افسانچے

خودکفیل     سورج کول تارکی سڑک پر آگ کے تھپیڑے برسا رہا تھا اور چکنے کول تار سے دھویں کے بھبکے  اٹھ رہے تھے ۔۔۔ اُس کی دھنسی ہوئی آنکھیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔  کالے  اور کھردرے ہاتھ بڑی تیزی سے گندگی کے ڈھیر کو کھرچ رہے تھے ۔۔۔ سیاہ جلد پر پسینے کے قطرے سورج کی تمازت سے چمک رہے تھے ۔۔۔۔۔    دور شہر کے مشہورا سٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریبات کی ابتداء ہوچکی تھی اور لاوڈسپیکر پر ایک نامور سیاسی رہنما  کے الفاظ عوام کے کانوں میں رس گھول رہے تھے۔۔۔   ـ’’  بڑی کٹھنائیوں کے بعدہم ایٹم بم بنانے میں سپھل ہوگئے ہیں‘‘     اُس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں اچانک چمک پیدا ہوئی۔۔ ۔ لوہے،  تانبے اور پیتل کے کئی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔۔۔ اُس نے پسینہ پونچھا اور چمکیلی سڑک کو

قدریں

چھوٹی بہو کے قدم دہلیز کے اندر پڑتے ہی روایت علیؔ اور شفقت بیگم کے بُشرے گلاب کی طرح کھل اُٹھے۔ دونوں خوشیوں سے جُھوم رہے تھے  کیونکہ گھر میں ایک تعلیم یافتہ بہو آئی تھی۔ روایت علی اپنی ثقافت ‘ رسم ورواج اور رہن سہن کے طور اطوارکو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آنے والی نسلیں اپنے کلچر کے اثاثے کومحفوظ رکھیں۔روایت علی کے گھر میں وہ ہر ایک چیز موجود تھی جو صدیوں سے ان کے کلچر سے جڑی ہوئی تھی۔ بڑی بہوبہت فرمانبردار تھی سسر کے ایک ایک حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس گھر میں ہشاش بشاش زندگی گزار رہی تھی۔ غالباًوہ اس طرز زندگی کو خوب انجوائے کر رہی تھی اور صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتی۔کھانا پکاتی ‘پوریاں بناتی ‘ صفائی ستھرائی کرتی۔وہ ہر کام اکیلی کرتی۔چھوٹی بہوکے آنے پر وہ سوچ رہی تھی کہ اب وہ کام میںاس کا ہاتھ بٹائے گی اورزندگی خوشی خوشی گزرے گی۔چھوٹی ب

آئینہ ٹوٹ گیا

ہماری خوشیوںکو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔آئے دن نہ جانے یہاں کے حُسن کو کون سا آسیب کھائے جا رہا ہے۔ایک آدمی دیو ہیکل سا دوسرے سے مخاطب ہوکر کہہ رہا تھا۔ارے بھائی ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں اور آگے چل رہے ہیں، اب اس سے بڑھ کر زندگی گزارنے کے لیے اور کیا ہونا چاہیے۔دراصل کل گلی میں جس دس سالہ بچی کی لاش برہنگی کی حالت میں برآمد ہوئی اُس کے ساتھ پیش آئے واقعہ نے میرے ذہن کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ پہلا آدمی پھر سے کہنے لگا۔تب سے میں بے حد پریشان ہوں۔ان دونوں اشخاص کی گفتگو سے کچھ لمحہ کے لیے قرۃ اور آئینہ بھی اس مسئلے پر غور وخوض کرنے لگے لیکن کچھ ہی مدت کے بعد یہ دونوں اپنی ہی دنیا میں پھر سے مست ہوگئیں۔ارے دیکھو کیسی لڑکیاں ہیں؟ ۔اپنا اپنا ضمیر۔۔ خیر چھوڑو۔قہقہ لگا کر آئینہ اور قرۃ وہاں سے رفو چکر ہوگئیں۔قرۃ اور آئینہ بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ساتھ اسکول جانا، ساتھ کھانا پینا ایک ہی رنگ کے

دیوانی

اُس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔کہاں رہتی تھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد وہ بد حواس ہو چکی تھی۔لوگ اس کو دیوانی پاگل فقیر نی یا درویش سمجھتے۔گاؤں گاؤں پھرنا اس کا معمول بن چکا تھا۔جہاں جو کچھ ملتا کھا جاتی نہیں ملا تو قناعت۔یوں ہی شب و روز گذر جاتے البتہ پرانے کپڑے جمع کرنا اور پہننا اُس کا محبوب مشغلہ تھا۔اوپر سے نیچے تک کپڑوں میں ڈھکی چھپی رہتی۔جو کپڑا چیتھڑوں میں تبدیل ہوتا تو کسی سے مانگ کر لاتی اور اپنے آپ کو ڈھکا کرتی ۔۔۔آخر تھک ہار کر ایک گاؤں میں رُک گئی۔ ٹانگیں جواب دے چکی تھیں۔اسلئے آگے نہیں بڑھ سکی۔ایک بوڑھے چنار کے نیچے ڈھیرا ڈالا۔بچوں کیلئے ایک کھیل بن گیا۔شام تک گاؤں کے بچے اس کے اِرد گرد گھیرا ڈالے بیٹھتے۔کبھی کوئی منچلا ایک آدھ پتھر بھی پھینکتا۔کوئی دیوانی، کوئی پاگل اور کوئی درویش بھی کہتا۔وہ پاگلوں کی سی باتیں اور حرکتیں کرتی رہتی تھی۔

افسانچے

آہ ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد جب افسر ڈیوٹی پر پہنچا تو  چپراسی کو اپنے کیبن میں بلا کرکہا۔ "بھائی ذرا ہیڈ اسسٹنٹ کو بلاؤ۔" "صاحب جی۔۔۔ آج وہ آفس نہیں آیا ہے۔۔۔۔۔آج اس کو  ایوارڈ ملنے والا ہے نا۔"چپراسی نے فوراً جواب دیا۔ "ارے بھائی،کون سا ایوارڈ؟" افسر نے حیرانی سے پوچھا۔ "صاحب جی۔۔۔جب آپ چھٹی پر گئے تھے تو اگلے روز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے ایک آڈر آیا تھا،جس میں لکھا تھا کہ اپنے زون میں کسی ایمان دار اور محنتی ملازم کا نام  تجویز کریں۔" "ارے !... اس کے اصلی حق دار تو آپ تھے،...پھر یہ کیسے ہوا؟" افسر کے لہجے میں استعجاب تھا۔ "صاحب جی۔۔۔ حقدار کو حق کب ملا ہے کہ اب ملے گا۔"چپراسی نے دل سوز لہجے میں جواب دیا۔ "نہیں ملے گا؟.... دیکھئے گا میں آپ کے لئے کیا کرتا ہوں۔" اف

آئینہ

راشد اور اس کی بیگم نے صبح صبح ہی شہرکے بڑے بازار کا رخ کیا اور ایک مشہور شاپنگ مال کے سامنے گاڑی پارک کرکے اندر جا کے خریداری کرنے میں مصروف ہو گئے ۔دوپہر کے وقت وہ ڈھیر سارے مہنگے کپڑوں ،جوتوں ،چپلوں ،پرفیوم اور گھر کی سجاوٹ کے قسم بہ قسم سامان کی خریداری کرنے کے بعد مال سے واپس نکلے اور سامان کو گاڑی میں رکھنے لگے ،لیکن سامان اتنا زیادہ تھا کہ گاڑی میںسمیٹ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ ’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نام پر کچھ دے د و‘‘ ۔ ایک عمر رسیدہ خاتون نے راشد،جو سامان گاڑی میں رکھنے میں مصروف تھا ،کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا،لیکن اس نے خاتون کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔چند ساعتوں بعد خاتون نے پھر اپنا سوال دہرایا تو وہ غصے میں آکر جنگلی بلّے کی طرح غرایا ۔ ’’نان سنس ۔۔۔۔۔۔ تمہیں دِکھ نہیں رہا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں ،مفت کی روٹیاں توڑنے کی عادت

نیا ریلوے اسٹیشن

اسلم! اسلم! ۔۔۔۔۔گھر کے کام کاج میں مصروف 'سارہ اپنے بیٹے اسلم کو آواز لگا رہی تھی۔ اسلم! اسلم! ۔۔۔۔۔جب اسلم نے جواب نہ دیا تو سارہ اسلم کے کمرے کی اور بڑھنے لگی۔ ابھی وہ جانے ہی والی تھی کہ کچن کی کھڑکی سے اسے سڑک پر لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ اسی مجمعے میں اسلم بھی تھا۔ مجمع دیکھ کر سارا سوچنے لگی کی آخر کیا ماجرا ہے؟ گاؤں کے تمام لوگ کیوں جمع ہو گئے ہیں؟ وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ اسلم نے دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوتے ہی سارہ نے اس سے باہر جمع بھیڑ کا سبب پوچھا۔ جس کے جواب میں اسلم نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ماں کو بولا، "امّی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں؟ یہ ہمارے گاؤں کے لئے خوش خبری ہے کہ ہمارے گاؤں میں نئے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا افتتاح ہونے والا ہے۔ اب ہمارے گاؤں سے بھی ریل چلے گی جس سے لوگوں کو کافی سہولت میّسر ہو گی۔ نوجوان بھی اپنے کام کاج و روزگار کے لئے بآسا

اَدھوری کہانی

ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی ہیںاکرم اور سلیمہ چھت پر چائے کی چُسکیاں لے رہے ہیں ۔شام کے اس خوبصورت نظارے میں دونوں میاںبیوی اپنی شادی کے بیتے ہوئے دس سالوں کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔ شادی کے ابتدائی سال انہوں نے کیسے  پریشانی میں گذارے ،علاقے کے تمام لوگ شائد اس سے بخوبی واقف ہیں ۔ اولاد جیسی نعمت سے محروم رہنا ایک شادی شدہ جوڑے کے لئے قیامت سے کم نہیں ۔ لمبی سانس لیتے ہوئے سلیمہ خیالوں میں گُم اپنے شوہر سے مخاطب ہوتے ہوئے: اکرم جب سے اوپر والے نے ہمیں اولاد کی نعمت سے نوازاہے تب سے ہماری زندگی بالکل بدل گئی ہے۔۔۔ خیالوں کی دنیا سے واپس آتے ہوئے مطمئن ہوکر اکرم: ہاںہاں سلیمہ تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو۔ میری تو زندگی کی امید ہی تب سے جگی ہے جب ساحل کا جنم ہوا۔ ورنہ میری دنیا۔۔۔۔میری دنیا تو۔۔۔ کہتے ہوئے اکرم نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔۔۔  یہ سب سنتے ہوئے سلیمہ کی

کُھلے دروازے کا کرب

 ’’ سنومیری بات گرہ باندھ کر رکھ لو۔  وہ آئیں گی اور ضرور آئیں گی ۔ اس سال نہیں تو اگلے سال بڑھیا ضرور مرجائے گی ۔ وہ مرنے سے پہلے بیٹیوں کو بلائے گی۔  لیکن تم لوگ مستعدی کے ساتھ کھڑی رہنا۔ انہیں ایک قدم بھی آگے نہیں آنے دینا ۔  چاہے ان کا گریبان پکڑ کر یا بالوں سے کھینچ کر ان کو گھسیٹ کر باہر لے جاناپڑے ۔  وہ مری ہوئی ماں کا منہ نہ دیکھ پائیں،  نہ اسے چھو پائیںاورتم لوگ وہی کرو گی جس کا میں اشارہ کروں گی ، تم لوگوں کو میں نے کبھی  بہوئیں نہیں سمجھا ہے ۔  بیٹیوں کی طرح رکھا ہے تم دونوں کو۔  اس لیے وہی کرناجو میں کہوں گی۔‘‘ بھائی صاحب خود ہلکے پیٹ کا آدمی تھا۔ اس نے خود ہی سارے رشتہ داروں میں بات پھیلائی تھی ،خود ہی اپنی بیوی اور بہو بیٹوں کو اپنی بہنوں کے خلاف اکسایا تھا۔ گھر میں ایک طرح سے  محاذ کھول رک

چند خواہشیں

زندگی اور موت کا رشتہ بھی کتنا عجیب رشتہ ہے۔انسان کو ساری زندگی صرف اس لیے جینا پڑتا ہے تاکہ ایک دن موت کا مزہ چکھ سکے اور پھر بالا آخر جب انسان کو موت آجاتی ہے تو اس کا سب کچھ اسی کے ساتھ چلا جاتاہے ،اس کے ارادے ،اس کی خواہشیں سب کچھ اس کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے۔دراصل زندگی چھوٹی نہیں ہوتی مگر بے مروت ضرور ہوتی ہے ۔ یہ انسان کو اپنی الجھنوں میںاس طرح اُلجھاتی ہے کہ انسان کو ان الجھنوں سے باہر نکلنے میں عرصے لگ جاتے ہیں اور پھر یہی انسان جب ان الجھنوں سے باہر نکل کر اصل زندگی جینا شروع کرتا ہے تو پھر موت آکر اپنا ڈیرہ ڈال دیتی ہے اور اس طرح اس انسان کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی اختتام کو پہنچتی ہے۔ میں اپنی زندگی کے سفر میں ایسے سینکڑوں لوگوں سے ملاہوں جنہوں نے زندگی کے سارے خواب تو پورے کر لیے تھے لیکن جب بھی ان خوشیوں میںجینے کی باری آئی توموت نے آکر ان کی کلائی پکڑ لی اور وہ

شہنشاہِ زمستان

گھاس کی چھت سے لٹکی برف کی نوکیلی تلواروں کو دیکھتے ہوئے چودھری صاحب: ’’ارے میاں رحیم؛ یہ کیا حال بنا کے رکھا ہے اپنا، کہیںگر گئے تو ہڈی پسلی ایک ہوجائے گی۔ ذرا تو خیال کرو اپنے معصوم بچوں کا، ہاجرہ کو تو تم بھول ہی گئے ہو!!!‘‘ شاہانہ انداز میں چودھری صاحب گلے سے لٹکے  سفیدمفلر کو سنبھالتے ہوئے اپنی کوٹھی کی اور چلنے کی تیاری میں لگ گئے۔۔۔ برف سے لت پت رحیم تھرتھراتے ہوئے اپنی کمر سے بندھی رسی کو کستا ہوا: ’’ارے چودھری صاحب اُن  ہی کی فکر نے تو مجھے اس زمہریر میںچھت پر چڑھنے کو مجبور کیا ہے۔ ورنہ۔۔۔ورنہ مجھ میںاب اتنی ہمت کہاں!!!‘‘ کہتے ہوئے رحیم اپنے مکان کی چھت جو کہ اب آدھی ٹوٹ بھی چکی تھی کو صاف کرنے کی کوشش میں دوبارہ لگ گیا ۔ ۔۔  برف باری تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ چھت پہ بیٹھے بیٹھے  ا

آنکھ مچولی

" تمام ایسے قیدیوں کو پیش کیا جائے جن پہ لوگوں پر احسان کرنے کا بھوت سوار ہے۔۔!"، جج صاحب نے بھری عدالت میں حکم سنایا۔ چند لمحے بعد تین قیدی پیش کئے گئے۔ پہلی کا نام تھا بجلی ،دوسرے کا نام تھا فور جی اور تیسرے کا ترقی۔ جج نے حکم دیا کہ معلوم کیا جائے کہ ان تینوں میں ابھی سب سے زیادہ لوگوں کو کس کی ضرورت ہے۔ جانچ پڑتال کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بجلی کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ بجلی کو جج سامنے پیش کیا گیا۔ "اس کے خلاف کونسا مقدمہ درج ہے ۔۔۔؟" "جناب سرما کے بغیر یہ تمام موسموں میں کشمیر کے گھروں کو خوشی خوشی روشن کرنے کے لیے تیار رہتی ہے مگر۔۔۔۔"  "مگر کیا۔۔۔۔؟" " جناب موسم سرما میں جب لوگوں کو اسکی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو آنکھ مچولی کھیلتی ہے ۔۔۔لوگوں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو صرف اس کی وجہ سے۔۔!&qu

ہوٹل

وکیل دسویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد والدین کی مرضی کے خلاف شہر چلا گیا ۔جہاں اس کے ماموں نے اس کو ایک ہوٹل پر کام دلایا ۔ہوٹل کا مالک خود غرض اور تنگ نظر تھا ۔وہ وکیل کو صبح چار بجے جگاتا اور پانی جمع کرنے کا حکم  دے کر سو جاتا ۔وکیل آنکھیں مروڑ مروڑ کر پانی کی بڑی بڑی ٹنکیاں بھر کے رکھتا اور صبح کی چائے تیار کرکے اپنے مالک کو جگاتا تاکہ گاہک آنے سے پہلے وہ گدی پر بیٹھ جاتا ۔باورچی ساڑھے سات بجے کھانا پکانے کے لئے آتا۔وکیل سارے برتن دھو کر رکھتا ۔میزیں صاف کرتا اور سوچتا رہتا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔اس کو گھر میں سب کچھ ملتا تھا ۔کھانے کو بھر پور چاول ،پینے کو چائے اور روٹی، وہ بھی اس کی مرضی  اور مقدار کے مطابق۔ہوٹل میں اس کو زیادہ سے زیادہ ایک پیالی چائے ملتی ہے وہ بھی تین چوتھائی حصے تک۔ ۔ کھانے کو آدھی پلیٹ چاول اور تھوڑی سبزی ۔اگر کبھی چاول تھوڑے زیادہ پروست

کوااور کبوتر

احساس کا خاموش سمندر پھراضطراب کی سونامی کی زد پر آگیا۔سونامی کی شور انگیزلہروں سے سوچ کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔لمحہ لمحہ کرب ریز کیفیت میں دوڑنے لگا۔پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ سے داخلی جہاںکا سکون درہم برہم ہورہاتھا۔اضطراب کا یہ سلسلہ کیوں اسی کے دماغ کو نچوڑ رہاتھا‘وہ بھی کبھی کبھی سوچتا رہتا لیکن کچھ سوچ نہیں پاتا۔ اس سب کے باوجود اُسے یہ کرب ریز کیفیت پسند تھی اگرچہ اس کرب کی وجہ سے اسے کافی کچھ سہنا بھی پڑتا ‘بیوی کے طعنے ۔۔۔رشتہ داروں کی بے رخی ۔۔۔دوستوں کے طنز۔۔۔لیکن پھر بھی وہ اپنی سوچ پر مطمئن تھا۔اس کی روح کوزیادہ تر گلابی رنگ عمارت کے رنگین شرارے ہی مضطرب کر دیتے تھے۔گلابی رنگ کی بلندعمارت کے رنگین ماحول میں لوگوں کے رنگا رنگ خواب گشت کرتے رہتے کیونکہ عمارت کا یہ گلابی رنگ لوگوں کے خوابوں کی وہ  سنہری علامت تھی جسے وہ پورے اعتماد کے ساتھ ماہرین فن کو سونپ دیتے تھے لیکن

طلاق

زبیدہ جس کی شادی پندرہ برس پہلے بشیر سے طےہوئی تھی آج بڑی اداس بیٹھی ہے۔ ایک ایسی اداسی جس کی کوئی سرحد ہی نہیں۔ ہر لمحہ ایک اذیت اور ہر رات ایک شب غم۔   آج ہائی کورٹ کا فیصلہ آنا تھا ۔زبیدہ اور بشیر کے بیٹے انعام سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس کا دامن پکڑنا پسند کریگا۔ زبیدہ اور بشیر میں طلاق دس سال پہلے ہوئی تھی، جب انعام محض چار سال کا تھا ۔پچھلے دس سال سے وہ انعام کے ہمراہ ایک چھوٹے سے پرانے بوسیدہ مکان میں قیام پذیر تھی۔ طلاق کے بعد  زبیدہ کی زندگی بالکل الجھ کے رہ گئ۔ کچھ سال بعد ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ بھائیوں نے بھی وفا نہ کی اور زبیدہ کو ایک دو کمروں والا پرانا مکان رہنے کے لئے دیا گیا۔چونکہ لڑکیوں کو زمین جائیداد میں حصہ دینے کا کوئی رواج ہی سماج میں نہیں تھا اس لئے اس سے بھی محروم رہ گئی۔ مگر بہادر زبیدہ نے ہمت نہ ہاری۔ وہ اگرچہ محض دسویں جماعت پاس

ہائے آگ؟

      دن بھر کی دفتری مصروفیات سے فراغت پانے کے ساتھ ہی گھر کی جانب نکل پڑا تو خلافِ معمول مغرب کی اذان راستے میں ہی سنی۔ خزاں کی سرد شام اور ہلکی بونداباندی سے بدن ٹھٹھر رہا تھا اس پر گاڑی کے انتظار میں ہر گزرتا لمحہ عجیب بے قراری سی پیدا کر رہا تھا۔اس جھنجھلاہٹ میں ہر گزرتی گاڑی کا تعاقب کرنا سکون ربا ثابت ہو رہا تھا۔ یوں کا فی وقت گزرنے کے  بعدجب احساس ناامیدی جاگنے لگا کہ طالع کھل گیا اور میں سواریوں سے ٹھنسی ایک بس میں سوار ہوا۔اپنی عادت سے مجبور میںنے بھیڑ کو چیرتے ہوئے وسط میں جگہ بنا لی۔جگہ توبنا لی مگر تکلف قدرے ناگزیر گزرا کہ گاڑی آگے بڑھتی گئی اور میں اپنی ہی سوچوں میں گم،اپنی قسمت کو کوسنے میں مصروف ،’’یہ کیا نہیں ،وہ ہوا نہیں ، یہ ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ میں خود کو کوسنے میں محوتھا کہ اچانک بھری گاڑی میں سامنے کی نشست پر براجمان ایک جوا

درد کا مارا

میرا نام آفتاب ہے۔ میں بچپن سے اکثر دنیا کے غموں اور تکلیفوں کی اندھیری راہوں پر بھٹکتا رہا۔ دادی کو شاید اس بات کا علم تھا کہ میں وہ نصیب اپنے لئے لکھ کر نہیں آیا ہوں، جس نصیب کی بدولت انسان کی جانب خوشیاں خود بہ خود چلی آتیں ہیں۔ گھر میں ہلچل کا ماحول بڑھتے ہی دادی نے مجھے بتایا کہ تمہاری ماں دلہن بن کر واپس اس گھر میں آنے والی ہے ۔ ماں کا چہرہ ذہن میں آتے ہی میں خوش ہوا لیکن ابو نے دلہن ماں کے پاس جانے سے پہلے ہی منع کیا ۔  جس دن دلہن ماں کو گھر آنا تھا ابو نے حد ہی کردی، مجھے پڑوسیوں کے گھر لے کر انکے حوالے کر کے رکھا۔ لیکن دادی نے مجھے واپس گھر لاکر ابو کو ڈانٹ کر کہا کہ کیوں اس درد کے مارے کو بےگانہ بنا رہے ہو؟  اس کا ہمارے سوا اس دنیا میں ہے ہی کون۔ ماں کے صدمے سے اس بیچارے نے پہلے ہی ہنسنا، کھیلنا چھوڑ دیا اب تو زیادہ بھوک بڑھنے کے ساتھ ساتھ ااسکا بستر ب

باپ

پچھلے ڈیڑھ برس سے وہ  اس شہر میں کلکٹر کے عہدے پر فائز تھا ،اس شہر کے لوگ بھی اُس کے کام سے پوری طرح  خوش  تھے اور حُکامِ بالا بھی اُس کی کارکردگی سے مطمئن تھے ۔ویسے تو یہ شہر افرا تفری اور تشدد کے لئے بدنام تھا  اور کئی کلکٹر یہاں سے ناکام ہوکر نکلے تھے لیکن اُس  نے یہ ذمہ داری چیلنج سمجھ کر قبول کی۔ اپنی سوجھ بوجھ اور عقلمندی سے اُس نے نامساعد حالات میں بھی کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آنے دیا بلکہ یہاں آتے ہی اُس نے غریب غُرباء اور مفلوک الحال لوگوں  کے لئے ریڈ کراس فنڈ کے مُنہ کھول دئیے تھے اور  شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے کمیٹیاں بناکر لوگوں کی منفی سوچ کو مثبت فکرمیں بدل د یا تھا ۔۔۔،، کیا سڑکیں ۔۔۔کیا سرکاری عمارتیں ۔۔۔،کیا جدید سہولیات  سے لیس اسپتال ۔۔۔کیا پارکیں۔۔۔کیا اسمارٹ اسکول غرضیکہ، ضروریاتِ زندگی کے تمام تقاضے اُس نے پورے کر

تَفاوت

جس طرح کی خوشی ،مسرت ،شادمانی یا جس طرح کا لگاؤ ہم پہلے دن کسی پرائے شہریا پرائے ملک میں جاتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کاش وہ خوشی تا دیر رہتی ،لیکن ایسا کہاں ممکن ہے ۔ساتھ ہی جس طرح ہم سانپ یا بچھو کے ساتھ اچھا سلوک کر کے اُس کی خصلت تبدیل نہیں کر سکتے عین اسی طرح ہم اپنے مسکن یا اپنے اپنوں کا درجہ کسی دوسرے کے گھر یا کسی پرائے کو عطا نہیں کر سکتے ۔یہی حقیقت ہے اور یہی صداقت ہے ۔ایسا ہی کچھ خالد کے ساتھ بھی ہوا ۔خالددیو ہیکل تھا۔اس  کے کالے بال،نیلی آنکھیں ،چہرے کی تازگی سے ہر کوئی اس کی تعریف کرنے کے لیے مجبور ہوتا۔خالد کا اس سے پہلے اس طرح کی تبدیلی سے کبھی بھی سروکار نہ  پڑا تھا۔دلی جاتے وقت اُسے اس بات کا بالکل بھی علم نہ تھا کہ اس کی زندگی اس درجہ تبدیل ہونے والی ہے ۔ویسے بھی وہ لمحے بڑے قیمتی ہوتے ہیں جو ہمیں دکھوں سے نکال باہر کر کے چند لمحوں کے لیے فرحت کا سامان مہیا کر

بابا سائیں

سارے دروازوں سے نا امید ہو کر شاکر نے ساری رات پریشانی کی حالت میں کانٹوں پر گزاری کیوں کہ وقت تیزی سے نکل رہا تھا اورکوئی اس کی مدد کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہو رہا تھا ،اپنے پرائے سب مُنہ موڑ رہے تھے ۔ اپنی پریشانی لے کر وہ صبح صبح ہی بڑی امید وںکے ساتھ با با سائیں کے گھر پہنچ گیاتو دیکھا کہ با با گھر کے اندر سے پانی کی بالٹی لے کر نکل رہا تھا ،شاکر کے نزدیک پہنچتے ہی رک گیا تو شاکر نے بڑے ادب سے سلام کیا ،وعلیکم السلام کہہ کر اس نے شاکر کو آنگن میں ہی بچھی چٹائی پر بیٹھنے کو کہا اور خود بالٹی اٹھا کرپاس ہی رکھے ایک مٹی کے بڑے برتن میں پانی ڈال دیا ۔بالٹی لے کر پھر اندر گیا اور کچھ لمحوں بعد پھر سے پانی کی بالٹی لے کر آگیااور اس میں سے آدھا پانی اسی برتن میں ڈال دیا اور جب وہ بھر گیا توآدھا پانی کچھ دوری پر رکھے مٹی کے ہی ایک چھوٹے برتن میں ڈال دیا ۔شاکر، جو یہ منظر بڑی دلچسپی سے د

تازہ ترین