی چارا بھی تو نہیں  ۔بس یہی ایک ناؤ، یہی ایک ناؤ ہے جس نے مجھے بچا لیا ورنہ جنگلوں اور پربتوں کی خاک چھاننے کے بعد کوئی امید نہیں تھی کہ میں بچ پاؤں گا۔ سب ختم ہوتا ہوا دیکھائی دے رہا تھا ۔سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ یہاں تک کہ زندگی بھی ۔۔۔۔زادِ سفر ختم ہوتے ہی آنکھوں کے سامنے اندھیرا  سا چھا گیا تا حدِ نظر بس دشت ہی دشت۔۔۔۔۔۔۔۔ویرانے ہی ویرانے ۔۔۔۔۔۔  پھر جب اس دریا کے کنارے پہنچا تو آگے جانے  کے لیے کوئی بھی سہارا دکھائی نہیں دیا ایک دم سے لگا اب کی دفعہ میری آوارگی مجھے مہنگی پڑ ہی گئی۔ پر کچھ  دیر اضطراب اور پریشانی میں رہنے کے بعد یہ ناؤ آتی دکھائی