تازہ ترین

خواجہ صاحب

’’خواجہ صاحب ۔۔۔۔۔۔ چوک میں وہ ایک معذ ور ٹھیلہ لگا کر بیٹھتاہے ،اس کے لئے بھی کچھ دے دیں ،بے چا رے کا ایک بازو بے کار ہے‘‘ ۔ عنایت نے دھیمے لہجے میںخواجہ صاحب سے کہا لیکن اس نے عنایت کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔عید کی آمد آمد تھی اور خواجہ صاحب  صبح سے ہی غریبوں میں صدقہ ذکوٰۃ بانٹ رہا تھا ۔ابھی بھی خواجہ صاحب کے سامنے چار پانچ خواتین بیٹھی تھیں اور خواجہ صاحب ان میں فی کس تین سو روپیہ بانٹ رہا تھا ۔ خواجہ صاحب کا شمار شہر کی معروف تجارتی شخصیات میں ہوتا تھا ۔اس کے پاس کافی سرمایہ بھی تھا ، وہ ہر سال عید کے موقعے پر غریبوں مسکینوں کی مدد کرتا تھا اور یہ بات مشہور تھی کہ خواجہ صاحب بڑا ہی دیالو اور دریا دل انسان ہے ۔خواجہ صاحب کا منشی عنایت ایک نیک دل انسان تھا ۔آتے جاتے اس معذور ٹھیلے والے کو دیکھ کر اس کو ترس آتا تھا جواپنا ایک بازو بے کار ہونے

خط بنام خالق کائنات

ایسے ماحول میں جب پوری دنیا میں کرونا وائرس نے بربادی مچارکھی ہے میں خط لکھنے کی جرأت کر رہا ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ بڑے رحیم ہیں۔ میرے آقا ہم اہلیانِ کشمیر ایک عرصہ دراز سے ایک ایسی مصیبت کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ وادی گل پوش ایک بےڈول صحرا بن چکی ہے- آپ کو پتہ ہی ہے کہ ہم کرونا جیسے خوفناک وائرس کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے - ماضی میں آپ نے ہم پر کرونا جیسے بہت سارے حکمران مسلط کر دیے ہیں جو ہماری رگوں سے سارا خون چوس چکے ہیں۔ ہماری رگوں میں کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے خون باقی نہیں- جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے  آپ سے استدعا ہے کہ ہم خاکساروں کو بخش دیں - بے شک ہم آپ کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہے ہیں،بیشک ہم نے آپ کے بتائے ہوئے اصولوں کو فراموش کیا ہے لیکن اے زمین و آسماں کے

افسانچے

بلا عنوان چل یار آج ہوٹل وکٹوریہ چلتے ہیں وہاں آج بڑے بڑے لوگ آئیں گے۔۔۔۔دعوت نامہ تو ہم کو مل گیا ہے چلیں آج اسی بہانے بڑے بڑے نامور قلمکاروں سے ملاقات کریں گے۔ وہاں آج غریب کشمیری کی کتاب۔۔۔ میں اور تو۔۔۔۔۔ کی رسم رونمائی ہوگی۔ سنا ہے بہترین، دلنشین اور خوبصورت کتاب لکھی ہے۔ چلو چلتے ہیں۔ دونوں دوست ہوٹل وکٹوریہ کے گیٹ کے قریب پہنچے۔ایک دوست نے دوسرے سے کہا۔ جیب میں کتنی رقم ہے۔ کس لئے۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے دوست نے پوچھا۔ کتاب خریدنے کے لئے اور کس لئے۔۔۔۔ کتاب خریدنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔میں تو سمجھا تھا کہ۔۔۔  تھوڑی دیر سوچنے کے بعد پہلے دوست نے کہا۔۔۔ چل یار چھوڑ۔ جانے بھی دے ۔۔۔۔۔۔ ریستوران ڈیلایٹ میں انجوائے کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔      پاپ آج اس نے جینز اور ٹی شرٹ کی بجائے ا پنا پسندیدہ خان ڈریس اس لہے پہنا کہ اپنی گرل فرینڈ کو نئے

کرونا وائرس

دوپہر کاوقت تھا-سورج کی شعاعوں پر دھندلے بادل حاوی ہو رہے تھے۔ روشن کرنیں دھندلے بادلوں میں رفتہ رفتہ گم ہو گئیں۔ ہرسوٗ دہشت کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور بازار ویران نظر آرہے تھے۔ لوگ گھروں کے اندر محصور تھے۔ چاروں اور مصائب و پریشانی کا عالم تھا۔ ہر طرف سناٹا چھا یا تھا۔ انسان اپنے ہم نسل انسان سے دور بھاگ رہا تھا۔ ہر طرف خوف و ڈر کا ماحول تھا۔ ہوائوں میں اُڑان بھرنے والا اور اعلی تکنیکی وتجرباتی کارنامے انجام دینے والا بشر آج بے یارومددگار پڑا تھا۔ دنیا کی تمام تر طاقتیں قدرت کے سامنے آج عاجز و کمزور پڑی تھیں کیونکہ قدرت کے پیدا کردہ ایک نہایت ہی چھوٹے وائرس نے پورے عالم کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ یہ وائرس دنیا کی تمام تر طاقتوں پر حاوی ہو کر قدرت کی قوت و بادشاہی اور بشر کی بے بسی عیاں  کر رہا تھا۔ "کرونا وائرس" کے نام سے یہ وائرس دہشت نما بیان ہو رہا تھا اور اس نے