کاگا کاہے ستائے روز

یگوں کو بیتنا تھا۔بیت گئے۔۔۔۔۔۔۔۔میری روح کی طرح اداس اداس میں جب کبھی اپنی گذری ہوئی زندگی کی محرومیوںاور تلخیوں کا حساب کرتا ہوں تو مجھے اپنے اندر دور کہیں کسی کوے کی کائیں کائیں سنائی دیتی ہے ۔پہلے میں نے سوچا کہ یہ میرا وہم ہے، فریبِ نفس ہے ۔بھلا مجھ میں ایک آدمی میں کوّے کی کائیں کیا معنی۔۔۔لیکن بار بار اس کائیں سے میرا واسطہ پڑنے کے سبب مجھے یقین ہو چلاکہ کہیں نہ کہیں پرکوئی کوّا مجھ میں موجود ہے ضرور۔۔۔۔کسی کہانی کی صورت میں یا کوئی اور روپ دھارے۔۔۔۔۔! ایک دھند سی ہے کئی روز سے میرے اندر باہر چھائی ہوئی۔اِس دھند میں سے ایک چہرہ، قریب چھ سات سال پہلے دیکھا ہوا، تیکھے ناک نقوش والی۔۔۔۔۔ایک جوان  لڑکی کا چہرہ بار بارابھرنے کی کوشش کررہاہے۔لیکن پھر دُھند اُسے کھا جاتی ہے۔۔۔چہرہ ڈوب جاتا ہے۔پھر کچھ ہی وقفہ بعد یہی چہرہ دوبارہ ا بھرنے کی سعی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ میں

خالد افسانچوں کا خالد مجموعہ

افسانچہ نگاری میں بشیر احمد صاحب زمین پر جنت نظیر وادئ کشمیر کی ایک بلند اور باوقار آواز ہے۔ رخت بہ کاشمیر کُشا کوہ وتل ودمن نگر سبزہ جہان جہان ببین لالہ چمن نگر نگر  صفحۂ قرطاس پر آپ کا قلمی نام ’خالد بشیر تلگامی‘ نظر آتا ہے۔ آپ کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے ایک خوبصورت مقام تلگام سے ہے۔ ایم اے (پبلک ایڈمینسٹریشن) کے بعد آپ نے بی۔ ایڈ۔ کی تعلیم حاصل کی اور گورمنٹ پرائمری اسکول تلگام بالا میں درس وتدریس کے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ یوں تو آپ سال2000سے لکھ رہے ہیں لیکن 2005 سے آپ کے افسانچے اور نگارشات ہند و پاک کے تمام مؤقر اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں۔ آپ کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی اور کشمیری زبان پر بھی دسترس حاصل ہے اور ان زبانوں میں بھی خوب افسانچے تحریر کر رہے ہیں۔ کشمیری زبان میں آپ شاعری، افسانہ نگاری، ڈرامہ نگاری اور دیگر نثری اصن

دھت تیری کووڈ جی

کل رات بجلی رانی کی غیر حاضری میں"الہ ھچہ، مونگہ دال و زومبرہ ٹھول" (سُکھائے کدو، مونگ کی دال اور تلے ہوئے اُبلے انڈے)کے ساتھ کینڈل لنچ، میرا مطلب ہے ڈنر کرنے کے فورا بعد ہی مجھے نیند کی دیوی نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ بس پھر کیا تھا، اسکی آغوش میں آتے ہی میں خوابوں کی  طلسماتی دنیا میں پہنچ گیا۔ میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ کیا دیکھا کہ میری"حرفس گواہ تہ مینڈس شریک" (ہربات کی گواہ اور ہر لقمے کی شریک)یعنی کہ میری شریک حیات نے مجھے بازار سے چکن، گوشت، پنیر، دہی، پیاز وغیرہ لانیکا فوری حکم نامہ جاری کیا۔ اتنی ڈھیر سارے چیزوں کا نام سنتے ہی میرے دل میں خوشی کے مارے لڈو پھوٹنے لگے اور میں خوش ہوا‌کہ چلو آج پچھلی عید کے بعد پہلی بار اتنی ساری ضیافتیں کھانے کو مل جائیں گی لیکن میری خوشیوں پر اس وقت ’’سرہ دگ‘‘ مطلب اوس پڑگئی جب

خُود کُشی

’’ آپ کے مریض کو ہوش آگیا ہے اب یہ خطرے سے باہر ہے میں چلتا ہوں اگر ضرورت ہوگی تو آپ مجھے بلا لیجئے بیگ صاحب ‘‘! کہکر ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ ’’ میں کہاں ہوں؟ اور آپ کون ہیں‘‘؟ سمیر گھبرائے گھبرائے بیگ صاحب سے پوچھ رہا تھا۔ ’’تم میرے گھر میں ہو۔ اور اب تم بالکل ٹھیک ہو‘‘ ۔ کہتے ہوئے بیگ صاحب سمیر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ’’ تم دریا میں گر گئے تھے۔ تمہیں یاد نہیں‘‘؟ ’’ میں گرا نہیں تھا۔ میں مرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے مجھے کیوں بچایا؟ مجھے مر جانے دیا ہوتا‘‘! سمیر زور زور سے رونے لگا۔  ’’دیکھو! میں تم سے عمر میں بھی بڑا ہوں اور تجربے میں بھی۔ اوپر والے نے زندگی جینے کے لئے دی ہے‘‘۔ ’’ہاں! لیکن میں جینا

تازہ ترین