باپ

پچھلے ڈیڑھ برس سے وہ  اس شہر میں کلکٹر کے عہدے پر فائز تھا ،اس شہر کے لوگ بھی اُس کے کام سے پوری طرح  خوش  تھے اور حُکامِ بالا بھی اُس کی کارکردگی سے مطمئن تھے ۔ویسے تو یہ شہر افرا تفری اور تشدد کے لئے بدنام تھا  اور کئی کلکٹر یہاں سے ناکام ہوکر نکلے تھے لیکن اُس  نے یہ ذمہ داری چیلنج سمجھ کر قبول کی۔ اپنی سوجھ بوجھ اور عقلمندی سے اُس نے نامساعد حالات میں بھی کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آنے دیا بلکہ یہاں آتے ہی اُس نے غریب غُرباء اور مفلوک الحال لوگوں  کے لئے ریڈ کراس فنڈ کے مُنہ کھول دئیے تھے اور  شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے کمیٹیاں بناکر لوگوں کی منفی سوچ کو مثبت فکرمیں بدل د یا تھا ۔۔۔،، کیا سڑکیں ۔۔۔کیا سرکاری عمارتیں ۔۔۔،کیا جدید سہولیات  سے لیس اسپتال ۔۔۔کیا پارکیں۔۔۔کیا اسمارٹ اسکول غرضیکہ، ضروریاتِ زندگی کے تمام تقاضے اُس نے پورے کر

تَفاوت

جس طرح کی خوشی ،مسرت ،شادمانی یا جس طرح کا لگاؤ ہم پہلے دن کسی پرائے شہریا پرائے ملک میں جاتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کاش وہ خوشی تا دیر رہتی ،لیکن ایسا کہاں ممکن ہے ۔ساتھ ہی جس طرح ہم سانپ یا بچھو کے ساتھ اچھا سلوک کر کے اُس کی خصلت تبدیل نہیں کر سکتے عین اسی طرح ہم اپنے مسکن یا اپنے اپنوں کا درجہ کسی دوسرے کے گھر یا کسی پرائے کو عطا نہیں کر سکتے ۔یہی حقیقت ہے اور یہی صداقت ہے ۔ایسا ہی کچھ خالد کے ساتھ بھی ہوا ۔خالددیو ہیکل تھا۔اس  کے کالے بال،نیلی آنکھیں ،چہرے کی تازگی سے ہر کوئی اس کی تعریف کرنے کے لیے مجبور ہوتا۔خالد کا اس سے پہلے اس طرح کی تبدیلی سے کبھی بھی سروکار نہ  پڑا تھا۔دلی جاتے وقت اُسے اس بات کا بالکل بھی علم نہ تھا کہ اس کی زندگی اس درجہ تبدیل ہونے والی ہے ۔ویسے بھی وہ لمحے بڑے قیمتی ہوتے ہیں جو ہمیں دکھوں سے نکال باہر کر کے چند لمحوں کے لیے فرحت کا سامان مہیا کر

بابا سائیں

سارے دروازوں سے نا امید ہو کر شاکر نے ساری رات پریشانی کی حالت میں کانٹوں پر گزاری کیوں کہ وقت تیزی سے نکل رہا تھا اورکوئی اس کی مدد کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہو رہا تھا ،اپنے پرائے سب مُنہ موڑ رہے تھے ۔ اپنی پریشانی لے کر وہ صبح صبح ہی بڑی امید وںکے ساتھ با با سائیں کے گھر پہنچ گیاتو دیکھا کہ با با گھر کے اندر سے پانی کی بالٹی لے کر نکل رہا تھا ،شاکر کے نزدیک پہنچتے ہی رک گیا تو شاکر نے بڑے ادب سے سلام کیا ،وعلیکم السلام کہہ کر اس نے شاکر کو آنگن میں ہی بچھی چٹائی پر بیٹھنے کو کہا اور خود بالٹی اٹھا کرپاس ہی رکھے ایک مٹی کے بڑے برتن میں پانی ڈال دیا ۔بالٹی لے کر پھر اندر گیا اور کچھ لمحوں بعد پھر سے پانی کی بالٹی لے کر آگیااور اس میں سے آدھا پانی اسی برتن میں ڈال دیا اور جب وہ بھر گیا توآدھا پانی کچھ دوری پر رکھے مٹی کے ہی ایک چھوٹے برتن میں ڈال دیا ۔شاکر، جو یہ منظر بڑی دلچسپی سے د

افسانچے

مصروفیت  بیٹا جعفر!گیس لیک ہورہی ہے۔ جلدی آؤ سلینڈر کو باہر نکالنے میں میری مدد کرو۔۔جعفر او جعفرتم سنتے نہیں۔ماں نے چلاتے ہوئی پکارا۔ جعفر موبایٔل ہاتھ میں لیکر اتنا مشغول تھاکہ اُس نے کچھ سُنا ہی نہیں۔ماں دوسرے کمرے میں بیٹھے دوسرے بیٹے ارشد کو پکارنے گئی لیکن وہ ٹانگیں پسارے موبایٔل ہاتھ میں لیکر دنیا و مافیہا سے بے خبر اوں آں کرتا رہا۔وہ پھر جعفر کے پاس دوڑی۔,,ماں ایک منٹ ٹھہروبس ختم ہی ہونے والا ہے۔کچھ منٹ لگ جائینگے۔ ارے گیس لیک ہورہی ہے۔سارے گھر میں پھیل رہی ہے۔آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ وہ دوبارہ ارشد کو پکارتی رہی۔ماں ٹھہرو۔ارے یہ مارا ۔کیا نشانہ ہےـ۔ٹھا!ٹھا! ارشدخوشی سے چلایا۔جب ماں نا امید ہوئی۔تو اُس نے گیس سلینڈر کو گھسیٹتے ہوئی باہر نکالنے کی کوشش کی۔ کچھ دیر کے بعددونوں بھائیوں کو گھٹن سی محسوس ہوئی۔وہ دونوں پکارنے لگے ماں یہ بُو کیسی آرہی ہے۔۔۔وہ کچن میں

شادی

ندیم اپنے محلے میں ایک باعزت انسان شمار کیا جاتا تھا ۔ محلے میں جب بھی کسی ہمسایہ کو کوئی خوشی ہوتی تھی تو ندیم مبارکباددینے میں دیر نہیں کرتا تھا ۔ خاص کر جب کسی کا بچہ امتحان میں اچھی کارکردگی دکھاتا تھا تو ندیم کچھ زیادہ ہی خوش ہوجاتا تھا اور بچے اور اسکے والدین دونوں کی مبارکبادی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتا تھا ۔۔۔ ندیم کے پڑوس میں رمضان خواجہ بھی رہتا تھا ۔ ایک سال پہلے رمضان خواجہ کی بیٹی ایم بی بی ایس کے مسابقی امتحان میں کامیاب ہوئی تھی تو ندیم اتنا خوش ہوا جیسے اسکی اپنی بیٹی کامیاب ہوئی ۔ ندیم نے خود اسکا داخلہ میڈیکل کالج میں کرایا اور کتابیں وغیرہ بھی خرید کر دیں۔  رمضان خواجہ کے بیٹے بلال کی شادی ہے ۔ تمام ہمسائے اور رشتے دار خوشیوں میں حصہ لینے کے لئے رمضان کے گھر تشریف لائے ہیں ۔ ندیم کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا ہے لیکن وہ غیر حاضر ہی رہا۔ تمام ہمسایہ ا

رمزِمحبت

 سیاہ شب کی خاموشیوں میں مانوس قدموں کی آہٹ پر ریان کی نظریں اس سراپے پرمنجمد ہوئیں۔ ’’کبھی کبھی جلد بازی اور جذبات کی رو میں کیے گئے فیصلوں کا خمیازہ ہمیں تاحیات بھگتنا پڑتا ہے.!‘‘ریان نے ریم کے کمزور وجود کو دیکھتے ہو ئے سوچا۔وقت کے ساتھ زخم بھر تو جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی یہ ناسور کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ہماری نادانیوں اور غلطیوں کا احساس انھیں مندمل ہونے نہیں دیتا اور یہ ناسور ہمیں موت کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ریم کے چہر ے پر جھلملاتا عکس ، ہجر کی روداد ، لمبی راتوں کے کرب کا غماز تھا۔’’کیوں آئے ہو؟‘‘ ریم کی کربناک آواز خاموشی کا سینہ چاک کرگئی۔ ’’طویل مسافت سے تھگ گیا ہوںلیکن مجھے زیست سے کوئی شکایت نہیں ہے‘‘ ’’مجھے ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ریم کرب سے چلائی۔ ریم اس کی عم

تازہ ترین