جنگ ُیگوں کی

دریا میں بے شمار قسم کی مچھلیاں ہیں اوراُنکے بیچ ایک جنگ مدتوں سے جاری ہے۔ سیاہ مچھلی سفید کی گھات میں۔۔۔زرد مچھلی سبز کو پیٹ میں اتارنے کی کوشش میں مصروف۔۔۔اور لال مچھلی کچھ تلاشتی ِ،اچھلتی تیز۔۔۔۔ دریا اپنے سفر میںرواں ہے۔ دوسرے علاقوں سے بھی دریا آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک موڑ پر  دو  دریا آپس میںملتے ہیں ۔ایک سے ہوجاتے ہیںمگر کنارے کنارے ۔۔اپنی کہانی روانی جاری رہتی ہے ۔ د ریانے ایک موڑ کاٹ لیاہےسفید مچھلی سطح آب پہ آکے دور کا ایک منظر چُراتی ہے ۔اسے پانی کی رنگین لہروں پر سنہری  مچھلیوں کے چمکتے لہراتے ہوئے بدن  اچھے لگتے ہیں۔للچاتے ہیں ۔اپنی جانب بلاتے ہیں  یکبارگی اس میں کچھ ترنگ سی آجاتی ہے۔ جسم و جاں میںایک حرارت سی بھرجاتی ہے۔ تھوڑا سااچھل کے وہ  آگے بڑھتی ہے اور اُسی پل سیاہ مچھلی اپنا بھاری منہ کھولے نمودار ہوتی ہے۔ س

دوسری بَلا

ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول پھیلا ہوا تھا۔ایسا خوف و دہشت کہ شہر کے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے تھے۔ہر ایک کی زبان پر بس اللہ کا نام تھا۔حامدہ بی بی کے آنگن میں دو تین ننھے منے بچے کھیل رہے تھے۔اسی دوران حامدہ بی بی چھوٹے گیٹ سے آنگن میں خالی ہاتھوں داخل ہوگئی۔آبدیدہ نگاہوں سے بچوں کی طرف دیکھا اور انہیں  اندر لے کر چلی گئی۔انہیں کمرے میں بیٹھا کر سمجھانے لگی کہ:  ’’آج سے باہر نکلنا بالکل بند۔‘‘ بچے حیران ہوکر ایک ساتھ پوچھ بیٹھے: ’’کیوں اماں جان،ایسا کیوں۔ ‘‘ یہ سن کرحامدہ اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیراتے ہوئے بولی: ’’میرے پیارو ہم جس شہر میں رہتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ سے انسان قیدیوں کی طرح  اپنی زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ یہاں صرف حیوانوں کا دور دورہ چل رہا ہے۔مگر آج  با

نسخہ ٔ کیمیا

’’وزیر خارجہ ۔۔۔۔۔۔۔پڑوسی سیارہ زمین کے باشندوں کے بارے میں کیا خبر ہے ؟ ہمارے سیارے پر ہوٹل اور شاپنگ مال تعمیر کرنے کے ان کے منصوبوںکا کیا ہوا؟‘‘ ملکہ نے اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوتے ہی با رعوب آواز میں پوچھ لیا۔          ’’ملکہ کا اقبال بلند ہو ۔۔۔۔۔۔جان کی امان پائوں تو بتائوں‘‘ ۔ ’’ جلدی بتائو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’دو مہینوں سے زیادہ وقت سے ہمارے چک پوائینٹ سے نظر آنے والی حدود ، جہاں سے روزانہ زمین والوں کے سینکڑوں جہاز گزرتے تھے، سے ایک بھی جہاز نہیں گزرا ہے ۔ہم نے اپنے جاسوس جہاز بھیج کر اس سیارے کا ایک خفیہ سروے بھی کرایا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔؟  لیکن کیا ،وزیر خارجہ ؟کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے؟‘‘ ملکہ نے پریشان کن لہجے میں پوچھا

آخری نشانی

بہارکا موسم تھا ۔ہر طرف ندی، نالوں اور خوبصورت آبشاروںکا ملا جھلا شور سنائی دیے رہا تھا۔  مختلف اقسام کے پھول کھلے ہوئے تھے ۔بادِ نسیم ان گلوں میں رنگ بھر رہی تھی جو اس خطہِ عرضی کوایک پُر کیف رونق بخش رہے تھے۔ یہ خوبصورت مناظراپنی اور کھینچ رہے تھے۔ گویا کہ قدرت اپنی تمام رُعنائیوںکے ساتھ جلوہ افروز تھی۔یہی وہ قدرتی نظارے ہیں جن کے بدولت کشمیر کو جنتِ ارضی کہا گیاہے۔ ندی کے کنارے ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں سر سبز سفیدوں اور بید کے درختوں کے درمیان ایک خستہ حال مکان زمانے کی کئی سرد و گرم ہوائوں کی داستانِ ستم سنا رہا تھا۔جہاں زینب دنیا سے بے نیاز اپنے کمسن بچوں کے ساتھ قید حیات کاٹ رہی تھی۔ زینب جس کی خوبصورتی کبھی ہر ایک کو پلٹ کر دیکھنے کے لئے مجبور کرتی تھی۔ جسم میں توازن ، قد فربہ ، گلابی رُخسار، جب ہنستی تو گالوں میں ڈمپل بن جاتے، موٹی گول سرمئی آنکھیں، مرجان 

افسانچے

ماسک   کرونا وائرس نامی وبا سے بچنے کے لئے میں نے بھی ہر عام آدمی کی طرح ماسک خرید لیے۔بلکہ میں نے تو بہت سارے خرید لیے۔سوچا جس دفتر میں ،میں بحیثیتِ چپراسی کام کر رہا ہوں وہاں اِنہیں فروخت کر کے چند پیسے میں بھی کما لوں گا۔ میں اِس میں کامیاب بھی ہوا لیکن جوں ہی صاحب کے کمرے میں چائے لے کر حاضر ہوااور صاحب کو ماسک خریدنے کی تجویز پیش کی تو دوسری جانب کرسی پر تشریف فرماں اُن کی اہلیہ، جن کو میں ایک عرصہ کے بعد دیکھ رہا تھا،مجھ سے مخاطب ہو کرجواباََ بولی’’تمہارے صاحب نے پہلے ہی بہت سارے ماسک پہن رکھے ہیں۔اِس لئے اُنہیں اب اِس ماسک کی ضرورت نہیں۔‘‘صاحب حیران و پریشان انداز میں بولے’’صمدو ! تو جا یہاں سے ۔ ۔ ۔ ‘‘پھر میری نظر سائیڈٹیبل پر پڑی اُن تصاویر پر گئی جن میں صاحب کے ساتھ کوئی دوسری عورت نظر آرہی تھی۔معاملہ گرم تھا ۔سو

تازہ ترین