دل کا درد اور دلوں کا مِلاپ

ڈاکٹر نوشاد جہازمیں داخل ہوکر اپنی سیٹ نمبر ائیر ہوسٹس سے معلوم کررہا تھاکہ ایک نوجوان نے اپنی سیٹ سے کھڑے ہوکر انہیں سلام کیا۔ دوسرا نوجوان اسی مقصد کیلئے کھڑے ہوکر نمستے کرنے لگا ۔ پچھلی قطارکی سیٹ سے ایک لڑکا اور لڑکی ان حضرت کو عزت دینے کے لئے آگے کی طرف آئے ۔  سارے مسافر حیران ہوئے کہ آخر یہ کون شخص ہے ؟ جس کواتنی عزت دی جارہی ہے۔  ان حضرت نے ان سبھوں کا کو ہاتھ کے شارے سے شکریہ کیا۔ یہ سب دیکھ کر ائیر ہوسٹس نفیسہ بھی حیران ہوئی۔ آخر یہ کون شخص ہے جس کی اتنی عزت کی جارہی ہے؟  نفیسہ نے دل ہی دل میں کہا جہاز روانہ ہونے کے قریباً ایک آدھ گھنٹہ بعد مسافروں میں سے ایک نے، جس کا بعد میں پتہ چلاکہ وہ ڈاکٹر الیاس ہے، نے بیل بجاکر کافی کاآرڈر دیا۔ جب نفیسہ نے کافی کا کپ ڈاکٹر الیاس کوپیش کیا تو اس نے یہ کپ ڈاکٹر نوشاد کو دیا۔ یہ دیکھ کر

میرا پتہ

آج میں نے شہر میں اپنے گھر کے دروازے کا نمبر مٹا دیاہے۔ اب لوگ اپنے سوچ کے کینواس پر سے میری شیبہ کو مٹا دیں گے، پر میرے نقوشِ پا لوگوں کو میرے ہونے کا احساس تو ضرور دیں گے۔ ’’پھر تم کہاں ملو گے!؟‘‘ میرے دوست پروفیسر رمضان نے مُجھ سے تعجب کے ساتھ پوچھا۔ ’’مجھے پاکر تمہیںکیا ملے گا؟‘‘ ’’میرے من کا بوجھ ہلکا ہوگا‘‘ پروفیسر نے جواب دیا۔ ’’بھائی !کیسے؟‘‘ ’’اس لئے کہ جب میرا من کبھی غم سے بوجھل ہوجاتا تھا تو میں اپنے معمولات کو آپ کے ساتھ شیئر کرتا تھا۔ تب تم مجھے غم کو بُھلانے کا نسخہ بتاتے تھے اور میرا بوجھ خود بخود ہلکا ہوجاتا تھا! لیکن اب جب تم نے اپنے گھر کا نمبر ہی مٹا دیا ہے اور راہِ فرار اختیار کی ہے تو میرا غم مجھے اندر ہی اندر کالے سانپ کی طرح ڈس لے

بدلتے رنگ

چاچا جان نے رضیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کرلڑکھڑاتی آواز میں کہا ۔۔۔۔ ب۔۔بہ۔۔۔بٹیا  : آج سے اس گھر کی دیکھ بال تمہارے ذمے ہے ۔۔۔۔  رو مت ۔۔دیکھو کیا حالت بنائی ہے اپنی ۔۔۔اوپر والا سب کچھ ٹھیک کردے گا۔۔۔۔ صبر کرو ۔۔۔۔۔۔نہ جانے اس گھر کو کس کی  نظر لگ گئی ۔۔۔۔۔نہیں تو کیا  !  اللہ میرے جوان بھائی کو یوں ہی ہم سے چھین لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رو مت بٹیا  ۔۔۔۔۔۔خالق کی جو مرضی تھی وہی ہوا ۔۔۔۔آخر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔۔۔۔اور آگے بھی وہی ہونا ہے  جو اس کو منظور ہوگا۔۔۔۔ ہمارے بس میں تو کچھ بھی نہیں  ۔۔۔موت تو اٹل ہے ۔۔۔۔اس لقمئہ اجل کا مزہ تو ہر جان کو چکھنا ہے۔ دنیا کی روایت یہی ہے کہ جو یہاں آیا اس کو ایک نہ ایک دن جانا ہی پڑتا ہے ۔۔۔۔   ہمارے رونے دھونے سے  وہ  واپس  تو نہیں آئیں گے۔۔ ۔۔زندگی کا تو یہی دستور ہے ۔۔

معاملہ!

ایک بوڑھا آدمی الیکٹرانک اسٹور میں گیا وہاں بیٹھے کاریگر کے پاس چلا گیا اور جیب سے اپنا موبائل فون نکالا اور کہنے لگا ،"السلام علیکم، جناب ذرا اس موبائل کودیکھئے، شاید خراب ہو گیا ہے۔ کاریگر نے سلام کا جواب دیا اور موبائل فون کو جانچ پرکھ کر کہا،" نہیں بابا جی ،یہ تو بالکل ٹھیک ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں ہے"۔ "اچھا پھر مجھے بتائیے جب میں بچوں کا نمبر ڈائل کرتا ہوں تو یہ صحیح نہیں ہے( not valid )کیوں بتاتا ہے؟"- کاریگر سمجھ گیاکہ معاملہ کیا ہے اور وہ سوچنے لگا کہ دنیا میں ایسے بچے بھی ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ ایسا سلوک کر تے ہیں، حالانکہ موبائل انہیں باپ نے ہی خرید کے دیا ہوت اہے۔   لوہند شوپیان طالب علم 10ویں جماعت موبائل نمبر؛9697402129  

زنجیر

اْس کی سٹی گْم ہوگئی تھی۔ نہ وہ اپنی دْم ہلا رہا تھا اور نہ ہی اپنے خوب صورت عقابی دیدے گول گول گھما رہا تھا۔ بیزار تھا اور بیمار سا لگ رہا تھا۔ بد دل اور سہما سا۔۔۔۔۔ منہ بسورتا ہوا بڑا عجیب لگ رہا تھا۔ دراصل یہ ٹونی تھا، میرا جرمن شفرڈ  پالتو کْتا ، جسے چند برس قبل مانو  میں نے  گود لیا تھا۔ میرے ایک فوجی افسر دوست کرنل دیا رام نے مجھے تحفے میں دیا تھا اور میں اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے کر آیا تھا۔ تب وہ صرف تین ماہ کا تھا اور اب ماشااللہ تین سال کا۔پچھلے ہفتے کی ہی بات ہے، اچھا خاصا تھا۔چْست درْست، چاق و چوبند اور جاذب نظر۔ پوری طرح سے نکھر آیا تھا اور میرے پائیں باغ کی زینت بنا ہوا تھا۔ اکثر میرے ہی قریب نظر آتا تھا اور میرے آگے پیچھے دُم ہلاتا ہوا پھرتا رہتا تھا ،تب تک جب تک کہ میں وہاں موجود رہتا۔ میں اکثر اسے اپنے گھر کے باہر  بھی لے جاتا تھا ا

تازہ ترین