تازہ ترین

ملال

فیاض کی کربناک کہانی سُن کر میرے تصورات میں ایک ایسا بھونچال آیا جس نے میرے ادراک کے در و دیوار کو بکھیر کے رکھ دیا۔۔۔! میں اُس سے بہت ڈرتا تھا۔ اُس کے حسین چہرے کو دیکھ کر مجھے میری کمتری کا احساس ستاتا تھا۔ اُس کی غزالی آنکھیں مجھے کالے ناگ کی طرح ڈس لیتی تھیں۔ اُسکے رسیلے گلابی ہونٹ مجھے کاٹنے کو آتے تھے، یہاں تک کہ اُس کی پرچھائیاں مجھے آفس میں بھی ڈراتی تھیں! شائد مہوش میرے حال سے واقف ہوچکی تھی، اس لئے اُس روز جب میں شام کو دفتر سے گھر پہنچا تو مہوش نے مجھ سے پوچھا۔ ’’آج لنچ ساتھ نہیں لیا تھا؟‘‘ ’’طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘‘۔ میں نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ ’’کیوں۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا بات تھی؟‘‘ مہوش نے پوچھا۔ ’’سر چکرا رہا تھا۔‘‘ میں نے پھر نظریں جھکا کر جواب دیا۔

کروٹ

کھلکھلاتی مسکراتی وہ گھر میں داخل ہوئی اور بے پروا چال چلتی ہوئی امی کے کمرے میں پہنچی، اور امی کی پر سوار ہو کر بولی، ”امی آپ کو پتا ہے آج آپ کی بیٹی نے کیا کیا؟“  اَمی مسکراتے ہوئے بولیں” پتا ہے پتا ہے، تمہاری  چہک ہی بتا رہی ہے آج بھی کوئی کمپٹیشن جیت کر آئی ہو“ہاں امی آج  میں بہت خوش ہوں اور مجھے اَباّ سے بات بھی کرنی ہے  میرے لئے لیپٹوپ کب لاکر دینگے ۔”ہاں ہاں منگوا لینا پہلے یہ پڑھائی تو پوری کرو“ عمرانہ نے پرامید نظروں سے امی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔ ”دیکھنا آپ کی بیٹی آپ لوگوں کا نام روشن کرے گی۔“ ” چل اب باتیں نہ بنا۔ کھانا بنا ہوا ہے جا کر کھا لے کبھی گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیا کر۔“ اماں نے وہی گھریلو زندگی کے اصول بتانے شروع کر دیئے۔  اچھا امی بس بھی کریں،

زنجیر

دراصل اُس روز میری طبعیت کچھ ٹھیک نہ تھی اس لئے صبح سویرے ہی آفس جانے کی بجائے شفا خانہ جانا پڑا ۔وہاں بہت بھیڑ تھی ۔لمبی لمبی قطاروں میں نہ جانے کتنے لوگ اپنے امراض کا علاج کرانے کے انتظار میں کھڑے تھے۔میں بھی انہی میں سے ایک قطار میں شامل ہونے کی سوچ رہا تھا مگر پھر نہ جانے کیا سوچ کر کچھ دیر بنچ پرہی بیٹھا رہا کہ اچانک اسی جگہ پر ایک بزرگ خاتون اور اس کی بالغ بیٹی بھی آکر بیٹھ گئیں ۔انہیں دیکھ کر مجھے بڑی حیرات ہوئی کیوں کہ یہاں بیٹی نے بزرگ ماں کا ہاتھ نہیں بلکہ ماں ہی نے اپنی جوان بیٹی کا ہاتھ تھاما ہوا تھااور اسے بڑے آرام سے لے جا رہی تھی ۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ جوان لڑکی کہیں اور گُم تھی۔دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے چلتی بھی نہ تھی جیسے اُس کا دل اور دماغ بیکا ر اور بے حِس تھا ۔آخر کار میں نے بزرگ خاتون سے پوچھ ہی لیا ’’کیابات ہے اماں؟آپ کی بیٹ

اَدھورے سپنے

لعل الدین میرے گاؤں کا ایک نہایت ہی شریف اور ایماندار شخص تھا اس کے من میں ایمانداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ پیشے سے مزدور تھا اورجس کسی کے پاس بھی مزدوری کرنے جاتا اپنا کام خوش اصلوبی سے انجام دیتا تھا۔ اس کے تین بچے تھے ایک بیٹا شوکت اور دو بیٹیاں ہُمیرا اور سویٹی۔۔ ۔۔ لعل الدین بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا۔ اسی لئے وہ دن میں مزدوری کرتا تھا اور رات کو قریب میں واقع ایک فیکٹری میں چوکیداری کا کام کرتا تھا۔ جب وہ صبح مزدوری کےلئے نکلتا تھا تو مجھے بِلُو کہہ کر پکارتا تھا اور جب تک نہ میں بھی اس کو دیکھتا تھا سکون نہیں ملتا تھا، اس لئے میں روز صبح گھر کے مرکزی دروازے پر اس کے آنے کے انتظار میں رہتا تھا۔۔۔۔۔اتوار کا دن تھا لعل الدین کو تین روز دیکھے ہوگئے تھے۔ اسکول میں چھٹی تھی وقت کو غنیمت سمجھ کر میں اس کے گھر اس کی طبیعت معلوم کرنے گیا اور دیکھا کہ لعل الدین ایک پرانی اور پھٹی ہو

افسانچے

نصیحت  اپنے چودہ سالہ بیٹے کامران پر ہر طرح کے حربے آزمانے کے بعد ایک دن قاسم کو خیال آیا کہ وہ کچھ خاص نصیحت اپنے بیٹے کامران کو کرے تاکہ پڑھنے لکھنے میں اسکی دلچسپی بڑھ جائے ۔ وہ دن بھر صرف آوارہ لڑکوں کے ساتھ ملکر اپنا قیمتی وقت ضائع کر تا تھا۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تم کو ؟ آوارہ لڑکوں کے ساتھ وقت ضائع کرنے سے تمہاری زندگی برباد ہوجائے گی ۔ اگر آج پڑھنے لکھنے میں وقت گزارو گے اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور لکھتے جاؤ گے تو آگے چلکر ایک بڑے آفیسر بن جاؤ گے ۔ ایک اچھا مکان ہوگا، عمدہ گاڑی ہوگی اور بہترین فون تمہارے ہاتھ میں ہوگا ۔ آرام دہ زندگی گزارو گے ۔ اور سماج میں بھی عزت بڑھ جائے گی ۔ میرا نام بھی روشن کر پائوگے ورنہ لوگ مجھے طعنے دیں گے کہ خود ایک آفیسر ہونے کے باوجود بھی لڑکا کچھ نہیں کر پایا۔۔۔۔ کامران اپنی خاموشی توڑتے ہوئے باپ کو واپس جواب دیتا ہے ۔۔۔۔&nb

تازہ ترین