تازہ ترین

دسمبر کے آنگن میں

نظم تخیل کی زمین سے پھوٹتی ہے نظروں سے اوجھل کئی بے رنگ آسمانوں کے خیمے ہیں کئی خلاؤں کے نہتے دربدر دشت و صحرا جنکی پہنائییوں میں لاشعوری پرندہ اُڑتا رہتا ہے عنوان کا بیج اسی کی چونچ سےگر کے زمیں سے اُگ آتا ہے وقت سے باہر کی وادیوں کا بانجھ پن زرخیز ہو جاتا ہے سطریں، معانی، اسلوب، بلاغت وغیرہ شاخیں، پتے، پھول، ثمر کی طرح ہیں  اشک اوس بن کے آبیاری کرتا ہے وصل کی دھوپ تازگی لاتی ہے تو ہجر کی قینچی شاخ تراشی پہ اُتر آتی ہے ہجر سخت کڑوا سچ ہے شبنم کو پالا بنا دیتا ہے محبت کے شعلوں سے اُتری ہوئی  گیلی راکھ  کی طرح۔  لفظوں کے پتوں میں زرد کہرا پھیلا دیتا ہے زرد موسم رقص کرنے لگتا ہے گردو غبار کے لباس میں۔۔ نظم اپنی ہریالی پہ بین کرتی ہے اپنے تخلیق کار کے ہمراہ  دسمبر کے آنگن میں

نظمیں

ماں کبھی گر بیٹھے بیٹھے میں بہت مایوس ہوتا ہوں آنکھیں نم سی ہوتی ہیں دل بے چین ہوتا ہے خزاں کا سا تصوّر مجھ کو فصلِ گُل میں ہوتا ہے محفل میں بھی گر خود کو مُستثنٰی ہی پاتا ہوں چَناروں کے سائے میں جُھلستا ہوں ، تڑپتا ہوں خوابوں میں بھٹکتا ہوں راہیں بھول جاتا ہوں تبھی لَا تَقنَطُو کہہ کر کوئی مانوس سی آواز شیریں سی ، مُترنّم سی سماعت سے ہے ٹکراتی ہوائیں مہک سے لبریز ٹھنڈے آنچل سے آتی ہیں کسی کے دستِ نازک کا لمس محسوس کرتا ہوں میں اپنے آپ کو قدموں میں اپنی ماں کے پاتا ہوں جہاں جنّت بھی ہوتی ہے وہیں میں خود کو پاتا ہوں نہ میں مایوس ہوتا ہوں نہ آنکھیں نم ہی ہوتی ہیں   جاوِید یوسف تمنّاؔ شعبئہ اُردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد موبائل نمبر؛8491871106   &

ہستی میں ایسا فرد کیا با بخت نہیں ہے؟

رحلت کا مری گو کہ ابھی وقت نہیں ہے جینے کا مگر دیر تک بھی بخت نہیں ہے راہِ عدم کا سلسلہ ہے ازل سے دراز آسان سفر ہے یہ مگر مفت نہیں ہے ذی فہم جو بھی چھوڑ دے یادوں کے ہیولے ہستی میں ایسا فرد کیا بابخت نہیں ہے لازم یہی ہے امر تم نپٹائو سب شتاب آلس کو میاں چھوڑیئے اب وقت نہیں ہے شاہ و گدا کا آخرش مقسوم ہے اَجل تابع ہے ان کے سلطنت پر وقت نہیں ہے یہ کھیل سب ہے گردشِ لیل و نہار کا چھوڑا اجل نے تاج اور تخت نہیں ہے مدت سے درِ دوست پہ سجدہ گزار ہوں ملتا مگر عُشّاقؔ وہ دل سخت نہیں ہے   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469  

قطعات

جوانی میں کی ہے بہت سینہ کاوی رہی ہے مگر شومئی قسمت ہی حاوی سرِعام دُکھڑا سنانے کو اپنا بنا ہوں یہ دیکھو میں اپنا ہی راوی  ��� طبیعت میری ہے یارو مر نجانِ مرنج دُکھ ہوتا مجھے ہے گر پہنچے کسی کو  رنج میں دُنیا میں چاہتا ہوں سب کا ہو بھلا پسند ہے وہ جو پہنچائے نا کسی کو رنج ��� جب آدمی کو دبوچ لیتا ہے بُڑھاپا دُکھتا ہے پھر اس کا سارا ہی سراپا بنتا چِڑ چِڑا پن مزاج کا حصہ یکسر ہی بدل جاتا ہے پھر آپ اور آپا ��� آغوش کا پروردہ جب طوطا چشمی کرے ایسا لگے دل و جگر میںجیسے کوئی نیزہ بھرے ایسا نہیں ہے دُنیا میں وِشواس گھات کوئی جب آخری ایام میں اولاد رہے پرے   غلام نبی نیّرؔ کولگام، کشمیر،موبائل نمبر؛9596047612      

نعتِ رسولﷺ

ہیں جو آقا کے خاکساروں میں نام ان کا ہے تاجداروں میں یہ بھی نعتِ رسولِ اکرم ہے جوترنُّم ہے آبشاروں میں ذاتِ شمس الضحٰی کی آمد سے ہے مہک گل کے ساتھ خاروں میں مرے رہبر کی شان کیا کہنا چاند تارے ہیں رہگزارو ں میں شہرِ طیبہ میں دلکشی ہے جو دلکشی وہ کہاں بہاروں میں کاش ہم کوبھی رب عطا کردے جومحبّت تھی چار یاروں میں دیکھئے تو کرشمۂ قدرت حُر ہیں شبیری جاں نثاروں میں یہ ہے اعجازِ مصطفےٰ زاہدؔ ڈوبا سورج اُگا اشاروں میں   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج بھدوہی ،یوپی۔انڈیا

نظمیں

پپیہے سے چھپتے ہو کیوں کر، سامنے آجاؤ پپیہے کُھل کر ذرا صورت ہمیں دکھلاؤ پپیہے بچہ نظر بھر دیکھ لے رک جاؤ پپیہے پھر جس طرف بھی دل کرے اُڑجاؤ پپیہے کچھ دیر گاتے ہو تو اُڑ جا تے ہو اچانک کیو ں چھیڑنے آتے ہو چلے جاؤ پپیہے سب لوگ ہیں بے انتہا مغموم بستی میں ہر ایک موسم میں نظر اب آؤ پپیہے آندھی چلی ایسی کہ اعضائے بدن بکھرے کوئی جگر پاروں کی خبر لاؤ پپیہے موقع مناسب ناچ نغمے کا یہ نہیں ہے کر کے ہرا زخموں کو نہ تڑپاؤ پپیہے انظرؔ سے لے کر نو حہ پڑھ لو تم بھی موسم کا خوشیوں کے ابھی گیت نہ تم گاؤ پپیہے   حسن انظرؔ بمنہ سرینگر،کشمیر       ذرا آرام آ جاتا ۔۔ تمہاری وہ سبھی باتیں  تمہاری وہ سبھی یادیں  مرے دل کے کسی کونے میں  سب محفوظ ہ

’’چپکے چپکے نفسِ خائن کا کہا کرتا رہا‘‘

جب خیالِ کُشت و خوں کو مَیں روا کرتا رہا کارِ بد ہاتھوں سے اپنے مَیں سوا کرتا رہا درسِ دہشت دے گئی مجھ کو مِری خردِ کمال اور مَیں اس کی بدولت سب خطا کرتا رہا بس کہ یہ چوگانِ ہستی تھا مِرے آگے سراب مَیں کہ اپنے نفس کی نشو نما کرتا رہا بھول بیٹھا میں کہ اکثر سلف کا طرزِ کہن ’’چپکے چپکے نفسِ خائن کا کہا کرتا رہا‘‘ چھا گیا اعصابِ جاں پر ناخدائی کا غرور اور مَیں خود کو تصور بس خدا کرتا رہا میں کہ غازی ہو گیا اک نامور آفاق میں تابع اپنے ہی اجل کو مَیں سدا کرتا رہا ایک دن جب بالمقابل تھے مرے منکر نکیر مَیں کہ تھا لاچار و بے بس اور ندا کرتا رہا   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469      

نعت

حُسنِ گلِ گلزار کی تعریف کروں میں  ہر دور میں سَرکار کی تعریف کروں میں زلفِ شبِ بیدار کی تعریف کروں میں اُس مطلعِ انوار کی تعریف کروں میں دشمن بھی جنہیں دیکھ کے پاتے ہیں ہدایت اُن صاحبِ اَسرار کی تعریف کروں میں مجھ سے بیاں ہوتا ہی نہیں حُسنِ پا ان کا کیسے لب و رخسار کی تعریف کروں میں؟ جس جرأتِ انکار نے روندھے بتوں کے سر اس جرأتِ انکار کی تعریف کروں میں اُتنی ہی مہکتی ہے زباں عشق میں میری  جتنی شہِ ابرار کی تعریف کروں میں عذراؔ یہ تمنا ہے کہ خود یار بلالے اور در پہ درِ یار کی تعریف کروں میں   عذرا حکاک  سرینگر، کشمیر ای میل؛bintegulzaar@gmail.com  

نعتِ رسولﷺ

 سفر اے زیست ہو اک معتبر آ مدینے کی سِدھاریں رہگزر آ چھڑا ہے ذکرِ شاہِ  بحر و بر آ بنانا ہے اگر جنت میں گھر آ غلامِ سیدِ ابرار بن کر مقدر کر لے اپنا اوج پر آ یہ غازہ دے گا حسنِ دائمی کیا درودِ پاک پڑھ پڑھ کر سنور آ اے عشقِ مصطفےٰ دیوانہ کردے جنوں بن کر مرے دل میں اُتر آ گزارش تجھ سے ہے اے یادِ بطحا تو اب دل میں مرے شام و سحر آ وہ آقا جو جئے بس تیری خاطر  تو بھی ان پر کبھی مرتا نظر آ مٹا کر سنتوں پر خواہشوں کو خدارا اے ذکی طارقؔ اُبھر آ    ذکی طارقؔ بارہ بنکوی  سعادت گنج،بارہ بنکی، یوپی،موبائل نمبر؛7007368108  

اَماں

اماں تیرا جہان میں اعلیٰ مقام ہے ممتا تمہاری قابلِ صد احترام ہے جنت ہے میرے واسطے قدموںمیں آپ کے دل کا سکون ہے فقط سائے میں آپ کے بچپن کو میرے آپ نے خوشبو سے بھر دیا جینےکو میرے واسطے آسان کردیا سایہ جو تیرا موت نے سر سے اُٹھالیا اماں تیرے فراق نے پَل پَل رُلا دیا اماں تمہاری یاد تو آتی ہے بار بار دُکھ کی کروں میں بات یا خوشیاں کروں شمار تربت پہ تیری بیٹھ کے لب پہ دُعا لئے یارب جہاں میں مائوں کا سایہ بنا رہے محشر میں شفاعت تیری بصد افتخار ہو زہراؑ کی کنیزوں میں تمہارا شمار ہو مرقد پہ مظفرؔتیرے کرتاہے التجاء صدقے تمہارے معاف ہو میری ہر خطا   حکیم مظفر حسین مظفرؔ باغبانپور لعل بازار، سرینگر،موبائل نمبر؛9622171322

کرگل کی برفباری

 چلے آؤ کہ کرگل کا ترانہ پھر سے ہو جائے مجھے یاروں سے ملنے کا بہانہ پھر سے ہو جائے نئی تازہ برف ہر سو گری کیا خوبصورت ہے نکل آؤ گھروں سے تم نظارہ پھر سے ہو جائے تخیل کا سماں چھایا طبیعت پھر مچل اُٹھی غزل کے تیر سے کوئی نشانہ پھر سے ہوجائے کبھی گر کرسنبھل جائیں سنبھل کر پھر لڑھک جائیں وہ بچپن کی طرح کوئی تماشا پھر سے ہو جائے ٹھٹھرتے ہاتھ پاؤں میں وہ بجلی گر چلی جائے لب و رخسار جمنے کا فسانہ پھر سے ہو جائے سسک اٹھتی فضا ہر پل لگے جیسے کوئی نشتر کوئی مضبوط جینے کا قرینہ پھر سے ہو جائے وطن سے دور بیٹھا ہوں بڑی خاموش بستی میں کسی شاعر کا محفل میں ترانہ پھر سے ہو جائے کھلے ہیں باب ماضی کے مجھے فاروقؔ سربستہ ادھوری اس کہانی کا نمونہ پھر سے ہو جائے     ڈاکٹر ابو الیفہ فاروق قاسمی اسسٹنٹ پروفیسر شعب

ہستی کے ماہ ومہر

حرص و ہوس کو چھوڑ کر زنجیرِ وقت کو توڑ کر لوٹ آ دو پل کی ہستی سے کچھ دیر ٹھہر، کچھ دیر ٹھہر۔   خوابیدہ زیست سے جاگ کر نکل آ اِس بستی سے بھاگ کر آنکھوں پہ پڑے پردے ہٹا لے دن رات کے ہر ہر پہر۔   کھول کر قرآن پڑھ پھر زندگی میں آگے بڑھ جو کچھ ملے وہ سب کو دے ہستی کے یہ ماہ و مہر۔   سکینہ اختر کرشہامہ، ٹنگمرگ  

نعتیں

 نعتِ رسولﷺ  قرآں میں کرکے جا بجا مدحت رسول کی اللّٰہ نے بتا دی فضیلت رسول کی ہم آلِ زہرہ والے رہیں مبتلائے غم کیسے گوارہ کر لے یہ رحمت رسول کی دوزخ کا سن کے تذکرہ آتا ہے یہ خیال کیا ہوتے ہم  جو پاتے نہ امت رسول کی دینا ہی ہوگا خلد میں اے رضواں داخلہ سینے میں رکھتا ہوں میں محبت رسول کی اللہ کی قسم مجھے محشر کا ڈر نہیں کیوں کے وہاں پہ ہوگی زیارت رسول کی اس بڑھیا کو مرض سے شفا ہی نہیں فقط ایماں بھی بخشتی ہے عیادت رسول کی وہ ذات ہے بہت بڑی اور منھ ہے چھوٹا سا کیسے کروں خدایا میں مدحت رسول کی کیا جانے دنیا کے شبِ معراج کس قدر کی ہے خدائے پاک نے عزت رسول کی    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادتگنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108      نعتِ رسولِ مقبول ؐ

نعتیں

نعتِ شریف  ’’رب کے محبوب کی زندگی معجزہ‘‘ شاہِ کونین کی بندگی معجزہ   زندگی معجزہ، بندگی معجزہ ہر عمل معجزہ ، سادگی معجزہ   طائرِ سد رہ کے پر جہاں جل گئے شاہِ معراج کی رفتگی معجزہ   کسریٰ قیصر کے گنبد کاوہ ٹوٹنا آمدِ مصطفیٰ کی گھڑی معجزہ   اک اشارہ کیا چاند بھی شق ہوا ڈوبتے شمس کی واپسی معجزہ   قاب قوسین نزدیک تر دیدنی بے قراروں کی وارفتگی معجزہ    جبیں نازاں لکشمی نگر، نئی دہلی  jabeennazan2015@gmail.com     رسولِ رحمتﷺ تیرے بدولت نبیٔ ؐ رحمت  ملی جہاںمیں ہے ہم  کو عزت ہے نام تیرا، پیام تیرا، ستم کبیدہ دلوں کی راحت بحر ثنا گو، ہےبَر ثنا گو، حجر و سارے شجر ثنا گو ہے بزمِ انجُم یہ چاند&nb

نظمیں

ہمت بولنے اب عطا کر بے زبانوں کو   اے مجید وانی ساکن احمد نگر سرینگر،  جو 31اگست2021کو مرحوم و مغفور ہوئے،  کے غیر مطبوعہ کلام میں سے ایک نظم قارئین کی نذر۔   نہ دیںجو حوصلہ کوئی ،بھلا اُن داستانوں کو  حقیقت میں بدل دے اب ،پرانے اُن فسانوں کو  کریں پیدا دِلوں میں ولوَلہ جو ہم ضعیفوں کے سجالے اپنے ہونٹوں پر ،تُوایسے ہی ترانوں کو  جہاں مجروح ہوتی ہو،خودی تیری اے آدم زاد پلٹ کر بھی کبھی مت دیکھ ایسے آستانوں کو  برق رفتار بن کر تُو،حکومت کر ہوائوں پر قدم اپنے زمین پہ رکھ کے چھُولے آسمانوں کو  بسیرا کر نہیں سکتا ہے شاہیں سبز پیڑوں پر  وہ گھر اپنا بنا لیتا ہے پتھریلی چٹانوں کو  اندھروں میں جلایا ہو،جنہوں نے وہ تیرا مَسکن تُو بجلی بن کے کردے راکھ اُن کے آشیانوں کو

نظمیں

قطعات دل بہلتا ہی نہیں گلزار میں اب نہیں جینے کی چاہ بیمار میں  کُھل گیا ہے زہر سانسوں میںیہاں ضرب دیتا ہے وہ ہر جھنکار میں     نہ ہو دل میں اضطراب کوئی ممکن نہیں تب تک انقلاب کوئی بے خوف باطل سے سوال کرو اس سے بہتر نہیں جواب کوئی   مسکراتا ہے وہ گُل کانٹوں کے بیچ اجنبی جیسے کوئی اپنوں کے بیچ میری باتوں میں نہیں دم  اس لئے زندگی گزری ہے دیوانوں کی بیچ   سعید احمد سعید احمد نگر سرینگر موبائل نمبر؛9906355293         نظم یہ دنیا نصیبوں کا تُم کھیل سمجھو قفس کے پرندو حسیں جیل سمجھو تلاطم کا موجوں کا ہے سیل سمجھو تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا سکوں کی طلب ہے نہ آرام کی ہے مجھے فکر بس اپنے انجام کی ہے مصیبت کی دنیا ، ی

نظم

تجھے ہم‌سفر ملے کوئی میری مُحبتیں جو اُجھاڑ دے مجھے تیرے دل سے نکال دے دل و زندگی تجھے سونپ کر میرا‌ قرضِ عشق‌ اُتار دے تجھے ہم سفر ملے کوئى تجھے‌دل کا سُکوں عطا کرے وہ‌اَصم رہے تو‌ جو خطا کرے میری نفرتوں کے بیج سے‌ تجھے فصلِ عشق عطا کرے تجھے‌ ہم سفر ملے کوئی تیرا انتظار وہ کیا کرے تیرا اعتبار وہ کیا کرے وہ‌ میری طرح نہ ہو خود غرض تجھے‌حِجاب دے نہ حِصار دے تجھے ہم سفر ملے کوئى تمھیں اجازتیں جو دیا کرے تجھے گزارشیں وہ کیا کرے وہ‌ میری طرح نہ ہو بے ادب تیری خوشامدی وہ کیا کرے تجھے ہم سفر ملے‌کوئی جو تیرے لیے بڑا خاص ہو مجھے چھوڑنے کے ترے فیصلے پہ تجھے فخر ہو تجھے ناز ہو تجھے ہم سفر ملے‌کوئى   معصومؔ فرمان مرچال س

نظمیں

باپ باپ وہ عظیم ہستی ہے جو خود روتا ہے پر ہمیں ہنساتا ہے بھوکا رہتا ہے پر ہمیں کھلاتا ہے خود جاگتا ہے پر ہمیں سُلاتا ہے خود دھوپ میں جلتا ہے پر ہمیں چھاؤں میں رکھتا ہے خود کانٹوں میں سوتا ہے پر ہمیں پھولوں پر سُلاتا ہے ہو کِتنا بھی کمزور پر ہمارے لئے ساری دنیا سے لڑجاتا ہے خود کے لئے نمازوں میں دعا کرے یا نہ کرے پر ہمارے لئے ضرور کرتا ہے اپنی خواہشات پوری کرے یا نہ کرے پر ہماری ضرور پوری کرتا ہے خود آگے چل پائے یا نہ چل پائے پر ہمیں اُنگلی پکڑ کر چلنا ضرور سکھاتا ہے خود روٹھتا ہے پھر خُود ہی مان جاتا ہے پر اگر ہم روٹھ جائیں تو پوری دنیا کو منا لیتا ہے یا اللہ ہم سب کے والدین کو سلامت رکھ اور جن کے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں  ان کی مغفرت فرما۔ آمین   ماہرہ مشتاق چک پولیس ہائوسنگ کالونی قمرواری سرینگر  

نظم

چمن زیر و زبر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم گماں ایسا  اِدھر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  یہ کشتی ڈوب سکتی نے جو نسبت نوح سے ہمکو  تجربۂ جزر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  یہ دُنیا ہے مکافاتِ عمل کا اک دبستاں کہ نشاں بے عیب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  زمانے بھر دغا کی اب فضائے بد چلی ہے جو یقیں کَس کے نہ کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  خیالِ خوش، خرابہ باغ ہر لمحہ رُلاتا ہے  حذر یاں دور شر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  مکمل پاس اپنے ہو اگر منزل تو رستہ موڑ کوئی نو خواب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  تذبذب،مخمصہ اور پھر تھوڑی سی بیقراری  ہو  تو اے بیدل سفر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  نہیں ہوتا سوائے تیغ عالم میں شرف حاصل سُخن ایسا جگر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم    محمّد اقبال خ

سیاہ دُھند

کوئی مجھے رستہ دکھائے خدا کے حجرے کا شکایت درج کرنی ہے اک سیاہ دھند کی خیمہ زن ہے جو میرے آس پاس یہ اندھیروں کے بنکر مجھے تک رہے ہیں ان کے روزنوں سےپھوٹتی ہیں چمگاڈروں کی لیزر کرنیں  مجھ میں پھولوں کی وادی ہے میں خوشبو زادہ ہوں اور خوشبو لٹاتا  ہوں چاندنی راتوں میں اوس کے قطرے چُن چُن کر ململی  دھوپ سے گزارتا  ہوں بارش کی بوندوں میں گھول کے پیتا ہوں نئے عطر کے پودے اُگاتا ہوں بارش کی بوندیں جو رم جھم کرتی تھیں شہزادی کے گھنگھرو بجتے تھے دونوں ٹوٹ گئے  کوئی مجھے رستہ دکھائے خدا کے حُجرے کا شکایت درج کرنی ہے اک سیاہ دھند کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد موبائل  نمبر؛9419045087