تازہ ترین

خواجہ صاحب

’’خواجہ صاحب ۔۔۔۔۔۔ چوک میں وہ ایک معذ ور ٹھیلہ لگا کر بیٹھتاہے ،اس کے لئے بھی کچھ دے دیں ،بے چا رے کا ایک بازو بے کار ہے‘‘ ۔ عنایت نے دھیمے لہجے میںخواجہ صاحب سے کہا لیکن اس نے عنایت کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔عید کی آمد آمد تھی اور خواجہ صاحب  صبح سے ہی غریبوں میں صدقہ ذکوٰۃ بانٹ رہا تھا ۔ابھی بھی خواجہ صاحب کے سامنے چار پانچ خواتین بیٹھی تھیں اور خواجہ صاحب ان میں فی کس تین سو روپیہ بانٹ رہا تھا ۔ خواجہ صاحب کا شمار شہر کی معروف تجارتی شخصیات میں ہوتا تھا ۔اس کے پاس کافی سرمایہ بھی تھا ، وہ ہر سال عید کے موقعے پر غریبوں مسکینوں کی مدد کرتا تھا اور یہ بات مشہور تھی کہ خواجہ صاحب بڑا ہی دیالو اور دریا دل انسان ہے ۔خواجہ صاحب کا منشی عنایت ایک نیک دل انسان تھا ۔آتے جاتے اس معذور ٹھیلے والے کو دیکھ کر اس کو ترس آتا تھا جواپنا ایک بازو بے کار ہونے

خط بنام خالق کائنات

ایسے ماحول میں جب پوری دنیا میں کرونا وائرس نے بربادی مچارکھی ہے میں خط لکھنے کی جرأت کر رہا ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ بڑے رحیم ہیں۔ میرے آقا ہم اہلیانِ کشمیر ایک عرصہ دراز سے ایک ایسی مصیبت کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ وادی گل پوش ایک بےڈول صحرا بن چکی ہے- آپ کو پتہ ہی ہے کہ ہم کرونا جیسے خوفناک وائرس کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے - ماضی میں آپ نے ہم پر کرونا جیسے بہت سارے حکمران مسلط کر دیے ہیں جو ہماری رگوں سے سارا خون چوس چکے ہیں۔ ہماری رگوں میں کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے خون باقی نہیں- جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے  آپ سے استدعا ہے کہ ہم خاکساروں کو بخش دیں - بے شک ہم آپ کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہے ہیں،بیشک ہم نے آپ کے بتائے ہوئے اصولوں کو فراموش کیا ہے لیکن اے زمین و آسماں کے

افسانچے

بلا عنوان چل یار آج ہوٹل وکٹوریہ چلتے ہیں وہاں آج بڑے بڑے لوگ آئیں گے۔۔۔۔دعوت نامہ تو ہم کو مل گیا ہے چلیں آج اسی بہانے بڑے بڑے نامور قلمکاروں سے ملاقات کریں گے۔ وہاں آج غریب کشمیری کی کتاب۔۔۔ میں اور تو۔۔۔۔۔ کی رسم رونمائی ہوگی۔ سنا ہے بہترین، دلنشین اور خوبصورت کتاب لکھی ہے۔ چلو چلتے ہیں۔ دونوں دوست ہوٹل وکٹوریہ کے گیٹ کے قریب پہنچے۔ایک دوست نے دوسرے سے کہا۔ جیب میں کتنی رقم ہے۔ کس لئے۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے دوست نے پوچھا۔ کتاب خریدنے کے لئے اور کس لئے۔۔۔۔ کتاب خریدنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔میں تو سمجھا تھا کہ۔۔۔  تھوڑی دیر سوچنے کے بعد پہلے دوست نے کہا۔۔۔ چل یار چھوڑ۔ جانے بھی دے ۔۔۔۔۔۔ ریستوران ڈیلایٹ میں انجوائے کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔      پاپ آج اس نے جینز اور ٹی شرٹ کی بجائے ا پنا پسندیدہ خان ڈریس اس لہے پہنا کہ اپنی گرل فرینڈ کو نئے

کرونا وائرس

دوپہر کاوقت تھا-سورج کی شعاعوں پر دھندلے بادل حاوی ہو رہے تھے۔ روشن کرنیں دھندلے بادلوں میں رفتہ رفتہ گم ہو گئیں۔ ہرسوٗ دہشت کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور بازار ویران نظر آرہے تھے۔ لوگ گھروں کے اندر محصور تھے۔ چاروں اور مصائب و پریشانی کا عالم تھا۔ ہر طرف سناٹا چھا یا تھا۔ انسان اپنے ہم نسل انسان سے دور بھاگ رہا تھا۔ ہر طرف خوف و ڈر کا ماحول تھا۔ ہوائوں میں اُڑان بھرنے والا اور اعلی تکنیکی وتجرباتی کارنامے انجام دینے والا بشر آج بے یارومددگار پڑا تھا۔ دنیا کی تمام تر طاقتیں قدرت کے سامنے آج عاجز و کمزور پڑی تھیں کیونکہ قدرت کے پیدا کردہ ایک نہایت ہی چھوٹے وائرس نے پورے عالم کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ یہ وائرس دنیا کی تمام تر طاقتوں پر حاوی ہو کر قدرت کی قوت و بادشاہی اور بشر کی بے بسی عیاں  کر رہا تھا۔ "کرونا وائرس" کے نام سے یہ وائرس دہشت نما بیان ہو رہا تھا اور اس نے

لمبی جدائی

’’السلام علیکم حاجی صاحب آج آپ سویرے ہی آن پہنچے ہیں ‘‘۔میں ذرا کپڑے بدلتا ہوں پھر آپ کے ساتھ بات چیت ہوگی۔قیصر صاحب ڈیوٹی سے لوٹ کر آئے اور کپڑے بدل کر میڈم سے چائے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ میڈم نے باہر لان میں رکھی میز پر قیصر صاحب کے لیے چائے کررکھ دی اور ساتھ ہی حاجی صاحب کے لیے بھی ۔حاجی صاحب ایک عمر رسیدہ شخص تھا۔ بچپن سے محنت و مشقت کرتے کرتے کمر میں خم آگیا تھا۔مگر ہمت اور سکت کو ہاتھ سے نہ چھوڑا تھا ۔دراصل قیصر صاحب کے لان میں پھول پودے اور باڑی میں اُگائی جانی والی سبزیوں کے درمیان پیدا ہونے والی فالتوگھاس کی صفائی کے لیے حاجی صاحب ہمیشہ اس موسم میں آیا کرتے تھے۔ قیصر صاحب اور حاجی بابا اکثر آپس میں سماجی ،معاشرتی اور دیگر سیاسی حالات سے متعلق باتیں کیا کرتے ۔حاجی صاحب پیشے سے ایک حمال تھے مگر جہاں دیدہ تھے اور تجربہ کار تھے۔بچپن سے بازار م

بدنصیب

انہوں نے کہا تھا ۔۔۔مت جاؤ ۔۔۔لیکن اس نے ان سنی کردی ۔۔۔۔وہ چلا گیا۔۔۔اس کے دل و دماغ پر اس کی بیوی نے قابو پالیا تھا ۔۔۔۔اسی لئے جب وہ نیند سے جاگا اور منہ ہاتھ دھو کر ماں کے ہاتھوں شفقت بھری چائے کی پیالی پینے ہی والا تھا کہ فون بجنے لگا ۔۔۔اس نے جب دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی بیوی ڈیزی تھی ۔۔۔جس کو راشد کے والدین نے نیک لڑکی سمجھ کر بہو بنا کر لایا تھا ۔۔۔وہ فون پر تیز لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔گھر سے نکلے کہ‌ نہیں ۔۔۔میں سڑک پر انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔سب کچھ تیار ہے ۔۔۔۔۔۔ ابو اور امی جان بھی آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔جلدی کرو ۔۔۔دیر ہو رہی ہے ۔۔۔راشد نے بھی حامی بھر لی اور چائیے کی پیالی ماں کے ہاتھوں میں واپس تھما کر نکلنے لگا ۔۔۔ماں ہکا بکا ہو کر بولتی رہی ۔۔۔ارے بیٹا ۔۔۔‌چائے تو پی لو۔۔۔۔نا شتہ تو کر لو ۔۔۔۔۔بھوکا ہی جائیگا کیا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ چلتے چلت

پندرہ،سولہ

سرسوتی مرکزی دانش گاہ کو شہر سے کافی دُور ایک ہموار میدانی علاقے میں قائم کئے ہوئے اکیس برس ہوچکے تھے ۔ شعبۂ حیوانات ونباتات ،ٹکنالوجی ، ریاضیات،اقتصادیات، معاشیات،سماجیات،نفسیات ،سیاسیات اور شعبہ ٔ  انگریزی کے علاوہ ہندی کا شعبہ بھی اس دانش گاہ میں شروع ہی سے قائم کیا گیا تھا ۔پروفیسر محمد اخلاق کو جب اس دانش گاہ کا کُلپتی بنایا گیا تو اُنھوں نے بڑی حکمت عملی ،محنت ،ایمان داری اور بہترین پلاننگ سے اس دانش گاہ کو چار چاند لگانے میں کوئی بھی کسر اُٹھائے نہیں رکھی ۔ سرکار نے ایک ضرورت کے طور پر اُنھیں کُلپتی کا عہدہ سونپا تھا کیونکہ اُن سے پہلے یہ دانش گاہ ایک طرح کی دُکان بن چکی تھی ۔اُنھوں نے قلمدان سنبھالتے ہی تمام تدریسی اور انتظامیہ ملازمین کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور انھیں یہ تلقین کی کہ وہ ایمانداری ،خوف آخرت، محنت ولگن کے ساتھ کام کریں اور دانش گاہ کو اپنا گھر سمجھ کر اپنے فر

نیلم

واقعی تم آؤو گے نا؟ میرے لیے ۔! تمہیں ہو کیا گیا ہے؟کل سے تم صرف ان ہی الفاظ کی رٹ لگائے بیٹھی ہو۔ایسی اناپ شناپ باتیں منہ سے نہ نکالو ۔اٹھو اور مجھے چائے دو مجھے دیر ہو رہی ہے۔میں اتنی ضروری باتیں کر رہی ہوں اور آپ کو چائے کی پڑی ہے۔آخر نیلم تم مجھے کہاں آنے کے لیے کہہ رہی ہو ۔نیلم کا قہقہ اس قدر زور سے پڑا کہ اطہر کو کچھ دیر کے لیے لگا کہ جیسے کسی نے اس کے گھر میں بم داغا ہو۔میں مذاق کر رہی ہوں ،دیکھا کس طرح تمہارے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔تم بھی نا ۔۔۔۔کبھی نہیں سدھرو گی۔ آج میں کام سے تھوڑا Late   آؤں گا۔ میں ایک دوست کے یہاں اُ سے دیکھنے جا رہا ہوں۔تم کھانا کھا لینا میرا انتظار نہیں کرنا۔فیاض معمول سے آج کچھ زیادہ ہی پہلے نکل گیا ۔آفس پہنچ کر وہ اپنے کام میں مگن ہو گیا ۔اُس کے ذہن میں دوست کے یہاں جانے کی بات گونج ہی رہی تھی کہ گلزار اجازت لے کے اندر داخل ہوا۔سر

وہ لوٹ آیا۔۔۔مگر!

سارہ  اور ارسلان  شادی  کے بعد ہی عمان (Oman)جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ۔ دونوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ شادی کے ساتھ ہی ارسلان کو ایک فرم میں آرکیٹیکچرل انجینئر کی نوکری مل گئی تھی۔ اگلے کچھ دنوں میں نئی جگہ پر کام سنبھالنا تھا ۔ ارسلان کی پوسٹنگ عمان کے دارالحکومت مسقط سے ڈیڑھ دو سو کلو میٹرکی دوری پر بھلا Bhala نام کے قصبے  میں ہوئی تھی ۔  پہنچتے ہی اس نے جوائن کیا اور آفس کے آس پاس ہی گھر لےلیا۔ ارسلان نے کام شروع کیا ۔ اسے پرانے قلعے کو سنبھالنے کا کام سونپ دیا گیا تھا۔ کئی سو سال پرانا قلعہ اب تاریخی یاد گار بن چکا تھا۔وہاں کی حکومت قلعے کو اپنی  تاریخی شکل میں خوبصورت بنانے کی خواہاں تھی۔ جگہ کا معائینہ کرنے کے لئے خلیل نامی ایک مقامی شخص کو ارسلان کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ خلیل کاقد کچھ زیادہ لمبا تھا۔ موٹے ہونٹ، سیاہ رنگ&n

زندگی کے رنگ

آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔موسم کے آثار بتا رہے تھے کہ آج جو بارش ہوگی تو جلدی رکنے والی نہیں ۔مجھے ابھی بوریولی سے چرچ گیٹ ٹرین  پکڑنی تھی اور ابھی بس سے بوریولی جانا تھا۔اسی بات کی ٹینشن میں چھوٹا بیٹا جو پیروں سے لپٹ رہا تھا اسے جھڑک دیا ۔بیوی، جو بجلی کے بل کی آخری تاریخ بتا رہی تھی،کو بھی دو باتیں سنا ئی تھیں اور قسمت کو کوستے ہوئے بس اسٹاپ پر پہنچا تھا کہ دیکھا ایک بیس اکیس سال کی ایک لڑکی تھی،بے حد خوبصورت اور معصوم۔اس کی آنکھیں نیلی اور گہری تھیں لیکن قسمت کی ستم ظریفی ان آنکھوں کے چراغوں میں روشنی نہیں تھی۔میں جو جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔اب بت بنا اس معصوم لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ حالانکہ میری عادت دوسرے مردوں سے مختلف تھی اور میں راہ چلتی لڑکیوں کو دیکھنا معیوب سمجھتا تھا۔لیکن اس لڑکی سے نظر ہٹ نہیں رہی تھی اور اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ ایسی تھی جی

ملال

فیاض کی کربناک کہانی سُن کر میرے تصورات میں ایک ایسا بھونچال آیا جس نے میرے ادراک کے در و دیوار کو بکھیر کے رکھ دیا۔۔۔! میں اُس سے بہت ڈرتا تھا۔ اُس کے حسین چہرے کو دیکھ کر مجھے میری کمتری کا احساس ستاتا تھا۔ اُس کی غزالی آنکھیں مجھے کالے ناگ کی طرح ڈس لیتی تھیں۔ اُسکے رسیلے گلابی ہونٹ مجھے کاٹنے کو آتے تھے، یہاں تک کہ اُس کی پرچھائیاں مجھے آفس میں بھی ڈراتی تھیں! شائد مہوش میرے حال سے واقف ہوچکی تھی، اس لئے اُس روز جب میں شام کو دفتر سے گھر پہنچا تو مہوش نے مجھ سے پوچھا۔ ’’آج لنچ ساتھ نہیں لیا تھا؟‘‘ ’’طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘‘۔ میں نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ ’’کیوں۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا بات تھی؟‘‘ مہوش نے پوچھا۔ ’’سر چکرا رہا تھا۔‘‘ میں نے پھر نظریں جھکا کر جواب دیا۔

کروٹ

کھلکھلاتی مسکراتی وہ گھر میں داخل ہوئی اور بے پروا چال چلتی ہوئی امی کے کمرے میں پہنچی، اور امی کی پر سوار ہو کر بولی، ”امی آپ کو پتا ہے آج آپ کی بیٹی نے کیا کیا؟“  اَمی مسکراتے ہوئے بولیں” پتا ہے پتا ہے، تمہاری  چہک ہی بتا رہی ہے آج بھی کوئی کمپٹیشن جیت کر آئی ہو“ہاں امی آج  میں بہت خوش ہوں اور مجھے اَباّ سے بات بھی کرنی ہے  میرے لئے لیپٹوپ کب لاکر دینگے ۔”ہاں ہاں منگوا لینا پہلے یہ پڑھائی تو پوری کرو“ عمرانہ نے پرامید نظروں سے امی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔ ”دیکھنا آپ کی بیٹی آپ لوگوں کا نام روشن کرے گی۔“ ” چل اب باتیں نہ بنا۔ کھانا بنا ہوا ہے جا کر کھا لے کبھی گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیا کر۔“ اماں نے وہی گھریلو زندگی کے اصول بتانے شروع کر دیئے۔  اچھا امی بس بھی کریں،

زنجیر

دراصل اُس روز میری طبعیت کچھ ٹھیک نہ تھی اس لئے صبح سویرے ہی آفس جانے کی بجائے شفا خانہ جانا پڑا ۔وہاں بہت بھیڑ تھی ۔لمبی لمبی قطاروں میں نہ جانے کتنے لوگ اپنے امراض کا علاج کرانے کے انتظار میں کھڑے تھے۔میں بھی انہی میں سے ایک قطار میں شامل ہونے کی سوچ رہا تھا مگر پھر نہ جانے کیا سوچ کر کچھ دیر بنچ پرہی بیٹھا رہا کہ اچانک اسی جگہ پر ایک بزرگ خاتون اور اس کی بالغ بیٹی بھی آکر بیٹھ گئیں ۔انہیں دیکھ کر مجھے بڑی حیرات ہوئی کیوں کہ یہاں بیٹی نے بزرگ ماں کا ہاتھ نہیں بلکہ ماں ہی نے اپنی جوان بیٹی کا ہاتھ تھاما ہوا تھااور اسے بڑے آرام سے لے جا رہی تھی ۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ جوان لڑکی کہیں اور گُم تھی۔دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے چلتی بھی نہ تھی جیسے اُس کا دل اور دماغ بیکا ر اور بے حِس تھا ۔آخر کار میں نے بزرگ خاتون سے پوچھ ہی لیا ’’کیابات ہے اماں؟آپ کی بیٹ

اَدھورے سپنے

لعل الدین میرے گاؤں کا ایک نہایت ہی شریف اور ایماندار شخص تھا اس کے من میں ایمانداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ پیشے سے مزدور تھا اورجس کسی کے پاس بھی مزدوری کرنے جاتا اپنا کام خوش اصلوبی سے انجام دیتا تھا۔ اس کے تین بچے تھے ایک بیٹا شوکت اور دو بیٹیاں ہُمیرا اور سویٹی۔۔ ۔۔ لعل الدین بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا۔ اسی لئے وہ دن میں مزدوری کرتا تھا اور رات کو قریب میں واقع ایک فیکٹری میں چوکیداری کا کام کرتا تھا۔ جب وہ صبح مزدوری کےلئے نکلتا تھا تو مجھے بِلُو کہہ کر پکارتا تھا اور جب تک نہ میں بھی اس کو دیکھتا تھا سکون نہیں ملتا تھا، اس لئے میں روز صبح گھر کے مرکزی دروازے پر اس کے آنے کے انتظار میں رہتا تھا۔۔۔۔۔اتوار کا دن تھا لعل الدین کو تین روز دیکھے ہوگئے تھے۔ اسکول میں چھٹی تھی وقت کو غنیمت سمجھ کر میں اس کے گھر اس کی طبیعت معلوم کرنے گیا اور دیکھا کہ لعل الدین ایک پرانی اور پھٹی ہو

افسانچے

نصیحت  اپنے چودہ سالہ بیٹے کامران پر ہر طرح کے حربے آزمانے کے بعد ایک دن قاسم کو خیال آیا کہ وہ کچھ خاص نصیحت اپنے بیٹے کامران کو کرے تاکہ پڑھنے لکھنے میں اسکی دلچسپی بڑھ جائے ۔ وہ دن بھر صرف آوارہ لڑکوں کے ساتھ ملکر اپنا قیمتی وقت ضائع کر تا تھا۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تم کو ؟ آوارہ لڑکوں کے ساتھ وقت ضائع کرنے سے تمہاری زندگی برباد ہوجائے گی ۔ اگر آج پڑھنے لکھنے میں وقت گزارو گے اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور لکھتے جاؤ گے تو آگے چلکر ایک بڑے آفیسر بن جاؤ گے ۔ ایک اچھا مکان ہوگا، عمدہ گاڑی ہوگی اور بہترین فون تمہارے ہاتھ میں ہوگا ۔ آرام دہ زندگی گزارو گے ۔ اور سماج میں بھی عزت بڑھ جائے گی ۔ میرا نام بھی روشن کر پائوگے ورنہ لوگ مجھے طعنے دیں گے کہ خود ایک آفیسر ہونے کے باوجود بھی لڑکا کچھ نہیں کر پایا۔۔۔۔ کامران اپنی خاموشی توڑتے ہوئے باپ کو واپس جواب دیتا ہے ۔۔۔۔&nb

خواب حقیقت

’’کیاواقعی تم سچ بول رہے ہو ؟‘‘ میری بات سن کر خالہ کو یقین نہیں آیا اور اس نے حیران کن لہجے میںپوچھا ۔ ’’ہاں خالہ ۔۔۔ جھوٹ کیوں بولوں،میں بالکل سچ کہتا ہوں‘‘ ۔ ’’لیکن؟۔۔۔۔۔۔ خیرمیں شام کو آرہی ہوں ،وہیںفرصت سے بات کریں گے‘‘۔ کچھ لمحے حیرت و استعجاب سے مجھے دیکھتے ہوئے خالہ نے کہا۔  ’’ٹھیک ہے خالہ ،لیکن ضرور آنا‘‘۔ میں نے خالہ سے کہا اور کچھ وقت باغ میںبیٹھ کربچپن کی خوشگوار یادوں کو تازہ کرکے واپس گھر کی طرف چلا گیا ۔دراصل آج چٹھی تھی ، موسم بھی خوشگوار تھا اور میں صبح صبح ہی باغ کی طرف چلا گیا ،خالہ بھی اپنے باغ میں تھی ،میں اس کے پاس گیا اور علیک سلیک کے بعد وہی باتیں بتادیں جو میں کئی دنوں سے اُسے بتانا چاہتا تھا ۔گھر پہنچ کر میں چند ہفتے پہلے پیش آئے وا

یادیں

’’سنو نا اس چھوٹے سے دروازے کے پیچھے کیا ہے۔‘‘ میں نے لائبریری ہیلپر پوچھا۔ " صاحب جہاں تک میری جان کا ری ہے ہمارے بوس نے اس بارے میں ہم سے کبھی بھی کوئی بات نہیں کی۔۔۔۔۔۔ مگر آپ کیوں اس میں اتنی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔۔؟ اتنی بڑی لائبریری میں آپ کو صرف یہی ایک چیز مشاہدے کے لئے ملی۔۔۔؟"، اس نے بڑے طنزیہ انداز میں پوچھا۔ "۔۔۔تم سے جتنا بولا گیا ہے تم اتنا ہی کرو۔۔۔۔میرے کام میں ٹانگ اڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم جا سکتے ہو۔۔"، میرے اس کہنے پر وہ وہاں سے آگ بگولا ہو کر چلا گیا۔ میں نے اس چھوٹے سے دروازے پر لگی کنڈی کھولی اور آہستہ سے دروازہ کھولنے لگا۔۔۔ دھیرے دھیرے میں نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔کمرے کے اندر مکڑیوں نے اتنے گھٹنے جالے بُنے تھے کہ اس کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے بڑی مشکل سے روشنی کی چند کرنیں اندر تک پہنچ پاتیں۔ خیر م

اَجنبی

اُس نے دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے چار بجنے والے تھے ،حالانکہ دفاتر کے اوقاتِ کار چار بجے تک تھے لیکن اُس نے کبھی گھڑی دیکھ کر چُھٹی نہیں کی تھی ،جب تک نہ تمام سائل دفتر سے باہر نکل جائیں اُس وقت تک وہ اپنی کُرسی سے نہیں اُٹھتی تھی کیونکہ اُسے اس بات کا پورا احساس تھا کہ یہ غریب اور مفلو الحال لوگ دُور دراز کے علاقہ جات سے اپنے کام کاج کا دن چھوڑ کر اس دفتر میں آتے ہیں۔ کام ہوجانے پر سائل بھی اُس کو دُعائیں دیتے تھے تو وہ کہتی خُدا نے مجھے یہ کُرسی اسی لئے دی ہے کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ انصاف کر سکوں ۔ اپنے دفتر کے عملے کی نظروں میں تو وہ کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی ،بادلِ ناخواستہ وہ اُس کے سامنے کاغذات لے کر جاتے وگرنہ وہ تو اُس کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔۔۔،، جب سے اُس نے اس دفتر کا چارج سنبھالا تھا کلرکوں کے چولہوں کو تو جیسے پانی پڑ گیا تھا ۔بڑے بابو تو ہر و

خوابوں کا‌کاروان

یونیورسٹی میں ایم۔اے کرنے کے دوران ہی ہماری آنکھیں چار ہوئیں تھیں‌اور آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کے قریب اور پھر قریب تر آنے لگے۔‌مجھے اسکی زبانی جب یہ معلوم ہوا کہ وہ میرے اڑوس پڑوس میں ہی رہتی ہے تو میری خوشی دوبالا ہوگیی۔ ہم اور قریب آتے گیے۔ بقول شاعرؔ رفتہ رفتہ وہ میرے ہستی کا سامان ہو گئے ایک دن‌اُس نے مجھے اپنے گھر لیکر اپنے گھر والوں سے بھی ملادیا‌۔ جس سے میرا اسکے گھر جانا آسان بھی ہوا اور پھر میرا معمول بھی بن گیا۔ اسکے گھر کا ایک ایک فرد میرا گرویدہ ہوچکا تھا یا یوں کہیے کہ اب میں اسکے گھر کا جیسے ایک فرد بن چکا تھا۔ میں بہت خوش تھا۔ اسکے ایم۔ اے پاس کرنے کے بعد میں بضد رہا کہ وہ پی۔‌ایچ ۔ڈی کرنے کر لے۔ نہیں میں پی۔ایچ ۔ ڈی نہیں کرونگی‌بلکہ کوئی نوکری کرکے اپنے باپ کا ہاتھ بٹائونگی۔ آپکو تو پتہ ہی ہے کہ میرے والد صاحب کے&nbs

کروٹ

صبح سویرے پرندوں کا ایک جُھنڈ میرے گھر کی چھت پر نغمہ سرا ہوتا تھا۔ نانی روز بڑے ہی انہماک سے اِن کو دانہ کھلاتی تھی۔ پرندے نانی کے ارد گرد ناچتے تھے، گاتے تھے۔ کبھی اُس کے کندھوں پر اور کبھی اُس کے قصابہ پر بیٹھے تھے۔ میرے آنگن میں ہر روز صبح سویرے یہ دلفریب منظر دیکھنے کو ملتا تھا۔ پرندوں کے لمس سے ہوا کے ہونٹوں میں شہد بھر جاتا تھا۔ میں تخیل کی دُنیا میں کھو جاتا تھا۔ ’’چڑیاں گویا آسمان میں بادل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تیر رہے ہیں۔ ان پرندوں کے بغیر یہ آکاش سُونا سُونا سا لگتا ۔۔۔۔ طوطا مینا کی کہانی کچھ پھیکی پڑجاتی۔ پرندوں کی یہ چہچہاہٹ صبح کو دلکش بناتی ہے۔کبوتروں کا یہ گُٹرگُوں صبح کی پُرنور فضا کو نغمگی سے معطر کرتا ہے۔‘‘ پھر میرے ہاتھ خودبخود دعا کے لئے اُٹھتے تھے۔’’اے ربا! پرندوں کی دُنیا کو سدا آباد رکھنا۔ ابابیل بہار کی آمد پ