تازہ ترین

’’حُکم کی تعمیل ہو‘‘

صاحب اُدھیڑ عمر میں قدم رکھ چکے تھے مگرتیور۔۔۔۔ہاں تیور۔ایک بیس بائیس برس کے نوجوان کے جیسے۔مکھی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ کسی کی بات خلاف توقع گزرتی تو شیر کی طرح غُرا اُٹھتے یا یوں سمجھئے کہ جیسے شیر شکار پر جھپٹ پڑا ہو۔اُس کی طرف ہاتھ لپکاتے ہوئے کہتے۔ ’’بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔enough۔۔۔!!! ‘‘ پھر ایسے گھورتے کہ مخاطَب کی روح لرز اُٹھتی۔بے چارا دبک کر بیٹھ جاتاکچھ توقف کے بعد صاحب کہتے۔ ’’دوبارہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا ۔‘‘  وہ آنکھ نیچی کر کے جب حامی بھرتاتو صاحب منہ کو ایسے موڈدیتے جیسے پھر کی گھومنے لگی ہو۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعداُس کے کندھوںپرتھپکی دیتے ہوئے زور زور سے ہنس دیتے۔ایسا لگتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مخاطب صاحب کے کھلکھلا کر ہنسنے پرپسینے پسینے ہوجاتا اور چپ چاپ بیٹھے رہتا ۔ پھرجب صاحب کے ہاتھ تھپکی د

افسانچے

سبق  اچانک احمد کی بچی کی طبیت خراب ہو گئی اور وہ اسے لے کر فوراً ہسپتال پہنچا۔ ہسپتال میں وہ سیدھے بچوں کے ڈاکٹر کے کیبن میں گیا۔ کیبن خالی تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اِدھر اُدھر معلوم کرنے پر جب ڈاکٹر کے بارے میں کسی سے کچھ پتہ نہیں چلا تو وہ سیدھا میڈیکل آفیسر کے پاس پہنچا ۔  " سر بچوں کا ڈاکٹر کہاں ہے میری بچی کی طبیت  بہت خراب ہے؟ "  ڈاکٹر ابھی ابھی گھر گیا ہے آپ کو ایک گھنٹہ پہلے آجانا چاہیے تھا" "سر میری بچی کی طبیت ابھی خراب ہوئی ہے اور ویسے بھی  ابھی  بارہ ہی بجے ہے "  "مطلب کیا ہے تمہارا وہ آپ کے لئے یہاں بیٹھتا  رہتا" میڈکل آفسیر کے چہرے پر غصے کی لہر دوڈ گئ۔ "سر کیا ان کی ڈیوٹی  بارہ بجے تک ہی تھی۔؟ اب میری بچی کا علاج کون کرے گا ‘&lsquo

حساس

بہت زیادہ حساس ہونا بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔ اس بے حس دنیا میں حساس ہونا ایک ذہنی بیماری ہے ،جبکہ مذہب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حساس ہونا انسانی ہمدردی کے جذبات کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ،لیکن اس عہد میں جہاں ہر طرف افرا تفری کا عالم ہو ، دہشت گردی کے گہرے سائے ہر طرف منڈلا رہے ہوں، انسانی خون پانی کی طرح بہہ رہا ہو،ایسے میں کسی شخص کا بہت زیادہ حساس ہونا اسے پاگل بنا سکتا ہے یا لوگ اسے پاگل بنا دئیں،لیکن یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ ہر شاعر،ادیب یا کوئی فنکار جتنا حساس ہوگا اتنا ہی اس کے فن میں جان پیدا ہوگی ۔                             جاوید تو ویسے بھی ایک اچھا شاعر اور ادیب تھا ۔ کسی بھی فنکار کا حساس ہونا ایک فطری عمل ہوتا ہے ۔ جاوید کا دل ہمدردی اور انسانیت کے جذبات سے سرشار تھا۔ اسے ذرا ذرا سی ب

’مہنگا علاج‘‘

کلینک پر مریضوں کا بڑا رش تھا.ڈاکٹر پانڈے اپنے کمرے میں مریضوں کا ملاحظہ کرنے میں مصروف تھے۔شدید گرمی سے لوگوں کا برا حال ہو رہا تھا۔  ڈاکٹر پانڈے عینک کو سر پہ رکھ کر اپنی جیب سے رومال نکالتے اور ماتھے  سے پسینہ پونچھتے رہتے . اتنے میں کلینک کا ایک ملازم’’ وکاس‘‘ اندر آیا اور بولا "ڈاکٹر صاحب ابھی بہت سارے مریض ہیں۔ "  ڈاکٹر نے’ ہوں‘ کرتے ہوئے پوچھا: "  کیا ہمارا ٹارگٹ چار بجے تک پورا ہوگا؟"  " ضرورڈاکٹر صاحب' بس یہ آپ کی ماہرانہ پھرتی پر مدار رکھتا ہے۔ " "ارے وکاس۔۔۔!رفتار تو تیز ہی ہے 'دیکھتے نہیں ہو دوائیوں کی قیمت کتنی زیادہ ہے۔ میرے خیال میں تو چار بجے سے پہلے ہی ہمارا ٹارگیٹ پورا ہونا چاہے۔!!!" "ڈاکٹر صاحب کیا فرق پڑتا ہے اگر چند اور مریضوں

نمک

"جی یہ آپ کی امانت " اس نے ڈائیری ہاتھ میں لی اور پہلا صفحہ پلٹا  "ہیلو باواری میں پال تمہارا ڑاں پال، کیسی ہو ؟" یاد ہے جب میں نے اپنے ہونٹ تمہارے گرم نازک اور پتلے ہونٹوں پر رکھنے چاہے تو تم نے اپنا بایاں  ہاتھ درمیان میں حائل کرکے میرے منہ پر رکھا اور مجھے روک دیا . کیا تمہیں یاد ہے  ؟ اورتم نے اچانک سے کہا  "کیا تم مجھ پر کوئی کہانی لکھو گے ؟" "کیا مطلب ؟" میں نے حیرانگی سے پوچھا  "اچھا چلو کہانی نہ لکھو ،  کم سے کم مجھے کسی کردار میں ڈھال تو سکتے ہو۔" "یہ کیا سوجھی آج تمہیں؟"  میں نے حیرت سے پوچھا تھا "کہو کرو گے نا ایسا؟"  تم نے ضد کی۔ "اچھا ٹھیک ہے۔ ایسا ہی کروں گا اب خوش!"  "او پال تم کتنے

آئندہ فون مت کرنا

ثانیہ نے آصف سے ایک گھنٹے طویل گفتگو کرنے کے بعد موبائل میز پر رکھا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی پھر بجنے لگی. اس نے منھ بسورتے ہوئے موبائل اٹھایا دوسری طرف ارسلان بول رہا تھا۔ وہی ارسلان جس کے فون کا انتظار یہ کبھی بڑی شدت سے کیا کرتی تھی اور پھر سلسلہ گفتگو اسوقت تک چلتا جب تک موبائل کی جان نہ نکل جاتی، پھر بھی باتیں ادھوری رہ جاتیں، جس کی تکمیل کبھی کلاس روم، کبھی پارک تو کبھی ریسٹورنٹ میں ہوا کرتی. کئی بار دونوں نے ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں بھی کھائی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے ثانیہ کے رویے میں تبدیلی آگئی تھی جس کی وجہ آصف تھا جو ارسلان سے زیادہ وجیہہ تھا اور دولت مند بھی۔ اب بھی ثانیہ کی سہانی شامیں پارکوں میں اور شب کا اکثر حصہ محبت بھری باتوں میں گزرتا لیکن آصف کے ساتھ۔ بہت کوشش کرنے کے بعد آج ارسلان کا فون ملا تھا۔ ہیلو۔۔۔۔ثانیہ کیسی ہو؟ اچھی ہوں. دوسری جانب سے ثانی

زخمِ تَر

ہونٹوں کی بھی اپنی ایک مجبوری ہوتی ہے اکثر لگتا ہے کہ سب کچھ تو کہہ دیا لیکن بات پھر بھی ادھوری رہ گئی۔ آنکھوں کا بھی یہی حال ہے، بند ہوں تو خواب سجنے لگتے ہیں ، کھلی ہوں تو خواب بکھر جاتے ہیں، سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی لگتا ہے کہ اب بھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔ اس صورتحال میں غیر یقینیت کا ایک عجیب سا ماحول کروٹیں لینے لگتا ہے اور زندگی کی ساری تلخیاں اُبھر اُبھر کر زندگی کی ساری خوشیوں کو بے مزہ کر دیتی ہیں! مقبول صاحب اور خدیجہ کی زندگیوں میں نہ تو کوئی تلخی تھی اور نہ ہی غیر یقینیت کا اھساس۔ہاں! انہیں اپنے بیٹے کو خوش خوش دیکھنے کے لئے زندگی جینے کی تمنا ضرور تھی۔ اب سے قریب قریب پینتالیس برس قبل جب اُن کی شادی ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ اُن دونوں کی عمروں میں تین ماہ کا فرق ہے۔ خدیجہ اپنے خاوند مقبول صاحب سے عمر میں تین ماہ بڑی تھی اور اِس ناطے اُس کا ماننا تھا کہ اسکے ہونٹوں پر ا

پردہگر گیا

آنکھیں چار ہوئیں اور جُھک گئیں۔۔۔۔ اب کی بار اُس نے عورت کی آنکھوں میں سے کچھ نہیں پایا۔ کوئی خواب نہ، کوئی خیال۔ خالی خالی تھیں اُس کی آنکھیں۔ کیا وقت کے ساتھ سب کچھ بہہ گیا تھا؟ ۔۔۔ ’’نہیں نہیں‘‘ وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔ دروازے کا پردہ ہوا کے جھونکے سے ہٹ جاتا تو اُس کی نظریں سامنے ٹیلے پر جا پڑتیں اور وہ ماضی کے حسین لمحوں میں کھو جاتا۔ دیکھتا سب کچھ جوں کا توں ہی تو ہے۔ ٹیلے کے سرے پر میدان، میدان میں گائوں، گائوں کے اِرد گر پیڑ پودے، بہتے ندی نالے اور بہت کچھ۔ نیل گوں آسمان میں چمکتا سورج بھی تو وہی ہے لیکن سٹول پُر سکڑ کر بیٹھی عورت؟۔۔۔۔۔ اب بہار جوبن پہ تھی۔ چٹیل پڑے میدان بھی ہری مخملی گھاس سے لدے ہوئے تھے۔ ’’بید مُشک‘‘ اور ’’ہمبرزل‘‘ کے پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ

افسانچے

سپنا ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ میرا بھائی علیم خان اپنی بیٹی کی بات ماننے سے صاف انکار کر رہا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ بھی سنا ہے کہ خوشبو نے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی خواہش پوری نہ کی گئی تو وہ خود کشی کرے گی ۔ عابد خان نے سگریٹ ایشٹرے میں مسلتے ہوئے بیوی سے کہا،اور علیم خان نے کہا ہے کہ وہ خود گولیوں سے بھرا  پستول بیٹی کو دے گا یا خود اس کے لیے زہر خرید کر لایے گا یا پھر خود اس کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کرے گا۔ پتہ نہیں ایسا کیوں۔۔۔ذرا آپ ‌اپنے بھائی سے پوچھ لیں کہ وہ اپنی بیٹی پر ظلم کیوں کر رہا ہے۔ سکینہ بیگم نے شوہر سے کہا۔ دوسرے دن عابد خان نے اپنے بھائی سے پوچھ لیا۔ بھائی صاحب آپ  خوشبو کی شادی میں دیوار بن کر ‌کیوں کھڑے ہیں۔ بات کیا ہے۔ اونچ نیچ، امیری، غریبی،ذات پات مسلکی اختلاف یا  لڑکے میں کوئی نقص۔۔یا

قصوروار کون۔۔۔؟

سمندر کی لہریں لحظہ بہ لحظہ ساحل سے ٹکرا کر جو حباب پیدا کر رہی تھیں وہ رفتہ رفتہ از خود معدوم ہوتیا جا رہا تھا۔ مگر کنارے پر بیٹھے فیض کے ذہن میں جو عجیب بُلبُلے بن  رہے تھے وہ اس بار زائل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ در حقیقت اس پریشانی کا پتا فیض کے آبائی گا ئو ں کے محلے کی ایک پیچیدہ گلی سے ہوکر سیدھے  سلمان کے ژولیدہ گھروندے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ سلمان جو پیشے سے کچھ سال قبل سرکاری ملازمت سے وابستہ تھا، آج افلاس کی بھیڑیوں میں اسیر ہو کر مرگِ  مفاجات کی دہلیز پر بے ہوش پڑا ملتا ہے۔ سلمان کی اس بد حالی کی وجہ اس بحث و تکرار میں پنہاہ ہے جو سبکدوشی سے قبل گائوں کے ایک نامدار آدمی اور اس کے  مابین ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی دفتری دستاویزات پر دستخط کرنا بھول جانے کی غلطی اس پر بھاری پڑگئی اور ملازمت سے اسے تا عمر ہاتھ دھونا پڑا۔ سلمان یہ صدمہ  سہہ ن

پشیمانی

آج پھر میں نے یادوں کے جُھلستے صحرا میں کئی پہر گزارنے کے بعد موبائل میں نادرہ کے نمبر پر مسیج ٹائپ کرنا شروع کی ۔۔ "نادرہ ۔۔ کیسی ہو ؟ میں مانتا ہوں کہ محبت کے حسین ایام میں غلط فہمی اور دھوکے کی آلودہ ہوا بکھیرنے والا میں ہی تھا ۔۔ لیکن شاید تم نہیں جانتی کہ اس آلودگی نے میرے اندر بے چینی اور پشیمانی کی کئی بیماریوں کو جنم دیا ہے ۔۔۔ میری سوچیں تمہارے تصور کے گرد ہر وقت طواف کرتی رہتی ہیں ۔۔ اگر چاہو تو لوٹ آؤ۔ " کئی بار میسیج کی تصحیح کرنے کے بعد میں نے میسیج ڈلیٹ کردی اور موبائل رکھ کر پھر پشیمانی کے دورے کا سامنے لگا ۔۔  رابطہ؛ ہندوارہ کشمیر ،موبائل نمبر؛7780912382  

نالائق

سعیدہ نے حیدر کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اس سے کہا،" حیدر بیٹا ادھر آؤ تھوڑا کام ہے"۔ حیدر جھٹ سے اٹھا اور ماں کے بازو پکڑ کر اسے ڈیوڑھی تک لے آیا اور کہا، " ماں کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہیں کہ جب کوئی بات کر رہا ہوتو پہلے دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے ۔۔۔۔! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا!!" " بیٹا میں تو۔۔۔۔!" " بس ماں بہت ہوگیا ! اب تم اندر مت آنا ، میرے دوست تمہیں دیکھ کر میرا مذاق اُڑائیں گے"، حیدر کے منہ سے ایسے دل دہلانے والے الفاظ کانوں میں دھیرے دھیرے اتار کر سعیدہ کو جیسے جھٹکا لگ گیا۔۔۔۔دیوار کا سہارا لے کر اور پھیرن کی آستین سے آنسو پونچھ کر حیدر سے کہا،" بیٹا کیا میں اتنی غیر ہو گئی کہ اب تم مجھے حقیر شے کے  سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔۔۔ ٹھیک ہے میں باہر ہی رہتی ہوں مگر بیٹا میری ایک بات یاد ر

خود کشی

 طارق شبنم  ’’بھابھی۔۔۔۔۔۔  اگر بھیا نے سلیم کے ساتھ میری شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو میں خود کشی کرکے اپنی جان دیدوں گی‘‘۔ رضیہ نے روتے ہوئے اپنی بھا بھی نگہت سے کہا ۔ ’’دیکھو رضیہ تمہارا بھیا تم سے بہت پیار کرتا ہے اور تمہاری ہی بھلائی چاہتا ہے۔ میری صلاح مانو تم سلیم کا خیال دل سے نکال دو کیوں کہ ایک تو وہ بیکار ہے اوپر سے اس کا چال چلن بھی ٹھیک نہیں ہے، تمہارے بھیا کہتے ہیں کہ وہ آوارہ لڑکا ہے اور شراب بھی پیتا ہے‘‘ ۔ نگہت نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں بھا بھی ۔۔۔ کچھ بھی ہو آپ کو کسی بھی طرح سے بھیا کو اس شادی کیلئے راضی کرنا ہوگا‘‘۔ ’’دیکھورضیہ ۔۔۔۔۔۔ تم ابھی نادان ہو، لیکن میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ تمہاری زندگی بر باد ہو جائے اور نہ ہی تم

زِندگی

زندگی یوں تو اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک حسین نعمت ہے اور یہ نعمت اور زیادہ حُسن تب اختیار کرتی ہے جب ساتھ چلنے والے مُنافق نہ ہوں ۔یعنی زندگی میں اگر صرف ایک ہی شخص ایسا ہو جو ہم سے بے لوث مُحبت کرے اور ہمارے دکھ میں دکھی اور خوشی میں خوش ہوجائے تو زندگی جیسی حسین نعمت واقعی اور زیادہ حسین بن جاتی ہے۔خورشید آج صبح سے ہی اپنی بہن سے زندگی سے ملنے والے دکھوں اور سکھوں کی باتیں کرر ہا تھا ۔زندگی کی اونچ نیچ، خوشی و غم ،نشیب و فراز،غرض یہ دونوں بھائی بہن آج زندگی کے ہر ایک پہلو  پر غور کر رہے تھے۔  ۔یوں تو خورشید نے زندگی میں کئی اونچ نیچ دیکھے تھے لیکن سب سے بڑا درد اُ سے تب ملا تھا جب وہ محض سولہ سال کا تھا اور ا س کی والدہ اس دنیا سے کوچ کر گئیں ۔اُس وقت خورشید کے اہلِ خانہ شادی کی تقریب میں جانے کے لیے تیار ہورہے تھے کہ اس کی والدہ کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا اور

’’بھرم‘‘

 تین  بج رہے تھے رحمان صاحب ؔ پارک میں ایک درخت کے سائے میں بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ صحن کے صدر دروازے کا پٹ کھل گیا اور ان کاشاگرد عثمان ؔ تیز تیزڈگ بھرتے ہوئے اندر آیا۔قریب پہنچتے ہی سلام بجا لا کر نہایت عاجزانہ لہجے میں بولا۔ ’’سر میں نے سویرے فون کیا تھا۔کیا میں آ پ کی کار لے جا سکتا ہوں۔‘‘ رحمان صاحب کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے ۔ ’’عثمانؔ میں نے آج تک کسی دوسرے کو اپنی کار ڈرائیونگ کے لئے نہیں دی ہے۔ یہ بہت قیمتی کار ہے ۔‘‘ ’’سر مجھے ڈرائیونگ میں کئی برسوں کا تجربہ ہے۔ یقین رکھئے میںبہت احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کروں گا۔‘‘ رحمان صاحب سوچ ہی رہے تھے کہ بیگم صاحبہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ ’’اتنی عاجزی کر رہا ہے دیجئے نا۔چند ہی گھنٹوں کی تو بات ہے۔‘‘ رح

رسوائی

"ارے،ارے،ارے، کہاں جا رہے ہو، تمہیں پتا نہیں باہر پولیس ہے اور گھر سے باہر نکلنا منع ہے۔ اگر پولیس نے دیکھا تو مار مار کر ہڈیاں توڑ ڈالیں گے۔ایک تو غریبی نے ہمارا چین و سکون چھین لیا ہے اور اوپر سے  اب اس نئی آفت نے پریشان کررکھا ہے۔"  چھوٹے بیٹے عامر کے قدم گھر سے باہر کی جانب بڑھتےہی شرافت بہن نےہانک لگائی۔  یہ سنتے ہی عامر اُداس ہو کر کمرے میں واپس چلا گیا اورزانوں پر سررکھ کر رونے لگا۔  پھرکچھ دیر تک اپنی قسمت کو کوستا ہوا بھوک سے نڈھال ہوکر ماں سے کہا: "مجھے کھانا دو...ماں۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔" شرافت بہن یہ سن کرآہ بھرتے ہوئے بولی: "کہاں سے لاؤں گی میں کھانا۔ تیرے ابو تو پچھلے دس دنوں سے گھر پر ہی ہیں۔جو کچھ بھی تھا وہ سب گزشتہ دس دنوں میں ختم ہوا۔ اللہ ہمارےحال پر رحم کرے ۔" لاک ڈاؤن کا دم

سزا

فقیروں کو پیسے دیتے ہوئے کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیاں اُتر رہے تھے، کہ اچانک ایک فقیر کو دیکھتے ہی رک گئے… جس نے ایک گندھے پھٹے ہوئے کمبل میں منہ کو چھپاتے ہوئے کہا…ارے بابا اللہ کے نام پر کچھ دے دو … اللہ تمہارا بھلا کرے گا… کلیم صاحب کواس کی آواز کچھ جانی پہچانی سی لگی… انھوں نے فقیر سے پوچھا :  تم کون ہو؟ فقیر نے کمبل کی آڑ سے دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے دور رہو۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں… مجھے دھتکارتے ہیں۔  کلیم صاحب نے اسے ایک روپیہ دیا اور آگے بڑھ گئے۔ کچھ دوری پر کلیم صاحب کے دوست اشفاق یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جیوں ہی کلیم صاحب اشفاق کے پاس پہنچے ، اشفاق نے کہا، ارے بھئی تم کہاں وہاں رک گئے تھے۔ اور اس فقیر سے کیا بات کر رہے تھے؟ کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کہا، میں اس آدمی کو جانتا ہوں۔ اشفاق کلیم صاحب کی ب

لومڑی اورمُرغا

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مرغا تھا جو قصے کہانیاں سننے اور سنانے کا بہت شوقین تھا۔ جس وقت وہ مرغیوں ،چڑیوں اور کبوتروں کو دیکھتا تھا ان سے گذارش کرتا تھا کہ وہ سنی ہوئی یا دیکھی ہوئی سر گذشتیں بیان کریں اور وہ بھی، اگر ان کو کام بھی ہوتا تھا،مرغے کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے ارد گرد بیٹھتے تھے اور کہانیاں سناتے تھے، جو کچھ انہوں نے دیکھا ہوتا یا سنا ہوتا۔وہ حیلے اور بہانے جو گیدڑ اور لومڑی اور دوسرے شکاری مرغوں اور جانوروں کو پکڑنے کے لئے بناتے ہیں۔اور وہ مصیبتیں جو انکے یا انکے دوستوں پر گذری ہوتیں اس کے متعلق بات کرتے تھے اور اسطرح مرغے کو بہت سی خبریں فراہم ہو جاتی تھیں۔ ایک دن مرغا تنہا رہ گیا تھااور وہ جس باغیچہ میں زندگی گذارتا تھا اس کا دروازہ کھلا تھا۔مرغا کوچے میں آگیا اور چلتے چلتے کوچے سے صحرا  میںپہونچ گیا۔بہار کا موسم تھا اور صحرا سر سبز اور شاداب

ریشِ ستم کیش

درگا رائوؔ کا قد درمیانہ سے ذرا لمبا، چہرہ نیم کتابی، آنکھیں کچھ غلافی، ناک قدرے گول او رٹھڈی مبہم سی تھی۔ وہ خوش لباس اور خوش مزاج تھے اور اپنی قابلیت کے سبب آرٹ کالج کے مقبول  ترین استاد بھی ۔ مخلوط تعلیمی اداروں میں اکثر اساتذہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہانی وابستہ ہو جاتی ہے، مگر دُرگا رائو کے ساتھ کبھی کوئی خبر منسلک نہ ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ گھر والوں نے ان کی شادی ایک قبول صورت خاتون کے ساتھ کر دی ۔ دُرگا رائو کے روز و شب میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔ وہ پہلے کی طرح منضبط انداز میں کالج جاتے،  نئے نئے معرکے سر کرتے، اپنا کام لگن سے کرتے  رہے۔  درگا رائو کی بیوی کی بس ایک ہی مانگ تھی کی وہ داڑھی رکھ لیں ۔ مگر درگا رائو کہتے کہ اگروہ پہلے ان کی زندگی میں آئی ہوتی تو بات الگ تھی ۔ اب ا ن کے جوان نظر آنے والے چہرے پر سفید بال،  سیاہ سے زیادہ اگتے ہیں اور داڑھی

سوار

کیا آپ کہانی سننا پسند کریں گے ؟  کیا آپ کو کہانی سننے میں دلچسپی ہے؟  ویسے آپ کو سنتے پڑھتے دیکھ کر لگتا ہے  کہ آپ کو کہانیوں میں، داستانوں میں دلچسپی ضرور ہے۔  بھلا کیوں نہ ہوگی۔ کہانی ہماری تاریخ ہے، کہانی آج کی بات ہے، کہانی کل کی اُ مید ہے ۔  کہانی کل بھی  ہمیں رقم کر رہی تھی، کہانی آج بھی ہمیں لکھ رہی ہے اور کہانی کل بھی ہمیں سنائے گی۔  پر  پر جو کہانی میں آپ کو سناوں گا یا جو آپ پڑ ھیں گے اس پر آپ کو حیرت ضرور ہوگی  اس پر آپ کو یقین نہیں  ہوگابلکہ آپ پریشان بھی ہوسکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے مجھ پر غصہ بھی ہوں۔۔۔۔پر۔۔۔۔ پر آپ کو یقین کرنا ہوگا، جی ہاں! یقین کرنا ہی ہوگا، بالکل اسی طرح جس طرح آپ کرتے آئے ہیں۔۔۔ہر بات پر۔۔۔۔ہر بات پر۔۔۔۔ بنا دیکھے، بنا جانے، بنا سمجھے۔۔۔۔بنا پرکھے ۔۔۔۔۔ہاں بالکل ویسے

تازہ ترین