تازہ ترین

صباء

ہوائی جہاز کے شور سے شانت آکاش کا سکوت کچھ لمحات کے لئے ٹوٹ گیا۔ میرے سوچ کے بھنور میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ ’’صباء ویسے بھی چھوٹے چیزوں کو حقیر سمجھتی تھی۔ اتنی اُونچائی سے میں اس کو کیا دکھائی دوں گا۔ ایک کیڑا۔۔۔۔ کیڑے کی بساط ہی کیا ہے؟ کیڑے کی اوقات نہیں ہوا کرتی! کیڑے کی کوئی اپنی شناخت نہیں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو پائوں تلے روندتے ہیں! کہاں ہوائی جہاز میں اُڑنے والی صباء! اور کہاں میں لفظوں کا سوداگر ایک ضعیف کہانی کار؟ یوں تو اُس نے مجھے اپنے بنانے کی قسم کھائی تھی۔۔۔ میں اس کو خوامخواہ دِل دے بیٹھا۔ اپنے برہنہ جسم پر چاندنی اوڑھنے والی صباء کہاں اور کہاں میں۔ ایک معمولی سا کیڑا! صباء ہمیشہ کہا کرتی تھی ’’میرا حُسن میرا غرور ہے۔‘‘ جب اُس کے لئے میرے پاس الفاظ کم پڑتے تھے تو بھی اُس سے کہتا تھا۔  ’’میری کہانی میرا غرور ہے

ڈینجر زون !

’’ اے زمین والو۔۔۔۔۔۔؟‘‘ بل کینڈی اپنے دفتر میں کام میں مصروف تھا کہ دفعتاً اس کے پیغام رسانی کے آلے پر کسی نا معلوم مقام سے پیغام موصول ہوا اور حیرت انگیز طور یہ الفاظ اس کی سماعت سے ٹکرائے۔ ’’ہیلو ۔۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔ میں زمین سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ۔ اوور‘‘۔  اس نے آواز کا جواب دیتے ہوئے واپس تحریری پیغام بھی بھیج دیا اور جواب ملنے کا انتظار کرنے لگا ،لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وہ خلاء میں سگنل پہ سگنل بھیجتا رہا جس دوران اس نے اپنے تحقیقاتی ادارے کے اوپر سے چند اُڑن طشتر یوں کو مسلسل پرواز کرتے ہوئے دیکھا ۔ نامعلوم مقام سے ملے اس مختصر پیغام اور اُڑن طشتریوں کے مسلسل پرواز سے تحقیقاتی ادارے میں ہلچل مچ گئی اور سارا عملہ متحرک ہوکر اڑن طشتریوں کے حرکات وسکنات کاباریک بینی سے مشاہدہ کرنے لگا۔ مشہور

افسانچے

یاد الٰہی  تقریباً دس سال بعد ماجد کے بچپن کا دوست اچانک اس سے ملنے گھر آیا۔ ماجد بہت خوش ہوا۔بیوی سے جلدی جلدی چائے ناشتے کے لئے کہا۔ چائے ناشتے کے بعد دونوں دوست ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔دوست نے باتوں باتوں میں ماجد سے پوچھا۔ "ماجد۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی زندگی میں کامیاب اور بہت خوش ہو۔ اس کی کوئی خاص وجہ۔؟" "دوست اس خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تم ایک عرصے کے بعد ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میں سکون کے ساتھ اپنے گھر میں ماں باپ کے ساتھ رہ رہا ہوں۔" "واہ! یہ سن کر بہت خوشی ہوئی." "اب تم کچھ اپنی سناؤ؟"ماجد نے دوست سے کہا۔ "ارے یار کیا بتاؤں............! اللہ  نے مجھے، ان دس برسوں میں بہت نوازا ہے۔ کار ،بنگلہ، بینک بیلنس سب کچھ ہےمیرےپاس لیکن۔" دوست کے لہجے سے افسردگی

محبت

وہ ایک نہایت ہی غریب باپ کی بیٹی تھی ۔ شکل و صورت سے حسین و جمیل دکھتی تھی ۔ اسکے مفلس باپ کو چار اور بچے پالنے پڑتے تھے ۔ بڑی مشکل سے ہی گھر کا گزارہ ہو رہا تھا ۔ حسین و جمیل ہونے کے ناطے بہت سے نوجوان اسکو اپنی طرف مائل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے ۔ جب بھی وہ اسکول یا کسی اور کام کےلئے گھر سے باہر نکلتی تھی تو نوجوانوں کے درمیان آپس میں مقابلہ لگ جاتا تھا کہ کس کے ساتھ اسکی بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔ کئی مہینے اسی طرح گزر گئے ۔ آخر کار ایک پنتالیس سالہ نوجوان، جسکی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی، اسکو اپنی معشوقہ بنانے میں کامیاب ہوا۔۔۔۔۔ پنتالیس سالہ نوجوان کا باپ ایک بڑا ٹھیکیدار تھا۔ کئی سالوں سے ٹھیکیداری کے کام میں اس نے کافی رقم کمائی تھی ۔ گاؤں اور پورے علاقے میں وہ غنی خواجہ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ جب بھی کسی شخص کو بڑے امیر آدمی کی مثال دینی ہوتی تھی تو غنی خواجہ کا نام

جہاں دھوپ وہاں چھاؤں

وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی زندگی میں انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا،ان سے ناراض ہونے والا اور انہیں پیار کرنے والا کوئی موجود ہو۔ہمارے محلے میں بھی ایک گھر ایسا ہی تھا۔ عبدالحمید اگرچہ زیادہ مالدار نہ تھا لیکن پھر بھی ان کا گھرانا ہنسی خوشی سے رہتا ،پانچ بچوں سے ان کے گھر کا آنگن چہک اُٹھتا تھا۔عبد الحمید اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی سرفراز کرانا چاہتا تھا۔’’ابو ہمیں روز پڑھنے کو کہتے ہو کبھی ہمیں دو گھڑی آزادی سے بھی کھیلنے نہیں دیتے‘‘۔میرے جگر کے ٹکڑے آنے والے کل کے لیے ہی تو میں یہ کر رہا ہوں ۔اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے،وقت گزرنے پر میری باتیں یاد کر کر کے اپنی آنکھوں کو نم کیا کرو گے۔عبد الحمید پہلے سے ہی ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔اُس سے بار بار دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی محسوس ہوا کرتیںلیکن وہ بال بچوں کو محسوس ہونے نہیں دی

سلیب

"اکبربھائی مجھے کچھ مزدوروں کی ضرورت تھی۔ کیا آپ کچھ مزدور لا سکتے ہو، کافی دن ہوئی کوئی مانتا نہیں" "جی میں کوشش کروں گا آج کل بہت زیادہ کام ہے اس لئے مزدور نہیں ملتے ہیں اگر کچھ انتظام ہوا تو میں بعد جمعہ لے کر آتا ہوں کیوں کہ جمعہ کے دن کوئی کام نہیں کرتا ہے" "ٹھیک ہے اکبربھائی کچھ کیجئے میرے مکان کا سیلب رہ گیا۔ آگے موسم بھی خراب ہوگا اور بارشیں بھی ہونے والی ہیں" دو روز بعد اکبر مزدروں کو لے کر حاضر ہوا۔ "جناب مزدور بڑی مشکل سے ملے۔ کافی منت سماجت کرنا پڑا۔ پانچ سو روپے دینے پڑے اور  ان کو میں نے وعدہ کیا ہے کہ سیلب کی تعمیر کے دوران چائے اور دن کا کھانا بھی دے دینگے۔ یہ ان کا ہیڑ ہے ان کو چائے پانی دیجئے اورمجھے بھی چائے پانی دیجئے" "ٹھیک ہے اکبر بھائی آئندہ تو پہلے چائے پانی کا حساب کرنا پڑ گا، پھر اگر کچ