نعت شریف

ہمیں دیں کی انگوٹھی کا نگینہ یاد آتا ہے وہ کعبہ یاد آتا ہے مدینہ یاد آتا ہے خوشی سے جھومنے لگتے ہیں اپنی اپنی شاخوں پر گُلوں کو جب محمدؐ کا پسینہ یاد آتا ہے کنارے پر پہنچ کر کوئی بے شک بُھول بھی جائے مگر گِرداب میں اپنا سفینہ یاد آتا ہے ورق گروانیٔ تاریخ بھی نازاں ہو جب اُس کو محمدؐ کا نظر سے زخم سینا یاد آتا ہے سبھی کی جھولیاں بھر جاتی ہیںمالِ سعادت سے اُنہیں جب دِیں کا روحانی خزینہ یاد آتا ہے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں قدموں میں رسول اللہؐ جنہیں بھی آپ کا موزوں قرینہ یاد آتا ہے میں اُس تشنہ لبی کو نام دُوں تو کیا مرے آقاؐ مجھے جب غمزدوں کے اشک پینا یاد آتا ہے نیا اِک فلسفۂ زیست آجاتا ہے ذہنوں میں کہ جب متبرک روزے کا مہینہ یاد آتا ہے   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ، کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9

ماں

تیری عظمتوں پہ کیا لکھوں تحریر اے ماں قرآن سے بھی تیری سنوں تفسیر اے ماں   مجھے دشمنوں سے خوف نہیں تیرے سائے میں ہر محاذ پر ہے تو میری شمشیر اے ماں   جنت آباد کی ہے اللہ نے تیرے قدموں میں ہے اندھیروں میں بس یہی تنویر اے ماں   محمدؐ، موسیٰ، ابراہیم، عیسیٰ علیہم السلام دی رب نے ان سے ہے تجھ کو توقیر اے ماں   مخلوق کا وجود بھی نہ ہوتا یہاں پر کی اپنی قربانی سے دنیا تو نے تعمیر اے ماں   تیری محبتوں تیری شفقتوں کے سائے رہیں صدا پھر زندگی رہے ہرکسی کی تنویر اے ماں    تشہیر ماں کی ہوتی نہیں تیرے الفاظ سے سہیلؔ کامیاب ہو تیرے صدقے کوئی تدبیر اے ماں   سہیل احمد ڈوڈہ مرمت(جموں) موبائل نمبر؛6006549235  

الوداع رمضان و عید

 الوداع اےماہِ رمضان الوداع  تقویٰ و ایمان کی جان الوداع الوداع اے ماہِ رمضان الوداع        الوداع اے ماہِ رمضان الوداع نام سے تیرے تھیں آئیں رحمتیں اے حسیں انعامِ رحمان الوداع        الوداع اے ماہِ رمضان الوداع زندگی تجھ سے جو رونق بار ہے اب یہ ہو جائے گی سنسان الوداع        الوداع اے ماہِ رمضان الوداع تیس دن کا اک مہینہ ہوکے اے سال بھر کے جاہ و سلطان الوداع        الوداع اے ماہِ رمضان الوداع دیکھ تو رخصت پہ تیری کس قدر اہلِ ایماں ہیں پریشان الوداع        الوداع اے ماہِ رمضان الوداع برکتیں ہی برکتیں تھیں تیرے ساتھ قاسمِ فیضانِ قرآن الوداع        الوداع اے ماہِ رمضان الوداع جا مگر

نعتیں

نعت شریف جِسے بھی خوف ہو روزِ جزا کا وہ دامن لے خیرالورا کا   ذرا چومو تو در غارِ حرا کا پتہ مِل جائے کا بادِ صبا کا   جو پیاسی رُوح کو تسکین دے دے ترا کلمہ ہے وہ جھونکا ہوا کا   محمدؐ پر بھروسہ کرکے دیکھو صِلہ مِل جائے گا تُم کو وفا کا   ہزاروں پاپ دھو دیتا ہے پَل میں اِشارہ اِک محمد مصطفےٰ کا   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ، کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668     نعت  زمین و فلک پر عیاں ہیں محمد ؐ ’’کلیدِ ظہورِ جہاں ہیں محمدؐ ‘‘   کریں یاد ہم قصۂ فتحِ مکہ  حریفوں پہ بھی مہرباں ہیں محمد ؐ   بلاوا مؤذن کا  الله اکبر  اذاں کے سفر میں رواں ہیں محمد ؐ   اِدھر بات

نعتیں

نعت دِل میں بسا لے دوست عقیدت رسولؐ کی شب و روز تُجھ پہ برسے گی رحمت رسولؐ کی   حق سے کرو محبتیں باطل سے نفرتیں رکھنا ہمیشہ یاد نصیحت رسولؐ کی   اللہ کا ہے کرم یہی فیضِ رسولؐ ہے پھیلی ہے دُور دُور تک اُمت رسولؐ کی   پڑھ کر نماز مومنو قسمت سنوار لو خوش بخت ہی کو ملتی ہے شفقت رسولؐ کی   روزِ جزا میں صرف عقیدت کے عوض میں تم پائوگے اے مومنو جنت رسولؐ کی   مایوس دِل کو حوصلہ دیتا ہوں اِس طرح قسمت میں پنچھیؔ تھی نہیں خدمت رسولؐ کی   سرداری پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668      ہر ایک کو ہو رحمتِ رمضان مبارک  ہم پر ہے بڑا رب کا یہ احسان مبارک ہر ایک کو ہو رحمتِ رمضان مبارک کرتے ہیں تراویح میں سب لوگ تلا

نظمیں

نظم تمہارے در پر پڑا ہوا ہوں اسی جگہ پہ کھڑا ہوں اب تک جہاں سے تو نے کئے تھے مجھ پر ہزار در بند آستاں کے اسی نگر میں، اسی بحر میں  پھنسا ہوا ہوں اسی  بھنور میں میں دل شکستہ ، ہوں دست بستہ غموں کے رتھ پر سوار ہو کے کرب کے صحرا میں آبلہ پا  دُکھوں کی لمبی ڈگر پہ تنہا سحاب کی جستجو میں گرداں سراب کی الجھنوں میں پیچاں اَلم گزیدہ ،ستم رسیدہ  بدن دریدہ میں روح بریدہ  وہ  خواب آسا چند لمحے کبھی میسر جو مجھ کو آئے  تیری زمیں سے آسماں تک مکاں سے تیرے لا مکا ںتک  کہ ہیں تعاقب میں کتنے لرزاں یہ روز و شب کے تھکے مسافر وہ خواب آنکھیں ، سحاب چہرے وہ گُلبدن جو دعا کی صورت ماہِ مقدس کی ساعتوں میں گلاب رُت کی عبادتوں میں دراز دست سوال کر کے تمہا رے ـ&rsqu

نعتیں

پُکاریں گے ہم دِل میں یادِ نبی ؐکو اُتاریں گے ہم اپنی قسمت کو ایسے سنواریں گے ہم وہ مدد کو ہماری بھی آجائیں گے سچے دل سے جب اُن کو پکاریں گے ہم غصہ، لالچ، نفس اور تکّبر، دغا یہ بھی کافر ہیں بس اِن کو ماریں گے ہم گھر بھی مالِ سعادت سے بھر جائے گا جب عبادت میں راتیں گُذاریں گے ہم سوکھے پیڑوں کے پتّے ہرے ہونگے جب چھینٹے اپنے پسینے کے ماریں گے ہم دان دے کے مریضوں کو اپنا لہو چہرہ اسلام کا یوں نِکھاریں گے ہم باہری کوئی دشمن نہ ہوگا کہ جب اپنے اندر کے دشمن کو ماریں گے ہم پنچھیؔ برسے گی اللہ کی رحمت کہ جب سب کی راہوں کے کانٹے بہا ریں گے ہم   سردار پنچھیؔ جھیٹی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668     نعت رسولﷺ تیرے حقدار اے جناں ہم ہیں عاشقِ شاہِ دو جہاں ہم ہیں

آمدِ ماہِ رمضان

اے خوش نصيبويہ مژدہ سن لو کہ ماہِ رمضاں بُلارہا ہے اگر خطاؤں میں گُم ہوئے ہو یہ دیکھو رستہ دِکھا رہا ہے سکونِ دل کا کوئی بھی ساماں جو تم نے ڈھونڈا مگر نہ پایا یہاں پہ آکے جو نم ہوں آنکھیں تو راز اس کا بتا رہا ہے خدا سے دوری ہوئی ہے جب سےغموں نے آکر ہے ڈیرا ڈالا خلاصی ہم کو ملے گی کیسے یہ ماہِ رمضاں سِکھا رہا ہے دلوں کو روشن کریںگے کیسے جو اُجڑے اُجڑے سے ہوگئے ہیں تلاوتوں سے کرو چراغاں یہ ہم کو قرآں سنا رہا ہے ترا سجود و قیام کرنا تلاوتوں کو رفیق رکھنا خدائے واحد بعرشِ معلیّ ملائکہ پہ جتا رہا ہے بہارِ نو ہے یہ نیکیوں کا رواں ہے رحمت کا اس میں دریا جسے بھی دیکھو عبادتوں سے رضاءِ مولا کما رہا ہے بھٹک گئے ہیں جو  راہِ حق سے نظر سے اوجھل ہوئی ہے منزل خدا کے راہی بنو گے آؤ خدا کا قرآں بلا رہا ہے جوانی گزری ہے غفلتوں میں تہی

میں نے دیکھے ہیں۔۔۔ اور

کس نے اپنے گھر کو ویران ہوتے دیکھا ہے میں نے شبنم کو طوفان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں جذبات کے لُٹتے قافلے اور بار ہا خونِ دل و جان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں کُہر میں لپٹے بام ودر و دیوار اور خواب گاہ کو مثل زندان ہوتے ددیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں اپنوں کے پریشاں چہرے اور زمیں بوس قصرِ ارمان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں پلکوں پہ آویزاں اشک اور رشک میں دامن کو پریشان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں تیرگیٔ شب میں چمکتے جگنو اور قمر نوراں کو پشیمان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں شبِ فرقت میں اندازِ عشاق اور وصل کے نام پر قربان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں پسِ تبسم کے غم و الم اور صبر کو زیست کا سامان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں ریت میں بکھرے گواہر اور اصداف کو زینتِ کان ہوتے دیکھا ہے میں نے دیکھے ہیں اشر

نعت شریف

غم آئیں تو آنے دو ہم ڈرتے نہیں غم سے لَو ہم نے لگالی ہے سرکارِ دو عالمؐ سے کیا پیاس بُجھے میری ساگر ہیں سبھی کھارے اِک بُوند کا طالب ہوں اُس وادیٔ شبنم سے پرواز خیالوں نے ہر دِل نے نظر پائی کیا کیا نہ ملا ہم کو اُس حُسنِ مجسّم سے ہم کو بھی بُلا لیجئے اِک بار حضوری میں ناراض ہیں بھی کیوں آقا کیا بُھول ہوئی ہم سے اُس ہاتھ پہ اِک بوسہ دے پاتے اگر ہم بھی تو درس وفائوں کا لیتا یہ جہاں ہم سے ہم کو تو سرِ محشر بس ایک سہارا ہے وہ آپ کی دیکھیں گے ہم دیدئہ پُرنم سے یہ شعر ہیں پنچھیؔ کے گُلدستہ عقیدت کا نہلایا ہے پُھولوں کو جذبات کی شبنم سے   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668    

سپنا

کیا یہ سچ ہے؟ میں نے تم کو سچ مچ کھویا ہے؟  یا پھر اب تک ہوش کی حالت سے میں غافل ہوں  تین برس اب بیت چکے ہیں جیسے سپنا تھا سپنا ہی سمجھو سپنے سے یاد آیا مجھ کو کل ہی تم آئے تھے پھر سے میرے سپنے میں دھندلی یادوں کی مانند تم خود بھی دھندلے سے دور کھڑے کونے میں بیٹھے خود سے روٹھے تھے  میری نظروں سے اُوجھل ہونے کی کوشش میں گویا میں نے حق تلفی کی تھی تیری شاید ٹھیک وہی کیمپس وہ نوٹس بورڈ وہ سب طلبہ جن سے پرچہ دے کے ہم پھر باتیں کرتے تھے پگڈنڈی پہ دور تلک پھر دونوں چلتے تھے لیکن اب تو کوئی میرے ساتھ نہیں آیا سپنے میں بھی تم کو میں نے اپنا نا پایا سپنے میں بھی تم کو میں نے اپنا نا پایا   عقیل ؔفاروق طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی شوپیان،موبائل نمبر؛8491994633     &nbs

نظمیں

قطعات   شہادت کا کلمہ قلم کو پڑھا ئے مُطَہّر وَـرق اس کی خاطر بچھائے  سُخن ور وہی بالیقیں بخت آور حقائق کے موتی جو اِس سے سجائے   پتا ہے نہیں میں یہ کیا کھارہا  ہوں کہاں کو میں کس راہ پر جارہا ہوں یہ دنیا فریبی ، فریبی بہت ہے سمجھ کیوں یہ میں پھر نہیں پارہا ہوں   چلو آج کرتے ہیں ایفا  خدا سے نرم اور پاکیزہ ترَ اک ادا سے اگر جان جائے تو منظور ہم کو     کریں گے دغا ہم نہ راہِ ھُدا سے    طُفیلؔ شفیع  حیدر پورہ سرینگر موبائل نمبر؛6006081653              سالار ہوگئے امراضِ نیم پھر وہ سب بیدار ہوگئے آغازِ سالِ نو، میں ہم بیمار ہوگئے سر پہ سوار ہوگئی عُمرِ طویل دوست نقل و حمل سے بھ

آوارگی

اُفق کے کِنارے سے آزاد ہو کر نِکلتی ہے آوارگی جب تمہاری دریچے سے دنیا تجھے دیکھتی ہے ستاتی ہے تجھ کو تری عزاداری کہ آوارگی کا ہے موسم نرالا سڑک کے کنارے ہیں ڈھیرا لگائے یہ کوچے یہ بستی یہ سب چھوڑتے ہیں یہ پُر پیچ گلیوں میں آتے نہیں ہیں نہ عصمت کی پروا نہ عزّت کے بھوکے لُٹاتے حصارِ گرد کارواں سب یہ خوابوں کے بازار کو بیچتے ہیں حسیں زندگی کے فدائی نہیں ہیں نہ نوری ہے ان میں نہ ناری ہے بستی یہ پربت کے باسی ہیں جنگل کے شیدا کیا نام رکھا ہے آوارگی کا؟   مکافات میں لوگ کیوں کر پڑے ہیں یہ دنیا کی آوارگی تو نہیں ہے یہ آوارگی ہے خدائی وسیلہ تمہاری نہ منزل نہ رستہ کہیں ہے نہ اسبابِ دولت نہ شاہ و مصاحب فقیری تمہاری ہے اصلِ امیری نہ مشرق تمہارا نہ مغرب کی لالچ سفر لاحقِ جان و جگر جانتے ہیں ن

قطعات

دِل دُکھائو نہ کسی کا اسے گھائل نہ کرو اپنی تسکین دِل آزاری سے حاصل نہ کرو   ہے بڑا فتنہ یہ ظاہر میں تو باطن میں ہے قتل  رُوح ِانسان کو اس تیغ سے بِسمل نہ کرو   زیب و زینت کی نمائش بھی ریاکاری ہے کم ظرف کاہے یہ شیوہ یہ بھی مکاّری ہے    پست ذہنیت و کوتاہ نگاہی کا ثمر یہی دکھلاوا ہے جو اصل میں عیاّری ہے    کوئی ناشاد ہے اور کوئی شاداں  خوش و خرم ہے کوئی کوئی نالاں   کہو فطرت سے اُسکا کیا بگڑتا جو اس دُنیا میں خوش ہوتا ہر انساں   بشیر احمد بشیر( ابن نشاطؔ)کشتواڑی  کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571   

نعت شریف

جسے بھی کعبۂ پُرنور کا دِیدار ہوجائے چمک جائے مقدر اُس کا بیڑا پار ہوجائے جسے بھی رب کی رحمت سے کبھی انکار ہوجائے تو کعبے میں وہی اِنکار بھی اقرار ہوجائے محمدؐ کے نقوشِ پایہ چلنا سیکھ لے مومن کہیں ایسا نہ ہو یہ زندگی بے کار ہوجائے غموں کا کوئی پربت اپنے آڑے آنہیں سکتا محمدؐ چاہیں تو ہر راستہ ہموار ہوجائے ہمیں بھی بُوند اک دیجئے محمدؐ آبِ کوثر کی کہ صحرا جیسی اپنی زندگی گلزار ہوجائے کرم ہو آپ کا آقا، پلک جُھکتے مِرے گھر کی ہر اک چھت نقرئی اور سونے کی دیوار ہوجائے بہت خوش بخش انسان ہے مُقدر کا سکندر ہے کہ جوعشقِ رسول اللہؐ میں بیمار ہوجائے کوئی بھی دُھندلاپن اُس کی آنکھ کو پھر چُھو نہیں سکتا جسے بھی گنبدِ خضرا سے سچا پیار ہوجائے مدینے اور مکّے کا تبھی دیدار ہوتا ہے تمنّا تِیر بن کر جب جگر کے پار ہوجائے سِمٹ آ

اے نبی محترمﷺ

 قلبِ مُضطر کو میرے سُکوں مل گیا اے نبی ؐ محترم آپؐ سے مل گیا   زینۂ معرفت کا پتا ہے مجھے اے نبیؐ محتشم آپ ؐ سے مل گیا   بندگی کا سلیقۂ نایاب بھی اے سراپا کرم آپؐ سے مل گیا   لذتِ باغِ جنت کا احساس بھی اے حبیبِ حَکم آپ ؐ سے مل گیا    ہے سنہرا سبق حسنِ اخلاق کا اے خلیقِ اعظمؐ آپ سے مل گیا   طُفیلؔ شفیع  گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6081653 600    

نظمیں

  میرے پھر منتظر ہونگے   شگوفے پھوٹنے والے شجرِ بادام پر ہونگے کئی پیڑوں پہ پتے بھی اُگے اب سبز تر ہونگے   بدلنے کو ابھی کچھ کچھ مزاجِ گلستان ہوگا زمین کے سارے گوشے پھر بظاہر معتبر ہونگے   ابھی چاندی کی چادر کا اُجالاکوہ پر ہوگا ابھی ندیاں و نالے بھی عمل سے بے خبر ہونگے   ہے باور باغباں، بہتر چمن آرائی اب ہوگی نہ جانے کتنے پھولوں کے تخم حدِ نظر ہونگے   نشاطِ و باغِ تُل مُل میں گلوں کی ہو فرا وانی یہی منصوبے لیکر پھر سبھی محوِ سفر ہونگے   یہی آثارِ نوخیزی بہارِ نو کی ضامن ہے ابھی کچھ بعدِ وقفہ کے یہ پورے باثمر ہونگے   جوانی عود آئے گی وطن کے لالہ زاروں میں شبابِ حُسن میں ڈوبے یہاں پھر خشک و تر ہونگے   قلم قرطاس لیکر پھر چلوں کشمیرؔ کی جانب و

میرا بچپن

کیا بتاؤں کیسا تھا بچپن میرا میری دنیا تھی فقط آنگن میرا   دل رہا کرتا تھا میرا شاد شاد کوئی غم تھا اور نہ تھی کوئی مراد   رات دن وہ سُونے سُونے کیا ہوئے ہائے وہ میرے کھلونے کیا ہوئے   کیا ہوا بچپن کا وہ میرا لباس  وہ لہنگا اب نہیں ہے میرے پاس   ماں کا وہ چولہا جلا نا یاد ہے مسكرا کے گُنگنانا یاد ہے   لوریاں دے کر سُلانا یاد ہے وه کھلانا اور پلا نا یاد ہے   والده کی وہ شفقت یاد ہے مخلصانہ وہ محبت یاد ہے   باپ کی وہ مہربانی یاد ہے میٹھی میٹھی وہ کہانی یاد ہے   چھوٹے بھائی سے وہ لڑنا یاد ہے پیارا پیارا وہ جھگڑنا یاد ہے   دادا دادی کی محبت یاد ہے ان کی یادوں سے یہ دل آباد ہے   خوش رہا کرتی کبھی مغموم تھی ہر اد

نعت نبیﷺ

حسرت ہے کہ اس دنیا سے جب جانا مرا ہو اے ربِ جہاں بر سرِ لب صلی علیٰ  ہو آ ہی نہیں سکتا اسے مایوسی کا  رونا وہ جس کو میسر درِ محبوبِ خدا ہو میں طیبہ و بغداد و نجف دیکھوں نہ جب تک تب تک اے خدا مہرباں مجھ پے نہ قضا ہو جب بھی پڑے غم تو مجھے محسوس ہو ایسا سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو بس آپ فقط مجھ سے نہ ناراض ہوں آقا کچھ غم نہیں جو سارا زمانہ یہ خفا ہو اے مولا مرے بخت کو دے دے یہ سعادت ہر ایک قضا زیست کی طیبہ میں ادا ہو جیسے اے خدا تو نے ہے اجمیر دکھایا ایسے ہی مدینے کی زیارت بھی عطا ہو دنیاوی مشاہیر کی باتوں کے بجائے آ تذکرہء صاحبِ لولاکِ لما ہو   ذکی طارق بارہ بنکوی  ایڈیٹر۔ہفت روزہ صدائے بسمل" بارہ بنکی سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108  

نظمیں

بیتے کل کو  مَیں سیر کہتا ہوں چلتے پھرتے مَیں شعر کہتا ہوں اس کو سوچوں کا پھیر کہتا ہوں   پاس دل کے جو دیر سے بیٹھا  اس کو اکثر مَیں غیر کہتا ہوں   چاہے چھایا ہے شام کا منظر مَیں کہ اس کو سویر کہتا ہوں   حُسنِ فطرت کا یہ تقاضا ہے خود کو اکثر مَیں شیر کہتا ہوں   کتنا ناداں ہوں کند سر عُشّاقؔ بیتے کل کو مَیں سیر کہتا ہوں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469   "کرونہ" بھگاو ’’کرونہ‘‘ ڑرونا ڑرونا  ماسک پہنکے  چلونا چلونا    وہی صبح ہوگی وہی شام ہوگی  نزدیک جا کے کسی سے ملونا    خدا خود ن

تازہ ترین