صباء

ہوائی جہاز کے شور سے شانت آکاش کا سکوت کچھ لمحات کے لئے ٹوٹ گیا۔ میرے سوچ کے بھنور میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ ’’صباء ویسے بھی چھوٹے چیزوں کو حقیر سمجھتی تھی۔ اتنی اُونچائی سے میں اس کو کیا دکھائی دوں گا۔ ایک کیڑا۔۔۔۔ کیڑے کی بساط ہی کیا ہے؟ کیڑے کی اوقات نہیں ہوا کرتی! کیڑے کی کوئی اپنی شناخت نہیں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو پائوں تلے روندتے ہیں! کہاں ہوائی جہاز میں اُڑنے والی صباء! اور کہاں میں لفظوں کا سوداگر ایک ضعیف کہانی کار؟ یوں تو اُس نے مجھے اپنے بنانے کی قسم کھائی تھی۔۔۔ میں اس کو خوامخواہ دِل دے بیٹھا۔ اپنے برہنہ جسم پر چاندنی اوڑھنے والی صباء کہاں اور کہاں میں۔ ایک معمولی سا کیڑا! صباء ہمیشہ کہا کرتی تھی ’’میرا حُسن میرا غرور ہے۔‘‘ جب اُس کے لئے میرے پاس الفاظ کم پڑتے تھے تو بھی اُس سے کہتا تھا۔  ’’میری کہانی میرا غرور ہے

ڈینجر زون !

’’ اے زمین والو۔۔۔۔۔۔؟‘‘ بل کینڈی اپنے دفتر میں کام میں مصروف تھا کہ دفعتاً اس کے پیغام رسانی کے آلے پر کسی نا معلوم مقام سے پیغام موصول ہوا اور حیرت انگیز طور یہ الفاظ اس کی سماعت سے ٹکرائے۔ ’’ہیلو ۔۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔ میں زمین سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ۔ اوور‘‘۔  اس نے آواز کا جواب دیتے ہوئے واپس تحریری پیغام بھی بھیج دیا اور جواب ملنے کا انتظار کرنے لگا ،لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وہ خلاء میں سگنل پہ سگنل بھیجتا رہا جس دوران اس نے اپنے تحقیقاتی ادارے کے اوپر سے چند اُڑن طشتر یوں کو مسلسل پرواز کرتے ہوئے دیکھا ۔ نامعلوم مقام سے ملے اس مختصر پیغام اور اُڑن طشتریوں کے مسلسل پرواز سے تحقیقاتی ادارے میں ہلچل مچ گئی اور سارا عملہ متحرک ہوکر اڑن طشتریوں کے حرکات وسکنات کاباریک بینی سے مشاہدہ کرنے لگا۔ مشہور

افسانچے

یاد الٰہی  تقریباً دس سال بعد ماجد کے بچپن کا دوست اچانک اس سے ملنے گھر آیا۔ ماجد بہت خوش ہوا۔بیوی سے جلدی جلدی چائے ناشتے کے لئے کہا۔ چائے ناشتے کے بعد دونوں دوست ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔دوست نے باتوں باتوں میں ماجد سے پوچھا۔ "ماجد۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی زندگی میں کامیاب اور بہت خوش ہو۔ اس کی کوئی خاص وجہ۔؟" "دوست اس خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تم ایک عرصے کے بعد ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میں سکون کے ساتھ اپنے گھر میں ماں باپ کے ساتھ رہ رہا ہوں۔" "واہ! یہ سن کر بہت خوشی ہوئی." "اب تم کچھ اپنی سناؤ؟"ماجد نے دوست سے کہا۔ "ارے یار کیا بتاؤں............! اللہ  نے مجھے، ان دس برسوں میں بہت نوازا ہے۔ کار ،بنگلہ، بینک بیلنس سب کچھ ہےمیرےپاس لیکن۔" دوست کے لہجے سے افسردگی

محبت

وہ ایک نہایت ہی غریب باپ کی بیٹی تھی ۔ شکل و صورت سے حسین و جمیل دکھتی تھی ۔ اسکے مفلس باپ کو چار اور بچے پالنے پڑتے تھے ۔ بڑی مشکل سے ہی گھر کا گزارہ ہو رہا تھا ۔ حسین و جمیل ہونے کے ناطے بہت سے نوجوان اسکو اپنی طرف مائل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے ۔ جب بھی وہ اسکول یا کسی اور کام کےلئے گھر سے باہر نکلتی تھی تو نوجوانوں کے درمیان آپس میں مقابلہ لگ جاتا تھا کہ کس کے ساتھ اسکی بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔ کئی مہینے اسی طرح گزر گئے ۔ آخر کار ایک پنتالیس سالہ نوجوان، جسکی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی، اسکو اپنی معشوقہ بنانے میں کامیاب ہوا۔۔۔۔۔ پنتالیس سالہ نوجوان کا باپ ایک بڑا ٹھیکیدار تھا۔ کئی سالوں سے ٹھیکیداری کے کام میں اس نے کافی رقم کمائی تھی ۔ گاؤں اور پورے علاقے میں وہ غنی خواجہ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ جب بھی کسی شخص کو بڑے امیر آدمی کی مثال دینی ہوتی تھی تو غنی خواجہ کا نام

جہاں دھوپ وہاں چھاؤں

وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی زندگی میں انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا،ان سے ناراض ہونے والا اور انہیں پیار کرنے والا کوئی موجود ہو۔ہمارے محلے میں بھی ایک گھر ایسا ہی تھا۔ عبدالحمید اگرچہ زیادہ مالدار نہ تھا لیکن پھر بھی ان کا گھرانا ہنسی خوشی سے رہتا ،پانچ بچوں سے ان کے گھر کا آنگن چہک اُٹھتا تھا۔عبد الحمید اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی سرفراز کرانا چاہتا تھا۔’’ابو ہمیں روز پڑھنے کو کہتے ہو کبھی ہمیں دو گھڑی آزادی سے بھی کھیلنے نہیں دیتے‘‘۔میرے جگر کے ٹکڑے آنے والے کل کے لیے ہی تو میں یہ کر رہا ہوں ۔اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے،وقت گزرنے پر میری باتیں یاد کر کر کے اپنی آنکھوں کو نم کیا کرو گے۔عبد الحمید پہلے سے ہی ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔اُس سے بار بار دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی محسوس ہوا کرتیںلیکن وہ بال بچوں کو محسوس ہونے نہیں دی

سلیب

"اکبربھائی مجھے کچھ مزدوروں کی ضرورت تھی۔ کیا آپ کچھ مزدور لا سکتے ہو، کافی دن ہوئی کوئی مانتا نہیں" "جی میں کوشش کروں گا آج کل بہت زیادہ کام ہے اس لئے مزدور نہیں ملتے ہیں اگر کچھ انتظام ہوا تو میں بعد جمعہ لے کر آتا ہوں کیوں کہ جمعہ کے دن کوئی کام نہیں کرتا ہے" "ٹھیک ہے اکبربھائی کچھ کیجئے میرے مکان کا سیلب رہ گیا۔ آگے موسم بھی خراب ہوگا اور بارشیں بھی ہونے والی ہیں" دو روز بعد اکبر مزدروں کو لے کر حاضر ہوا۔ "جناب مزدور بڑی مشکل سے ملے۔ کافی منت سماجت کرنا پڑا۔ پانچ سو روپے دینے پڑے اور  ان کو میں نے وعدہ کیا ہے کہ سیلب کی تعمیر کے دوران چائے اور دن کا کھانا بھی دے دینگے۔ یہ ان کا ہیڑ ہے ان کو چائے پانی دیجئے اورمجھے بھی چائے پانی دیجئے" "ٹھیک ہے اکبر بھائی آئندہ تو پہلے چائے پانی کا حساب کرنا پڑ گا، پھر اگر کچ

دیوتا

اپنی تمام لگن،ہمت اور بہادری کے ساتھ پہاڑ کی ایک ایک چوٹی سر کرتا ہوا  وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔اُسکے ہاتھوں میں سات رنگوں کا ایک جھنڈا تھا۔یہ جھنڈا اسے پہاڑ کی سب  سے اونچی چوٹی پر گاڑھنا تھا۔راستہ طویل اور مشکل ہونے کے باوجود  ارادہ پختہ اور مضبوط تھا۔۔۔۔آہستہ سے قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا۔ اب اُسکے سامنے آخری پڑائو تھا ۔ آخری چوٹی تھی۔۔۔اس چوٹی پر جھنڈا گاڑھنے کے بعدہی ہر طرف سے لوگ آکر اُس کی عظمتوں کو سلام کریں گےاور وہ کہلائے گا ملنگ دیوتا۔۔۔اُسکی سانسوں میں کائنات کی سانس ہوگی۔اپنے آنسووُں سے لوگوں کے خشک خالی پیالے بھر لے گا۔اپنی جھولی میںچھپائے قرمزی پھولوں سے ننگی عصمتوں کو ڈھک لے گا۔ اپنے نورانی پرتو سے تاریک جھونپڑیوں میں روشن آفتاب اُگائے گا اور بھٹکی ہوئی آدم کی اولاد کو ایک نئی سکون بخش سوچ سے متعارف کرائے گا اور اسکی ایک دیرینہ خواہش

یہ کیسے رشتے۔ ۔ ۔ ؟

آج وہ اکہترسال کا ہوگیااور پچھلے ایک سال سے خود کو بہت کمزور اور لاغر محسوس کررہا ہے۔ ایک سال پہلے ایسی بات نہیں تھی۔ وہ نہ کمزورہی تھا اور نہ لاغر۔ ایک ہی سال میں ایساہوگیا ۔ ایک سال پہلے وہ علی الصبح جاگتا تھا اور غسل خانے سے فارغ ہوکر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتا اور چہل قدمی کرتے کرتے اپنی کالونی کی پاس والی پارک میں پہنچ جاتا تھا۔ وہاں اُس کو ایک خوبصورت کتا ملتا ۔ وہ کتا اُس کو اپنا دوست بنانا چاہتا تھا لیکن اُس کو کتوں کے ساتھ سخت نفرت تھی، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ کتا سب سے وفادار جانور ہوتا ہے۔ کتوں سے اُس کی نفرت کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں ایک پاگل کتے نے اُسے کاٹا تھا اور اُسے چودہ انجکشن لگانے پڑے تھے ۔ وہ کافی دنوں تک بیمار رہاتھا۔ وہ واقعہ اُسے اب تک یاد ہے۔  وہ ہر دن پارک کے اردگرد چکر لگاتا تھا اور پھر وہاں پہ لگے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھ جاتا۔کالونی میں چہل قدمی کرنے

افسانچے

 رئیس داماد  "۔۔۔ذرا میاں۔۔۔یہ۔۔۔ہاں یہی والا۔۔۔ادھر دکھایئے؟ کتنا حسین و جمیل ہے۔۔۔!"، اختر بیگم جو اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے لڑکا پسند کر رہی تھیں، تصویر دیکھ کر بڑی خوش مزاجی سے بول پڑیں ،"رحمت میاں یہ لڑکا کرتا کیا ہے۔۔۔؟" ارے اختر صاحبہ یہ کوئی کوئی عام لڑکا نہیں ہے۔۔۔۔ یہ اپنے منسٹر صاحب کی بہن کا لڑکا ہے۔۔"، رحمت میاں، جو لڑکوں کی ایک لمبی فہرست لے کر اختر صاحبہ کے پاس آئے تھے ،بول پڑے۔ "اچھا ۔۔۔۔۔پھر تو یہ بڑا رئیس ہوگا۔۔۔ میری بیٹی ان کے یہاں ملکہ بن کر رہے گی۔۔۔۔" "سو تو ہے مگر۔۔۔" " مگر کیا میاں۔۔۔۔؟" "مگر یہ ڈرگس اور شراب نوشی کا عادی ہے۔۔۔ پانی ملے یا نہ ملے لیکن شراب کی بوتل چوبیس گھنٹے اس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔۔۔۔" "اُف میاں! تم بھی کیا بےوقوفوں جیسی باتیں کرتےہو۔۔

کفن پوش اندھیرا

اپنے دیوتائوں کی آوازوں کو زندہ رکھنے کے لئے انہوںنے تمام پرانی آوازوں کوسولی پر چڑھادیا۔ اب پرانی آوازوں کا نام ونشان بھی کہیں سے نہیں ملے گا کیونکہ آنے والا وقت نئی آوازوں کا ہوگا۔ ’’اب دریچوں سے کوئی میٹھی آواز نہیں آئے گی‘‘ ’’اب ہر طرف سے اُداسی،بے سکونی اور اضطراب کی آوازیں پھیل گئی ہیں۔نئی آواز کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت ٹوٹ گئی۔‘‘ ’’اس نے کہا۔۔۔کیا آپ کو محسوس نہیں ہوتاہے کہ ہمیں اس آواز کے خلاق آواز اٹھانی چاہیے؟‘‘ ’’میں کون سنگیت کار ہوں کہ اس آواز کے خلاف نئے سر، تال تراش لوں ۔۔میں نے ارحان سے کہا۔۔۔‘‘ نئی آواز نے دریائوں،موسموں اور پھولوں سے تازگی نچورڑ کر انھیںآگ کے پنجرے میںقید کر کے رکھا۔پھر ایک موسم نے قیامت کو اپنی بے نور آنکھوں میں پناہ د

باسی روٹی کا ٹکڑا

برسات کی ایک شام جب آندھی اور اندھیرا دونوں اپنے شباب پر تھے تومنشی جی کچھ سودا سلف لانے کے لئے دکان پر گیا۔دکان کے قریب پہنچتے ہی اس کی نظر آوارہ کتوں کے ایک غول پر پڑ گئی۔جو آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے۔منشی جی نے سوچا شاید  کچرا کھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لینا چاہتے ہیں،اس لئے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔منشی جی کچھ دیر تک ان کتوں کو دیکھتا رہا۔اچانک اسے ان کتوں کے ساتھ ایک انسان نظر آیا،جو خود کو ان کتوں سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ منشی جی دکان کے نزدیک پہنچا اور دکان کے باہر لگا بلب روشن کیا۔روشنی جب دور تک پھیل گئی،تو اسے وہ بوڑھا شخص اچھی طرح نظر آیا جو کچرے کے ڈھیر میں کچھ تلاش کررہا تھا۔منشی جی کے ذہن میں خیال آیا شاید کوئی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈتا ہے۔ نزدیک آکر منشی جی نے بوڑھے سے پوچھا: "چاچا اس کچرے کے ڈھیر میں کیا ڈھونڈ رہے ہو۔بارش ہونے والی ہے

افسانچے

خودکفیل     سورج کول تارکی سڑک پر آگ کے تھپیڑے برسا رہا تھا اور چکنے کول تار سے دھویں کے بھبکے  اٹھ رہے تھے ۔۔۔ اُس کی دھنسی ہوئی آنکھیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔  کالے  اور کھردرے ہاتھ بڑی تیزی سے گندگی کے ڈھیر کو کھرچ رہے تھے ۔۔۔ سیاہ جلد پر پسینے کے قطرے سورج کی تمازت سے چمک رہے تھے ۔۔۔۔۔    دور شہر کے مشہورا سٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریبات کی ابتداء ہوچکی تھی اور لاوڈسپیکر پر ایک نامور سیاسی رہنما  کے الفاظ عوام کے کانوں میں رس گھول رہے تھے۔۔۔   ـ’’  بڑی کٹھنائیوں کے بعدہم ایٹم بم بنانے میں سپھل ہوگئے ہیں‘‘     اُس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں اچانک چمک پیدا ہوئی۔۔ ۔ لوہے،  تانبے اور پیتل کے کئی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔۔۔ اُس نے پسینہ پونچھا اور چمکیلی سڑک کو

قدریں

چھوٹی بہو کے قدم دہلیز کے اندر پڑتے ہی روایت علیؔ اور شفقت بیگم کے بُشرے گلاب کی طرح کھل اُٹھے۔ دونوں خوشیوں سے جُھوم رہے تھے  کیونکہ گھر میں ایک تعلیم یافتہ بہو آئی تھی۔ روایت علی اپنی ثقافت ‘ رسم ورواج اور رہن سہن کے طور اطوارکو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آنے والی نسلیں اپنے کلچر کے اثاثے کومحفوظ رکھیں۔روایت علی کے گھر میں وہ ہر ایک چیز موجود تھی جو صدیوں سے ان کے کلچر سے جڑی ہوئی تھی۔ بڑی بہوبہت فرمانبردار تھی سسر کے ایک ایک حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس گھر میں ہشاش بشاش زندگی گزار رہی تھی۔ غالباًوہ اس طرز زندگی کو خوب انجوائے کر رہی تھی اور صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتی۔کھانا پکاتی ‘پوریاں بناتی ‘ صفائی ستھرائی کرتی۔وہ ہر کام اکیلی کرتی۔چھوٹی بہوکے آنے پر وہ سوچ رہی تھی کہ اب وہ کام میںاس کا ہاتھ بٹائے گی اورزندگی خوشی خوشی گزرے گی۔چھوٹی ب

آئینہ ٹوٹ گیا

ہماری خوشیوںکو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔آئے دن نہ جانے یہاں کے حُسن کو کون سا آسیب کھائے جا رہا ہے۔ایک آدمی دیو ہیکل سا دوسرے سے مخاطب ہوکر کہہ رہا تھا۔ارے بھائی ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں اور آگے چل رہے ہیں، اب اس سے بڑھ کر زندگی گزارنے کے لیے اور کیا ہونا چاہیے۔دراصل کل گلی میں جس دس سالہ بچی کی لاش برہنگی کی حالت میں برآمد ہوئی اُس کے ساتھ پیش آئے واقعہ نے میرے ذہن کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ پہلا آدمی پھر سے کہنے لگا۔تب سے میں بے حد پریشان ہوں۔ان دونوں اشخاص کی گفتگو سے کچھ لمحہ کے لیے قرۃ اور آئینہ بھی اس مسئلے پر غور وخوض کرنے لگے لیکن کچھ ہی مدت کے بعد یہ دونوں اپنی ہی دنیا میں پھر سے مست ہوگئیں۔ارے دیکھو کیسی لڑکیاں ہیں؟ ۔اپنا اپنا ضمیر۔۔ خیر چھوڑو۔قہقہ لگا کر آئینہ اور قرۃ وہاں سے رفو چکر ہوگئیں۔قرۃ اور آئینہ بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ساتھ اسکول جانا، ساتھ کھانا پینا ایک ہی رنگ کے

دیوانی

اُس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔کہاں رہتی تھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد وہ بد حواس ہو چکی تھی۔لوگ اس کو دیوانی پاگل فقیر نی یا درویش سمجھتے۔گاؤں گاؤں پھرنا اس کا معمول بن چکا تھا۔جہاں جو کچھ ملتا کھا جاتی نہیں ملا تو قناعت۔یوں ہی شب و روز گذر جاتے البتہ پرانے کپڑے جمع کرنا اور پہننا اُس کا محبوب مشغلہ تھا۔اوپر سے نیچے تک کپڑوں میں ڈھکی چھپی رہتی۔جو کپڑا چیتھڑوں میں تبدیل ہوتا تو کسی سے مانگ کر لاتی اور اپنے آپ کو ڈھکا کرتی ۔۔۔آخر تھک ہار کر ایک گاؤں میں رُک گئی۔ ٹانگیں جواب دے چکی تھیں۔اسلئے آگے نہیں بڑھ سکی۔ایک بوڑھے چنار کے نیچے ڈھیرا ڈالا۔بچوں کیلئے ایک کھیل بن گیا۔شام تک گاؤں کے بچے اس کے اِرد گرد گھیرا ڈالے بیٹھتے۔کبھی کوئی منچلا ایک آدھ پتھر بھی پھینکتا۔کوئی دیوانی، کوئی پاگل اور کوئی درویش بھی کہتا۔وہ پاگلوں کی سی باتیں اور حرکتیں کرتی رہتی تھی۔

افسانچے

آہ ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد جب افسر ڈیوٹی پر پہنچا تو  چپراسی کو اپنے کیبن میں بلا کرکہا۔ "بھائی ذرا ہیڈ اسسٹنٹ کو بلاؤ۔" "صاحب جی۔۔۔ آج وہ آفس نہیں آیا ہے۔۔۔۔۔آج اس کو  ایوارڈ ملنے والا ہے نا۔"چپراسی نے فوراً جواب دیا۔ "ارے بھائی،کون سا ایوارڈ؟" افسر نے حیرانی سے پوچھا۔ "صاحب جی۔۔۔جب آپ چھٹی پر گئے تھے تو اگلے روز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے ایک آڈر آیا تھا،جس میں لکھا تھا کہ اپنے زون میں کسی ایمان دار اور محنتی ملازم کا نام  تجویز کریں۔" "ارے !... اس کے اصلی حق دار تو آپ تھے،...پھر یہ کیسے ہوا؟" افسر کے لہجے میں استعجاب تھا۔ "صاحب جی۔۔۔ حقدار کو حق کب ملا ہے کہ اب ملے گا۔"چپراسی نے دل سوز لہجے میں جواب دیا۔ "نہیں ملے گا؟.... دیکھئے گا میں آپ کے لئے کیا کرتا ہوں۔" اف

آئینہ

راشد اور اس کی بیگم نے صبح صبح ہی شہرکے بڑے بازار کا رخ کیا اور ایک مشہور شاپنگ مال کے سامنے گاڑی پارک کرکے اندر جا کے خریداری کرنے میں مصروف ہو گئے ۔دوپہر کے وقت وہ ڈھیر سارے مہنگے کپڑوں ،جوتوں ،چپلوں ،پرفیوم اور گھر کی سجاوٹ کے قسم بہ قسم سامان کی خریداری کرنے کے بعد مال سے واپس نکلے اور سامان کو گاڑی میں رکھنے لگے ،لیکن سامان اتنا زیادہ تھا کہ گاڑی میںسمیٹ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ ’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نام پر کچھ دے د و‘‘ ۔ ایک عمر رسیدہ خاتون نے راشد،جو سامان گاڑی میں رکھنے میں مصروف تھا ،کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا،لیکن اس نے خاتون کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔چند ساعتوں بعد خاتون نے پھر اپنا سوال دہرایا تو وہ غصے میں آکر جنگلی بلّے کی طرح غرایا ۔ ’’نان سنس ۔۔۔۔۔۔ تمہیں دِکھ نہیں رہا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں ،مفت کی روٹیاں توڑنے کی عادت

نیا ریلوے اسٹیشن

اسلم! اسلم! ۔۔۔۔۔گھر کے کام کاج میں مصروف 'سارہ اپنے بیٹے اسلم کو آواز لگا رہی تھی۔ اسلم! اسلم! ۔۔۔۔۔جب اسلم نے جواب نہ دیا تو سارہ اسلم کے کمرے کی اور بڑھنے لگی۔ ابھی وہ جانے ہی والی تھی کہ کچن کی کھڑکی سے اسے سڑک پر لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ اسی مجمعے میں اسلم بھی تھا۔ مجمع دیکھ کر سارا سوچنے لگی کی آخر کیا ماجرا ہے؟ گاؤں کے تمام لوگ کیوں جمع ہو گئے ہیں؟ وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ اسلم نے دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوتے ہی سارہ نے اس سے باہر جمع بھیڑ کا سبب پوچھا۔ جس کے جواب میں اسلم نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ماں کو بولا، "امّی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں؟ یہ ہمارے گاؤں کے لئے خوش خبری ہے کہ ہمارے گاؤں میں نئے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا افتتاح ہونے والا ہے۔ اب ہمارے گاؤں سے بھی ریل چلے گی جس سے لوگوں کو کافی سہولت میّسر ہو گی۔ نوجوان بھی اپنے کام کاج و روزگار کے لئے بآسا

اَدھوری کہانی

ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی ہیںاکرم اور سلیمہ چھت پر چائے کی چُسکیاں لے رہے ہیں ۔شام کے اس خوبصورت نظارے میں دونوں میاںبیوی اپنی شادی کے بیتے ہوئے دس سالوں کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔ شادی کے ابتدائی سال انہوں نے کیسے  پریشانی میں گذارے ،علاقے کے تمام لوگ شائد اس سے بخوبی واقف ہیں ۔ اولاد جیسی نعمت سے محروم رہنا ایک شادی شدہ جوڑے کے لئے قیامت سے کم نہیں ۔ لمبی سانس لیتے ہوئے سلیمہ خیالوں میں گُم اپنے شوہر سے مخاطب ہوتے ہوئے: اکرم جب سے اوپر والے نے ہمیں اولاد کی نعمت سے نوازاہے تب سے ہماری زندگی بالکل بدل گئی ہے۔۔۔ خیالوں کی دنیا سے واپس آتے ہوئے مطمئن ہوکر اکرم: ہاںہاں سلیمہ تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو۔ میری تو زندگی کی امید ہی تب سے جگی ہے جب ساحل کا جنم ہوا۔ ورنہ میری دنیا۔۔۔۔میری دنیا تو۔۔۔ کہتے ہوئے اکرم نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔۔۔  یہ سب سنتے ہوئے سلیمہ کی

کُھلے دروازے کا کرب

 ’’ سنومیری بات گرہ باندھ کر رکھ لو۔  وہ آئیں گی اور ضرور آئیں گی ۔ اس سال نہیں تو اگلے سال بڑھیا ضرور مرجائے گی ۔ وہ مرنے سے پہلے بیٹیوں کو بلائے گی۔  لیکن تم لوگ مستعدی کے ساتھ کھڑی رہنا۔ انہیں ایک قدم بھی آگے نہیں آنے دینا ۔  چاہے ان کا گریبان پکڑ کر یا بالوں سے کھینچ کر ان کو گھسیٹ کر باہر لے جاناپڑے ۔  وہ مری ہوئی ماں کا منہ نہ دیکھ پائیں،  نہ اسے چھو پائیںاورتم لوگ وہی کرو گی جس کا میں اشارہ کروں گی ، تم لوگوں کو میں نے کبھی  بہوئیں نہیں سمجھا ہے ۔  بیٹیوں کی طرح رکھا ہے تم دونوں کو۔  اس لیے وہی کرناجو میں کہوں گی۔‘‘ بھائی صاحب خود ہلکے پیٹ کا آدمی تھا۔ اس نے خود ہی سارے رشتہ داروں میں بات پھیلائی تھی ،خود ہی اپنی بیوی اور بہو بیٹوں کو اپنی بہنوں کے خلاف اکسایا تھا۔ گھر میں ایک طرح سے  محاذ کھول رک

تازہ ترین