ممتاز

’’ ایک پریشانی سے چھٹکارا ملتا نہیں تو دوسری آ کر گھیر لیتی ہے ۔اب میں کیا کروں ؟کیسے اتنی بڑی رقم کا انتظام کروں ؟‘‘ سوچوں میں غلطاں وپیچاں ممتاز اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے کام کے لئے نکل گئی۔چند مہینوں سے اس کا جینا دو بھر ہو گیا تھا اور وہ پائی پائی کی محتاج ہو گئی تھی لیکن آج مالک مکان کی مکان خالی کرنے کی دھمکی اور غیر انسانی روئے کے سبب اس کے تن بدن میں کانٹے چبھنے لگے حالانکہ اس سے پہلے مالک مکان نے کبھی بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا تھا بلکہ وہ انتہائی نرمی اور ہمدردی سے پیش آتا تھا۔ ’’سنیے، اب کیسی حالت ہے ببلو کی؟‘‘ گلی کے نُکڑ پر تاک میں بیٹھے جنید کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ ’’ جی آج قدرے ٹھیک ہیں‘‘۔ ممتازنے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا۔ ’’کسی چیز کی ضرورت ہو تو بندہ ح

کارِ ثواب

اشرف اپنی فیملی کے ساتھ برف کا نظاہرہ کرنے کے لئے پہاڑیوں  کے راستے اس خوبصورت وادی میں پہنچ گیا جس کو دیکھنے کے لئے پوری دنیا سے سیاح آیا کرتے ہیں ۔ اُس کے ساتھ بیوی اور تین  چھوٹے بچے بھی تھے۔اس نے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ وہاں تین چار گھنٹے خوب سیر کی اور جب بچوں کو سردی لگنے لگی تو بیوی نے اس سے کہا۔ "بچے بیمار ہو جائیں گے، اب گھر چلنا چاہیے ۔" اشرف جب اپنے بچوں کو لے کر گاڑی میں سوار ہو گیا تو اچانک موسم نے اپنا رخ بدل لیا اور زوروں کی برف باری شروع ہو گئی ۔وہ بہت پریشان ہو گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس تیز برف باری کی وجہ سے راستہ بند ہوجانے کا خطرہ ہے۔ وہ کار کو تقریبا ایک میل آگے نکال لایا لیکن اس کے بعدکار برف پر سلپ کرنے لگی،جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ رہی تھی ۔ اب تو اشرف اور اس کے اہل و عیال پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔اُس نے کار ک

میلہ

بارش کب کی تھم چکی تھی۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔ شام میرے آنگن میں اپنا خیمہ گاڑھ رہی تھی۔ ایک سنہری کرن نے میری انگلی تھام لی اور ہم رات کے میلے کا وہ حیرتناک منظر رکھنے چلے گئے، جس کے بارے میں میں برسوں سے سنتے آیا تھا۔ میلے میں کئی سٹال سجے ہوئے تھے۔ کچھ سٹال ایسے تھے جہاں سپنے بکتے تھے۔ کچھ سٹال ایسے بھی تھے جن پر صرف اونچی ذات کے لوگ خریداری کرسکتے تھے۔ کچھ سٹالون پر فقط چہرے بکتے تھے۔ میں نے کچھ سٹالوں پر حُسن (Beauty)کی خریداری ہوتے دیکھی۔ ایک سٹال پر تعجب منظر دیکھنے کو ملا۔ یہاں تاریخ کے اوراق بکتے تھے۔ ایک سٹال پر کچھ اجنبی چہرے قلیل معاوضے کے بدلے الفاظ کے خزانے لُوٹ رہے تھے۔ ایک سٹال پر کچھ لوگوں کو مہمل الفاظ کی خریداری میں مگن پایا۔ ایک اور سٹال پر فن اور ادب بک رہا تھا۔ یہاں اس سٹال پر ثقافتی ورثے کے ساتھ جُڑی اشیاء کی سستے داموں میں خریداری ہورہی تھی! اسی اسٹال

ریت کا ٹیلہ

ایک دن ٹھٹھرتی سردی میں میں اپنے چچیرے بھائیوں کے ساتھ گھر میں ایک الاؤ کے پاس بیٹھا تھا ۔ہم‌سب خوشی اور مستی میں زور زور سے باتیں کررہے تھے اور ایک دوسرے کو مکے ماررہے تھے ۔اتنےمیں چاچا جان آگئے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے ۔ہم نے سر تو جھکائے لیکن‌ چوری چوری ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور اشاروں ہی اشاروں میں چاچا جی کا مذاق اڑانے لگے ۔ کافی کوششوں کے باوجود ہم ہنسی کو دبا نہ سکے اور زور سے قہقہ نکل گیا۔چچا جان کا چہرہ لال‌ ہوگیا ۔اس نے طیش میں آکر ہمیں حکماً دادا جی ‌کے کمرے ‌میں جانے کو کہہ دیا ۔ ہم سب تیزی سے ایک دوسرے کو دھکے مارتے مارتے دادا جی کے کمرے میں گھس کر اس کی چادر میں سمٹ گئے ۔پیچھے پیچھے چاچا‌ جان بھی آگئے۔   دادا جی نے بیچ بچاؤ کر کے ہم سب کو پٹائی سے بچا لیا ۔  چاچا جی نے دادا جی سے‌کہا ۔۔۔اباجان

شام ہوتے ہی مسّرور تھکا ہوا دفتر سے گھر لوٹ آیا - کپڑے تبدیل کر کے نماز مغرب کے لئے وضو بنا کر رکھا - اتنے میں آپ کی شریکِ حیات نے گرم نمکین چائے و روٹیاں پیش کر دی ں- دونوں میاں بیوی باتوں باتوں میں لگ گئے کہ اتنے میں ازان سنائی دی - " چلو یہ پیالہ اور پلیٹ اٹھا لو، میں نماز پڑھ کے آتا ہوں ۔۔۔ اور آپ بھی پڑھنا۔۔۔۔ " مسرور کچن سے اٹھتے ہی شریکِ حیات کو بھی نماز ادا کرنے کی تلقین کرتا ہوا نکل گیا - "جی ہاں ٹھیک ہے -" شریک حیات نے بڑی فرمانبرداری سے واپس جواب دیا - مسّرور نے سب سے پہلے اپنے موبائل فون کا انٹرنیٹ ڈاٹا بند کردیا اور اس کے ساتھ ہی ا سے سائیلنٹ موڑ پہ رکھا - نماز مغرب ادا ہو گئی - مسجد سے گھر واپس لوٹ آیا تو موبائل کا ڈاٹا دوبارہ آن کیا - مسرور دیکھتے ہی دیکھتے کئیں واٹساپ گروپس میں شئیر کردہ ایک اہم پیغام دیکھتا ہے - اس خبر

تازہ ترین